خود رحمی،خود اذیتی اور خود کشی کے رحجانات

فرحت قاضی

ہمارے معاشرے میں بھکاری بڑھ رہے ہیں اور خود کشی کے واقعات میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔
یہ حقیقت
ہمارے اخبارات میں آئے روزخبروں سے ظاہر ہوتی ہے

آج کے اخبار میں ایک مزدور کے خودکشی کی خبر چھپی ہے اس میں لکھا ہے کہ اس نے بے روزگاری سے تنگ آکر اپنی زندگی کا خاتمہ کردیا ۔
زندگی کتنی پیاری چیز ہے

اگر آپ کو لاکھوں روپے کی پیش کش کی جائے تو اپنی جان لینا درکنار ایک گردہ فروخت کرنے پر بھی آمادہ نہیں ہو گے اس کے باوجود لوگ موت کو گلے لگالیتے ہیں کیا خودکشی کے تصورات فوری طور پر ذہن میں پیدا ہوتے ہیں کس طبقے میں خودکشی کے رحجانات زیادہ پائے جاتے ہیں آج سے صدیوں قبل بھی لوگ خودکشی کرتے تھے یہ حقیقت الہامی کتب میں اسے برا یا حرام قرار دینے سے ظاہر ہوتی ہے اپنی جان خود لینے والے غلام ہی ہواکرتے تھے جو مالکوں کے ناروا اور درشت سلوک سے یہ انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبور ہوجاتے تھے ان کو اپنی نجات کا یہی ایک راستہ معلوم ہوتا ہوگا۔

شکار کے دور کے دوران یا بعد ازاں ایک قبیلے نے دیگر قبیلوں پر حملے شروع کئے تو مردوں کو ہلاک اور عورتوں کو بیوی بنالیتے تھے زراعت کے دور کا آغاز ہوا تو عورتوں کو تو بیوی اور مردوں کو غلام بنالیا جاتاتھا غلاموں کے ساتھ ظالمانہ سلوک رو ارکھا جاتا تو وہ خودکشی کرنے لگتے تھے جس سے آقاؤں کو مالی نقصان پہنچنے لگا تو انہوں نے سوچا ہوگا کہ اگر یہ سلسلہ بدستور جاری رہا تو غلاموں کی قلت پیدا ہونے پر بھاری قیمت پر خریدنا پڑیں گے۔

چنانچہ اس نئی صورت حال نے معاشرے میں جہاں غلاموں کے ساتھ نرم رویے کے تصورات پیدا کئے وہاں جن قبائل کا انحصار کھیتی باڑی پر نہیں تھا انہوں نے ہمسایہ قبیلوں پر حملے کرنا اپنا پیشہ بنالیا تھا غلاموں کی معاشی افادیت بڑھنے پر مفتوعہ قبیلے کے مردوں کو اب قتل نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ان کو غلام بناکر فروخت کیا جانے لگا بعض اقوام میں مالک کے ساتھ ایک یا دو غلاموں کو زندہ یا مارکر دفن کرنے کی جو رسم چلی آرہی تھی وہ اپنی موت مرگئی رفتہ رفتہ غلاموں کی خرید و فروخت نے باقاعدہ پیشہ کی صورت اختیار کرلی برطانیہ کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس کے راج میں یہ کاروبار برصغیر پاک وہند اور افریقہ میں بھی ہوتا تھا۔

اگرچہ معاشرے کی ترقی کے ساتھ غلامی کے پرانے تصورات بھی دم توڑ گئے تاہم غریبوں میں خودکشی کے رحجانات اب بھی پائے جاتے ہیں اور اس کی جو وجوہات کل تھیں اگرچہ آج بھی وہی ہیں مگر بنیادی کردار وہی مالکوں کا سلوک اور غربت وافلاس ہے ازمنہ قدیم میں جب غلاموں کی ضرورت بڑھ گئی تومالکوں نے غلاموں کو خودکشی سے باز رکھنے کے لئے نیکی، رحم دلی اور اس نوعیت کے تصورات کوجنم دیا جو کہ رفتہ رفتہ سماج میں پھیل گئے اورغلاموں کو ان سے یک گونہ تسلی ہونے لگی ان میں خودکشی کے رحجانات میں کمی آگئی تاریخ اور تہذیب کا مطالعہ بتاتا ہے کہ زراعت میں ترقی ہوتی گئی تو غلام کی مزید افادیت بڑھنے پر رحم دلی،خدا ترسی اور نیکی کے ان تصورات کے ساتھ ساتھ حقوق کا تصور بھی پید ا ہوا انجیل مقدس کے حسب ذیل قول سے ظاہر ہوتا ہے کہ عرب سرزمین پر غلام کا وجود ایک انسان کے طور پر تسلیم کرلیا گیا تھا۔

اس الہامی کتاب میں لکھا ہے
’’
آنکھ کے بدلے آنکھ‘‘
یہ تصورات انسانی سماج کو آگے کی جانب دھکیلنے میں ممدو معاون ثابت ہوئے غلاموں کے حقوق یافتہ شہری بنانے میں ان نظریات نے بنیاد کا کام کیا بہرحال ان تصورات کا نفسیاتی اثر بھی ہوا غلاموں اورنوکروں میں خود رحمی اور خود اذیتی کے منفی رحجانات نے بھی رفتہ رفتہ جنم لیا۔
خود رحمی اور خود اذیتی کے جذبات کیوں پیدا ہوتے ہیں؟۔

گھر میں ایک بچہ لاڈ پیار سے پالا گیا ہو اور اسے دھیان نہیں دیا جاتا ہو تو وہ اپنی طرف توجہ مبذول کرانے کے لئے رونے لگتا ہے اسی طرح غریبوں اور بے کسوں پر رحم ، نیک سلوک اور دو وقت کا کھانا کھلانے کا پرچار کئے جانے والے معاشروں میں تہی دست طبقہ میں خود رحمی کے احساسات پیدا ہونے لگتے ہیں۔

خدا ترسی،نیکی، رحم دلی اور ہمدردی کے تصورات سے دولت مند طبقہ کا قد وقامت اونچا ہوتا چلا گیاتو ان کے ان داتا بن جانے میں بھی کوئی شے مانع نہیں رہی علاوہ ازیں اس پرچا ر کو بھی تقویت ملتی رہی کہ بالادست طبقے کے پاس یہ سب کچھ اللہ کا دیا اور مہربانی ہے چنانچہ ان کو دیوی اور دیوتا مان لیا گیا تو ان کے سامنے سر بسجود ہونا جھک کر ملنا اور منت سماجت کرنا بھی شروع ہوگیا ان کے دلوں میں اپنے لئے رحم اور ترس کے جذبات پیدا کرنے کے لئے غریب افراد اپنا چہرہ یتیموں کی طرح بنانے لگے درحقیقت یہ تصورات محنت کش طبقہ کو پژ مردہ اور کم ہمت بنادیتے ہیں ان کا حوصلہ پست ہوجاتا ہے پاک و ہند کی پرانی فلموں نے بھی ان تصورات کو تقویت پہنچائی ان میں غم و اندوہ کا باربار اظہار غریب طبقہ میں منفی احساسات پیدا کرتا رہاہے۔

اور دکھ سے بھرے گیت ان کی دلی تسلی کا باعث بنے رہے ہیں۔

اس پرچار کے نتیجہ میں محنت کش طبقہ میں خود رحمی کے تصورات اور جذبات مزید پختہ ہوجاتے ہیں اور وہ اپنا منہ اور حلیہ ایسے بنالیتے ہیں تاکہ ان کو دیکھ کر ان پر ترس کھایا جائے اس سے دیگر منفی رحجانات بھی جنم لیتے ہیں بلکہ یہ سماج کی ترقی میں نکیل ڈال کر اسے جامد کردیتے ہیں۔

پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کے زکوٰۃ نظام، ایم ایم حکومت کے لنگر خانے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ساتھ ساتھ پہلے زلزلے کے لئے آنے والی امداد اور سیلاب زدگان کے نام پر آنے والے پیکجوں اور بعد ازاں فوج کے ضرب عضب آپریشنوں نے ریڑھی بانوں سے حکمران طبقات تک کو ایک ہی رنگ میں رنگ دیا بس فرق یہ ہے کہ یہ بالا دست طبقات اپنی بھیک ڈالروں کی صورت میں لے رہے ہیں اور عوام ہاتھ پھیلانے والے بھکاری بن گئے ہیں چنانچہ اس وقت پاکستان اٹھارہ کروڑ شہریوں کا نہیں بلکہ اٹھارہ کروڑ بھکاریوں کا ملک لگتا ہے۔

جنرل ضیاء الحق کے زکوٰۃ نظام، آصف زرداری کے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، قدرتی آفات کے متاثرین اور فوج کے قبائلی عوام کو آئی ڈی پیز بناکر نقد انعامات،خوراکی اشیاء اور امدادی پیکجز کے نتائج ہمارے سامنے ہیں اس نوعیت کے پروگراموں سے بالادست طبقہ کا قد و قامت ضرور بڑھ جاتا ہے مگریہ محنت کش طبقہ میں تیار خوری،کام چوری اور چوری کے رحجانات بھی پیدا کردیتے ہیں اور اس طبقہ کا ایک پرت بھک منگا بن جاتا ہے تو دوسرا منشیات کا عادی ہوکر زیارتوں میں ڈیرے ڈال لیتا ہے ان خصوصیا ت کے ساتھ معاشرے میں رحم دلی،خدا ترسی،نیکی، خیرات اور صدقات کا پرچار بھی ہوتا ہوتوخود رحمی کے مریضانہ جذبات کے پنپنے میں دیر نہیں لگتی ہے۔

اس صورت حال سے فائدہ لیتے ہوئے بعض افراد یا گروہ ٹرسٹ اور فلاحی تنظیموں کی بنیاد رکھ کر یتیموں، بیواؤں،معذوروں اور غریبوں کے نام لے کر خود بڑے اور باعزت بھکاری بن جاتے ہیں چنانچہ یہ براہ راست ہاتھ پھیلانے سے بچ جاتے ہیں ان کو اندرون کے ساتھ ساتھ بیرون ممالک سے بھی امداد ملنے لگتی ہے جن ممالک میں سرکاری ادارے عضو معطل بنادئیے جاتے ہیں وہاں یہ ٹرسٹ اور تنظیمیں خود رو پودوں کی مانند اگنے لگتی ہیں۔

جنرل ضیاء الحق نے زکوٰۃ نظام کا آغاز یاتعارف کرایا تو اس سے اس کا ایک حامی طبقہ پیدا ہوگیا تھا غریبوں کاکوئی مسئلہ اس نظام کے نفاذسے حل ہونے سے تو رہا اسی لئے بعض لوگ یہ مشورہ دینے لگے تھے کہ کروڑوں کے حساب سے جمع ہونے والی رقم سے ایسے سرمایہ کاری کی جائے جس سے غریبوں کے لئے باعزت روزگار کے مواقع پیدا ہوں جب وہ بھکاری بننے کی بجائے محنت کش بنیں گے تو اس کا لا محالہ ملک و معاشرہ کو بھی فائدہ ہوگا۔

پاکستانی معاشرے میں مذہبی مکتبہ فکر دولت مندوں کی توجہ غریبوں کی معاشی صورت حال کی طرف کراتے ہوئے ان کو بہتر سلوک اور رحم دلی کی تلقین کرتا رہتا ہے لیکن وہ شاید اس پرچار کے غریب طبقہ میں خود رحمی کے منفی احساسات سے باخبر نہیں ہے جو کہ بعد ازاں اس طبقہ کے بعض افراد کو خود اذیتی حتیٰ کہ خودکشی کی ڈگر پر لے جاتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *