برطانیہ اور روس کے تعلقات تباہ کن طوفان کی زد میں

آصف جیلانی 

برطانیہ اور روس کے درمیان تعلقات گو، 465 سال پرانے ہیں لیکن ایسے کڑے نشیب و فراز سے گذرے ہیں کہ تاریخ کے اوراق لرز اٹھے ہیں۔ دونوں ملکوں کے تعلقات پھر ایک بار تباہ کن طوفان سے گذر رہے ہیں۔

نیا طوفان ، لندن سے88 میل دور جنوب میں ، قرون وسطی کے پرانے قصبہ سالسبری میں ۴ مارچ کو اس وقت اٹھا جب اس کے شاپنگ سینٹر کے قریب ایک بینچ پر ایک شخص اپنی بیٹی کے ساتھ نیم بے ہوشی کے عالم میں بیٹھا تھا۔ انہیں اس حالت میں دیکھ کر پولیس ان کی مدد کو آئی اور انہیں فورا ہسپتال لے گئی۔ جہاں ان کی حالت نازک بتائی گئی ۔ 

تفتیش سے پتہ چلا کہ یہ 66 سالہ روسی ڈبل ایجنٹ سرگئی اسکریپل ہے اور اس کی33 سالہ بیٹی لو لیا ہے۔سرگئی اسکریپل روسی فوج میں کرنل تھا اور روس کا جاسوس تھا۔ بیس سال قبل برطانیہ کی جاسوسی ایجنسیایم آئی 6 نے اسے اپنے جال میں پھانسا اور اپنا جاسوس بنا لیا۔ بتایا جاتا ہے کہ سرگئی اسکریپل نے ان تمام روسی جاسوسوں کے نام افشا کر دیئے جو یورپ اور امریکا میں سر گرم عمل تھے ۔ 2004میں یہ ڈبل جاسوس ماسکو میں گرفتار کیا گیا تھا اور2006 میں اسے روسی عدالت نے 13سال قید کی سزا سنائی تھی۔چھ سال بعد جولائی 2010 میں امریکا کی ایف بی آئی کی قید میں دس روسی جاسوسوں کے عوض رہائی پانے والے چار روسی جاسوسوں میں یہ شامل تھااور اسے برطانوی حکومت کے حوالہ کردیا گیا تھا۔سرگئی اسکریپل نے برطانوی شہریت حاصل کر کے سالسبری میں سکونت اختیار کی تھی۔ 

سالسبری میں سرگئی اسکریپل کی بے ہوشی کے بارے میں کئی روز کی تفتیش اور پوری طرح جانچ پڑتال کے بعد اس کی تصدیق ہوگئی کہ ان پر نہایت خطرناک اعصابی زہر کا حملہ کیا گیا تھا۔ ان دونوں کی مدد کرنے اور انہیں ہسپتا ل لے جانے والا پولیس افسر بھی اس زہر سے متاثر ہوا اور وہ بھی انتہائی نگہداشت کے شعبہ میں زیر علاج ہے۔

دس روز تک اس اعصابی زہر کے تجزیے کے بعد وزیر اعظم ٹریسا مے نے پارلیمنٹ میں اعلان کیا کہ سرگئی اسکریپل اور اس کی بیٹی پر جس اعصابی زہر کا حملہ ہوا ہے وہ روس میں تیار کردہ ہے انہوں نے روس کو چوبیس گھنٹے کا الٹی میٹم دیا کہ وہ یہ بتائے کہ آیا وہ اس حملے کے پیچھے ہے یا یہ اعصابی زہر اس کے کنٹرول سے نکل گیاتھا۔ جب روس نے حقارت کے ساتھ اس الٹی میٹم کو ٹھکرا دیا اور کہا کہ ایک جوہری طاقت سے اس طرح بات نہیں کی جاتی ، تو ٹریسا مے نے روس کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کیا ۔ 23روسی سفارت کاروں کو ایک ہفتہ کے اندر اندر برطانیہ سے نکل جانے کا حکم دیا، روس کے وزیر خارجہ کا دورہ منسوخ کر دیا گیا۔ ماسکو میں اگلی گرمیوں میں فٹ بال کاورلڈ کپ میں برطانیہ کی کوئی اہم شخصیت یا شاہی خاندان کا کوئی فرد نہیں جائے گا اور برطانیہ میں مالدار روسیوں کے مالی معاملات پر کڑی نگاہ رکھی جائے گی اور برطانیہ آنے والے روسیوں کی سخت جانچ پڑتال ہوگی۔ 

جیسے کہ توقع تھی روس نے بھی جوابی کار وائی کی ہے اور برطانیہ کے 23سفارت کاورں کو روس سے نکل جانے کا حکم دیا ہے اور اسی کے ساتھ روس میں برطانوی ثقافتی مرکز برٹش کاونسل کو بند کردیا ہے ۔ روس نے سینٹ پیٹرس برگ میں برطانوی قونصل خانہ کھولنے کی اجازت منسوخ کر دی ہے ۔ 

ٹریسا مے نے سالسبری کے حملہ کے جواب میں روس کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کیا تو پہلی بار پارلیمنٹ نے متحدہ طور پر ان سے یک جہتی اور ان کی حمایت کا اظہار کیا، سوائے لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربن کے جنہوں نے اس حملہ کا الزام پوتین پر لگانے سے انکار کیا اور کہا کہ وہ ایسی شہادت دیکھنا چاہتے ہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ اس حملہ کے پیچھے در اصل کس کا ہاتھ ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ عراق کی جنگ کے جواز کے لئے مغربی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی صدام حسین کے جوہری اسلحہ کے بارے میں دروغ گوئی اور مبالغہ آمیزی کے تلخ تجربہ کے بعد ٹھوس شہادت کی ضرورت ہے۔ جیریمی کوربن کے اس بیان پر خود ان کی لیبر پارٹی کے بہت سے اراکین نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ 

بہت سے مبصرین نے جیریمی کوربن کی رائے سے اتفاق کیا ہے ، خاص طور پر عراق کی جنگ کے سلسلہ میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ناکامی کے پیش نظر۔ بعض حلقوں کی طرف سے یہ سوال بھی کیا جارہا ہے کہ اگر روسیوں کو ڈبل ایجنٹ سرگئی اسکریپل کو قتل کرنا تھا تو اس وقت جب یہ غداری کے الزام میں چار سال تک روسی جیل میں قید تھاتو بڑی آسانی سے اسے ختم کیا جاسکتا تھا۔ 2010میں اسکریپل کو امریکا میں قید روسی جاسوسوں کے تبادلہ میں رہا کیا گیا تھا اور برطانیہ کے حوالہ کیا گیا تھا جہاں اسے برطانوی شہریت دی گئی تھی ۔

پھر سوال یہ ہے کہ سر گئی اسکریپل آٹھ سال تک سالسبری میں رہا ۔ اتنے عرصہ کے بعد آخر کیوں اس پر اعصابی زہر کا حملہ کر کے اسے قتل کرنے کی کوشش کی گئی ۔ اس سے یہی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ اگر اس حملہ کے پیچھے روس کا ہاتھ ہے تو ممکن ہے روسیوں کو اس کا یقین ہوگا کہ قیدیوں کے تبادلہ کے بعد سرگئی اسکریپل ، برطانوی خفیہ ایجنسی ایم ائی 6کے لئے بدستور کام کر رہا ہوگا جو روس کو ناقابل قبول تھا۔ 

روسیوں کی طرف سے یہ استدلال پیش کیا جارہا ہے کہ ایک تو برطانیہ نے اس اعصابی زہر کے بارے میں روس کو تفصیل نہیں بتائی ہے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ آیا یہ روس کا تیار کردہ ہے یا نہیں ۔ روسیوں نے یہ بھی کہا ہے کہ کلاشنکوف روسی بندوق ہے لیکن اگر یہ بندوق کسی کے قتل کے لئے استعمال کی جاتی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس قتل کے پیچھے روس کا ہاتھ ہے۔ 

امریکا اور یورپ کے ممالک کی طرف سے ٹریسا مے سے یک جہتی کا اظہار کیا گیا ہے ۔ صدر ٹرمپ نے سالسبری حملہ کے سلسلہ میں ٹریسا مے کو اپنی حمایت کایقین دلایا ہے لیکن سیاسی مبصرین کی رائے میں ٹرمپ اس سے زیادہ کچھ نہیں کریں گے کیونکہ ان پر پوتین کا ایسا جادو چڑھا ہوا ہے کہ وہ پوتین کے خلاف کھل کر کوئی الزام عاید کرنے کی ہمت نہیں کر سکتے ہیں۔ 

جرمنی کا انرجی کے شعبہ میں روس پر اتنا دارومدار ہے کہ وہ برطانیہ کی خاطر روس سے مخاصمت مول نہیں لے سکتا۔ جرمنی چالیس فی صدتیل روس سے درآمد کرتاہے اور اپنی ضروت کی پینتیس فی صد گیس روس سے خریدتا ہے ۔فرانس کے بھی روس سے گہرے تجارتی اور سیاسی روابط ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فرانس کے صدر میکرون نے سالسبری حملے میں روس کے ہاتھ کے بارے میں برطانیہ سے ٹھوس شہادت مانگی ہے۔ اٹلی اور یورپ کے دوسرے ممالک برطانیہ کے ساتھ بریگزٹ میں ایسے الجھے ہوئے ہیں کہ وہ اس وقت برطانیہ کی کھلم کھلا حمایت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ اس کا خطرہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ روس کے ساتھ اس معرکہ آرائی میں کہیں برطانیہ تن تنہا نہ رہ جائے۔ 

جہاں تک برطانیہ اور روس کے تعلقات کا معاملہ ہے تو یہ کوئی نیا طوفان نہیں ہے۔ انیسویں صدی میں برطانیہ اور روس ایک عرصہ تک فرانس کے نپولین کے خلاف اتحادی ہونے کے بعد 1850 میں کرایمیا کی جنگ میں ایک دوسرے کے مد مقابل اور دشمن تھے۔ پھر انیسویں صدی کے آخر میں وسط ایشیا ء پر کنٹرول کے لئے ایک دوسرے کے حریف تھے اور ایک دوسرے کو زیر کرنے کے لئے کوشاں تھے جسے گریٹ گیم کہا جاتا ہے ۔ پہلی اور دوسری عالم گیر جنگوں میں برطانیہ اور روس پھر ایک بار اتحادی تھے لیکن انقلاب روس کے دوران دونوں ملکوں کے تعلقات سخت کشیدہ ہوگئے اور 1989 تک دونوں سرد جنگ میں ایک دوسرے پر تلوار تانے کھڑے رہے ۔ 1930 اور1950کے دوران برطانیہ اور سوویت یونیں کے درمیان جاسوسی کے میدان میں بڑے زبردست معرکے رہے ہیں۔ برطانیہ کی یونیورسٹیاں خاص طور پر آکسفورڈ اور کیمبرج ، روسی جاسوسوں کی بھرتی کے گڑھ تھے ۔ 

سوویت یونین کی مسماری کے بعد دونوں ایک دوسرے کے قریب آ گئے اور مالدار روسیوں نے برطانیہ میں سرمایہ کاری شروع کی اوران کا مالی اثر و رسوخ بڑھا۔ پچھلے دنوں یہ سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے کہ لندن میں بیس ہزار جایدادیں آف شور کمپنیوں کے توسط سے روسی کروڑ پتیوں کی ملکیت ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *