سرجری اور عہد وسطیٰ کے ممتاز مسلم سرجن۔ قسط دوم 

 زکریاورک .ٹورنٹو

ابو القاسم خلاف ابن العباس الزھراوی (قرطبہ1013) قابل قدر طبیب، سرجن، کاسماٹالوجسٹ اور مصنف تھا۔ عالم اسلام میں اس کو سب سے عظیم سرجن ، اورماڈرن سرجری کا باوا آدم تسلیم کیا جاتا جس نے200 کے قریب آلات سرجری ایجاد کئے اور ان کے واضح خاکے دئے جیسے چمٹی، زنبور، نشتر، پیشاب کی سلائی،داغنے کا آلہ، ، دو دھاری چاقو، آہنی عکس نما۔ forceps, pincers, scalpels, catheters, cauteries, lancets, and specula۔ ۔

تیس جلدوں میں جراحی پراس کی جلیل القدر مبسوط تصنیف التصریف لمن عجز التالیف نے روزاول سے ہی ڈنکے کی چوٹ پر اپنا لوھا منوا لیا اس لئے یہ متعدد زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہے۔

شہرہ آفاق خدا بخش لا ئبریری پٹنہ میں التصریف کے1710 & 1888 کے دو نسخے موجود ہیں۔ اس کا عربی ایڈیشن لکھنو سے 1908 میں زیور طبع سے آراستہ ہؤا تھا۔کتاب کی تیسویں جلد کا انگلش ترجمہ لندن سے1973 میں شائع ہؤا تھا۔ عربی متن میں تیسواں مقالہ ریاض (سعودی عربیہ) سے الجراحہ: المقالہ الثلاثون کے نام سے1993 میں زیور طبع سے آراستہ ہؤا تھا۔ دمشق سے2009 میں یہ کتاب الزھراوی فی الطب عمل الجراحین منسٹری آف کلچر نے شائع کی تھی۔

التصریف کی تیسویں جلد میں زھراوی نے آپریشن کی تکنیک جن کا تعلق جنرل سرجری، بچوں کی سرجری، گائنا کولوجی، آرتھو پیڈک سرجری سے ہے ان کا تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ پروفیسر ربیع عبد الحلیم کنگ عبد العزیز یونیورسٹی یورو لوجی ڈیپارٹمنٹ سعودی عرب نے کیا ۔ یہ مقالہ جات 1985-2003 کے درمیان زیور طبع سے آراستہ ہوئے تھے۔ کتاب کا پہلا اور دوسرا مقالہ کویت فاؤنڈیشن فار ایڈوانسمنٹ آف سائنس نے2004 میں شائع کیا جس کے تدوین کے فرائض ڈاکٹر صبحی محمود حمامی نے سرانجام دئے تھے۔ کتاب کے لا طینی ترجمہ کا مخطوطہ قطر ڈیجیٹل لا ئبریری میں بھی موجود ہے۔ 

اس مبسوط و مدلل کتاب میں اس نے سر سے پاؤں تک کے325 ،امراض کی علامات اور ان کے علاج کا ذکر کیا۔ زہراوی تجربہ کار طبیب اور ماہر جراح تھا جس کی تصانیف میں آنکھوں کے امراض، کان، حلق، مسوڑھے، زبان، عورتوں کے امراض، فن تولید، ہڈیوں کے ٹوٹنے پر تفصیلی ابواب موجود ہیں۔اس نے ہارمون غیر متوازن ہونے کی وجہ سے لڑکوں اور مردوں کے پستان gynecomastia کے علاج کیلئے دو قسم کی سرجری تجویز کی۔

چار سو سال بعد ترکش سرجن شرف الدین نے بھی اسی تکنیک کا اعادہ کیا تھا۔موتیا بند آپریشن کرنے کا اس کو خودپر اتنا اعتماد تھا کہ اس نے ایک آنکھ والے آدمی کا موتیا بند کا نازک آپریشن کیا۔ اس کے علمی رتبے کا اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا کہ یورپ کے فادر آف سرجری گائی ڈی چولیاک نے اپنی کتاب میں تصریف سے حوالے دو سو مرتبہ دئے تھے۔ اسی طرح فرنچ سرجن ڈیل شامپسDalechamps 1588نے بھی۔ 

سرجری میں اس کے فقید المثال کارنامے اس قدر ہیں کہ ان کیلئے الگ ضخیم کتاب درکار ہوگی۔ تاھم چند ایک کا ذکر یہاں مناسب ہوگا : اس نے رسولی Tumorکے علاج کیلئے ایک آلہ دریافت کیا ۔عورتوں میں گری ہوئی پستان sagging breastکیلئے سرجیکل علاج بتایا۔ جسم کے اندر ٹانکوں کیلئے catgut(بھیڑ کی آنتوں سے تیار کردہ دھاگہ) استعمال کیا، کان، ناک اور گلے ENTکیلئے خاص آلات بنائے۔ ٹوٹی ناک کو جوڑنے کا طریقہ وضع کیا۔ موتیا بند کے آپریشن کئے۔ اس نے کیمو تھیراپی کو رواج دیا۔ سرطان کا علاج کیا۔ گلے میں غدود کے بڑھ جانے یعنی tonsil کا آپریشن کیا۔ بیماریوں کا علاج بجائے ادویاء کے آپریشن سے کیا۔ جانوروں کی ہڈی سے مصنوعی دانت بنائے۔ گرے ہوئے دانت کی جگہ گائے کی ہڈی کا دانت لگایاdental prosthesis جبکہ اس کے سات سو سال بعد امریکہ کا صدر جارج واشنگٹن لکڑی کے دانت wooden denturesلگایا کرتا تھا۔

حلق، دماغ، گردے کا آپریشن، پیٹ کا آپریشن، آنتوں کا آپریشن، آنکھوں کا آپریشن کرنے کیلئے مفید اور مؤثر طریقے دریافت کئے۔ہڈیوں کو کاٹنے کا طریقہ بتایااس کیلئے آلات بنائے اور احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا۔ آپریشن کی تیاری، مریض کی تیاری، آپریشن روم کا انتخاب بھی تجویز کیا۔ زخم سے بہتے خون کو روکنے کیلئے کپاس بطور ڈریسنگ استعمال کی اور داغنے کے طریق کو بہتر بنایا۔

زیادہ خون کو روکنے کیلئے بڑی شریانوں کو آپس میں باندھنے کی تکنیک ایجاد کی جسکو ligationکہا جاتا ہے۔ اس نے سانس کی نالی کا آپریشن کیا، اس نے ہڈیوں کو جوڑنے کیلئے پلاسٹر کاسٹ لگایا، ۔ مردہ بچے کو باہر نکالنے کا طریقہ بتایا، مردوں اور عورتوں میں مثانے کی پتھریurinary bladder stoneنکالنے کا طریقہ بتایا، آپریشن روم میں سرجری کے وقت سبز رنگ کا گاؤن پہنا، مثانہ سے پتھری نکالنے کیلئے پیشاب کی نالی کے راستے سے چھوٹی سیdrill استعمال کی۔بچہ دانی یا شرمگاہ کا معائنہ کرنے کیلئے عکس نما عدسہvaginal specula نہ صرف ڈئزائن کیا بلکہ اس کو خود بنا یا بھی۔وضع حمل کی چمٹی forcepsایجاد کی۔ زخم سینے کیلئے ریشم کا دھاگہ استعمال کیا۔ ولادۃ قیصریہ یعنی Cesarean section سی سیکشن کرنے کا طریقہ بتایا۔ ایک ہزار سال قبل ایسی ایجادات کے پیش نظر کچھ لوگ زھراوی کو بائیو میڈیکل انجنئیر کہنے میں حق بجانب ہیں ۔ 

اس نے سب سے پہلے ہیمو فیلیا کی شناخت کر کے اس کو موروثی قرار دیا۔ زھراوی نے دماغ کے حصوں کو بیان کرتے ہوئے برین سرجری کو تفصیل سے بیان کیا، کھوپڑی میں سوراخ کیسے کیا جائے۔ اگر کھوپڑی یا سپائینل کالم میں فریکچرہوجائے تو اس سے پیداہونے والی نیورولاجیکل پیچیدگیوں کو بیان کیا۔جنین اور تولید یعنی Obstetrics میں جو باتیں بیان کیں وہ پڑھ کر انسان مبہوت رہ جاتا ہے۔افزائش نسل کے امراض یعنی گائنا کالوجی میں یدطولیٰ رکھتا تھا۔ آرتھو پیڈکس یعنی جوڑوں اور ہڈیوں کی حفاظت پر کئی مقالات سپرد قرطاس کئے۔ ایک تکنیک وضع کی جس کو دور حاضر میں Kocher’s technique کہاجاتاجس میں مریض کی کندھے کی ہڈی کو ٹھیک کیا جاتا جب وہ ایک طرف منہ کر کے لیٹا ہو۔ 

یہ تکنیک زہراوی نے وضع کی مگر اس کا کریڈٹکوچرکو دیاجاتا۔ جراحی کے آلات کے ذریعہ وضع حمل کرانے کا طریقہ بتایا جس کو یورپ میں اب Walcher’s position کہاجاتا جس سے بچے کی ڈیلوری آسان ترہوجاتی ہے۔ مریض کو بے ہوش کر نے کیلئے اس نے anaesthetic sponge بنایاجو افیون، بیلا ڈونااور ہیملاک میں بھگویا ہوتا تھا۔ اس نے گلے میں گلہڑGioter اور تھائی رائیڈ کی افزائش کی شناخت کی۔درد شقیقہ (مائیگرین)کے سردرد کا سرجری سے ligating the temporal arteryعلاج کیا۔ 

امریکن سرجن ہالسٹیڈW.S. Halsted (1922) کاکہنا ہے کہ زہراوی پہلا سرجن تھا جس نے تھائی رائڈ کا آپریشن کیا تھا۔ ٹانگوں اور پاؤں میں vericose veins کی اس نے تصویر کشی کی جو ایک ہزار سال بعد بھی ٹھیک ہے۔ زہراوی نے tonge depresserکی ڈایا گرام بنائی جو بلیڈ نما تھا ۔ اپنے بنائے ٹنگ ڈپریسر، ہکس، اور قینچی سے اس نے ٹانسیلکٹومی کا آپریشن کیا تھا۔ عورتوں کے بریسٹ کینسر کے لئے زھراوی نے پستان کو سرجری کر کے کاٹ دینے کا کہا mastectomy۔یہ آپریشن اب بھی کیا جاتا، فرق یہ کہ داغنے کی بجائے ریڈی ایشن کی جاتی ہے۔ آپریشن کے دوران مریض پر روشنی منعکس کرنے کیلئے آئینے کو استعمال کیا ، یہ تکنیک آپ نے اس لئے استعمال کی تاکہ عورتوں کی بچہ دانی کے گردن نما حصے cervices کا معائنہ کیا جا سکے۔ 

برٹش میڈیکل جرنل کے مطابق برطانیہ میں قدیم ترین میڈیکل مینو سکرپٹ جو1250 کے لگ بھگ کتابت کیا گیا وہ ابوالقاسم کا تھا۔ اس مسودے کے 89، اوراق ہیں جو نہایت عمدہ گوتھک سکرپٹ میں لاطینی میں کتابت کئے ہو ئے ہیں۔ مسودے میں چھ مقالے ہیں جن میں سب سے اہم اور پہلا مقالہ44 اوراق پر مشتمل سرجری پر ہے۔ 

جہاں تک گلے کے غدود (کوا،ٹانسل ) کے آپریشن tonsillectomy کا تعلق ہے ، اس کی سرجری کی ہدایات تمام اہم طبی کتابوں میں موجود ہیں جیسے ابن سینا کی گوہر آبدارتصنیف القانون فی الطب، علی ابن عباس کی کامل الصنعت، ابن القف کی کتاب لعمدہ ۔ تکلیف دہ ، عزیت ناک ٹانسیلا کٹومی کی سرجری کے بعد کے روگ کا ذکر ابن سینا نے کیا تھا جیسے آواز میں تبدیلی، سانس سے متعلق انفیکشن۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ سنگین پیچیدگیاں ہیں کیونکہ ان کی وجہ سے سینے میں انفیکشن ہوتا اور موت واقع ہوسکتی ہے۔ 

ابن الہیشم (قاہرہ 1040) کی تاریخ طب میںآپٹکس پر پہلی جامع اور مقتدرتصنیف کتاب المناظر کا سب سے شاندار باب آنکھ پر ہے جس میں آنکھ کی اناٹومی شرح و بست سے بیان کرتے ہوئے آنکھ کی ڈایاگرامز دیں اور ان سے متعلقہ اعصاب کی۔آنکھ کے مختلف حصوں کے لاطینی نام جو آج بھی مستعمل ہیں ، ان میں بیش تر عربی ناموں کے لفظی تراجم ہیں جیسے ثقب العنابیہ Pupil، القرنیہ corneaالاعصاب البصری optic nerve، عدسہ lens، صلیبہ sclera،مشیمہ choroid، شبکیہ retina، رطوبت زجاجیہ vitreous humor، رطوبت مائیہ aquous humor ۔ یونانی حکماء کی تھیوریز کو رد کرتے ہوئے اس نے کہا کسی چیز کاعکس اس وقت بنتا جب روشنی کسی شے سے ٹکرا کر آنکھ تک پہنچتی ہے۔ بصارت اس عمل کا نام ہے جب کسی نظر آنیوالے چیز کے نقوش آنکھ کی پتلی کے ذریعہ داخل ہو کر دماغ تک جاتے، جہاں آنکھ کی فیکلٹی آف سینس مکمل ہوجاتی ہے۔ ۱۱عکس بننے میں آنکھ کا پردہ بصارت Retinaاہم رول اداکرتا ،ہاں وہ اس معاملے میں غلطی پر تھا کہ امیج آنکھ کے عدسے سے بنتا ہے۔ابن الہیثم زندگی زیادہ تر مسجدالازھرکے گوشہ عزلت میں گزاری ،لگتا ہے اس نے آنکھ کے بارے میں اتنا وقیع اور عمیق علم ڈائی سیکشن سے ہی حاصل کیا ہوگا۔ https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC3441032/

شیخ الر ئیس ابو علی حسین ابن سینا (سینٹرل ایشیا1037)کی پانچ جلدوں میں القانون فی الطب کی ضو فشانیوں سے مغرب چھ سو سال تک منور ہوتا رہا۔ اس نے سرجری کے دوران نیند آور دواؤں کا استعمال تجویز کیا جن سے سرجری کے دوران تکلیف نہیں ہوتی۔ اس نے موتیا بند( نزول الماء، آنکھ کے عدسے کا غیر شفاف ہوجانا) کو سائز، ڈنسٹی اور کلر کی بنیاد پر کلاسے فائی کیا تھا۔ سائز کے حساب سے اس نے نزول الماء کی دو قسمیں بتائیں یعنی مکمل اور جزوی رکاوٹ۔ ابن سینا کا کہنا تھا کہ اگر نزول الماء کا شروع مراحل میں پتہ چل جائے تو اس کا علاج ادویاء اور غذا سے کیا جا سکتا۔ اس کے لئے کئی ادویاء تجویز کیں۔ اس کیلئے سرجری خاص حالات میں ضروری ہوتی۔ اور سرجری اس وقت کی جائے جب نزول الماء پختہ ہوجائے یعنی mature stateمیں پہنچ جائے۔یاد رہے کہ آنکھ کی پتلی کے اندرچھ instrinsic muscles دقیق عضلات سب سے پہلے شیخ الرئیس ابن سینا نے بیان کئے تھے۔اس نے کہاکہ نوز فر یکچر دس روز میں مندمل ہوجاتا، پسلی کو20دن ، بازو کو ۰30 سے40 دن درکار ہوتے، ٹانگ کی ہڈی پچاس سے120دن میں شفایاب ہو جاتی ہے۔ 

سرجری میں کارنامے :ابن سینا نے سرجری میں زخموں کے ٹانکوں کیلئے متعفن نہ ہونیوالے سؤر بال استعمال کرنے کا کہا بجائے سوتی دھاگے کے۔ مریض کو بے ہوش کرنے کیلئے oral anaesthetics افیون دینے کو کہا۔ پھیپھڑے کی جھلی کے ورم Pleurisyکا ذکرکیا۔ انکشاف کیا کہ سل کی بیماری Phthisisوبائی ہوتی ہے۔ علاج میں علم نفسیات کو داخل کیا۔ الکحل کے جراثیم کش ہونے کا ذکرکیا۔ ہرنیا کے آپریشن کا طریقہ بیان کیا۔ دماغی گلٹی اور معدے کے ناسور کا ذکرکیا۔ پیٹ کے کیڑوں flariasis کی بیماری دریافت کی اور اس کی علامات بیان کیں۔ اس نے meningitis دماغ کی جھلیوں کے ورم کی تشخیص کی۔ جسم پر سرطان (کینسر) کی صورت میں جسم کے متاثرہ حصے کو کاٹ دینے کا کہا بلکہ ناسور کی طرف جانیوالی تمام رگوں کو بھی کاٹ دیا جائے۔
اگر یہ کافی نہ ہو تو پھر اس حصے کو داغ دیا جائے جس طرح ہمارے دور میں radiationتاب کاری کی جاتی ہے۔کتاب القانون میں اس نے پہلی مرتبہ عصب ثلاثہ Trigeminal nerveکو بیان کیا جس سے چہرے میں سین سیشن اور موٹر فنکشن (غذا کاٹنا، چبانا)عمل پذیر ہوتے ہیں۔ اس نے کہا کہ ہڈی کے فریکچر ہونے پر سپلنٹ splintفوراََ نہ لگایا جائے بلکہ پانچویں روزکے بعد لگایاجائے جب سوجن ختم ہو جائے، اس کو اب Theory of delayed splintageکہا جاتا مگر یور پ میں اس تھیوری کا پا ئینیر سینٹ ٹامس ہاسپٹل لندن کے پروفیسر جارج پرکنز Prof. G. Perkins کو کہا جاتا ہے۔
http://www.muslimheritage.com/article/bone-fractures-ibn-sinas-medicine
ابن سینانے انگو ٹھے کی ہڈی metacarpal bone کا فرکچر بیان کیا ۔ ابن سینا سے قبل رازی نیز اس کے بعد ابن القف نے بھی اس فرکچر کو بیان نہیں کیا تھا ۔ مگر یورپ میں اس کا کریڈٹ ڈبلن کے سرجن Edward H. Benett (1907) کو دیا جاتا اور یہ Bennett’s fracture 1882 کہلاتا ہے۔ اس نے ریڑھ کی ہڈی کے غیر معمولی طور پر بڑھ جانے spinal deformity کا ریڈ یکشن اور ٹریکشن کی تنکیک کو استعمال میں لاکر علاج کیا۔ 

ابوالمجد بیضاوی کو اناٹومی اور ڈائی سیکشن کا معتبر اور جلیل القدرسرجن تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کی تصنیف مختصر درعلم تشریح چھ ابواب پر مشتمل تھی جس میں عضلات ، اعصاب ، رگوں، شرائن ،پٹھوں اور جلد پر روشنی ڈالی گئی تھی۔اہم بات یہ کہ کتاب میں متعدد رنگین تشریحی ڈایاگرامز تھیں۔یہ1288کے بعدمیں زیب قرطاس کی گئی۔ تھی۔ اس کا ایک مسودہ برٹش میوزیم لندن میں موجود ہے۔ڈاکٹر سید حسین رضوی برقعی کا تصحیح کردہ نسخہ2007میں دانشگاہ تہران سے طبع ہوا تھا۔ (12)

ابن منصور بن عبد اللہ الجرجانی (زریں دست1088) ایران کا مشہور طبیب تھا جس نے نور العیون تالیف کی جس کے دس ابواب تھے۔ ساتویں باب میں اس نے آنکھ کے تیس آپریشنز کی تفصیل دی جن میں سے تین موتیا بند کے تھے۔ اس نے آنکھ کی اناٹومی او رفزیالوجی اور امراض العین کا بھی ذکر کیا۔ ایک باب ایسے امراض کا تھا جو نظر آتے جیسے موتیا بند، ٹریکوما،صلیبہ و قرنیا کے امراض scleral and corneal diseases۔ ایک باب لاعلاج اورایک قابل علاج امراض پر تھا۔ 

عبدالملک ابن زہر (سپین1162)
اس نے رازی اورزھراوی کے علم تشریح میں مزیدقابل ذکر اضافہ کیا جب اس نے مردہ انسانی لاشوں کو ڈائی سیکٹ کیا تھا۔ اس نے رازی کی روایت برقرار رکھتے ہوئے نئی ادویاء کوپہلے جانوروں پر آزمایا تھا۔سانس کی نالی کا آپریشن پہلے اس نے بکریوں پر کیا پھر انسانوں پر۔ وہ پہلا شخص تھا جس نے ہوا کی نالی کا عمل جراحی کیاtracheotomy تا جس چیز سے سانس لینے میں دقت ہورہی ہے اس کو رفع کیا جا سکے۔ ایسی بھیڑیں جو پھیپھڑوں کے عارضے سے مر گئیں تھیں ابن زہر نے ان کی (لاش کا طبی معائنہ)آٹوپسی کی۔

وہ پہلا شخص تھا جس نے پیرا سا یٹ (طفیلیوں) کی نشاہدہی کی اور جو عوارض یہ پید اکرتے ان کو بیان کیا۔مستقبل کے ڈاکٹروں کیلئے وہ سپروائزڈ ٹریننگ پروگرام کا زبردست حامی تھا جیسا کہ آج کل کے انٹرن شپ پروگرام ہوتے ہیں۔ (13) ابن زہر نے اپنی حکمت و بصیرت سے مامور معتبر تصنیف التیسیر فی المودۃ والتدبیر میں ایسے نا سوروں کی تفصیل دی Oncologyجن سے اطباء ناواقف تھے جیسے پردہ شکم کے اوپر پھیپھڑوں کے درمیان خالی جگہہ میں رسولی پیدا ہونا، دل کے بیرونی غلاف پر پھوڑوں کا نمودار ہونا، حلق کا فالج، خارش، کان کے درمیانی حصہ کا متورم ہونا، اور انتڑیوں کا گھلنا۔ ورم غلاف قلبPericarditis کو بیان کیا ۔واسطہ کے پھوڑے کو بیان کیا یعنی غشائے وسطیٰ کا پردہ خصوصاََ پھیپھڑوں کے درمیان کی جھلیmediastinal abcesses ۔ اس نے موتیابندکے آپریشن اور گردوں کی پتھری کے آپر یشن کو بھی احسن اور مفصل طریق سے بیان کیا ۔ (14)درمیانی کان کی سوزش کو بیان کیا۔

بطور فزیشن اس نے کئی نئی دریافتیں کیں introduced autopsy, procedure for tracheotomy, cause of scabies and inflammation, discovered the existence of parasites. اس نے سب سے پہلے وبائی جلدی مرض scabies/ itch miteکو بیان کیا یوں اس کو دنیا کا پہلا پیراسا ئسٹالوجسٹ کہاجاتا ہے۔ کتاب التیسیر میں تجرباتی تشریح الابدان کا طریقہ متعارف کرایا۔ ہوا کی نالی کیلئے عمل جراحی کا طریقہ شروع کیا اور بتایا جس شخص کی سانس رک رہی ہو اس کا آپریشن کیسے کیا جائے۔ سرجری کیلئے جانوروں پر ٹیسٹنگ کی۔حقنہ یعنی نر خرے کے ذریعے مصنوعی غذا کی ترسیل کے علم کی وضا حت کی۔بہ حیثیت ڈرما ٹالوجسٹ اس نے جلد کی حفاظت کیلئے مرہم بنائی، آئی ڈراپس، ناخنوں اور بالوں کی حفاظت کیلئے لیپ، دانتوں کی صفائی کیلئے سفوف۔ 
الملک الناصر صلاح الدین ایوب (م 1193) کے دور حکومت میں حلب کے ایک فزیشن الشیزاری محتسبوں کیلئے مینوئیل لکھا جس میں منصوبہ سازی کی گئی تھی کہ میڈکل کمیونٹی کو کس طرح سپروائز کیا جائے۔ جراحیون(سرجنز) کیلئے اس نے قیدلگائی کہ وہ علم تشریح سے واقف ہوں، جسم کے اعضاء سے واقف ہوں، جیسے پٹھے، رگیں، اعصاب تا وہ پھوڑا پھنسی ا ور بواسیر کے آپریشن کے وقت ان سے گریزکریں۔ 

بارھویں اور تیرھویں صدی میں عربی میں امراض و علاج العین پر متعدد طبی کتب منصہ شہود پر آئیں۔ اسلامی سپین کے محمد ابن قسوم ابن اسلم لغفیقی(1162) نے ماہرین چشم کیلئے ایک گائیڈ المرشد فی الکحل ترتیب دی جس میں جملہ آلات جراحی بھی دئے گئے تھے۔ کتاب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا کہ اس دور کے ماہرین چشم کو آنکھ اور پپوٹے کے عوارض کا گہراعلم تھا جس کیلئے وہ سرجری، مرہم اور کیمیکل میڈیسن استعمال میں لاتے تھے۔ اس کا مجسمہ قرطبہ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ 

مہذ ب الدین ابن ہبل (بغداد1213) 
موصل میں قیام کے دوران اس نے کتاب المختارات چار جلدوں میں تیار کی ۔ اس کی پہلی جلد کی ۳۵ فصلیں سرجری سے متعلق ہیں۔ دائرۃ المعارف حیدرآبادنے اس کتاب کو 1943 میں شائع کیا تھا۔ 
قاہرہ میں ماہر چشم فتح الدین قیسی (م 1259) نے نتیجہ الفکر العلاج امراض البصر لکھی۔ قیسی مصر کے دو ایوبی سلطانوں بشمول صلاح الدین ایوبی کا شاہی معالج تھا۔ کتاب 17، ابواب پر مشتمل تھی جس میں آنکھ کی اناٹومی اور فزیالوجی ، آنکھ کے 124 ،عوارض ان کی وجوہات اور علاج پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ ان میں سے بعض امراض کا پہلی دفعہ ذکرکیا گیا تھا۔ نتیجہ الفکر کا مسودہ نیشنل لا ئبریری میڈیسن میں موجود ہے NLM MS A48جس کی کتابت کسی کاتب نے نومبر1501میں مکمل کی تھی۔ 

اس کے دس سال بعد شام کے خلیفہ ابن ابی المحاسن (1256) نے امراض چشم پر تفصیلی کتاب لکافی فی الکحل (فی خلعت) زیب قرطاس کی جس کے آغاز میں ان کتابوں کی فہرست دی گئی جو اس سے پہلے امراض العین پرزیب قرطاس ہو چکی تھیں۔ کتاب میں36، آلات کی ڈایا گرامزدیں جو آنکھ کے ڈاکٹر کیلئے از بس لازم تھیں۔ ہر آلے کا نام اور اس کی وضاحت دی۔ اس نے دماغ اور اسکے ممبرین کی ڈایا گرام دی، آنکھ اور اعصاب بصر کی تصویر دی اور بتایا کہ دائیں آنکھ سے بائیں طرف کنٹرول ہوتی اور بائیں آنکھ سے دائیں طرف۔ یا د رہے کہ تیرھویں اور چودھویں صدی میں علاج العین پر جنہوں نے مدد گار کتابیں لکھیں ان میں سے اہم نام ابن نفیس کا ہے۔ سولہویں اور سترھویں میں سلطنت عثمانیہ، صفوی ایران اور مغل ہندوستان میں امراض البصر پر جو کتابیں لکھی گئیں ان میں زیادہ ترعرب ماہرین چشم وتشریح کی کتابوں سے استفادہ کیا گیا تھا۔ 

شرف الدین رحبی (1268) 
یہ یگانہ روز گار فاضل طبیب عبد الطیف بغدادی کا شاگرد رشید تھا۔ تشریح پر اس کی بے مثل کتاب کا نام ہے فی خلق الانسان و ہےءۃ و منفعتھا .
مغل شہنشاہ شاہ جہاں کے دور حکومت (1628-1658۱)میں اسلامی طب اپنے عروج کو پہنچا تھا۔ وہ مدبرسیاست دان، حاکم اور سائنسدان کا انوکھا امتزاج تھا۔ اس عرصہ میں مسیح الزماں حکیم نو ر الدین عبد اللہ جو سرجری میں ممتا ز حیثیت رکھتا تھا ، اس نے 1645میں نامور کتاب طب دارا شکوہی قلم بند کی۔ اس عالی شان کتاب میں درج ذیل موضوعات پر اظہار خیال کیا گیا تھا: bathing, vein section, cuping, cautierization, and use of leaches. کتاب میں انسانی جسم کی تین ڈایا گرامز دی گئیں تھیں جن میں تمام اندورنی اعضاء واضح طور پرنمایاں تھے۔15

حوالہ جات 
(10)
جارج سارٹن، ہسٹری آف سائنس، بوسٹن 1924ء 
(11) Howard Turner, Science in Medieval Islam, 1997, USA,page 198
(12)
ڈاکٹر سید ظل الرحمن، تاریخ علم تشریح، علی گڑھ1967، صفحہ250
(13) Michael Morgan, Lost History, Washington, 2007 page 206
(14) www.britannica.com/biography/ibn-Zuhr

(15) Poonam Bala, Medicine and medical policies in India, NY 2007, page 52

3 Comments

  1. Dr.Imran Akhtar says:

    Dear Virk
    It’s another historical article……Congratulations

  2. N.S.Kashghary says:

    I wish this history could repeat itself!

  3. Dear Kashghar: History of nations is like a life cycle….. those glorious days will one day come back
    but we have work for that. i.e. adopt secularism.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *