شاہ لطیف : سر،سنگیت اور کشا کش ہست و بست

ڈاکٹر طاہر منصور قاضی

زندگی یوں تو بذات خود ایک تہہ دار تجربہ ہے جو ہر انسان کو میسر ہے مگر اسے اپنے اندر سمونے اور لاشعور کی گہری تہوں میں موجزن آب حیات سے وضو کروا کے، اسے پھر سے اپنے اوپر منکشف کرنے کا ہنر اور توفیق ہر کسی کو میسر نہیں۔ سائیں شاہ لطیف اس ہنر میں یکتا ہیں۔ سر، سنگیت، سندھی زبان اور کشا کش ہست کو یکجا دیکھنا ہو تو اس کا نام شاہ جو رسالو ہے۔

شاہ سائیں کی شاعری اور موسیقیت کو ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا۔ پیشتر اس سے کہ میں کچھ اور کہوں، مجھے اس بات کا ادراک ہے کہ سندھی زبان سے نا واقفیت میری راہ میں بہت بڑی روکا وٹ ہے۔ اس لئے شاہ کے لسانی محاسن کا احاطہ میرے بس کی بات نہیں ۔ تا ہم مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ شاہ لطیف کی شاعری سندھی زبان کے ادب میں اپنی نظیر آپ ہے کیونکہ شاہ کی وائینے وقت کی عمیق فنائیت کو مات دی ہے ۔ شاہ کی وائی میں عوامی لب و لہجہ، عوامی زبان اور محاورہ ہے جو سندھ کی ہزاروں سال پرانی تاریخ اور تہذیب کا نقطہء ارتقاز ہے۔ اس نے جہاں شاہ کی وائی کو ہمیشگی کی سند عطا کر دی ہے، وہیں لاشعور کی تہوں میں چھپی حسیات کے لئے بھی اظہار کا الہامی دریچہ وا کیا ہے۔ میں سندھی زبان میں اپنی لسانی کم علمی کے باوجود کوشش کروں گا کہ شاہ کے کلام کی اس معنوی حقیقت پر نظر کروں جہاں شاعری پیغمبری کا جزو بن جاتی ہے۔

شاہ لطیف کی زندگی کے بارے میں لوگ بہت کچھ جانتے ہیں۔ اسلئے میں عمداً شاہ سائیں کے حالات زندگی سے صرف نظر کر رہا ہوں لیکن یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ان کی افتاد طبع کے ساتھ ساتھ ماحول، اور تعلیم و تدریس جو انہوں نے مکتبہ زندگی سے حاصل کی تھی، اس میں شاہ لطیف کا مذہب، روحانیت، انسانیت، زبان اور کلچر کا نہایت باریک بینی سے مشاہدہ اور مجاہدہ شامل تھا۔

انسانیت کی بات کرتے ہوئے شاہ سائیں کے بارے میں یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ شاہ لطیف نے مسلمان صوفیوں، ہندو یوگیوں، سادھووں اور سنتوں کی صحبت سے کسبِ فیض کیا تھا۔ شاہ نے عام آدمی کی زندگی اور روزمرہ کی اونچ نیچ کا بھی اسی التزام سے مطالعہ کیا ، اور اس حد تک ان سے متاثر ہوےُ کہ انہی میں سے ہو کر رہ گئے ۔ آج صدیوں بعد بھی جب فقیر ان کی وائی گاتے ہیں تو سننے والوں کو شاہ سائیں کے الوہی وجد سے ہم کنار کر دیتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں وجود موسیقی میں ڈھل جاتا ہے اور معنی کی تجسیم صرف راگ اور سر سے ہی ہو پاتی ہے۔ اس مقام پر شاہ اپنے تاریخی وجود سے نکل کر مکمل طور معنوی وجود میں ڈھل جاتے ہیں او ر اپنی لطافت اور غنائیت کے موتی بکھیرنے لگتے ہیں۔

ان تمام عوامل نے جہاں شاہ لطیف کو عوام سے قریب تر کر دیا ، وہیں شاعری میں لطف و عنایت کے ایسےمفہوم بھی ان سے منظوم کروا دئیے کہ شاہ کی شاعری نہ تو پرانی ہوتی ہے اور نہ ہی کسی طور زندگی سے پہلو تہی کرتی محسوس ہوتی ہے۔ شاعرانہ کمال کی اس پہنچ کا منبع اور مرجہ وہ اصلِ حقیقت ہے جس کی تلاش میں دانش اکیلی کافی نہیں۔ یہ باب عرفان کی منزل ہے جس تک رسائی کے لیےُ ہزار جہد چاہیےُ۔

عرفان کا ایک زاویہ تصوف ہے جس کے بیان کے لیے شاہ نے لوک کہانی اور داستان کے کرداروں کو نیستی کے پیکر سے نکال کر ازلی ابدی حقیقتوں میں بدل دیا ہے۔ اس لئے یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ تھوڑی سی بات تصوف کے بارے میں کی جائے اور ویسے بھی تصوف کے بارے میں بہت جگہوں پر کئی طرح کی کم نگاہی پائی جاتی ہے۔

تصوف کو انگریزی میں مسٹس ا زمکہتے ہیں۔ یہ لفظ میوستسسے نکلا ہے جس کا ایک مطلب ہے خاموش رہنا۔ بعد میں یہی نقطہ تبدیل ہو کر آنکھیں بند کر کے باہر کی دنیا سے گریز کرنے اور روحانی مراحل اندر ہی اندر طے کرنے سے منسوب ہو گیا۔ مذہب چونکہ سماج میں در خوری کے ساتھ ساتھ ساتھ باطن ذات کے معاملات میں بھی دُرریزی کا دعوے دار ہے، اس لئے تصوف میں مذہب کی اصلاحات نے ایک ضرورت کی شکل لے لی۔

اس لحاظ سے مسٹس ازماسلامی، ہندو، بدھ ، یہودی یا مسیحی سانچوں میں بٹ کر رہ گیا ہے ۔ میں ذاتی طور پہ اس تقسیم کو غیر ضروری سمجھتا ہوں ۔ میرے نزدیک مسٹس ازمایک ایکسپیرنشل سٹیٹ آف مایُنڈہے یعنی تصوف ایک کیفیت اور اس کے ادراک کا نام ہے۔ اس کے لئے جتنی ضروری خاموشی ہے، اتنا ہی اظہار بھی۔ بلکہ تصوف مجذوب کی خاموشی کا اظہار ہی تو ہے۔ اسلام میں تصوف کی روایت صوفی ازم کہلاتی ہے۔ اس کا تعلق بھی دوسری مذہبی اور غیر مذہبی روایات کی طرح امکان ذات اور کشف حقیقت کے تجربے سے ہے۔

صوفی ازم کے مفکرین کو تجربے اور کیفیت کی وضاحت کے لئے عجز بیان کا مرحلہ ہر قدم پر درپیش ہوتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ صوفی ازم پر بہت سی تحریریں واقعاتی اور تاریخی بیانیہ پر مبنی ہیں جن سے صوفیائے کرام کے عرفان ذات کے سفر سے آگاہی تو ہوتی ہے مگر اس سے صوفی ازم کی ماہیت سے کس قدر واقفیت ہو پاتی ہے، یہ ایک علیحدہ موضوع ہے۔ تاہم صوفی ازم کی ماہیت کے بارے میں مشہور مفکر این میری شملکے کہے ہوئے یہ الفاظ امر ہیں کہ تصوف کو خواہ دانائی کا نام دیا جائے یا روشنی کا، محبت کا یا نیستی کا ، مگر تصوف اصل حقیقت کے شعور کا نام ہے۔

این میری شمل کے بیان میں بہت وسعت ہے مگر اس سوال سے کنارہ کشی مشکل ہے کہ کیا صوفی ازم انسان کی جید کیفیت ہے؟ چونکہ یہ کیفیت ہر انسان کے لئے روزمرہ کا تجربہ نہیں، تو کیا اسے مستند صحت مند ذہنی کیفیت سمجھا جا سکتا ہے؟ دوسرے لفظوں میں اسے ذہنی خرابیوں سے کیسے ممیز کیا جا سکتا ہے؟ عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے صوفی ازم کے نام پر لوگ سماج اور معاشرے سے کٹ جاتے ہیں۔ بیگانگی کے اس رویے کے اندر غیر صحت مندانہ رجحانات دیکھے جا سکتے ہیں۔

مگر وہ صوفیاء جو معاشرتی اور سماجی اچھائی برائی کے بارے میں چشم بینا رکھتے ہیں اور معاشرے میں انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں بہتری کے سامان کرنے کی کوشش میں ہوتے ہیں، وہ بیگانگی کے مرض میں مبتلا نہیں ہوتے۔ ان کا رویہ اور رجحان زندگی کے اندر رہ کر زندگی کرنے اور سدہارنے کا ہوتا ہے۔ ان کے رویے کو صحت مندی سے ہی تعبیر کیا جانا چاہئے۔ اور یہ بات بھی ذہن میں رکھنی ضروری ہے کہ تصوف اور اس کے ساتھ بندھا ہوا رویہ کسی وقتی کیفیت یا جذباتی ہیجان کی وجہ سے نہیں بلکہ شخصیت میں ایک بنیادی اتقاء ہے جو جذباتی، شعوری اور معاشرتی ادراک کی نئی شرحیں مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ صوفی کی ثانوی سرشت کے خدوخال کو بھی واضح کرتاہے۔

دوسری بات یہ کہ انسانی تاریخ اور اس کے محرکات کی بدلتی ہوئی رو میں کیا صوفی ازم ایک متعین اور مستقل شکل ہے؟ اگر یہ ایک متعین اور مستقل شکل ہے تو کیسے؟ صوفی ازم کے اندر بہت سے سلسلوں کا وجود اس ازم کے غیر متعین ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ اس بنیاد پر صوفی ازم کو سمجھنے کے لئے تاریخ یا صرف کسی ایک سلسلے کی تفصیلات کچھ حد تک تو مدد گار ثابت ہو سکتی ہیں۔ مگر اس کی ماہیت کو سمجھنے کے لئے تصوف کی پوری فیملی اور اس کی بنیادوں سے آشنائی ضروری ہے جس میں مذہب یا کلچر کا مختلف ہونا زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ اسی لئے شاہ لطیف کے یہاں ظاہری علامات تو کلچرل ہیں مگر ان کی معنویت آفاقی ہے۔

شاہ نے اپنی شاعری، سر، سنگیت اور زبان کے ساتھ سندھی لوک ورثہ کی داستانوں کو حیات جاوداں بخش دی ہے جس کی ابتداء ان کے جدِامجد شاہ عبدالکریم بلڑی والے نے کی تھی۔ شاہ لطیف نے اسی روایت پر چلتے ہوےُ سورتھ اور رائے دیاچ، سسی پنھوں، مومل رانو، عمر ماروی، لیلا چنیسر، سوہنی میہار، نوری اور جام تماچی جیسے کرداروں سے علاقائی ثقافت کے نقش و نگار کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔ اسی سلسلے میں شیخ ایاز کا کہنا ہے کہ ۔۔۔ شاہ لطیف صرف تصوف پسند ہی نہیں بلکہ تصوف پرست تھے۔ ان کی تصوف پرستی کی مثال اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گی کہ پورے کلام میں انگنت رنگا رنگیوں کے باوصف تصوف کا بنیادی نصب العین ہر جگہ موجود رہتا ہے۔ مثال ملاحظہ ہو:

مرے ابیاتِ پر معنی کی کیا بات

شگفتہ صورت آیات قرآں

دل انساں پہ کھلتے جا رہے ہیں

رموز معرفت اسرار عرفاں

تا ہم یہ سوال ابھی تک تشنہ ہے کہ شاہ سائیں نے اپنے تصوف کے اظہار کے لیے لوک ورثہ کی داستانوں اور کرداروں کا انتخاب کیوں کیا؟ یہ انتخاب ایک راز آشکار کرتاہے کہ شاہ لطیف کے یہاں واحدانیت کی براہین شہود میں ہے جسے علماء اور صاحبینِ سالک وحدت الشہود کہتے ہیں۔

شاہ لطیف کے تصوف کے پیرائے میں تمام مظاہر فطرت یعنی موسم، فضارنگینی، جانور اور انسان سبھی شامل ہیں۔ اس کے باوجو یہ بھی حقیقت ہے کہ شاہ کے تصوف کی ہیرو عورت ہے۔ عورت دراصل ہزاروں سال پرانی ہندوستانی تہذیب میں تخلیق، محبت اور وارفتگی کا استعارہ ہے جو اصل حقیقت کی تلاش میں ہزار مشکلات سے گزرتی ہوئی اور نیستی کا جامہ چاک کرتی ہوئی اس ہستی میں ضم ہو جاتی ہے جہاں فنا اور بقا دونوں اپنا مادی وجود کھو دیتے ہیں۔

سر سورٹھ سے مستعمار فہمیدہ ریاض کا کیا ہوا لفظی ترجمہ:

چند ہی لوگ تھے جنہیں اس بھید کا گمان ہو سکا، جو رمز تک پہنچ سکے اور پارس بن گئے۔ گا ئیک نے یہ وائی چھیڑی کہ: الانساں، سرّی وانا سرّہ – – انسان میرا راز ہے اور میں انسان کا راز ہوں _ راجہ اور راگی راگ گاتے اور سر سنتے ہوےُ دونوں مل کر ایک ہو گئے ۔

یکتائی کی اس کیفیت سے پہلے حیات و ممات واحدت شہود میں پروئے ہوئے نظر آتے ہیں مگر کلام اب اس نہج پر ہے کہ واحدت الوجود سے اکتباس کئے بغیر بات بنتی نہیں ۔ اس موضوع پر اپنشد کی آیات بڑی دل کشا ہیں۔ اپنشد کی ایک آیت:

تخلیق کے عمیق دہارے میں جہاں ہر چیز کے لئے موت و حیات ہے، اس میں انسانی روح اس طرح بھٹکتی پھرتی ھے جیسے ایک پریشان حال ہنس۔ وہ اس پریشانی میں ہے کہ اصلِ حقیقت بہت دور ہے۔ لیکن جب روحِ اصل کی حقیقت اس پر وا شگاف ہوتی ہے تو وہ اپنے آپ ابدیت سے ہم کنار ہو جاتا ھے۔

اس تناظر میں اب شاہ جو رسالو کے سر سوہنی سے شیخ ایازکے ترجمہ کی چند لا ئنیں:۔

گھڑا ٹوٹا تو یہ آواز آئی

نہیں دونوں میں اب کوئی جدائی

شکستِ جسمِ خاکی سے ہے پیدا

رباب روح کی نغمہ سرائی

وصال یار کی راحت پہ قرباں

طریقِ زہد و رسمِ پارسائی۔

یہی وہ الوہی نغمہ ہے جسے گاتے گاتے سندھی زبان اور انسانیت کو شاہ جو رسالو جیسا سدا بہار تحفہ دے کر شاہ سائیں اپنے وجودی معنوں میں تو جہانِ فانی سے کوچ کر گیےُ مگرٹیسٹ آف ٹائمکی کسوٹی پر ان کا راگ جاوداں ہے اور حیات اور نجات اس کی جو حدود وقت سے نکل جاتا ہے کیونکہ یہ وقت ہے جو فنا اور بقا کے بھید سے واقف ہے اور تصوف کا بھید بھی وقت کی بے پایاں ہیبت میں پنہاں ہے۔ اور یہ وقت ہی ہے جو پتھر اور انسان، چاندنی اور سورج کی روشنی پر یکساں گزرتا ہے۔ شاہ سائیں کا تصوف اسی حقیقت کا شعوری ادراک ہے اور اس کا فنی اظہار ہے۔

3 Comments

  1. شہناز شورو says:

    ڈاکٹر صاحب کیا خوب لکھا ہے۔”سر، سنگیت، سندھی زبان اور کشا کش ہست کو یکجا دیکھنا ہو تو اس کا نام شاہ جو رسالو ہے”..شاندار
    تحریر۔۔۔وقت کا تقاضا ہے کہ ادب و شاعری کے ان درخشاں ستاروں کے پیغامات کو بار بار پڑھا جائے، دہرایا جائے اور ان میں چھپے دانائی کے سرچشمے دریافت کرتے رہیں۔

  2. Syed Iftikhar Mahmood says:

    Very best depiction of Sufi ism and Shah sahibs messages.
    Thanks Dr Tahir Qazi sb for excellent piece of work.

  3. Well written!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *