غیرت کے نام پر لڑکیاں قتل اور لڑکے جہنم واصل

آمنہ اختر

غیرت یا عزت کی تعریف

ایک فرد چاہے وہ لڑکی ہو یا لڑکا اپنے خاندان کی عزت ،رتبے ،قدروں اور روایات کو ماننے سے انکار کرے اور اس فرد کو سزا کے طور پر قتل کیا جائے یا جسمانی اور ذہنی تشدد کیا جائے وہ غیرت یا عزت کے زمرے میں آتا ہے ۔

یہاں وضاحت کرتی چلوں کہ والدین کی مرضی کے خلاف شادی کرنا ،شادی سے پہلے جسمانی تعلق قائم کرنا ،فرد کا اپنی مرضی سے لباس کا پہننا وغیرہ غیرت یا عزت میں بھی شامل ہیں ۔اور خاندان سے مراد یہاں بیوی ،شوہر اور بچے نہیں ہیں بلکہ والد ین کے والدین اور بھائی بہن اور وہ تمام رشتے دار جو اس قبیلے سے ہوں ساتھ گلی محلے کے لوگ اور مولوی بھی خاندان میں شامل سمجھے جاتے ہیں ۔

اگر غیرجانبدار ہو کر غیرت کے معاملے کو دیکھا جائے تو پاکستان میں لڑکوں کو بھی غیرت کے نام پر جہنم جیسی زندگی گزارنی پرتی ہے ۔نسلوں سے یہی ہوتا آرہا ہے کہ لڑکا ہو یا لڑکی ان کے والدین ان کی ازدواجی زندگیوں کا فیصلہ کرتے ہیں اور پہلی رسمی ملاقات والدین کی ہی ہوتی ہے بجائے کہ نوجوان لڑکی اور لڑکے کی ہو ۔کوئی پوچھے والدین کی اپنی زندگی میں سکون کا تنکا تک نہیں ہوتا وہ کیسے نئی نسل کے مستقبل کا فیصلہ کر سکے گئیں۔

الفاظ بہت کڑوے لگیں گے مگر سچائی تو یہ ہے کہ مرد ہزاروں سالوں سے عورت اور اس کے مسائل کو لکھتا آیا ہے جس کے لئے ہم مردوں کی شکر گزار ہیں مگر اس نے اپنے اور اس کے جیسے نوجوان لڑکوں کے حالات اور مسائل کو ہمیشہ اسی میل شاؤنزم کے نیچے دبایا ہوا ہے جو اس کی اپنی ٹانگوں کے درمیان عزت اور جنسی آزادی کی لذت کو دھچکا لگاتی ہے !۔

سماج ابھی تک زرعی قدروں کو اپنائے ہوئے ہے۔جس میں اولاد کی قدر زمین کے ایک ٹکڑےکی مانند ہے جسے حالات کی نزاکت کے پیش نظر معاملے پر ادھار یا کم قیمت میں بیچ دیا جاتا ہے۔ایک خاندان کا لڑکا کسی لڑکی کو پسند کرے اور وہ خاندانی حسب نسب ،مزہبی فرقہ وغیرہ سے باہر ہو تو وہ عزت کا مسئلہ بن جاتا ہے کیونکہ وہ لڑکا خاندان کے نام کا رکھوالا ہے پھر یہی نہیں والدین کی اپنی چپقلش زدہ زندگی کا نتیجہ کسی کزن کے ساتھ شادی کی صورت نکلتا ہے۔

یہ لڑکوں کی زندگی کو گھن کی طرح کھا جاتا ہے۔ساری آزادی جذبات تو مار ہی دیے جاتے ہیں ساتھ ہی سماجی لعن طعن اور معاشی بوجھ سے زندگی جہنم بنا دی جاتی ہے۔سماج اس بات کو باور کروانے میں کامیاب ہو ہی جاتا ہے کہ آزاد مرد بھی معاشرے کو قبول نہیں ۔

مائی مختاراں اور قندیل بلوچ کے معاملے میں معاشرے کی قدریں اور غیرت ہی تو ہیں جنہوں نے مرد کو سوائے وحشی جانور کے کچھ اور بننے کا موقع نہیں دیا۔پاکستان میں خاندان کو ایک غیر رسمی تعلیمی اور اخلاقیات سکھانے کے ادارے جتنا درجہ حاصل ھے ۔جس میں لڑکوں کو سدھایا جا رہا ہے کس طرح انہوں نے اپنی بہنوں بیٹیوں اور بیوی کو کنٹرول کرنا ہے اس بات سے قطع تعلق کہ ان کا وقت اس کی اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے کتنا فائدہ مند ھونا چاہے ۔

لڑکوں کی اپنی زندگی جہنم اور بندشوں کی شکار ہے وہ کیسے دوسرے کی آزادی کو سمجھ پائیں گے ۔نوجوان لڑکوں کو ایک فرد کا درجہ ملنا چاہئے اس پر بچپن سے ہی بہنوں کو کنٹرول کرنے کی ذمے داری ڈال دی جاتی ہے ان کے معصوم ذہنوں پر گلی محلے کے ہر مرد کو پرکھنے کی سخت ڈیوٹی ہوتی ہے جس سے وہ اپنی بہن اور ماں کو برے مردوں سے بچا سکے ۔ورنہ دوسری صورت میں والدین اپنے بیٹوں ں کے ذہنی حساس پن کا ناجائزاستعمال کرتے ہوئیے ان کو اشتعال دلوا کر ان کے ہاتھوں انہی کی بہنوں کو غیرت کے نام پر قتل کرواتے ہیں۔ ۔

ہمارے ہاں غیرت کے ایشو پر بہت شور اٹھتا ہے مگر مجھے اس بات کا پتہ لگانا ہے کہ پاکستانی حکومت نے غیرت کے نام پر لڑکوں کو درپیش مسائل اور ان کے سدباب کے لئے کون سی تجاویز پیش کی ہیں ؟تعلیم اور معاشرے کی اقدار میں کتنی گنجائش پیدا کی گئی ہے کہ ہمارے ہاں لڑکوں کو ان کی زندگی ان کی مرضی پر گزارنے اور نئےدور کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے کتنے مواقع میسر کیے ہیں ۔جن سے وہ ایک تندرست پاکستانی اور ایک جمہوری فرد بن سکیں ۔اپنی ماں اور بہن کو کنٹرول کرنے کے بجائے اپنے مستقبل کو سنوار سکے۔

لڑکوں کے والدین سے گزارش ہے کہ بیٹوں کی پرورش اس طرح کریں کہ بھائی اپنی بہن کے ساتھ دوستانہ رشتہ بنائے ناکہ اپنی بہن کاعزت یا غیرت کے نام پر وحشی جانور کی طرح چیر پھاڑ کرے ۔ اپنی بیٹی کی پرورش اور تحفظ کی ذمےداری خود اٹھائیں ناکہ نوجوان لڑکے کا بوجھ بنائیں ۔ لڑکوں کو ذہنی مریض نہیں بلکے ان کو ان کی زندگی جینے کا پورا حق دیں ۔

وقت کی نزاکت کو سمجھیں اس سے پہلے کہ لڑکیاں اپنے بھائیوں کو عزت یا غیرت کے نام پر قتل کرنے لگیں!۔

2 Comments

  1. بہت خوب لکھا ہے۔یہاں مسائل کے انبار ہیں۔جو پوٹلیان پچھلی نسلوں نے دان کی ہیں ان کو جیسے ہیں جہاں ہیں کی بنیاد پر آگے منتقل کئے جانا ہے۔گھر میں اور گھر سے باہر تضادات کی یلغار ہے۔مجھے یاد ہے جب عزت کی خاطر قتل کے خلاف قرارداد سینٹ میں پیش کی گئی تھی تو اجمل خٹک جیسے روشن خیالوں نے بھی اس کی مخالفت کی تھی کہ یہ ان کی قبائلی روایات کے خلاف ہے۔اور اب قبائلی روایات مذہبی روایات میں ضم ہیں۔اور مذہب کی Overdose نے پرکھنے کی صلاحیت مفقود کر دی ہے ۔ملّا گردی جاری اور ساری ہے ۔مذہب ہماری پہچان سے بہت آگے ہیجان کی صورت اختیار کر گیا ہے ۔پاکستان میں چیزیں ٹوٹ پھوٹ تو رہی ہیں اور کافی حد تے انہیں آپ بے سمت اوربے شکل ہی سمجھیں!

  2. بہت خوب لکھا ہے۔یہاں مسائل کے انبار ہیں۔جو پوٹلیان پچھلی نسلوں نے دان کی ہیں ان کو جیسے ہیں جہاں ہیں کی بنیاد پر آگے منتقل کئے جانا ہے۔گھر میں اور گھر سے باہر تضادات کی یلغار ہے۔مجھے یاد ہے جب عزت کی خاطر قتل کے خلاف قرارداد سینٹ میں پیش کی گئی تھی تو اجمل خٹک جیسے روشن خیالوں نے بھی اس کی مخالفت کی تھی کہ یہ ان کی قبائلی روایات کے خلاف ہے۔اور اب قبائلی روایات مذہبی روایات میں ضم ہیں۔اور مذہب کی اوورڈوز نے پرکھنے کی صلاحیت مفقود کر دی ہے ۔ملّا گردی جاری اور ساری ہے ۔مذہب ہماری پہچان سے بہت آگے ہیجان کی صورت اختیار کر گیا ہے ۔پاکستان میں چیزیں ٹوٹ پھوٹ تو رہی ہیں اور کافی حد تے انہیں آپ بے سمت اوربے شکل ہی سمجھیں!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *