قانونِ تغیر

فرحت قاضی

یونانی فلسفی کہتا ہے
’’
قانون تغیر کے علاوہ ہر چیز میں تغیر آتا ہے‘‘۔
اہل دانش کی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اپنے زمانے کے حاکموں نے جن دانش وروں کو ان کی آزاد خیالی،دریافت یا ایجادات کے باعث قابل گردن زنی ٹھہرایا اور محتسب اعلیٰ نے دیوتاؤں کا باغی، زندیق، کافر اور غدار قرار دے کر دھکتی آگ میں جھونک دیا۔
آنکھیں پھوٹ دیں۔
دار پر چڑھادیا۔
لب پر مہر ثبت کردی۔
زندہ چنوادیا یا پھر اپنے خیالات کی اشاعت سے روک دیا ان شخصیات کو آئندہ نسلوں نے سر آنکھوں پر بٹھایا ان کی قبروں کو تلاش کرکے سجایا گیا ان پر کتب لکھی گئیں اور اپنے بچوں کو ان کے اعلیٰ تصورات، دریافتوں اور ایجادات سے متعارف کرنے کے لئے نصاب تعلیم میں شامل کیا گیا۔
عوام نے ان کی تصاویر کو دفاتر،تعلیمی اداروں اور کمروں میں آویزاں کیا۔
آج ہم کسی شخصیت کے حوالے سے اس رائے کا اظہار کرتے ہیں کہ ان کو اپنے زمانے کے حاکموں اور عوام نے سمجھنے میں غلطی کی اور وہ تو ہمارے آج کے دور کی شخصیت اور محسن ہے حالانکہ اس کو فوت ہوئے سو دو سو یا کئی صدیاں بیت چکی ہوتی ہیں۔
یا پھر کہا جاتا ہے کہ اسے آج کے دور میں پیدا ہونا چاہئے تھا۔
یہ شخصیات اپنے مخصوص ماحول اور حالات میں پیدا ہوئیں ان کو اپنی ہم عصر شخصیات اور افراد سے الگ اور ممتاز بنانے میں ان کی اشیاء،افعال اور نظریات کو اپنے نقطہ نظر سے دیکھنے اور جانچنے کی عادت نے بنایا ان کو اپنے اردگرد سماج اور مروجہ عقائد، مذاہب، رسومات، رواجات،ثقافت اور نظام میں نقائص دکھائی دئیے ان کو ان میں ایک کے بعد دوسری کمزوری نظر آتی گئی تو ان پر سمجھوتہ نہیں کیا بلکہ یہ نقائص اور عیوب عوام کو بتانے لگیں۔
حاکم وقت اور حکمران طبقات کو سماج اور مروجہ عقائد پر تنقید کا پتہ چلا تو سرزنش سے کام لیا لالچ دیا گیا دھمکی دی گئی علماء کے ذریعہ عوام کو بھڑکایا گیا اور بالآخر دھکتی آگ میں جھونک دیا یا پھر دار پر لٹکا دیا گیا اور جب اسے قصور وار ٹھہرایا گیا تو اس وقت کے علماء اور عوام نے بھی اپنے اطمینان کا اظہار کیا۔
یہ اس لئے کہ حکمران طبقات کی حاکمیت ان ہی مروجہ عقائد اور سماجی قدروں پر استوار ہوتی ہے اور ان کو ادھر سے ادھر یا پھر ادھر سے ادھر کرنے سے ان کی تمام عمارت ڈھنے کا خدشہ پیدا ہوجاتا ہے اسی لئے ہمیں مختلف ادوار میں اہم شخصیات اور دانشوروں کی غیر فطری موت اور ہلاکت کے واقعات ملتے ہیں۔
مشرق اور مغرب دونوں تاریخوں میں ایسی کئی شخصیات ملتی ہیں جن پر اپنے وقت کے حاکموں نے الزامات عائد کئے اور موت کے گھاٹ اتار دیا ان میں ابن رشد،سقراط،برونو،گلیلیو اور سر ویتس کے علاوہ بھی ان گنت نام ہیں البتہ یہ وہ چند نام ہیں جن سے آج ہر کوئی واقف ہے ۔
سقراط اور گلیلیو
سقراط پر اپنے زمانے کے حکمران طبقہ نے کئی الزامات عائد کئے جن میں سے کچھ یہ تھے ۔
وہ روایتی عقائد کا قائل نہیں ہے۔
اس نے بیٹے کو باپ پر ہاتھ اٹھانا سکھادیا ہے اور وہ ماں کو بھی دھمکی دیتا ہے۔
اس نے دیوتاؤں کے خلاف گناہ کیا ہے۔
وہ نوجوانوں کے اخلاق بگاڑ رہا ہے۔
اس کا سب سے بڑا گناہ یہ تھا کہ وہ سوال و جواب کے طریقہ سے سوچنے پر مجبور کرتا تھا اوران کو عقل مند بنا رہا تھایہ ایک ایسا گناہ ہے جسے مذاہب نے بخشا ہے اور نہ ہی وقت کے حاکموں نے معاف کیا ہے انجیل میں اس پھل کو عقل کا پھل کہا گیا ہے جس کے کھانے پر حضرت آدم ؑ کو جنت سے نکالا گیا۔
سقراط چونکہ اپنے استدلال سے عوام کو سوچنے پر مجبور کرتا رہتا تھا اس لئے اس پر نوجوانوں کو بداخلاق یا گمراہ کرنے کا الزام لگایا گیا مروجہ نظریات پر تنقیدی انداز میں سوچنے پر سزا کا یہ سلسلہ سقراط پر ختم نہیں ہوتا ہے بلکہ آنے والے زمانے میں بھی جس نے مروجہ اخلاقیات اور اقدار کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اسے بھی سقراط کے انجام سے دوچار ہونا پڑا چنانچہ سقراط کواگر زہر کا پیالہ پینا پڑا تو گلیلیو کو عدالت میں اپنے خیال سے پیچھے ہٹنا پڑا اور برونو کو زندہ جلا دیا گیا۔
اور جب ایسا کیا جارہا تھا تو عوام حاکموں کے شانہ بشانہ کھڑے تھے کیونکہ وہ اپنے حکمرانوں کو درست اور حق بجانب سمجھتے تھے۔
آمریتوں کے دور میں مذاہب، سماجی اور اخلاقی اقدار کو ہمیشہ بالادست طبقات نے اپنے مفاد میں استعمال کیا چنانچہ سقراط کے معاملہ میں بھی بالکل یہی ہوا سپارٹا میں فوجی حکومت تھی اور جب اس نے ایتھنز کو شکست دیکر اپنی آمریت مسلط کی تو جنرل لینڈر نے اپنے مخالفین کو ایک ایک کرکے قتل کردیا سقراط کے جنرل کے حکم سے انکار نے اس کی موت کے اسباب پیدا کردئیے جنرل جانتا تھا کہ نوجوان سقراط کو غور سے سنتے ہیں لہٰذا اس نے سقراط کو حکومت پر تنقید کرنے سے منع کردیا تھا۔
وہ برابر اپنی تعلیمات دیتا رہا فوجی حکومت کے لئے اس کو سزائے موت دینے کے لئے اتنا ہی کافی تھا۔
سقراط پر کئی الزامات تھے تاہم ایک یہ بھی تھا کہ وہ اپنے استدلال سے اچھے کو برا اور برے کو اچھا ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے اور اس طرح نوجوانوں کو گمراہ کررہا ہے یہ اچھا یا برا کیا تھا اسے افلاطون نے اپنی کتاب میں محفوظ کرلیا ااور مقدمے کے دوران جو بات چیت ہوئی اس کا خلاصہ یوں ہے کہ سقراط نے ملیتس سے کہا:۔
کیا میں دیوتاؤں کو نہیں مانتا ہوں
ملیتس کہتا ہے کہ مانتے ہو
سقراط کہتا ہے : کیا میں چاند اور سورج کو دیوتا نہیں مانتا ہوں؟
ملیتس کہتا ہے : تو انہیں پتھر کہتا ہے۔
اس بات چیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یونان کے باسی چاند اور سورج کو دیوتا مانتے تھے اور ان میں ایک ایسا شخص بھی تھا جو ان کو دیوتا تسلیم نہیں کرتا تھا اسی لئے سقراط کو مقدمہ کے دوران کہنا پڑا کہ اب عوام کی لاعلمی مجھے مجرم ٹھہرائے گی اسے مجرم ٹھہرایا گیا اور مروجہ قانون کے تحت زہر کا پیالہ پینا پڑا جسے پیتے ہی موت نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا لیکن مستقبل نے اس مقدمہ کے حوالے سے کیا فیصلہ دیا یہ کہ سقراط حق بجانب تھا ۔
بالادست طبقات اور عوام جن کو اپنے دیوتا مانتے تھے وہ چاند اور سورج واقعی پتھر تھے ۔
آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔
القصہ برائی اور اچھائی کا تصور ہر دور میں مختلف رہا ہے جسے آج ہم سچ کہہ رہے ہیں یہ ممکن ہے کہ آنے والا وقت اسے باطل ثابت کردے اس لئے کوئی شے بھی حتمی اور آخری نہیں ہے
ایک جانب سارا یونان ایک چیز کو حرف آخر سمجھتا ہے اور دوسری جانب ایک اکیلا بندہ اس کو جھٹلا رہا ہے انسانی تاریخ میں ایسی کئی اور شخصیات بھی ہیں جن کے تصورات کو بعد ازاں درست تسلیم کیا گیا اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ کوئی بھی خیال، عقیدہ یا نظریہ حرف آخر اور حتمی نہیں ہوتا ہے سائنسدانوں کا بھی یہ طریقہ ہے کہ وہ مسلسل تلاش اور جستجو میں لگے رہتے ہیں جس قوم نے یہ نقطہ پالیا اس کو ترقی کی کلید مل گئی۔
لہٰذاہمیں بھی حرف آخر اور دائمی سچائی کے الفاظ کو اپنی لغت سے نکال کرہریقلتیس کی یہ بات اپنے پلے باندھ لینا چاہئے:۔
’’
قانون تغیر کے سوا ہر چیز میں تغیر آتا ہے‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *