چینی دانشور کیا کہتے ہیں

بیرسٹر حمید باشانی

سلطنتیں حکمت اورخیر خواہی سے بنتی ہیں، اور ظلم ونا انصافی سے مٹ جاتی ہیں۔ عظیم سلطنتوں کے علاوہ یہ بات تمام چھوٹی بڑی ریاستوں کے عروج وزوال اوربقا و فنا پر بھی صادق آتی ہے۔ یہ الفاظ ایک مشہورچینی دانشور ماسٹر منگ کے ہیں۔ منگ تین سو بہتر قبل مسیح میں یعنی کنفیو شس کی موت سے ایک صدی بعد، کنفیوشس کی جائے پیدائش سے بیس میل دور ایک گاوں میں پیدا ہوا۔ زمانہ طالب علمی میں دیگر اساتذہ کے علاوہ اس نے کنفیوشس کے پوتے سے بھی کچھ عرصہ تعلیم حاصل کی۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد ماسٹر منگ نے کنفیوشس کی تعلیمات کو کچھ قدیم علوم کے ساتھ جوڑ کر نئے نظریات ترتیب دئیے ، اور انہیں اپنے زمانے کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے بروئے کار لانے کی کوشش کی۔ کنفیو شس کی طرح ماسٹر منگ بھی ایک ایسادانشور تھا ، جو ہمیشہ سفر میں رہتا تھا اور گھوم پھر کر ریاستوں کے حکمرانوں کو نیک مشورے دینے کی کوشش کرتا رہتاتھا، مگر وہ اس کی باتوں پر کم ہی توجہ دیتے تھے، کہ اس وقت کے زیادہ تر حکمران اپنی سلطنت کے تحفظ یا پھر توسیع پسندآنہ عزائم کی تکمیل میں مصروف رہتے تھے ۔

ماسٹر منگ کا امن اور خوشحالی کا فلسفہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ مایوس ہو کر وہ ریٹائیر ہو گیا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اس نے سات کتابیں لکھیں ۔ ان کتابوں میں اس نے قدیم چینی فلسفے فلسفے کو کنفیوشس کے فلسفے کے ساتھ ملا کر پیش کیا، جو آگے چل کر کئی حکمرانوں کے لیے ذریعہ رہنمائی ثابت ہوئیں۔ 

آج کے چین کے سیاسی معاشی اور سماجی نظریات اور خیالات پرچین کے کئی قدیم دانشوروں کا بہت گہرا اثر ہے۔ ان میں کنفیوشس، سن زو ، موزی، ماسٹر منگ کے علاوہ کئی دوسرے دانشور قابل ذکر ہیں۔ قدیم علم و ادب میں گہری دلچسبی رکھنے والے طالبعلم کی حیثیت سے یہ بات میرے لیے حیران کن ہے کہ قدیم چین کے اندر آٹھ سو سال قبل مسیح میں وہاں کے دانشور علم و دانش کے کیسے کیسے خزانے تخلیق کر چکے تھے۔

یہ خزانے دیکھ کر مجھے حضرت محمد صلعم کی اس حدیث کا پس منظر سمجھ میں آیا کہ علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین جانا پڑے ۔ یہ قدیم دور جو تیس اے ڈی سے لیکر آٹھ سو سال قبل مسیح تک ہے، اس وقت پورے مغرب میں صرف ایک ارسطو کا نام تھا، یا ہمارے ہاں چانکیہ تھا، مگر چین میں ایسے دانشوروں کی تعداد درجنوں میں تھی۔ یہ جو چین کی سیاست یا خارجہ پالیسی میں کبھی کبھی گہری دانش نظر آتی ہے، یہ راتوں رات نہیں آگئی، اس کے پیچھے صدیوں کی سوچ ہے جو نسل در نسل منتقل ہوئی۔ یہ دانش ہمارے پاس بھی تھی۔ ٹیکسلا، منجوداہڑو اور ہڑپہ اس کے ثبوت ہیں۔ مگر اس باب میں ہم نے ماضی سے رشتہ توڑ دیا۔

ماسٹر منگ کے دور میں یعنی چوتھی صدی کا چین چھوٹی چھوٹی جاگیروں میں بکھرا ہوا تھا، چنانچہ ہر طرف ان جاگیروں کوایسی مرکزی حکومتوں میں بدلا جا رہا تھا، جو جاگیروں کے بجائے انتظامی ضلعوں پر مشتمل تھیں۔ اس عمل سے یہ مرکزی حکومتیں مضبوط ہو رہی تھیں، اور ان کے اختیارات میں بے پنا اضافہ ہو رہا تھا۔ یہ ریاستیں ان اختیارات کا استعمال بھی بے دردی سے کر رہی تھیں۔ مزید علاقوں کی فتح کے لیے نئی نئی جنگیں چھیڑ رہی تھیں۔ اپنے علاقوں کے اندر امن و امان کے قیام کے لیے بے تحاشا ظلم و جبر اورطاقت استعمال کی جا رہی تھی۔ یہ ایک طرح کا جنگ اور جنون کا دور تھا۔

ان حالات میں ماسٹر منگ نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ ریاستوں کے اختیارات اور طاقت صرف اس صورت میں زوال سے بچیں گے ، جب ریاستیں درست راستے اور اخلاقی طریقے پر چل رہی ہوں۔ اگر ایسا نہیں ہو گا تو کوئی دوسرا آئے گا جو ان کی جگہ لے لے گا، جس کے پاس حکمرانی کا زیادہ بڑا اخلاقی جواز ہوگا۔ 

ماسٹر منگ کے نزدیک ایک حکمران کا بنیادی کام سماج کو اس طرح منظم کرنا ہے کہ وسائل کو بہتر طور پر استعمال کیا جا سکے اور ضائع ہونے سے بچایا جائے تاکہ وہ وسائل آئنیدہ نسلوں کو منتقل ہو سکیں۔ ایک حکمران لوگوں کو سب درخت کاٹنے یا مچھلی کے لیے سب تالاب خالی کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ بلکہ وہ یہ دیکھتا ہے کہ ہر فارم کے پاس ریشم بنانے کے لیے اپنا شہتوت کا درخت ہو، اور اپنے خاندان کی کفالت کے لیے اپنے جانور ہوں۔ اگر ستر سال اور اس سے زائد عمر کے لوگوں کے پاس کھانے کے لیے گوشت اور پہننے کے لیے ریشم کا کپڑا ہے، تو سلطنت کامیاب ہے۔

ماسٹر منگ نے اس وقت کے ایک بادشاہ کنگ ہوئی آف لینگ سے ایک دلچسب سوال کیا۔ اس نے پوچھا کہ کیا ایک آدمی کو چاقو سے مارنے یا خراب حکمرانی سے مارنے میں کوئی فرق ہے۔ بادشاہ نے جواب دیا کہ، نہیں۔ ماسٹر منگ نے کہا اگر ایسا ہے تو پھر ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ شاہی خاندان کے افراد کے پاس ہر وقت پر تکلف کھانے، ضیافتیں اور موٹے موٹے گھوڑے ہوں، اور عام لوگ بھوکے مر رہے ہوں۔ جب ایک حکمران اپنے سے زیادہ اپنے عوام کا خیال رکھتا ہے تو عوام یہ جانتے ہیں ، اور ان کی وفاداری سے سلطنت مضبوط ہوتی ہے۔ 

ماسٹر منگ کے دور میں یہ باور کیا جاتا تھا کہ حکمران کی کامیابی اور مسرت اس بات میں ہے کہ وہ توسیع پسند انہ کارروائیوں میں لگا رہے، نقصان کا فورا بدلہ لے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو زیر نگین کرے۔ لیکن منگ نے کہا ، یہ ایسا ہی ہے جیسے مچھلی پکڑنے کے لیے کوئی درخت پر چڑھ جائے۔ اس طریقہ حکمرانی سے وہ کبھی نہیں ہو گا جو حکمران چاہتا ہے، یا اسے کامیابی اور مسرت نہیں مل سکتی ، بلکہ اس عمل کے کئی الٹے اور برے نتائج نکلنے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔ 

جنگ و جدل کے اس دور میں منگ نے یہ اصول واضح کیا کہ کسی بھی تنازعے پر جنگ ہمیشہ آخری حربہ ہے۔ اس کو کسی فائدے کی توقع کے بغیر کرنا چاہیے، اورصرف ان ظالم جابر حاکموں کو ہٹانے کے لیے جن کی طاقت کسی اور طریقے سے کم نہیں کی جا سکتی۔ کسی بھی تنازعے میں ریاست کو اخلاقی برتری حاصل ہونی چاہیے، وگرنہ اس کے پاس جنگ کا کوئی اختیار یا جواز نہیں ہے۔ اس نے مزید واضح کیا کہ سلطنتیں اچھائی سے پھیلتی ہیں، اور لالچ اور ظلم سے ختم ہوتی ہیں۔ اخلاقی قوت ہمیشہ وحشت کو شکست دیتی ہے۔ اچھائی اور اخلاقیات پر قائم سلطنت کا انحصار اس کے رقبے پر نہیں ہوتا، اخلاقی حیثیت پر ہوتا ہے۔

اگر غور کیا جائے تو ماسٹر منگ نے چوتھی صدی کے اواخر میں سیاسی ، معاشی اور سماجی مسائل کے حل کے لیے جو اصول پیش کیے، وہ آج کی اس جدید اور پیچیدہ دنیا میں اتنے ہی سچے اور کار آمد ہیں جتنے اس وقت تھے۔ قدرتی وسائل اور موحولیات کے حوالے سے اس میں اتنی صٖاف فہم تھی جو آج ہے۔ اس کو ان قدرتی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور حفاظت کا بھی پورا شعور تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ماحول اور قدرتی وسائل کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے۔

اس کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ان وسائل کو ضائع ہونے سے بچائے تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس سے مستفید ہو سکیں۔ ریاستوں اور حکومتوں کی بد انتطامی، نا اہلی اور خراب حکمرانی سے جو لوگ مرتے ہیں اسے اس نے قتل قرار دیا ، جس کے ذمہ دار حکمران طبقات ہیں ۔ توسیع پسندی کے عزائم، جنگ و جدل اور دوسرے ممالک پر قبضے کے سوال پر جو رہنمائی اس نے کی اس میں صدیاں گزرنے کے بعد بھی آج تک ہم کوئی قابل ذکر اضافہ نہ کر سکے۔

حاصل کلام یہ ہے کہ کچھ اصول مستقل اور آفاقی ہوتے ہیں، جن کو قدیم تہذیب کے دوران کسی نہ کسی شکل میں دریافت کر لیا گیا تھا۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم، اپنے عوام سے انصاف، اپنے ہمسائے سے امن، قدرتی وسائل کا مناسب استعمال اور اپنے ماحول کی حفاظت وہ کام ہیں جو ریاستوں اور خود انسانوں کی بقا سے جڑے ہیں۔

♥ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *