عورت کے جسم پر کسی دوسرے کا اختیار کیوں

ارشد بٹ

سماجی اور ثقافتی جدت،نئی فکر اور خیالات کو مغربی فکری اور ثقافتی حملہ کہہ کر مسترد کر دینا غلامی پسند، قبائلی اور جاگیردارانہ رسم و رواج اور قدروں کے پاسداروں کا وطیرہ رہا ہے۔ ایسے دانشور، نظریہ دان، مذہبی اور سیاسی گروہ، مذہب اور ثقافتی روایات کے تحفظ کے پردے میں سماجی تبدیلی، ثقافتی ارتقا اور تنوع، طبقاتی تفریق کے خاتمے اور انسانی برابری کے اصولوں کی مزاحمت بڑے فخر سے کرتے ہیں۔

وہ عورت مرد کی برابری اور عورتوں کے حقوق کی جدوجہد کرنے والوں کو مغرب زدہ تو کہتے ہیں مگر انہیں اسلام دشمن کہنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ یہ عناصر جدید ٹیکنالوجی کی سہولیات سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہیں مگر ٹیکنالوجی کے زیر اثر سماجی اور ثقافتی تبدیلیوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا اپنا مذہبی اور قومی فریضہ سجھتے ہیں۔ ایسے گروہ عوام کو ماضی کی عظمت کے سہانے خوابوں میں زندہ رکھ کر معاشی پسماندگی، نسلی اور جنسی نا برابری، پسماندہ قبائلی اور جاگیردارانہ روایات اور قدروں کا غلام رکھنا چاہتے ہیں۔

مغربی ممالک میں آباد روایت پرستوں کے ہمنوا دوہری اخلاقیات کا جیتا جاگتا نمونہ ہیں۔ مغربی ممالک میں رہتے ہوئے یہ لوگ بظاہر خواتین اور انسانی حقوق کے چمپین بنتے ہیں مگر اردو میں لکھتے ہوئے پاکستانی روایت پرستوں سے بھی دو ھاتھ آگے نکل جاتے ہیں۔ ایسے خواتین اور حضرات مغربی معاشروں کا حصہ بن کر نسلی اور جنسی برابری کے قانونی حقوق، معاشی، سماجی اور فلاحی فوائد سے بھر پور استفادہ حا صل کرتے ہیں۔ مگر پاکستان میں بسنے والے عوام خصوصا عورتوں کے لئے ایسے حقوق پر بات کرنے کو ہی شجر ممنوعہ سمجھتے ہیں۔

میرے جسم پر میرا اختیار، کا نعرہ کچھ عرصہ سے پاکستانی خواتین میں کافی مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ یہ ایک بالغ اور عاقل عورت کا اپنی زندگی اور زندگی کے معاملات خود طے کرنے کے اختیارحاصل کرنے کا اظہار ہے۔ یہ آج کی باشعور عورت کا خاندان، سماج اور ملک کی ترقی میں اپنا آزادانہ کردار ادا کرنے کا اعلان ہے۔

مگر غلامی پسند اور گھسے پٹے رسم و رواج کے پیروکار اسے اسلام دشمنی، بے راہروی اور قومی ثقافت پر مغربی ثقافت کے حملے سے تعبیر کر رہے ہیں۔ یہ لوگ زندگی کے فٰیصلے کرنے کے حق سے محروم، مرد کی معاشی اور سماجی زنجیروں میں جکڑی غلام عورت کے وجود کو اسلامی اور قومی روایات کے عین مطابق قرار دیتے ہیں۔

اسلامی اور قومی ثقافتی روایات کے نام پر غلامانہ رشتوں کی پاسداری کرنے والے، اسلام کا یہ پیغام بھول جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو بلا تفریق جنس ایک آزاد اور خودمختار فرد کی حیثیت سے پیدا کیا ہے۔ انسانی جسم انسان کے پاس اللہ کی امانت ہے۔ اللہ نے ہر بالغ عورت اور مرد کو اپنے جسم اور زندگی کا مالک اور مختار کل بنایا ہے۔ انسانی زندگی اور جسم پر کسی دوسرے فرد کے اختیار کو انسانی غلامی سے تعبیر کیا ہے۔

عورت یا مرد کو کس قسم کا لباس پہننا چاہے، خور دو نوش میں کیا پسند کرتے ہیں، کہاں رہنا چاہتے ہیں، اپنی زندگی کا ساتھی کسے منتخب کرتے ہیں، اس کے علاوہ زندگی کے دیگر معاملات طے کرنے، ان پر عمل کرنے یا نہ کرنے کا حق اور اختیار ہر عورت اور مرد کا بلا تفریق جنس بنیادی انسانی حق ہے۔ زندگی کے معاملات میں عورت یا مرد کس مذہبی عقیدے یا نظریے سے راہنمائی حاصل کرتے ہے، یہ ہر عورت اور مرد کا بنیادی انسانی حق ہے۔

مذہب کی من مانی تشریح کر کے، پسماندہ سماجی اور ثقافتی روایات یا فرسودہ رسم و رواج کی زنجیروں میں جکڑ کر عورت کو کب تک بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا سکتا ہے۔ آج کی عورت بنیادی انسانی حقوق کا شعور رکھتی ہے۔ وہ اللہ کی جانب سے تفویض کردہ پیدائشی انسانی حق معاشرے سے واپس مانگ رہی ہے، کیونکہ وہ اللہ کے سامنے اپنے اعمال کی خود جوابدہ ہے نہ کہ اسکی زندگی اور جسم کے متعلق فیصلے صادر کرنے والا کوئی دوسرا مرد یا عورت۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *