پاکستانی گدھے اور کتے کا گوشت کھانے پہ مجبور؟

طارق احمدمرزا

روزنامہ ڈان کی ایک خبر کے مطابق پولیس نے جمعۃ المبارک 28 اپریل کوکورنگی انڈسٹریل ایریاکراچی کے ایک گودام پہ چھاپا مارکر گدھوں اور کتوں کی آٹھ سو کھالیں برآمد کر لیں۔چھاپہ کے دوران دو افراد کی گرفتاری عمل میں آئی جنہیں ایک قانون میں موجود ایک سقم کی وجہ پرچوبیس گھنٹوں کے اندر ہی بیس ہزار روپے کی ضمانت پر رہا کر دیاگیا۔ملزمان کا کہنا تھا کہ وہ محض مزدور ہیں اور انہیں علم نہیں تھا کہ یہ کھالیں حرامجانوروں کی ہیں انہیں فی کھال پانچ روپے اجرت ملتی ہے۔

اخبار کے مطابق ان جانوروں کا گوشت اور ہڈیاں وغیرہ برآمد نہیں ہوئے اور امکان غالب ہے کہ ان ہلاک شدہ کتوں اور گدھوں کا گوشت مارکیٹ یا ہوٹلوں میں فروخت کردیا گیا ہوگا۔مبینہ طور پر زیادہ تر پوش علاقوں کے ہوٹلوں میں کتوں اور گدھوں کا گوشت گاہکوں کو کھلا دیا جاتا ہے۔

ایک ملزم نے دوران تفتیش بتا یا کہ ان جانوروں کو زیادہ تر خیبر پختونخوا اور پنجاب میں ذبح کیا جاتا ہے۔پولیس کے مطابق یہ کھالیں ہمسایہ ملک چین کو برآمد کئے جانے کاپروگرام تھاجہاں کی بے تحاشا مانگ ہے۔اخبار کے مطابق پاکستان میں اب تک اس قسم کا کوئی قانون وضع نہیں کیا گیا جو جانوروں کی غیرقانونی کھالوں کی سمگلنگ،ٹریڈنگ کی ممانعت کرتا ہو۔

https://www.dawn.com/news/1404422/duo-caught-with-more-than-800-dog-donkey-hides

قارئین کرام جب تک پاکستان میں اس ضمن میں مناسب اور مؤثر قانون سازی نہیں کی جاتی،تب تک پاکستانی شہری لاعلمی میں گدھوں اور کتوں کا گوشت کھاتے رہیں گے۔

پاکستان کو کم از کم افریقہ کے غریب پسماندہ ممالک مثلاً نائیجر،بورکینافاسو وغیرہ سے ہی سبق حاصل کرنا چاہیئے جہاں آج سے دو برس قبل گدھوں کو محض ان کی کھال حاصل کرنے کی غرض سے ہلاک کرنے کو غیرقانونی اور جرم قرار دے دیا گیا۔بورکینا فاسونے اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر گدھوں کی کھالیں چینی تاجروں کو بیچنے یا چین کو ایکسپورٹ کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔

اس کی بڑی وجہ ان ممالک میں بالعموم مال مویشیوں کی قلت اوربالخصوص باربرداری کے جانوروں(گھوڑے،گدھے ،بیل وغیرہ) کی روزافزوںکمی بتائی جاتی ہے۔

معلوم نہیں کہ پاکستان میں اس قسم کی قانون سازی کی راہ میں ملک میں موجود گدھوں کی افراط ہے یا سی پیک منصوبے اور پاک چین دوستی کی کوئی مصلحت آڑے آ رہی ہے ، لیکن پاکستانی شہریوں کا اتنا قانونی،اخلاقی اور مذہبی حق ضرور بنتا ہے کہ انہیں مکمل اطمینان اورتشفی حاصل ہو کہ وہ اپنے اہل خانہ اور مہمانوں کو بڑےگوشت کے نام پر گدھوں اور چھوٹےگوشت کے نام پر کتے کا گوشت نہیں کھلارہے۔

اخباری ذرائع کے مطابق نائیجر اوربورکینا فاسو کے کھالوں کے سوداگراتنے باضمیر ضرور ہیں کہ وہ گدھوں کی کھالیں اتارنے کے بعد ان کا گوشت مارکیٹ یا ہوٹلوں کو نہیں بیچتے بلکہ راتوں رات گڑھا کھود کر اس میں دبا دیتے ہیں۔ان کے برعکس ہر قسم کے خوف اورشرم سے بے نیازہوکرآم کے آم گٹھلیوں کے دام بٹورنے والے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہی پائے جاتے ہیں۔اس کا علاج تو کسی چارہ گراں کے پاس بھی موجودنہیں۔

کم لوگوں کو علم ہے کہ چین میں گدھوں کی کھال کی مانگ اس قدر بےتحاشا کیوں ہےجس کی وجہ سے ہم لاعلمی میں گدھوں کا گوشت کھاتے چلے جارہے ہیں۔اس کی بنیادی وجہ گدھے کی کھال سے حاصل ہونے والی جیلا ٹین نامی مرکب ہے جو قدیم چینی طریق علاج میں لگ بھگ اڑھائی ہزارسال سے بطور دوا استعمال کیا جا رہا ہے۔یہ مرکب گدھے کی کھال کوانتہائی اونچے درجہ حرارت پہ ابالنے سے حاصل ہوتا ہے۔

یہ وہی مرکب ہے جو ہماری مرغوب ڈش سری پائے کے شوربے میں اچھی خاصی مقدار میں موجود ہوتا ہے۔

اس جیلاٹن کو مزید گاڑھا کرکے نیم ٹھوس ٹکڑے تیار کئے جاتے ہیں جسے چینی زبان میں ایجی او “(ejiao) کہتے ہیں۔چینی حکما ء کے نزدیک اس مرکب کا استعمال دوران خون کی افزائش کرتا ،کینسر کا قلع قمع کرتا،بڑھاپے کی روک تھام کرتا،اور بیتی جوانی کو واپس لاتا ہے۔تاہم جدید چینی تحقیقات کے مطابق ان دعووں کی کوئی سائنسی حقیقت نہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ دیسی ادویات تیار کرنے والی ایک چینی کمپنی نے گزشتہ چند سالوں سے گدھوں کی کھال سے حاصل کردہ جیلی کی نام نہاد افادیت کی از سرنو تشہیر کرکے اس سے تیار کردہ مصنوعات کاروبار شروع کیا ہے اور اس مقصد کے لئے وہ دنیا بھر سے گدھوں کی کھالیں امپورٹ کر رہی ہے۔مبینہ طورپریہ کمپنی اب تک دنیا بھر سے ایک ملین گدھوں کی کھالیں امپورٹ کر چکی ہے۔

قارئین کرام ایک طرف اگر جانوروں کی بہبود کی عالمی تنظیموں نے اس قبیح کاروبار کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے چینی حکومت سے اس مسئلہ کی روک تھام کے لئے اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے تودوسری طرف اس کاروبار سے منسلک چینی تاجروں اور کمپنیوں نے تجویز دی ہے کہ انہیں چین سمیت دنیا کے مختلف (خصؤصاً افریقی)ممالک میں دیگر مویشیوں کی طرح گدھوں کی افزائش نسل کے فارم اور مذبح خانے قائم کرنے کے قانونی لائسنس جاری کئے جائیں ورنہ وہ دن دور نہیں جب گدھا نام کی کوئی چیز دیکھنے کو بھی نہیں ملے گی۔بقول شاعرتمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں !”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *