ادبی تنقید، مقصد یت یا زندگی سے فرار

تحریر وتحقیق :۔ پائند خان خروٹی

سیانے کہتے ہیں اور سچ ہی کہتے ہیں کہ سوال پوچھنا آدھی عقل ہے ۔سوال تو ہر انسان کے ذہن میں اُبھرتے ہیں ۔ کبھی کسی تجسُس کے باعث ، کبھی اردگرد کے حالات کے بارے میں شکوک وشبہات کے رد عمل کے طور پر کبھی علمی تشنگی کو کم کرنے کیلئے ، مگر ریسرچ میں سوال نظریات اوراصول وضابطے میں نظرآنے والا گیپ پُر کرنے کے لئے ، تاہم سوال کی صحت اس بات میں مضمر ہے کہ سوال کامقصد مثبت اور تعمیری ہونا چاہیے۔

فلاسفرز پر اکثر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ ہمیشہ خیالی اور نظری سوالات اٹھاتے ہیں جن کا عملی زندگی سے تعلق کم ہی ہوتا ہے ۔ لہٰذا معروضی حقائق کے مطابق مفاد خلق کیلئے پہلے سے موجود بورژوازی سوالات کی ضد میں ایک نیا بامقصد اور پرولتاری سوال سامنے لانے سے پیچیدہ انسانی مسائل ومشکلات کاپائیدار حل تلاش کرنے میں مدد مل سکتی ہے ۔ ویسے بھی تمام در باری سوالوں پر ایک بنیادی خلقی سوال بھاری ہوتا ہے ۔ علم ودانش میں اُلٹے سیدھے سوالات کو نشانہ تنقید بناتے ہوئے منیر نیازی کہتا ہے کہ :

کسی کو اپنے عمل کاحساب کیا دیتے
سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے 

انسانی زندگی کے کسی ادب پارہ یاتخلیقی کاوش کاتجزیہ کرنے یا زندگی کے دیگر شعبے میں عملی جدوجہد کی سمت درست کرنے کیلئے تھیوری کاہونا لازم ہے ۔ یہ تھیوری ہی ہے جو قدیم اور جدید کے درمیان رشتہ قائم رکھنے ، موڈاف پروڈکشن کے تناظر میں ارتقائی عمل کاادراک کرنے اور روشن مستقبل کو تشکیل دینے میں ہمیں فکری رہنمائی فراہم کرتی ہے ۔ موجودہ بحرانی کیفیت اور بے یقینی کی صورتحال سے نکالنے میں تھیوری ہی درست سمت اور رہنمائی فراہم کرسکتی ہے ۔

ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے اپنے مقالہ میں تھیوری سے متعلق ٹیری ایگلٹن کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’یہ سوچنا گمرا ہ کن ہے کہ تھیوری زندگی سے الگ ہٹ کر کسی چیز کانام ہے ۔ جہاں زندگی ہے وہاں تھیوری ہے ۔ زندگی کے کسی پہلو یا کسی عمل کے بارے میں غور کیجئے تو اس کے پس پشت کچھ نہ کچھ تھیوری ضرور ملے گی ۔ تھیوری ناگزیر ہے ۔سماجی زندگی کے جملہ ظواہر نظریاتی معنویت رکھتے ہیں یعنی کسی نہ کسی تھیوری کاحصہ ہیں ۔‘‘(1)

ویسے تو ادبی تاریخ میں تنقید کی خال خال مثالیں ملتی ہیں تاہم اس شعبے میں باقاعدہ علمی کام بیسویں صدی کے آغاز میں نظر آتا ہے جس میں ایک نمایاں مثال رشین فارمل ازم Formalizim ہے جس میں ہیتی نظام ، لفظی تراکیب، ڈسکورس اور زباں کے استعمال کی بنیاد پر تنقید وتحسین کے تجزیئے ہونے شروع ہونے لگے ۔ واضح رہے کہ اس سے قبل کلاسیکیت اوررومانیت میں معیاری شعر وادب کاکریڈٹ زیادہ تر مصنف کے بلند کردار ،منفرد انداز اور متعلقہ زبان پر عبور رکھنے کو دیاجاتا تھا ۔اس کے بعد رفتہ رفتہ تنقید کی مختلف شکلیں سامنے آتی رہیں اور دوسری جنگ عظیم کے بعد اسٹرکچرلزم اور ماڈرنزم کے رجحانات کوفروغ ملا ۔

اس دوران ساختی وجود ، علامتی نظام ، لفظ Signifire اور معنی (Signified)کے رشتے کے ساتھ وابستہ تصورConcept اور متن (Text)کے ثقافتی رشتوں پر مباحث سے تنقیدی فکر کیلئے راہ ہموار ہوئی ۔ دھیرے دھیرے ساختیات اور جدیدیت کے رد عمل کے طورپرپوسٹ اسٹرکچرلزم اور پوسٹ ماڈرنزم کے رجحانات سراُ ٹھانے لگے ۔ جہاں متن ساز یعنی مصنف کی موت (The death of author)اور قاری کاہمیشہ زندہ رہنے کاباقاعدہ دعویٰ کیاگیا ۔ ٹیکسٹ میں موجود معنی کی ہر لہر کے نیچے دوسری لہر تک رسائی پر زرو دیاگیا ۔

مصنف اورٹیکسٹ کے مقابلے میں ریڈر شپ کاپلہ بھاری ہوتا چلا گیا۔ لفظوں کا کھیل خصوصی زور پکڑ تا گیا ۔ لغوی معنی (Denotation) کی بجائے تعمیری معنیConnotation نے غلبہ پایا ۔ ٹیکسٹ میں موجود پوشیدہ صرف ایک معنی سے انکار کیاگیا اور معنی کے سلسلے کو مسلسل جاری رہنے کانام دیاگیا ۔

ادب میں نئی معنویت کاسلسلہ یہاں رُکتا نہیں بلکہ اسی سے آگے جاکر تقریباً 1980 کے عشرے میں فرانس کے فلاسفر جیکس ڈریڈا نے رد تشکیلیت یعنی ڈی کنسٹرکشن کا گنجلک طریقہ کار متعارف کرایا۔ ’’ رد تشکیل کی ایک مخصوص تعریف متعین کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکنات میں سے ہے ۔ یہاں اس قدر ضرور بتایا جاسکتا ہے کہ یہ سب سے زیادہ اس بات پر زرو دیتی ہے کہ زبان کی ساخت ہی کچھ اس قسم کی ہے اس کے حتمی معنوں کی ضمانت دینا ناممکن ہے کیونکہ معنی ہمیشہ عدم قطعیت کاشکار رہتے ہیں ۔‘‘(2)

ان تمام ادبی تنقیدی رجحانات جن میں ساختیات ، پس ساختیات ، جدیدیت ، مابعد جدیدیت اور رد تشکیلیت شامل ہیں کی ایک مشترکہ صفت یہ ہے کہ یہ سب محض ادب کے فریم ورک میں ہی مقید ہیں ۔ انہوں نے ادب کو زندگی اور سماج سے الگ تھلگ کردیا ۔ واضح رہے کہ فرانس کے پوسٹ ماڈرنسٹ مفکرین ہی انقلاب فرانس کی اصل روح کی مخالفت میں پیش پیش ہیں ۔ پوسٹ ماڈرنسٹ تنقید نگاراں تنقید سے زیادہ گمراہی پر لارہے ہیں ، عملیت سے دور اور لفظوں کی جادوگری اورخیالی تصورات پر ضرورت سے زیادہ انحصار نے ادب کے اندر بھی مختلف حصے تشکیل دیئے ۔

مصنف ،ٹیکسٹ اور قاری کو بھی الگ الگ خانوں میں تقسیم کردیا۔زندگی اور سماج سے الگ رہنے کے باعث مذکورہ کسی ادبی تنقیدی رجحان نے کُلیت اور جامعیت اختیار نہیں کی اور اس طرح ان میں سے ہر ایک کاکام نتیجہ نہ دے سکا کیونکہ کائنات میں چیزوں کے درمیان نظم اورربط پیدا کیے بغیر سچائی تک رسائی ممکن نہیں ۔ حالانکہ اشتراکی مفکر اعظم نے بہت پہلے واضح کیاتھا کہ منافع اور استحصال پر مبنی سرمایہ دارانہ نظام سماج کو ہر بار پہلے سے زیادہ خطرے میں ڈال دیتا ہے ۔

معنی کو اس کے اصل سرچشمہ اور ادیبوں کے ذہنی تعطل کو پورے نافذ العمل نظام کے تعطل کے تناظر میں دیکھنے سے ہی بڑی تصویر مکمل کی جاسکتی ہے ۔ اسی لیے عابد حسن منٹو نے ادبی تعطل کو پورے سماج کے تعطل سے جوڑے ہوئے کہا کہ ’’اچھے ادب کی پیداوار میں کمی اورذہن کادرست طریقے پرکام نہ کرنا اور ذہنی انتشار کاموجود ہونا بھی تعطل ہی کی نشانی ہے ۔ اسی ادبی تعطل سے آج کل ہم دورچار ہیں ۔‘‘(3)
قلم اورذہن کے باہمی رشتے سے انکار کرنے اورلفظوں کے کھیل کو دوام دینے والوں ماہر لسانیات کی تمام سرگرمیاں لسانیات سے شروع ہوکرلسانیات میں ہی ختم ہوجاتی ہیں ۔ وہ معنی کے حوالے باہمی اتفاق کے امکان سے بھی انکاری ہیں۔ بے مقصد لفاظی، لاحاصل مباحث اور اُولسی جنگ سے لاتعلقی پرمبنی تنقیدی رویوں نے انہیں حقیقی زندگی سے کاٹ کر کے رکھ دیا ہے ۔ نظیر باقری نے کیا خوب کہا ہے کہ :

کھڑا ہوں آج بھی روٹی کے چار حرف لیے 
سوال یہ ہے کہ کتابوں نے کیا دیا مجھ کو 

معاشی غنڈوں سے نجات پانے ، سامراجی ذہنیت کوخلقی رنگ میں بدلنے اورانسانوں میں اونچ نیچ کے جھوٹے رسم ورواج کاخاتمہ کرنے والے باشعور افراد کیلئے یہ تمام بے مقصد علمی وادبی بحثیں، غیر ضرور ی مناظر یں اور باہمی ستائش کے مشاعرے گمراہ کن ہیں ۔ ویسے بھی محکوم اور محروم لوگوں کو ورغلانے اور انقلابی تنظیموں کو سبوتاژ کرنے کے حربے وہتھکنڈے بورژوا قوتوں کی پالیسی کالازمی جُز ہے ۔ اسی سلسلے میں ’’ بورژوا نظریات کے خلاف جدوجہد ترقی پسند ادیبوں کابہت بڑا فرض ہے ۔ ہمیں ان تمام عناصر کے خلاف جم ہوکر جنگ کرنی ہے جو کسی نہ کسی طریقے سے بورژوا نظریات کی تبلیغ کرتے ہیں یا سرمایہ دار طبقے اور اس کے نظریے سے سمجھوتے کرتے ہیں ۔‘‘(4)

مذکورہ بالا تمام مکاتب فکر چیزوں کو پرکھنے اور جانچنے کا ایک طریقہ کار(Mehtod) تو ہوسکتا ہے لیکن کسی صورت یہ تھیوری کی تعریف پر پورا نہیں اُترتے ۔ تھیوری کیلئے اول تاآخر منظم اور مخصوص سائنسی قواعد وضوابط ہوتے ہیں جبکہ میتھڈ کسی شے کو دیکھنے کاانداز نظر کانام ہے جس کیلئے کسی تھیوری یاضابطہ کاپابند ہونا ضروری بھی نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پوسٹ ماڈرنسٹ مفکرین اور سماجی ذمہ داریوں سے مفر ور اکثر آزاد خیال عناصر کسی تھیوری کی بجائے محض اپنی وقتی تسلی اور ذہنی عیاشی کے ذرائع کوتھیوری سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں ۔ گرے ایریاز کے ادیب وشعراء نے زندگی سے فرار کی راہ اسی میں پائی ۔

نرگیست کے علمبردار اپنے آپ کو تنقید سے بھی بالا تر سمجھتے ہیں ۔ اس ضمن میں ایسے خود پرست نقادوں کے سوچ واپروچ پر بے ر حمانہ تنقید کرنا اور ان کازردار اور زوردار کے ساتھ گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرنا ترقی پسند دانشوروں کی اولین ذمہ داری ہے ۔واضح رہے کہ ادب وتنقید میں مشرقیت کادعویٰ کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ ادب وتنقید میں پورے مشرق میں آج تک کوئی نظریہ دان پیدا نہیں ہوا اور نہ ہی تنقید کے شعبے میں کوئی منظم اور مربوط مشرقی طریقہ کار موجود ہے ۔ یہاں علم وادب اور سیاست پر بے جاعقیدت ،اندھی تقلید ،غیرضروری تحسین اوردرباری پن غالب رہا ہے۔

اردو تنقید کے ایک معتبر نام اختر حسین رائے پورے بورژوا زی ذہنیت رکھنے والے اہل قلم وفکر کو اپنے انجام سے خبردار کرنے کیلئے میکسم گور کی کاحوالہ دیتے ہوئے کہا کہ’’ماضی کے بت کو پوجنے والے شاعرو ، حال کی برائیوں کوچھپانے والے ادیبو اور مستقبل پرتاریکی کاپردہ ڈالنے والے افسانہ نگارو ! مٹ جاؤ ورنہ تاریخ تمہیں مٹا ڈالے گی ۔‘‘وہ آگے جاکر ظلم واستحصال کے خلاف ڈٹ جانے اور ہر قسم کی کھٹن حالت کا سامنا کرنے کاحوصلہ وہمت دیتے ہوئے کہتا ہے کہ ’’ جس ظالم کے خوف سے لرزہ براندام ہے وہ تجھ سے کہیں زیادہ بزدل ہے جیسے ہی تو جاگے گا وہ راہ فرار اختیار کرے گا۔ تیرے سامنے آتے ہی وہ راستے کے کُتے کی طرح دم ہلانے لگے گا۔ خدا اس کا دشمن ہے ، وہ بے یار ومددگار ہے ۔اس کی چرب زبانی پر نہ جا، وہ دل ہی دل اپنی ذات پرنادم ہے ۔‘‘(5)

واضح رہے کہ بورژوا ادبی تنقید نگاروں میں ادب کی اصناف(Genres) کی پہلی درجہ بندی میں نظم ونثر اور دوسری درجہ بندی میں فکشن اورنان فکشن میں ادب پارہ کی فنی بنیادوں پرمختلف پہلوؤں میں پوشیدہ معنی تلاش کرتے ہیں ۔ کبھی مصنف کے ذہن میں ، کبھی ٹیکسٹ اور کبھی قاری میں ۔ لیکن فرانس کے ماہر لسانیات نے یہ کہہ کر ساری بحث کو تہس نہس کردی کہ سب کچھ محض مفروضہ ہے ۔ کوئی چیز با معنی نہیں ۔ وہ مصنف ، ٹیکسٹ اور قاری میں سے کسی ایک میں بھی معنی قائم کرنے کے قائل نہیں اور نہ ہی ان اشیاء کے کوئی معنی نکلنے کے امکان پر یقین رکھتے ہیں ۔ اس کامطلب یہ ہوا کہ معنی مستقبل میں بھی التواء کاشکار رہے گا۔

عجیب طرفہ تماشہ ہے میرے عہد کے لوگ
سوال کرنے سے پہلے جو اب مانگتے ہیں 

ان کے مقابلے میں اشتراکی مفکر اعظم کارل مارکس نے ادب اور تخلیق کو فنی بنیادوں کی بجائے سماجی حقائق اور رشتوں کی بنیاد پر جانچنے اور پرکھنے پر زور دیا ۔ صرف مارکسی تنقید کو ادب اور اس کی معروضی مطالعہ کی وجہ سے سائنٹیفک تنقید کادرجہ مل گیا ۔ مارکسی تنقید کے مطابق ہر معیار ی ادب پارہ سماجی حقائق اور رشتوں کاآئینہ دار ہوتا ہے ۔ مارکسی تنقید محض تنقید نہیں بلکہ معروضی مطالعہ کے ذریعے کسی نتیجہ پر پہنچانے میں بھی مدد فراہم کرتی ہے ۔ معروضی مطالعہ کے بعد ہی فنکار کے فن پارہ اور ادیب کے ادب پارہ سے متعلق کھرا کھوٹہ معلوم کرنا ،قدر کاتعین کرنااور تخلیق کار کی اپنے تخلیق کے ساتھ انصاف کرنے کاصحیح ادراک کیاجاسکتا ہے ۔

مارکسی تنقید کی بدولت ایک دھندلی تصویر بھی بہت واضح تصویر بن جاتی ہے اور اسی سے یہ سمجھنا آسان ہوجاتا ہے کہ ادیب متن اور قاری سب کے سب ایک مخصوص سماجی رشتے میں بندھے ہوتے ہیں ۔اپنے قارئین کے لئے یہ بتانا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ تحقیقی مضامین لکھتے وقت یہ بات میرے ذاتی تجربے میں آئی ہے کہ محقق اور تخلیق کار کے اندربھی ایک نقاد بیٹھا ہوتا ہے جوسوچتے اور لکھتے وقت اپنی تنقیدانہ سوچ کو بروئے کار لاتا ہے ۔ میراذہن خلق توکرتا ہے لیکن میرے اندر پرسنل فلٹریشن میرے اظہار کرنے کے عمل کاتطہیر بھی کرتا رہتا ہے ۔لہٰذا تنقید میں اس پہلو پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔

کوئی بھی علمی فن اور ادبی تخلیق ذرائع پیدوار اور پیداواری رشتوں سے آزاد اور الگ تھلک نہیں ہوتی ۔ محض فنی بنیادوں پر مختلف ادبی اضاف کاتجزیہ یاتنقید اپنی اصل یاجوہر سے خالی ہوتا ہے ۔ ر د تشکیلیت اپنے جوہر میں تھیوری کے مخالف ہے اس کے علاوہ وہ نہ صرف چیزوں کے درمیان ر بط کی نفی کرتی ہے بلکہ خود کسی نتیجے پر پہنچنے سے بھی قاصر ہے کیونکہ تھیوری سے لیکر سماجی تبدیلی کے عمل تک سب طبقاتی جدوجہد سے مربوط ہے ۔لہذا کسی بھی ادب پارہ پر معیاری تنقید طبقاتی جدوجہد کی عینک کے توسط سے ہی کی جاسکتی ہے اور اسی میں مارکسی تھیوری کاراز پوشیدہ ہے ۔ 

حوالہ جات:
1
۔ انتخاب وترتیب قاسم یعقوب ، ادبی تھیوری (ایک مطالعہ ) ناشر ، سٹی بک پوائنٹ کراچی ، 2017ء ، ص20
2
۔ انتخاب وتربیت عابد میر،تنقید گاری ،ناشر گوشہ ادب کوئٹہ ، 2016 ، ص153
3
۔ترتیب وتدوین حمیرا اشفاق، ترقی پسند تنقید ، پونی صدی کامقصد (1936-2011)فکری ونظری مباحث ، ناشر سانجھ پبلی کیشنز لاہور ،2012 ص267
4
۔ترتیب وتدوین حمیرا اشفاق، ترقی پسند تنقید ، پونی صدی کامقصد (1936-2011)فکری ونظری مباحث ، ناشر سانجھ پبلی کیشنز لاہور ،2012 ص430
5
۔ترتیب وتدوین حمیرا اشفاق، ترقی پسند تنقید ، پونی صدی کامقصد (1936-2011)فکری ونظری مباحث ، ناشر سانجھ پبلی کیشنز لاہور ،2012 ص37/45

4 Comments

  1. Paind Khan Kharoti says:

    ادب وتنقید میں مشرقیت کادعویٰ کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ ادب وتنقید میں پورے مشرق میں آج تک کوئی نظریہ دان پیدا نہیں ہوا اور نہ ہی تنقید کے شعبے میں کوئی منظم اور مربوط مشرقی طریقہ کار موجود ہے ۔ یہاں علم, ادب اور سیاست پر بے جاعقیدت ،اندھی تقلید ،غیرضروری تحسین اوردرباری پن غالب رہا ہے۔

  2. Paind Khan Kharoti says:

    مذکورہ بالا تمام مکاتب فکر چیزوں کو پرکھنے اور جانچنے کا ایک طریقہ کار(Mehtod) تو ہوسکتا ہے لیکن کسی صورت یہ تھیوری کی تعریف پر پورا نہیں اُترتے ۔ تھیوری کیلئے اول تاآخر منظم اور مخصوص سائنسی قواعد وضوابط ہوتے ہیں جبکہ میتھڈ کسی شے کو دیکھنے کاانداز نظر کانام ہے جس کیلئے کسی تھیوری یاضابطہ کاپابند ہونا ضروری بھی نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پوسٹ ماڈرنسٹ مفکرین اور سماجی ذمہ داریوں سے مفر ور اکثر آزاد خیال عناصر کسی تھیوری کی بجائے محض اپنی وقتی تسلی اور ذہنی عیاشی کے ذرائع کوتھیوری سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں ۔ گرے ایریاز کے ادیب وشعراء نے زندگی سے فرار کی راہ اسی میں پائی ۔
    نرگیست کے علمبردار اپنے آپ کو تنقید سے بھی بالا تر سمجھتے ہیں ۔ اس ضمن میں ایسے خود پرست نقادوں کے سوچ واپروچ پر بے ر حمانہ تنقید کرنا اور ان کازردار اور زوردار کے ساتھ گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرنا ترقی پسند دانشوروں کی اولین ذمہ داری ہے ۔

  3. اللہ بشک بلوچ says:

    پہلی عرض تو یہ ہے کہ اپنا تعلق کسی ادیب یا لکھاری میں نہیں آتا ۔ ہاں ایک ریڈر ہوں اور بغیر ترجیہات کہ جب موقع ملے سب کچھ پڑھ لیتا ہون۔ دربار کے معاملات ہمیشہ زور سے چلتے آیے ہیں اور وہاں عمال اور درباری کا گٹھ جوڑ ہمیشہ ذاتی مفاد کا رہا ہے۔ عام انسانوں کا درد اور دنیا کے بڑے دستر خوان سے اپنا حصہ لینے کا با وقار انداز کبھی طے نہیں ہوا۔ اور وہی اس کا مقدر رہا جو محنت کر کے بھی بوکھا رہا۔ ضررت ان رشتوں کا سانسی تجزیہ ہے۔ جو افتادگان خاک ہیں ان کی قلمی زبان نہیں اور جن کی زبان ہے وہ ہمشیہ طاقت ہی کو اصول سمجھتے رہے اور انہیں حلقوں کے قریب رہ کر اپنا حصہ وصول کرتے رہے اور کر رہے ہیں۔

  4. Paind Khan Kharoti says:

    کھڑا ہوں آج بھی روٹی کے چار حرف لیے
    سوال یہ ہے کہ کتابوں نے کیا دیا مجھ کو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *