شناخت کا بحران اور سندھ میں بسنے والے مہاجروں کا المیہ

آصف جاوید

دنیا میں ہر شخص ایک شناخت لے کر پیدا ہوتا ہے۔ اور اس کی یہ شناخت اس کا  رنگ، نسل، زبان، تہذیب، ثقافت  ہوتی ہے۔ شناخت ہر شخص کی بنیادی پہچان ہوتی ہے۔ انسان  بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہو کر تو  کسی معاشرے میں رِہ سکتا ہے، مگر شناخت سے محروم  ہو کر نہیں رِہ سکتا۔  یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تمام مہذّب ممالک میں دنیا کے دوسرے حصّوں سے ہجرت کرکے  آنے والے تارکین وطن (امیگرینٹس) سے کبھی ان کی بنیادی شناخت نہیں چھینی جاتی۔

مثال کے طور پر میں 20 سال پہلے پاکستان سے ترکِ وطن کرکے کینیڈا آیا تھا،  ایک امیگرینٹ کی حیثیت سے کینیڈا میں اپنی زندگی شروع کرتے ہوئے مجھے کبھی اپنی شناخت کے بحران کا سامنا نہیں کرنا پڑا،  کینیڈا میں ایک امیگرینٹ کی حیثیت سے مجھے پہلے دن سے ہی سارے شہری حقوق حاصل  مل گئے تھے، تین سال گذارنے کے بعد مجھے سٹیزن شپ اور پاسپورٹ بھی مل گیا تھا اور انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق بھی۔

  اس تمام عرصے میں مجھ سے کسی نے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ میں اپنی بنیادی شناخت یعنی ساؤتھ ایشین ، پاکستانی  اوریجن سے دستبردار ہوجاؤں،  گھر میں یا دیسی دوستوں سے اردو یا پنجابی میں بات چیت نہ کروں، دیسی ریسٹورینٹ میں کھانا نہ کھاؤں، اپنے عقیدے کی  عبادت گاہ میں نہ جاؤں، اپنے کلچر کی مناسبت سے شلوار قمیض نہ پہنوں،  اپنے بچّوں کی شادیاں اپنی ثقافتی رسوم و رواج کے مطابق نہ کروں،  اپنی زبان میں موسیقی نہ سنوں، اپنی زبان میں شاعری نہ کروں،  اپنے بزرگوں کے کارنامے یاد نہ کروں،  اپنے دماغ سے ماضی کی تمام سلیٹیں مٹادوں، یا اپنی شناخت مٹادوں۔  اور اپنے آپ کو صرف کینیڈین کہوں، کینیڈین ثقافت اپنائوں، کینیڈین رسوم و رواج اختیار کروں۔

کینیڈین چارٹرڈ آف رائٹس اینڈ فریڈم جو کہ کینیڈا کے آئین کا نفسِ ناطقہ ہے  مجھے اس بات کا حق دیتا ہے کہ  میں اپنا ہیریٹیج یعنی ثقافتی  و تہذیبی ورثہ اور اپنی شناخت  قائم رکھوں ۔ میرا ثقافتی ورثہ، تہذیب، زبان  اور میری شناخت میرا کل اثاثہ ہے جو میں  پاکستان سے کینیڈا اپنے ساتھ لے کر آیا تھا۔ میرا یہ اثاثہ میری قیمتی ملکیت ہے۔   جو میرے بعد میری اگلی نسل کو منتقل ہوگا، اور جس کی حفاظت کی ضمانت کینیڈا کا آئین و قانون  مجھے دیتا ہے۔  

برِّ صغیر ہندوستان کی تقسیم اور تشکیلِ پاکستان نے  برِّ صغیر  ہندوستان  کی پولیٹیکل جیوگرافی کی شکل بدل کر رکھ دی ہے۔ تقسیم نے برِّ صغیر کے سماجی ڈھانچے کو یکسر بدل  ڈالا ہے۔   تقسیم کے نتیجے میں دونوں طرف سے آبادی کا تبادلہ ہوا  تھا۔

 مہاجر برّصغیر کی تقسیم اور مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن پاکستان کے قیام کی جدوجہد کے نتیجے میں برّصغیر کے ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں آکر آباد ہوئے تھے۔ مہاجر  سندھ میں تھائی لینڈ سے آکر آباد نہیں ہوئے تھے۔ ، مہاجر اس ہی انڈس سوِلائزیشن کا حصّہ ہیں ،  جس کا سندھی حصّہ ہیں۔ انڈس سوِلائزیشن کی پانچ ہزار سال کی معلوم تاریخ ہے اور اس کی سرحدیں مشرق سے مغرب، اتّر پردیش سے لے کر ایرانی بلوچستان تک پھیلی ہیں۔

وادیِ مہران ، عظیم تر ہندوستان کی قدیم ترین تہذیب ہے،  انڈس سولائزیشن کا دائرہ کار پورے برِّ صغیر پر پھیلا ہوا ہے۔ آریا ، ہڑپّہ ، موہنجو داڑو اس ہی تہذیب کی نشانیاں ہیں، دریائے سندھ آسمان سے نہیں اترا، اس کا منبع بھی ہمالیہ کی چوٹیاں ہیں اور دریائے گنگا اور جمنا بھی ہمالیہ سے ہی نکلتے ہیں۔ مہاجر کسی دوسرے سیّارے کی مخلوق نہیں اس ہی انڈس سول آئزیشن کا حصّہ ہیں۔ جہاں سے سندھی اپنا تعلّق ثابت کرتے ہیں۔

مہاجر جب سندھ میں آئے تو اپنی تہذیب، اپنی زبان، اپنی ثقافت، اپنا ہنر ، اپنی تعلیم، اپنا روپیہ پیسہ  اپنا ثقافتی ورثہ ساتھ لائے تھے۔    یہی مہاجروں کی شناخت ہے۔ مہاجروں نے سندھ فتح نہیں کیا تھا،  مہاجر حملہ آور نہیں تھے،  مہاجروں نے سندھ کو برباد یا تخت و تاراج نہیں کیا تھا۔ مہاجروں نے سندھ کے شہروں  کو آباد کیا تھا۔  صنعتیں لگائی تھیں، تجارتی ادارے قائم کئے تھے۔ تعلیمی ادارے قائم کئے تھے، سندھ کی معیشت کو چلایا تھا، روزگار کے ذرائع پیدا کئے تھے۔   مہاجروں نے سندھیوں کو نہ تو ان کی زمینوں سے بے دخل کیا نہ ان کی زمینوں پر قبضہ  کیا۔ مہاجر تو اپنی زمینیں متروکہ املاک کی شکل میں ساتھ لائے تھے۔ مہاجروں نے انڈیا میں اپنی چھوڑی ہوئی زمینوں کے بدلے سندھ میں ہندوؤں کی متروکہ زمینوں کو کلیم پر حاصل کیا تھا۔ 

سندھیوں کا یہ مطالبہ کہ مہاجر  اپنی شناخت  سے دستبردار ہوجائیں۔ اپنے آ پ  کو مہاجر نہ کہیں۔ اپنی شناخت، اپنی زبان، اپنی تہذیب و ثقافت   کو بھول کر سندھی  زبان ،  سندھی ثقافت اور تہذیب کو اپنا لیں۔ غیر  منطقی  اور ناجائز ہے۔ تہذیب و و ثقافت کوئی چادر نہیں جو اوڑھ لی جائے۔ 

  کسی ایک تہذیب کا دوسری تہذیب کو اپنانا ایک ارتقائی عمل ہے۔  اس عمل میں  صدّیاں لگتی ہیں۔   سماجی، سیاسی اور معاشی محرّکات اس عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔  اس وقت سندھ میں دو تہذیبیں انضمام اور ادغام کے عمل سے گذر رہی ہیں،  یعنی مہاجروں کے ساتھ  آئی ہوئی دریائے گنگا اور جمنا کی  گنگا جمنی تہذیب اور دریائے سندھ  کی   سندھی تہذیب ۔ چونکہ  یہ ایک قدرتی عمل ہے لہذا اس میں وقت لگے گا۔ زبردستی  یہ کام نہیں ہو سکتا۔   

یہ کوئی  اسلام تھوڑی ہے کہ کلمہ پڑھا اور مسلمان ہو گئے ۔ یہ  شناخت کا معاملہ ہے،  ثقافتی ورثہ کا معاملہ ہے، یہ تہذیب و تمدّن کا معاملہ ہے، یہ پہچان کا معاملہ ہے۔ ، یہ بقاء کا معاملہ ہے۔ مہاجر قومیت مہاجروں کی شناخت ہے۔ جب ایک سندھی ، پنجابی، بلوچ، پشتون  اپنی شناخت کے ساتھ پاکستانی ہو سکتا ہے تو  الحمدُللہّ مہاجر بھی  اپنی مہاجر شناخت کے ساتھ پاکستانی ہوسکتا ہے۔ اقوامِ متّحدہ کا عالمی منشور برائے انسانی حقوق اپنی شق نمبر 15 میں دنیا کے تمام انسانوں کو اپنی قومیت اور شناخت برقرار رکھنے کا حق دیتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *