عورتوں کو جہاد کے ليے کيسے تيار کيا جاتا ہے؟

انڈونيشيا ميں چند حاليہ دہشت گردانہ حملے بچوں، عورتوں و مردوں پر مشتمل پورے پورے خاندانوں نے کيے، جن کے بعد اس ملک ميں سرگرم جنگجو نيٹ ورکس ميں عورتوں کی شموليت پر گہری تشويش ظاہر کی جا رہی ہے۔

انڈونيشيا ميں گزشتہ چند دنوں ميں خودکش بم دھماکوں ميں بيس سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہيں۔ حملوں کی سب سے پريشان کن بات يہ ہے کہ يہ ايسے خاندانوں کی جانب سے کيے گئے، جن ميں عورتيں اور بچے بھی شامل تھے۔ مثال کے طور پر ايک گرجا گھر پر کيے گئے حملے ميں ايک ہی اہل خانہ کے چھ ارکان ملوث تھے جن ميں والدين کے علاوہ نو اور بارہ سال کی دو بيٹياں اور دو ٹين ايجر بيٹے ملوث پائے گئے۔

پوليس کے مطابق ان تمام کا تعلق مقامی انتہا پسند گروہ جامعہ انشارت دولہ (جے اے ڈی )سے تھا۔ يہ گروہ دہشت گرد تنظيم اسلامک اسٹيٹ سے روابط رکھتا ہے۔ انڈونيشيا کے پوليس چيف ٹيٹو کارناويان کے بقول حملہ آوروں نے کارروائی اسلامک اسٹيٹ يا داعش کے احکامات پر کی۔ ان کے بقول سورابايا اور سيڈو آرجو ميں ان دو مختلف حملوں کا ايک دوسرے سے تعلق ہے اور اس پيشرفت پر پوليس تشويش کا شکار ہے۔

عورتوں کا خود کش حملہ آور ہونا انڈونيشيا ميں کوئی نئی بات نہيں ليکن يہ پہلا موقع تھا جب ان کی جانب سے باقاعدہ حملے کيے گئے۔ پچھلے سال پوليس نے مغربی جاوا کی ايک خاتون ديان يوليا نوی کو حراست ميں لے ليا تھا، جو جکارتہ ميں صدارتی محل پر حملہ کرنے کی کوشش ميں تھی۔ نوی کو بعد ازاں حراست ميں لے ليا گيا تھا اور سات سال کی سزا ہو چکی ہے۔

حاليہ ايام ميں دو ايسی خواتين کو بھی حراست ميں ليا گيا، جنہوں نے پوليس والوں پر حملے کيے۔ چند ماہرين کا ايسا ماننا ہے کہ عالمی سطح پر دہشت گرد تنظيموں کے لائحہ عمل ميں تبديلی آ رہی ہے۔ اب وہ حملوں کے ليے عورتوں کو بھی استعمال کر رہے ہيں۔

سعودی کنگ فہد يونيورسٹی سے منسلک پروفيسر سمانتو القرتبی کے مطابق اسلامک اسٹيٹ جيسی تنظيميں اکثر عورتوں کو خود کش حملوں کے ليے استعمال کرتی ہيں کيونکہ ان کی شناخت ميں حکام کو مشکل پيش آتی ہے۔ ’’عورتيں بموں کو اپنے پيٹ سے باندھ کر انہيں لمبے کپڑے پہن کر چھپا لیتی ہيں‘‘۔

انسداد دہشت گردی پر ريسرچ کرنے والی ايک محققہ رکيان اديبراتا نے کہا کہ کئی لوگ انڈونيشيا ميں ان تازہ حملوں ميں بچوں کو استعمال کيے جانے پر حيران زدہ ہيں تاہم داعش جيسے گروپ کافی عرصے سے يہ طرز عمل اپنائے ہوئے ہيں۔ انہوں نے کہا کہ والدين اپنے بچوں کے ذہن کو صاف کر کے ان ميں ايسے خيالات ڈالتے ہيں۔

غير سرکاری تنظيم گارڈين نيشنل نيٹ ورک سے وابستہ کاليس ماردياسے کا کہنا ہے کہ حملہ آور واردات کے وقت ’جنت کا خواب‘ ديکھ رہے تھے۔

ماہرين کے مطابق خواتين کی جانب سے ايسی پرتشدد کارروائيوں و وارداتوں ميں ملوث ہونے کی ايک وجہ سوشل ميڈيا بھی ہے، جہاں متعدد پليٹ فارمز پر انتہا پسند موقف کی تائيد کی جاتی ہے۔

DW

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *