افغانستان: طالبان کی حملوں کی دھمکیاں

قومی دھارے میں شریک تجزیہ کاروں کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ انتہا پسندی کو ختم کرنے میں سنجیدہ ہیں جبکہ دوسری طرف شمالی وزیرستان میں ایک بار پھر طالبان کو لایا جارہا ہے۔ ان طالبان نے افغانستان میں حملوں کی دھمکی بھی دی ہے۔

افغانستان میں طالبان نے ایک آن لائن بیان کے ذریعے دارالحُکومت کابل کے رہائشیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ فوجی اور خفیہ اداروں کے مراکز سے دور رہیں۔ بیان کے مطابق افغان طالبان کابل میں نئے حملوں کی تیاری کر رہے ہیں۔

فغانستان میں طالبان اس طرح کے انتباہ پہلے بھی شہریوں کو جاری کرتے رہے ہیں۔ ابھی ایک ہفتہ قبل ہی مغربی شہر فراہ پر کنٹرول کی ناکام کوشش سے پہلے بھی ایک ایسی وارننگ جاری کی گئی تھی لیکن کابل کے شہریوں کے لیے ایسا انتباہی بیان پہلی مرتبہ جاری کیا گیا ہے۔

یہ وارننگ اقوام متحدہ کی جانب سے جاری اُس بیان کے بعد دی گئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ کابل، جہاں جہادی گروپ داعش بھی اپنے قدم مضبوط کر رہا ہے، ملک بھر میں شہریوں کے لیے خطرناک ترین شہر بن گیا ہے۔

طالبان نے موسم بہار کے سالانہ حملوں کے سلسلے میں کابل میں فوجی مراکز اور عسکری تنصیبات پر تازہ حملوں کا انتباہ دیا ہے۔ طالبان نے ایک آن لائن بیان میں لکھا، ’’شہریوں کو ہلاکتوں سے بچانے اور صرف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی غرض سے ہم نے کابل کے رہائشیوں کو عسکری مراکز سے دور رہنے کو کہا ہے۔ ہم کسی ایک بھی معصوم شہری کی ہلاکت نہیں چاہتے۔‘‘

تاہم سیاسی اور عسکری تجزیہ نگار نیک محمد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ طالبان کا یہ بیان محض پروپیگنڈا ہے۔ نیک محمد کے مطابق، ’’طالبان کی جانب سے فوجی مراکز پر حملہ خواہ وہ معمولی نوعیت ہی کا کیوں نہ ہو، شہریوں کو نقصان پہنچائے گا کیونکہ یہ تنصیبات شہر کے مرکز میں ہیں جو رہائشی علاقوں سے بہت قریب ہیں‘‘۔

افغان دارالحکومت کابل ملک کے دیگر حصوں اور دوسرے ممالک سے واپس آنے والے مہاجرین سے بھرا ہوا ہے جو نوکری اور سکیورٹی کی تلاش میں ہیں۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے معاون مشن کے اعداد و شمار کی رُو سے سنہ 2017 میں طالبان کے حملوں اور خود کش بم دھماکوں میں شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔ اس رپورٹ کے مطابق صرف کابل میں 1,831 عام شہری ہلاک یا زخمی ہوئے۔

 اقوام متحدہ پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ سن 2018 افغان شہریوں کی ہلاکت کے حوالے سے 2017 سے بھی زیادہ مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔

DW/News Desk

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *