شہ سے شہ مات تک

علی احمد جان

مارچ آہی گیا اور سینیٹ کے انتخابات بھی ہو ہی گئے۔ ملک میں بے یقینی  کو محسوس سب سے پہلے قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے کیا اور انتباہ کیا تھاکہ مارچ سے پہلے بہت کچھ ہو جائیگا  اور کچھ بھی نہ بچے گا ۔  ستمبر، دسمبر اور مارچ کی تاریخیں دینے والوں کو بھی اس بات کا یقین تھا کہ سینیٹ کے انتخابات  سے قبل ہی حکومت کا دھڑن تختہ ہونے والا ہے۔  مگر ایسا کچھ بھی نہ ہوا   ، حکومت اپنی جگہ موجود ہے اور سینیٹ کے انتخابات   بھی ہوگئے ۔   مگرپھر بھی بے یقینی  ہے کہ ختم ہونے کو نہیں آرہی ہے۔

ملک میں مسلم لیگ کی حکومت جب بر سر اقتدار آئی تو صوبائی  اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ پنجاب میں بھی اس کو کسی خاص حزب اختلاف کا سامنا نہیں تھا۔  بڑے بھائی نے  وفاق اور چھوٹے بھائی نے تخت لاہور کو سنبھالا۔ سمدھی کو خزانے کی چابی دے دی  اور اپنے حلقہ یاران و احباب کو داخلہ، مواصلات، پانی بجلی  اور دیگر اہم وزارتوں کے قلمدان سپرد کردئے۔

جن وزارتوں پر بٹھائے وفاقی وزراء پر کم اعتماد تھا ان کے ساتھ  اپنے عزیز و اقارب کو بطور وزرائے مملکت   دربان رکھا۔    کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے علاوہ سڑکیں بنا کر ملک و قوم کی ترقی میں مصروف  وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں حلف لینے کے بعد صرف  چند  مواقع پر ہی  دیکھا گیا ۔ 

 بلوچستان میں حسب روایت کچھ آزاد اور کچھ سردار ملائے گئے  ساتھ  میں محمود خان اچکزئی نے اپنے ارکان جھولی میں ڈال دئے تو  گورنری اور وزارت اعلیٰ  کی تقسیم پر اتفاق ہوا۔ وزارت اعلیٰ کے  پہلے اڑھائی سال بلوچستان نیشنل پارٹی  کو دیکر دوسرے  اڑھائی  سال مسلم لیگ کو دینے پر اتفاق ہوا تو یہاں بھی حزب اختلاف  کے نام پر مولانا فضل الرحمٰن کے ایک ممبر کو صوبائی وزیر کے برابر مراعات دئے گئے جو پہلے ہی وفاق میں حکومت کا حصہ تھا۔ جب تک پنامہ کی نہر میں شگاف نہیں پڑا یہاں راوی چین ہی چین لکھتا تھا۔

 اپوزیشن کے صوبے سندھ میں ڈاکٹرعاصم، اویس مظفر ٹپی، شرجیل میمن اور قادر پٹیل کو ہانکا  دے کر  آصف علی زرداری کو سبق سکھانے کی مشق جاری تھی۔ ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر رینجرز کے زریعے چڑھائی کرکے  ان کی توپوں کا رخ جوڑ توڑ کے ماہر اور مفاہمت  کے گرو آصف علی زرداری   کی طرف موڑ دیا گیا تو سندھ میں بھی مسلم لیگ کی حکومت کو امن و آمان بہتر بنانے میں کارکردگی  دکھانے کا موقع ہاتھ آگیا۔

  خیبر پختونخواہ میں امیر مقام نے ایک متوازی حکومت  چلانی شروع کردی جس نے عمران خان کی تبدیلی والی سرکار کے جواب میں وفاقی حکومت کا احساس دلانا شروع کردیا مگر یہاں سے کبھی کبھار للکار کی آوازیں آتی رہیں۔ سندھ کی حکومت کو ایم کیو ایم اور رینجرز سے الجھا کر اور بلوچستان کی حکومت کو اتحادیوں کے حوالے کرنے کے بعد نواز شریف کی  کوئی پریشانی نہ رہی۔ 

 مسلم لیگ نون  کی وفاق اور پنجاب میں حکومتیں مضبوط اس لیے تھیں کہ یہاں ان کی براہ راست نظر کرم  رہی۔  حکومت کا فیض پنجاب کے ایک مخصوص علاقے اور لاہور   سے ہٹا بھی تو ملتان اور اسلام آباد سے آگے نہ  پہنچ سکا۔  لاہور میں ایک کے بعد دوسری سڑک  بنانے اور ریلوئے لائن  بچھانے والی حکومت کے لئے جنوبی پنجاب میں کھیت سے منڈی تک پتلی سڑک بناکر کسانوں  کو زرعی اجناس کی ترسیل میں آسانی فراہم کرنا اہم نہیں تھا۔

   چند شہروں میں دانش سکول بناکر معیار تعلیم کا ڈنڈھورا پیٹنے اور چند  طلبہ کو لیپ ٹاپ پر وزیر اعلیٰ کی تصویر لگا کر دینے والی سرکار   کے لئے ملک کے نظام تعلیم کو بہتر بنانا اہم نہ تھا اور نہ پرائیمری تک  لازمی تعلیم کی آئینی  زمہ داری پوری کرنا لازم ٹھہرا۔  

ہواؤں کا رخ موڑنے کے لئے جب اسلام آباد کے ڈی چوک پر بند باندھا گیا    ، شاہراہ جمہوریت  کی دیواروں پر  پاجامے سکھانے کے لئے لٹکائے گئے اور وزیر اعظم ہاؤس  کی دیواروں پر چڑھ کر اندر جھانکنے کی کوشش کی گئی تو پارلیمنٹ کی عمارت  ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی رہی جس کے اندر قومی اسمبلی کا اجلاس جاری تھا۔  مگرجیسے ہی حالات بدل گئے  پارلیمنٹ کی عمارت جھنڈا لگی وزیر اعظم کی گاڑی کے درشن کو ترس گیا۔  پارلیمنٹ پر چڑھائی کرنے والےاور اس پر لعنت بھیجنے والے تو کسی شرم اور حیا کے بغیر بھی یہاں  آگئے مگر یہاں کے قائد ایوان  شرم و حیا کے ساتھ بھی  یہاں آنے میں تامل کرتے رہے۔   

جب پنامہ کی باز گشت قومی اسمبلی میں سنائی دی تو  مشورہ دیا گیا کہ اسمبلی کی ایک کمیٹی بناکر اس مسئلے کو یہی نمٹا دیا جائے تو  گھر کی  بات گھر میں ہی رہے گی۔ مگر  اپنی بے گناہی  یا چمک  پریقین  کے زعم میں مبتلا وزیر اعظم عدالت سے ہی کلین چٹ لے کر تاریخ میں  سرخرو ہونا چاہتے تھے۔ بات عدالت تک پہنچی تو بہت آگے تلک چلی گئی۔   دو تہائی اکثریت والے وزیر اعظم کو شائد  یہ بتایا گیا تھا کہ جوائینٹ انوسٹگیشن  ٹیم(جے ۔آئی۔ ٹی) ایسی ہی ہوگی    جیسی ڈاکٹر عاصم اور عزیر بلوچ کے لئے بنائی گئی تھی ۔

کہنے والوں نے سچ ہی کہا تھا مگر اس بارجے ۔آئی ۔ٹی کے سامنے بیٹھنے والے دوسرے تھے۔   جب جے۔آئی۔ ٹی کے سوالات کے نشتر چبھنے لگے  تو  سسکیوں کی آواز باہر   دیوار سے کان لگائے بیٹھی میڈیا کو بھی سنائی دی۔  پھر ایک روز وہ بھی آیا جب پنامہ  کی پٹاری سے ایک اقامہ کا سانپ بھی  نکل آیا   جس کے  ڈسنے سے نواز شریف ایک دفعہ پھر براہ جی ٹی روڑ  جاتی امراء رائیونڈ  کے لئے روانہ ہوئے۔  

ویسے تو حکومت کے جانے اور کسی نگران حکومت  کے آنے کی خبریں پچھلے ایک سال سے گرم تھیں مگر اقامہ کے زہر سے ہونے والی نا ا ہلی  کو اہلیت میں بدلنے سے روکنے کے لئے سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے سے پہلے حکومت کو گرانا کچھ ہدف سا محسوس ہوتا تھا ۔ دوسری طرف      ملک کے ایوان بالا میں فتح کے جھنڈے گاڑھنے کی امید لئے نواز شریف کی کوشش رہی کہ  سینیٹ کے انتخابات ہر صورت میں ہوں جس میں ان کو  اکثریت کا یقین تھا۔ بلوچستان میں تحریک عدم اعتماد کا واویلا ہوا تو مسلم لیگ کی حکومت نے کوئی ایسا کردار ادا نہیں کیا کہ عدم اعتماد    کے اثرات اسلام آباد تک نہ پہنچ سکیں۔

جب نواز شریف کے دستخطوں والے سینیٹ کےٹکٹ  مسترد ہوئے تو اس کو ایک سیاسی ایشو بنا کر  جلسوں اور اسلام آباد کی احتساب عدالت کے باہر تقریروں    سے مجمع اور پریس گیلیریوں کو گرمانے کی کوشش کی گئی۔  جب کراچی میں ایم کیو ایم  سینیٹ کے ایک ٹکٹ پر گتھم گتھا تھی تو نواز شریف کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ اس کشمکش سے اصل نقصان کس کو ہونے والا ہے۔ سندھ سے ایم کیو ایم کو   اور بلوچستان سے مسلم لیگ کو ملنے والی   نشستیں  ہارنے کے  بعد  نواز شریف کے لئے سینیٹ  میں   اکثریت حاصل کرکے نااہلی کی موت سے سیاسی  زندگی میں واپس لانے والا اب حیات  حاصل کرنا ایک خواب بن گیا۔ یوں گزشتہ دو سالوں سے جاری پاکستان  کی بساط سیاست پر جاری شہ مات کی چال کامیاب ہوگئی۔  

مریم نواز تو کہتی ہیں کہ سینیٹ  کی بساط پر  جو مہرے کامیاب ہوئے ہیں وہ عملی میدان سیاست میں ٹھاٹھیں مارتے  عوامی سمندر  کے آگے ٹھہر نہ سکیں گے۔  دوسری طرف کے لوگ کہتے ہیں کہ شطرنج کے کھیل میں شہ مات یعنی بادشاہ کو گھیرنے یا محصور کرنے کے بعد مات یا شکست تسلیم کیا جاتا ہے۔ میرا اپنا ذاتی خیال ہے کہ  شطرنج کا کھیل بہت قدیم ہے جوپرانے ادوار کی سیاسیات اور میدان کارزارکی حکمت عملی کی مشق کے لئے تو موزوں رہا ہوگا مگر    اس کی چالیں جدید جمہوری دور کی سیاسی   بساط کے ساتھ موافقت   نہیں رکھتیں۔    

سیاست میں حالات اور وقت کو بدلنے میں دیر نہیں لگتی اس بات کا اندازہ نواز شریف سے زیادہ کس کو ہوسکتا ہے جو جنرل جیلانی کے ہاتھوں دستار پہن کر آئے اور تین بار بطور وزیر اعظم منتخب ہوئے۔  اگروہ  مستقل مزاجی سے حالات کا مقابلہ کرے تو یہ شہ مات  بھی ایک دفعہ پھر  فتح  میں بدل سکتی ہے۔  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *