وہی آشوب ناک حالت ہے

منیر سامی

پاکستان اول دنوں ہی سے ایک آشوب ناک حالت میں یا مسلسل آشوب ناک ادوار میں قائم ہے۔ یہاں اول دن سے ہی عوام کی تمناؤں کو پامال رکھنے اور ان کی جمہوری خواہشات کو ٹھوکروں میں اڑانے کی رسم کو مضبوط کیا گیا کیا ہے اور یہ رسم اب اتنی مستحکم ہے کہ اس میں تبدیلی کی ہر کوشش رایئگاں رہتی ہے۔اس آشوب ناک صورت کے مستقل اور مسلسل عوامل یا کردار اس طرح سے ہیں۔ ان میں شاید کچھ اضافہ ہی کیا جاسکتا ہے، کمی تو بالکل نہیں:

١۔ عسکری اداروں کی خواہشِ اقتدار اور اپنی من مانی پالیسیاں نافذ کرنے کا مستحکم عہد۔

٢۔ عدلیہ کا بارہا غیر آئینی کاروایئوں کو تحفظ فراہم کرنا ، اور وقتاً فوقتاً آئین کے پردے میں جمہوریت اور انتظامیہ کو ناکام بنانا۔

٣۔ پارلیمان یا مقننہ کا آئین کے قیام، نفاذ، اور تحفظ کے معاملات میں کمزوری دکھانا۔

٤۔ سیاستدانوں کے قومی مفاد کو نظر انداز کرنے والے فیصلے اور آئین کے تحفظ کے لیے عدم اتحاد۔

٥۔ اظہار ِ رائے پر مسلسل پابندیاں، اور اربابِ صحافت کا آمرطبقات کے ساتھ گٹھ جوڑ ۔

اس صورتِ حال کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم اکیسویں صدی کی بیسویں دہائی میں بھی زمانہ قبلِ آئین میں رہ رہے ہیں، ہمارا ایک آئین تو ہے لیکن اس کو بالکل ناکارہ کرکے رکھ دیا گیا ہے۔ اگر اس میں کبھی جستہ جستہ بہتری کی صورت بھی نکلنے لگے تو اس پر خارجی اور داخلی حملے فزورں تر ہو جاتے ہیں۔

مندرجہ بالا نکات میں خطرناک ترین نکتہ نمبر ایک اور نکتہ نمبر دو ہیں۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ہمارے عسکری اداروں نے بارہا پاکستان پر بالواسطہ براہِ راست غیر آئینی آمریت مسلط کی ہے۔ انہوں نے اپنے ہر اس اقدام کا ذمہ دار سیاست دانوں کو ٹھہرایا ہے ۔ ان کی منطق ہمیشہ یہ رہی ہے کہ سیاستدانوں کو نظامِ حکمرانی نہیں آتا، وہ بد دیانت اور رشوت خور ہوتے ہیں، اور ان ہی کے ناقص رویوں سے ملک پسماندہ رہتا ہے۔

وہ یہ کبھی نہیں مانتے کہ عسکری دورِ حکومت کے نتیجہ میں پاکستان دو لخت ہوا ہے۔ یہ وہی ہیں جنہوں نے پاکستان کو دوسروں کی جنگوں میں اس طرح جھونکا کہ موجود ہ پاکستان کی ساری مدت اس کی نذر ہے۔ ان اداروں میں کرپشن کی موجودگی، اور ان کی زیادتیوں کے باوجود ان کے خلاف کوئی مقدمہ پاکستان کی عدلیہ میں نہیں آتا اور اگر آتا بھی ہے تواعلیٰ عدلیہ اس پر کوئی قدم اٹھانے سے گریز کرتی ہے یا اسے پسِ پشت ڈال دیتی ہے۔ اس کی سامنے کی مثالیں اصغر خان کا مقدمہ، جنرل مشرف کی بغاوت، اور گمشدہ افراد کے معاملات ہیں۔

ہماری عدلیہ روزِ اول ہی سے غیر آئینی اقدامات کو تحفظ فراہم کرتی رہی ہے۔ اب بھی ہماری عدلیہ میں وہ منصفین موجود ہیں جنہوں نے غیر آئینی احکامات پر حلف اٹھائے تھے۔ اس کے ساتھ عدالتی عمل پرستی کے بہانے اب بھی عدلیہ منتظمہ اور حکومت کو زچ کرتی رہتی ہے۔ ایک خطرناک صور ت جس کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اہم ترین آئینی معاملات میں اعلیٰ عدلیہ کے تمام تر مصنفین ایک بنچ کے تحت فیصلے نہیں کرتے۔ دنیا کی مہذب جمہوریتوں میں آئنی مقدمات ہمیشہ عدلیہ کے اراکین کی مکمل تعداد طے کرتی ہے۔ پاکستان میں یہ مقدمات سترہ منصفین کی عدالت میں سے چنے ہوئے تین، پانچ، یا زیادہ سے زیادہ سات منصف کرتے ہیں۔ حال میں اہم مقدمات میں یہ فیصلے پانچ نفری بنچوں نے کیے ہیں۔

قیاساً یا بادی النظر میں یہ لگتا ہے کہ اکثر اہم فیصلے کسی طے شدہ مقصد کے لیئے کیے جارہے ہیں جن میں ذاتی مخاصمت بھی شامل ہو سکتی ہے۔ لیکن خطرناک اشارے یہ ہیں کہ اگر آج نوازؔ شریف ان کا شکار لگتے ہیں تو کل یہ صورتِ حال زرداریؔ ، عمران ؔ خان ، اور دیگر کو بھی پیش آئے گی۔فیصلہ کرتے وقت فاضل اور معزز مصنف بار بار اس طرح کے بیان دیتے ہیں کہ، ’میرے دور میں ہر چیز ٹھیک کردی جائے گی‘۔ گویا یہ دورِ عدالت نہیں کوئی دورِ عدالتی آمریت ہے۔ ایسا دنیا میں شاید ہی کہیں اور ہوتا ہو۔ لیکن ہم جس ’خدا کی بستی‘ میں رہتے ہیں وہ فقط ’اندھیر نگری‘ بن کر رہ گئی ہے۔

عسکری اداروں اور عدلیہ میں ایک غیر مرئی تعاون یا دو طرفہ گٹھ جوڑ کا نتیجہ یہ ہے کہ پارلیمان اس کے سامنے بے بس ہے۔ یہ کوئی بھی قانون بنائے ، وہ منٹوں سیکنڈوں میں عدالت کے سامنے پیش کردیا جانے لگا ہے تاکہ اس کے آئینی ہونے کی بابت فیصلہ کیا جاسکے۔ عدلیہ بلا شبہ آئین کی تاویل کا استحقاق رکھتی ہے، لیکن اسے ہر ایسی درخواست کو احتیاط سے دیکھنا چاہیے اور اس کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ صرف اور صرف اپنی مکمل تعداد کے ساتھ کرنا چاہیے۔

کیا یہ کہنا بیجا ہے کہ جو فیصلہ سترہ منصف کریں وہ اس فیصلے سے کہیں زیادہ دانشمندانہ، منصفانہ ، اور قابلِ اعتبار ہو گا جو صرف تین یا پانچ منصف کریں۔ ہمارے خیال میں ہر رائے نگار کو دست بستہ ہی سہی یہ رائے منصفوں تک پہنچاتے رہنا چاہیئے۔

پاکستان کی دگرگوں صورت ِ حال ہمارے سیاست دانوں کی ناعاقبت اندیشی اور ذاتی مفادات کا بھی نتیجہ ہے۔ سالہا سال سے ہمارے سیاست دان عسکری قوتوں کے خطرناک جبر کا شکار رہے ہیں ۔ وہ جبر کے جس کے نتیجہ میں ذوالفقار بھٹو ، اور بے نظیر بھٹو قتل ہوئے اور سینکڑوں بلکہ ہزاروں سیاسی کارکن بدتر ین عقوبتوں کا شکار رہے ہیں۔ سیاستدانوں کے آپس کے تنازعات کو بھی آمرانہ قوتوں نے خوب خوب ہوا دی ہے اور اسے اپنے رکیک مقاصد کے لیئے استعمال کیا ہے۔

اس کے باوجود عوامی حکمرانی اور متفقہ سماجی معاہدوں کی فطری انسانی لگن سیاستدانوں کو یکجا بھی کرتی رہی ہے۔ ہمارا سنہِ 73 کا آئین اور ہمارے آیئن کی اٹھارویں ترمیم سیاستدانوں ہی کے تعاون سے ممکن ہو سکے تھے۔ یہ بھی درست ہے کہ ہمارے دائیں بازوں کے سیاست دانوں کی ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے جس میں نوازؔ شریف پیش پیش ہیں، ہمارے آئین میں وہ جمہوریت مخالف شقیں شامل ہیں جن کا شکار اب خود نواز شریف ہیں اور جن کا شکار ابھی اور بہت ہوں گے۔ یہ اتنی سامنے کی بات ہے کہ خود عدلیہ کے منصف یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم تو ان ہی شقوں پر فیصلے کر رہے ہیں جو خود آپ نے بنائی ہیں۔

ہمارے سیاستدانوں پر لازم ہے کہ وہ پہلے کی طرح اب بھی اپنے اختلافات بھلا کر آئین اور جمہوریت کے تحفظ اور بقا کے لیئے متحّد ہوں۔ ہماری رائے میں یہ ذمہ داری ایک بارپھر پیپلز ؔ پارٹی ہی کو اٹھانا ہو گی، جس نے، 73 کے آئین، اٹھارویں ترمیم، ایم آر ڈی کی تحریک ، اور کئی قربانیوں کے تحت پاکستان میں جمہوری امکانات کی کوشش کی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ایسا ضرور ہوگا۔ ہاں اس بار اس کی مخالفت موجودہ عدالتِ عظمیٰ کی طرف سے زیادہ ہو گی جس نے پارلیمان کے امور میں بھی اپنا استحقاق جتانا شروع کیا ہے۔

اظہارِ رائے کی آزادی پاکستانی جمہوریت کا مظلوم ترین باب ہے۔ اول دن ہی سے پاکستانی صحافت اور اظہار کے راستے بدترین سنسر شپ کے ذریعہ بند کیے گئے۔ اس بات کو بار بار دہرانے کے بجائے بہتر ہے کہ ہمارے شہری اور رائے عامہ کے ماہرین، ایک نہایت قابلِ احترام صحافی ضمیرؔ نیازی کی کتابیں اپنے لازمی نصاب کی صورت بار بار پڑھیں۔

ایسا کرنے سے یہ ثابت ہو گا کہ ہمارے ہاں صورتِ حال بہتر ہونے کے بجائے بدترین ہو گئی ہے۔ جس میں اظہارِ رائے کرنے والوں کے قتل، جبری گمشدگیاں ، میڈیا اداروں کے ساتھ بڑھتی ہوئی زیادتیاں، اور آمرانہ طبقات کے متوازی میڈیا کا قیام بھی شامل ہے۔، ایک سنگین صورت، تعلقا تِ عامہ کے عسکری ادار ے ’ آئی ایس پی آر‘ کا رائے عامہ پر براہِ راست دخل بھی ہے۔ جس میں اب سیاسی اور سماجی معاملات پر براہِ راست تبصرے شامل ہیں۔ اس طرح یو ں لگتا ہے کہ پاکستان میں دو متقابل نظامِ حکمرانی رائج ہو گئے ہیں، جس میں سیاسی اور آئینی نظام کی جڑیں اکھڑرہی ہیں۔

یہی وہ آشوب ناک صورت ہے جس کے تحت ہم نے یہ تحریر لکھی۔ پاکستان کے عوام کا حق ہے کہ وہ اس ملک پر اپنے سیاسی نمائندوں کے ذریعہ حکمرانی کریں۔ ورنہ زیاں ہی زیاں ہے۔

2 Comments

  1. N.S.Kashghary says:

    آہ ضمیر نیازی مرحوم۔ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے۔
    جنہوں نے صحافتی پابندیوں پر احتجاج کرتےہوئے اپنا ایوارڈ صدرلغاری کو واپس کردیا تھا۔

  2. ضمیر نیازی صاحب، ہم سب کے لیئے مشعلِ راہ تھے۔ میری خوش نصیبی کہ ان کے نیاز حاصل کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ میں ان کی کتابیں کلیجے سے لگا کر رکھتا ہوں۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ میرا ضمیر صاحب کا ذکر آپ کو اچھا لگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *