کوئٹہ کی جلیلہ حیدر آخر چاہتی کیا ہیں

علی احمد جان

جلیلہ حیدر تادم مرگ بھوک پڑتال پر ہے اور اس نے سب کے سامنے مرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جب کسی کا عقیدہ، اس کی سوچ ،اس کی زبان ، اس کا لباس اور سب سے بڑھ کر اس کا چہرہ موت بن جائے تو اس سے مفر کیسے ۔نام ، عقیدہ ، سوچ، زبان اور لباس چھپایا بھی جا سکتا ہے مگر چہرہ تو بدلا نہیں جا سکتا ۔ سکول کی بس سے اتار کر ماردیا جاتا ہے، دوکان میں گولی ماری جاتی ہے ، رکشے سے اتار کر سینے میں گولی اتاری جاتی ہے ، شناخت کی ضرورت نہیں چہرے کی گواہی پر موت کی سزا ہے۔

مرنے والے کی میت پر عزیز ، ہمسائے، رشتہ دار ماتم کے لئے اکھٹے ہوتے ہیں قبرستان تک لے جاتے جاتے ایک اور دھماکہ ہوجاتا ہے، اب مرے کا غم بھلا کر مرنے والوں کی لاشیں ڈھونڈھی جاتی ہیں ، کسی ٹانگ کہیں پڑی ہے تو کسی کا بازو اب ساتھ نہیں رہا۔ گھر میں دفتر میں ، راستے میں، سکول میں ، کالج میں ، بس میں رکشے میں ، سڑک پر ہر جگہ موت کے سائے تعقب میں ہیں ۔ یہ خوف جسم میں سرایت کر گیا ہے کہ کونسا سایہ کب موت بن جائے ۔

سایوں کے تعاقب کے خوف میں جینے سے بہتر ہے سب کے سامنے اپنی مرضی سے مرا جائے ۔ یہ جلیلہ حیدر کا فیصلہ ہے جس نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے موت کے سایوں کے خلاف تادم مرگ بھوک ہڑتال کر رکھی ہے ۔ یہ اس کا فیصلہ ہے کہ وہ پیاس اور بھوک سےسسک سسک کر تڑپ تڑپ کر مرے ، اس کا خون اس کے جسم میں خشک ہو جائے تاکہ سڑکوں میں بہتے خون کا دریا رک سکے۔

گزشتہ ایک دہائی سے کوئٹہ شہر کا علمدار روڈ ایک جیل خانہ بن چکا ہے جس کے گرد بنی چار دیواری کے اندر وہ قید ہیں جن کو موت کا خوف ہے اور باہر بے خوف سائےآزاد انہ گھوم پھر کرموٹ بانٹتے ہیں۔ چار دیواری کے اندر رہنے والوں کا چہرہ ان کا جرم ہے جو مختلف ہے۔ ان کا عقیدہ بھی موت ہے جو مختلف ہے اور ان کا لباس بھی مختلف ہے جو موت کا پروانہ ہے۔ باہر رہنے والے صرف سائے ہیں جن کا چہرہ نہیں ، لباس نہیں اور نہ ہی زبان اور عقیدہ ہے ۔

کوئی کہتا ہے کہ یہ سائے ہندوستان سے آئے ہیں اور کوئی کہتا ہے کہ افغان ہیں کوئی بلوچ کہتا ہے کوئی پشتون مگر ہیں بے چہرہ سائے۔ ان بے نام و نشان پرچھائیوں سے بچے کانپ کر نیند سےاٹھ جاتے ہیں ، بوڑھے اپنے جواں سالوں کی فکر میں گھل گھل کر مر جاتے ہیں، مائیں اپنے سینوں پر ہتھڑ مار مار کر زخمی کر دیتی ہیں ، بہنوں کی آنکھیں بھائیوں کے انتظار میں پتھرا جاتی ہیں اور سہاگنوں کے ہاتھوں سے مہندی اتر جاتی ہے۔ تین ہزار کو زمین میں گاڑھنے کے بعد بھی پرچھائیوں کا پتہ نہ چل سکا کہ کہاں سے آتی ہیں کہاں جاتی ہیں ۔ یہی دکھ جلیلہ کو اس فیصلے پر لایا کہ روز روز مرنے سے ایک دن مرنا بہتر ہے۔

انتخابات کا موسم ہے ، ہر ہفتہ اور اتوارکہیں نہ کہیں رونق لگی رہتی ہے ۔ کہیں چور چور کا شور ہے تو کہیں ڈاکوؤں کا زور مگر اس طرف کسی کی نگاہ نہیں کہ کہیں تاریک راہوں میں مارے جانے والے بھی اس ملک کے شہری ہیں ، ان کی جیب میں بھی وہی شناختی کارڈ ہے اور ان کا نام بھی اسی ووٹر لسٹ میں موجود ہے مگر کسی سیاسی جماعت کے منشور میں اور کسی رہنما کی تقریر میں ان کا نام نہیں۔ دودھ اور شہد کی ندیاں بہانے کے وعدے اور ریاست مدینہ کے نشاط ثانیہ کی نوید ایک خوشنما خواب ہے ۔

مگر کوئٹہ کے ہزارہ کو کیسے یقین ہو کہ اس کا بہتا لہو بھی اس ملک کے بیس کروڑ لوگوں کی طرح ہی سرخ رنگ ہے اس کے جسم میں بھی ایک روح ہے۔ کوئی نہیں بتاتا کہ وہ کونسا منشور ہے وہ کونسا وعدہ ہے جس کے ایفا ہونے پر صبح کام پر جاتے ہوئے اس کی موت سے اس کے بچے یتیم ، اس کی بیوی بیوہ اور اس کے ماں باپ بے سہارا نہیں ہونگے۔ جلیلہ خود ایک سیاسی کارکن ہیں اس نے اپنی پوری زندگی شہری آزادیوں کے لئے وقف کر رکھی ہے۔ جب وہ دیکھتی ہیں کہ کوئی ان کے لوگوں کی موت پر ماتم کناں نہیں اور کسی جماعت کو ان کی سلامتی سے سروکار نہیں تو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنا منشور خود ہی بن گئی ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور اداروں نے اشک شوئی تو کی مگر شنوائی کہیں نہیں ہوئی۔ رپورٹوں سے کاغذوں کے پیٹ بھرے جاتے ہیں ، بھاشن دئے جاتے ہیں ، انتباہ بھی کیا جاتا ہے اور نصیحتیں بھی کی جاتی ہیں مگر دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں یہ سب بیرونی ایجنڈا قرار دیا جاتا ہے۔ جس شہر میں موت کے سائے آزادی سے گھومتے ہیں وہاں غیر سرکاری تنظیموں کے داخلے پر پابندی ہے ۔ تکفیر و تضلیل بانٹنے والے جہاں کھلم کھلا جلوس نکالتے ہیں اور جلسے کرتے ہیں وہاں انسانی حقوق کا درس دینے والوں کا داخلہ ممنوع ہے ۔

اگر کوئی وہاں چلا بھی جائے تو کہتا ہے جس کو ہو دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں اور خار دار تاروں اور اونچی دیواروں کے اندر ہوٹل میں رہنے کو عافیت جان سمجھتا ہے۔ جلیلہ کو اس بات کا احساس ہے کہ علمدار روڑ کے زندان میں مقید سسکیوں کو دنیا نہ سن پائی ہے اس لئے اس نے ان تمام سسکیوں، آہوں اور دبی دبی چیخوں کو بھی اپنے تادم بھوک ہڑتا ل کے سفر میں شریک کیا ہے تاکہ وہ بتا سکے سینے میں ماؤں اور بہنوں کے سنیوں میں اپنے بچھڑوں کے دکھ کا کتنا بڑا کوہ گراں ہوتاہے۔

جہاد پر نکلی عدلیہ نے ملک میں دودھ، پانی، بجلی، سکول، ہسپتال ، قرضہ کرپشن ہر چیز پر نوٹس لیا۔ کراچی اور لاہور میں نہ صرف سرکار کی ہفتہ وار چھٹیاں ختم ہوگئیں بلکہ راتوں کی نیندیں بھی اڑ گئی ہیں۔ کوئٹہ سے اسلام آباد کے بیچ روزانہ جہاز چلتے ہیں ، کوئٹہ میں موسم اچھا ہے اور لوگ مہمان نواز بھی ہیں مگر کسی قاضی نے ایک دن کے لئے یہاں بھی عدالت لگانے کا نہیں سوچا۔ جب کوئٹہ میں ایک ہی جست میں ستر سے زائد وکیلوں کو لاشوں میں بدل کر ان کی ایک نسل ہی ختم کردی گئی تو اس پر تحقیقات بھی ہوئی تھی ۔ ایک معتبر جج کی رپورٹ میں ان محرکات کی نشاندہی بھی ہوئی تھی کہ بلوچستان میں پانی اور روٹی سے زیادہ موت ارزاں کیوں ہے۔

کمرہ عدالت میں زور سے کھانسنے کو جرم قرار دینے والی عدالت کی اس رپورٹ کو ایک وزیر نے ببانگ دہل ردی کی ٹوکری کا نذر کیا مگر مجال ہے کہ کسی نے دوبارہ پوچھنے کی زحمت کی ہو۔ ایسی توہین آمیز رپورٹ لکھنے کی جرات کرنے والے جج کی اپنی تعیناتی کا سوال ضرور اٹھا مگر اس کی رپورٹ میں اٹھائے گئے سوالات آج بھی تشنہ ہیں۔

جلیلہ حیدر خود ایک وکیل ہیں جو ان ستر لاشوں میں بدلنے سے محض اتفاقیہ طور پر بچ گئی تھی جب شہید باز محمد کاکڑ نے تنبیہ کرکے اپنے سینئر کی لاش کے ساتھ ہسپتال جانے سے روک دیا جہاں یہ قیامت صغریٰ برپا ہوئی تھی۔ جلیلہ حیدر عدالت سے بھی جب مایوس ہوئیں تو خود اپنی عدالت لگاکر اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے کے لئے پریس کلب پہنچ گئی ہیں ۔ اس کا عدالت سے یہ مطالبہ ہے کہ اگر لوگوں کے جینے کا حق کا دفاع نہیں کیا جا سکتاہے تو اس ان کے ساتھ مرنے کا حق تو نہ چھینا جائے۔

جلیلہ کی باتوں سے مگر لگتا ہے کہ وہ ابھی مایوس نہیں ہوئیں ا نکی امیدیں اپنے ملک کے سپہ سالار اعظم سے اب بھی وابستہ ہیں۔ وہ پوچھتی ہیں کہ اگر ہمارے ملک کی سیکیورٹی ایجنسیاں کسی عام شہری کی ذرائع آمدن، آمد و رفت، معمولات اور خیالات تک سے آگاہ ہیں تو کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئٹہ میں موت بانٹنے والے ان سے چھپے ہوں۔ ان کا سوال یہ بھی ہے کہ پورے شہر میں جگہ جگہ چیک پوسٹوں اور جامہ تلاشیوں کے باوجود موت کے سوداگر اسلحہ اور گولہ بارود کے ساتھ کیسے آزادانہ گھومتے ہیں، واردات کرتے ہیں اور صاف بچ کر نکل جاتے ہیں۔

ان سوالات کے ساتھ جلیلہ کا مطالبہ ہے کہ ایک بار سپہ سالار اعظم علدار روڑ کے اسیروں کے دکھ اپنے کانوں سے سن لے اور ان کے بہتے انسو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے۔ وہ دکھانا چاہتی ہیں کہ جو مرگئے سو تو چلے گئے مگر پیچھے رہ جانے والوں کے دکھ کتنے اندوہناک ہوتے ہیں۔ بغیرآنکھوں ، ٹانگوں اور ہاتھوں کے زندگی کتنی اجیرن ہوتی ہے اس کا نظارہ ایک دفعہ اسلامی دنیا کی سب سے بڑی فوج کا سپہ سالار خود اپنی آنکھوں سے کرلے۔ وہ اپنے دکھ سنانے کے لئے اپنی فوج کے سربراہ کو اپنے زندان میں بلا رہی ہیں جہاں وہ اور اس کے ہم نسل و مذہب بغیر کسی جرم کے مقید ہیں ۔

جلیلہ کی یہ خواہش اور تمنا کوئی بڑا مطالبہ نہیں بلکہ ملک کے ایک شہری کی اپنے نگہبانوں سے التجا ہے کہ ان کے درد کو محسوس کیا جائے تاکہ ان کے دکھوں کا مداوا ہوسکے۔ ان کا خیال ہے کہ شائد نوجوانوں کا خوف ، بیواؤں کی سسکیاں، یتیموں کی آہیں ، بزرگوں کی بیچارگی راوالپنڈی کے جنرل ہیڈ کورٹرز کے چار دیواری کے اندر پہنچ نہیں پائی ہے جس کی وجہ سے موت کی پرچھائیاں ابھی تک قانون کی آہنی گرفت میں نہیں آسکیں۔ ان کو امید ہے ایک دفعہ اگر ملک کا سپہ سالار خود اپنے کانوں سے سنے اور اپنی آنکھوں سے دیکھے تو کوئٹہ کی گلیوں میں موت کا رقص ختم ہو سکتا ہے۔

One Comment

  1. امیر نواز says:

    جب سپہ سالار ہی قاتلوں کی پشت پناہی کرتا ہو تو پھر کیا کریں؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *