محسن داوڑ اور منظور احمد پشتین کون ہیں؟

انضمام الحق

اس کہانی کو سمجھنے کیلئے آپ کو راجھستان کے ایک چھوٹے سے گاؤں سیہنا میں جانا پڑے گا۔ ایک روایتی ہندو قبیلے میں ایک بچہ پیدا ہوتا ہے اور ان کے والد ان کو موہن کمار کا نام دیتے ہیں۔ اگلے ہفتے جب مندر میں پرساد تقسیم کرنے پہنچ جاتے ہیں تو پنڈت ان کو عوام سے علیحدہ کرکے الگ جگہ لے جاتا ہے اور یوں ایک گریٹ گیم شروع ہوجاتی ہے۔

بعد کی کہانی مختصر الفاظ میں کچھ یوں ہے کہ اس موہن کمار نامی بندے کو را اور این ڈی ایس والے منظور احمد کے فرضی نام سے ٹریننگ دینے کا سلسلہ شروع کردیتے۔ تمام اسلامی اور قبائلی روایات اور قبائل کی ٹھیٹ پشتو سکھائی جاتی ہے اور پھر اٹھارہ سال کی عمر میں موہن کمار کو جنوبی وزیرستان کے سادہ عوام میں لانچ کیا جاتا ہے۔ لے دے کر سادہ قبائل کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ہم مسلمان ہیں جو ہجرت کرکے یہاں آئے ہوئے ہیں اور یوں قبائل بطور اسلامی بھائی ان کو قبول کرلیتے ہیں۔

را کی جانب سے پلان یوں تشکیل پاتا ہے کہ سادہ لوح قبائل کو سٹیٹ کے خلاف بھڑکا کر اور گریٹر پشتونستان کا خواب دکھا کر اسلامی فوج کے خلاف لڑایا جائے لیکن ان کا خواب تب چکنا چور ہوجاتا ہے جب آئیایسآئی کے بہادراور زیرک جوان گریٹر پشتونستان کے خارجی منصوبے کو بروقت کچل کر ان کے تمام پیروکاروں کو کمال مہارت کے ساتھ ختم کردیتی ہے۔

اس کے بعد طالبان کی شکل میں دوسری کوشش ہوئی جس کو بھی ہمارے جواں ہمت سپاہی بروقت ٹھکانے لگانے کیلئے 3 بڑے بڑے آپریشنز اور اپنے کئی قیمتی ساتھیوں کی قربانی دے کر ناکام بنا دیتے ہیں۔ طالبان کے خلاف جب آپریشن ضرب عضب شروع ہوتا ہے تو موہن کمار جو منظور احمد کے نام سے مشہور ہوئے ہوتے ہیں کو اگلا ٹاسک دینے کیلئے کلبھوشن یادیو کو بھیجا جاتا ہے۔ وہ اسائمنٹ لے کر افغانستان کے غدار حکومت کے تعاون سے پہاڑی راستوں کے ذرئعے وزیرستان پہنچ جاتے ہیں اور تین ماہ کی مدت میں منظور احمد کو پورا پلان سمجھا دیتے ہیں۔

اسے خدا کی مدد ہی کہیے جو ہمارے بہادر سپاہی کلبھوشن کو بروقت گرفتار کر لیتے ہیں۔ وہاں کلبھوشن گرفتار ہوجاتے ہیں یہاں منظور احمد اپنے پلان کو عملی جامہ پہنانے کیلئے متحرک ہوجاتے ہیں۔ لیکن انہیں یہ علم نہیں ہوتا کہ انہی کی طرز میں دلیپ سنگھ کو بھی تیار کیا جاتا ہے جو شمالی وزیرستان کے علاقے میں محسن داوڑ کے نام سے مشہور ہے۔

یہ راز ان پر تب فاش ہوتا ہے جب محسن داوڑ کلبھوشن یادیو کے متعلق انکشاف کرتے ہیں کہ منظور احمد کے ساتھ ملنے سے قبل کلبھوشن ان کے ساتھ ایک سال گزار چکے ہیں اور اس کیلئے شواہد بھی فراہم کرتے ہیں۔ ایسے ہی انکشاف اور رام لال (علی وزیر) اور پرتاب سنگھ (عبد اللہ ننگیال) بھی کرتے ہیں۔ یوں یہ سب پاکستان کے اسلامی فوج کے خلاف سادہ لوح عوام کے جذبات کو بھڑکانے کیلئے پاک فوج پر مختلف قسم کے بے سرو پا الزامات لگانے شروع کرجاتے ہیں۔

کلبھوشن یادیو کو کورٹ کی جانب سے سزائے موت سنائی گئی ہے لیکن پاکستان کی اسلامی فوج منظور احمد اور محسن داوڑ کے خلاف شواہد فراہم کرنے کیلئے ان پر مختلف حربوں کا استعمال کررہی ہے۔ دوسری طرف اسلام کے دشمن دیسی لبرلز اور ملحدین بار بار کلبھوشن یادیو کو پھانسی پہ چھڑانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

ہمارے غیور، محب وطن اور سادہ لوح قبائلی بھائیوں کو یہ حقیقت سمجھنی ہوگی اور پشتون تحفظ موومنٹ سے کنارہ کشی اختیار کرنی ہوگی ورنہ قیامت کے دن کی سخت پکڑ ہوگی۔ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئر کرکے ثواب دارین حاصل کریں اور ایک سنگین غلطی سے خوف بھی بچئیے اور دوسروں کو بھی بچائیے۔

2 Comments

  1. نر پشتون says:

    ہمیں اِن را ایجنٹس کے ساتھ جہنم قبول ہے سب پر فخر ہے اسلامی فوج اور تمہارے جیسے قلم فروشوں کو جنت مبارک ہو

  2. فیہم خان says:

    افسوس یہ پاکستانی پروپیگنڈا پر، رام لال اور سنگھ جیسے لوگ پنجاب مین ہوتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *