افغان صدر غنی کی طرف سے فائربندی کی مدت میں توسیع

افغان صدر غنی نے طالبان کے ساتھ فائر بندی کی مدت میں توسیع کر دی ہے۔ ادھر صوبہ ننگرہار میں عید کے دن طالبان اور سکیورٹی فورسز کے ایک اجتماع پر کیے گئے ایک خود کش حملے کے نتیجے میں 26 افراد ہلاک اور بیالیس زخمی ہو گئے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے افغان صدر اشرف غنی کے حوالے سے ہفتے کے دن بتایا کہ کابل حکومت نے طالبان کے ساتھ کیے جانے والے یک طرفہ اور غیرمشروط فائر بندی فیصلے کی مدت میں توسیع کر دی ہے۔

افغان حکومت نے رمضان کے آخری ایام اور عید کے موقع پر ایک ہفتے کی ایسی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جو بدھ کے دن ختم ہو جانا تھی۔ تاہم اس دوران داعش یا ملک میں فعال دیگر مسلم انتہا پسند گروپوں کو کوئی استثنیٰ نہیں دیا گیا۔

لیکن ہفتے کے دن اپنے ایک نشریاتی خطاب میں صدر اشرف غنی نے کہا کہ حکومت طالبان کے ساتھ اس جنگ بندی میں توسیع کر رہی ہے۔انہوں نے اپنے اس خطاب میں طالبان سے کہا کہ وہ بھی اپنی طرف سے اعلان کردہ جنگ بندی کی مدت میں توسیع کر دیں۔

افغان طالبان نے عید کے موقع پر تین روزہ فائر بندی کا اعلان کیا تھا، جو اتوار کی رات ختم ہو رہی ہے۔ طالبان نے افغان صدر کے فیصلے اور درخواست پر ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

یہ اہم امر ہے کہ افغانستان کی سولہ سالہ خانہ جنگی کے دوران طالبان نے پہلی بار فائر بندی کا اعلان کیا ہے۔ اس پیش رفت کو افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے جاری کوششوں کے لیے ایک اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اشرف غنی نے امید ظاہر کی ہے کہ طالبان کے موقف میں لچک سے افغانستان میں پائیدار قیام امن ممکن ہو سکتا ہے۔

افغان صدر غنی نے زور دیا ہے کہ طالبان امن مذاکرات کا حصہ بن جائیں۔ تاہم طالبان کا کہنا ہے کہ جب تک غیر ملکی افواج ملک سے نہیں نکلتیں، یہ جنگجو تحریک کابل حکومت کے ساتھ کوئی امن مذاکرات نہیں کرے گی۔ طالبان کی طرف سے جنگ بندی میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ وہ غیر ملکی فورسز کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

دریں اثناء ہفتہ سولہ جون ہی کے دن افغان صوبے ننگرہار میں کیے گئے ایک خود کش بم حملے کے نتیجے میں کم از کم چھبیس افراد ہلاک جبکہ بیالیس دیگر زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق یہ حملہ ایک ایسے مقام پر کیا گیا، جہاں طالبان اور افغان سکیورٹی اہلکار عید کے موقع پر منعقد کیے گئے ایک اجتماع میں موجود تھے۔

ننگرہار کے صوبائی گورنر کے ترجمان عطااللہ نے بتایا کہ تاحال کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ صوبائی حکام کے مطابق حملہ آور ایک کار میں سوار تھا، جس نے غازی امین اللہ خان نامی ٹاؤن میں یہ کارروائی کی۔

حال ہی میں امریکہ اور افغانستان کے درمیان ہونے والی بات چیت میں جنوبی ایشیائی خطے میں امن کے لیے نئی کوششوں کا آغاز کیا گیا ہے۔ طالبان کے ساتھ عارضی جنگ بندی اور مذاکرات کی طرف پیش قدمی انہی کوششوں کا حصہ ہے۔ اس نئی حکمت عملی میں پاکستان کو شامل نہیں کیا گیا۔ بلکہ پاکستانی ریاست کے حمایت یافتہ طالبان کمانڈر مُلا فضل اللہ کو ڈرون حملے میں ماردیا گیا ہے۔

بہرحال یہ خدشہ موجود ہے کہ طالبان  کا وہ گروہ جسے پاکستانی ریاست کی حمایت حاصل ہے ان کوششوں کو سبوتارژ کرنے کے لیے نئے حملے کر سکتے ہیں۔

DW/News Desk

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *