پاکستان ۔۔کیا پاک بھی ہے۔

آمنہ اختر

پاک کا مطلب جب میں نے لغت میں دیکھا تو معنی بہت وسیع تھے مگر ہر معنی کا مطلب پاک ہی تھا ۔پاکستانی پاکی کو نصف ایمان کہتے ہیں مگر پاکی کیلئے کچھ بنیادی ضروریات پوری ہونی چاہیں ۔جیسے پاکی کے لئے پانی ضروری ہے چونکہ پاکستان اسلامی ملک ہے وہاں ایک مسلمان کو ایک دن میں پانچ نمازیں پڑھنا فرض ہیں۔اور باقی تمام مذہبی امور کےلیے بھی پاک ہونا بہت ضروری ہے وضو یا غسل کر کے اپنے آپ کو پاک صاف کیا جاتا ہے ۔

مگر جہاں تک پانی کی فراہمی کا مسئلہ ہے مجھے یاد ہے نلکوں کا رواج ایک وقت ہوا ختم ہو چکا ہے کیونکہ پاکستان جدید دور کی دوڑ میں شامل ہو چکا ہے دوسرا نلکے لگوانا اتنا آسان بھی نہیں رہا کیونکہ ایک تو پانی زیر زمین بہت نیچے ہو گیا ہے دوسرا خرچہ بہت زیادہ آتا ہے خیر میرے بچپن سے ہی تقریباً ۳۶سال پہلے بجلی کی موٹر لگوانے کا رواج ہو گیا تھا ۔مشینیں لگ گئیں مگر بجلی کی قلت کی وجہ سے پانی کی قلت وہیں پر موجود ہے صرف اٹھارہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہی تو ہوتی ہے۔

خیر بات پانی اور پاکی کی بات ہو رہی تھی۔مسلم معاشرے میں نماز باجماعت ادا کرنے کی نیکیاں بہت زیادہ ہیں اسی لئے مردوں کی سہولت کےلئے مسجدوں میں زمانہ قدیم سے ہی کنوؤں کا رواج تھا جو ابھی تک موجود ہے ۔اور ساتھ ہی مذہبی کتاب میں پانی کی قلت کا حل بھی موجود ہے یعنی استنجا اور تیمم۔یہ دونوں عمل استنجا اور تیمم مردوں کے لیے تو کچھ سمجھ میں آتے ہیں مگر میں اور دوسری عورتیں بڑے کرب سے گزرتی ہیں حیض کے دنوں میں کوئی پاکی نہیں رہتی اور نوجوان لڑکیاں سکولوں کے اندر پانی کی نا دستیابی کی وجہ سے ناپاک ہاتھوں سے قرآنی احادیث کو چھونے بغیروضو کے مجبور ہیں لہذا پاکی کا پاک ہونا بہت مشکل ہے ۔خیر میں عورت بھی استنجا اور تیمم کر لیں گی مگر میرے حیض والے کپڑوں کو پاک کون کرے گا؟ میں نے ابھی عورتوں کو درپیش ایک مسئلہ بیان کیا ہے باقی آپ اپنے اردگر پانی کی قلت سے پاکی کو درپیش مسائل کا خود جائزہ لیں ۔

پاکی اور نصف ایمان سے یاد آیا پبلک ٹوائلٹ کی گندگی کو دور کرنا کیا پاکی میں نہیں آتا۔خاص کر جب معاشرہ پاکی کو برقرار رکھنے کےلئے انگریزی کموڈ کی جگہ فلش سسٹم کو ترجیح دے۔مجھے یاد ہے کہ بازار خریدو فروخت کےلئے جانا ہوتا تھا تو کہیں مشکل سے سے ھی پبلک ٹوایلٹ نظر آتا تھا۔مسجد یں چونکہ کافی ہیں تو مسجد کا ٹوائیلٹ استعمال کرنے کو مل جاتا تھا ۔مگر اس کا گندا بدبودار پیشاب اور فضلے سے بھرا منہ دیکھ کر پیشاب خانے میں جانے کی دعا پڑھنا تو دور کی بات بس سانس بند کیا اور مثانے کا بوجھ ہلکا کر کےنکل جانے کی کی پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔کم از کم مسجد سے ملحقہ پیشاب خانے تو پاکی کا ثبوت دیں ۔مسجد سے ملحقہ پیشاب خانے جو کہ مولوی کی ذمے داری ہے کم از کم پاک ہونے چاہیں۔ورنہ وہ خدا کا کیسا بندہ ہے جو پاکی کا درس دے اور اس کی اپنی دوکان پاک ناں ہو۔!

پاک کا ایک اور معنی ہے بری بات سے بچا ہوا تو خیال آیا کل ہی میری اپنی بہن سے فون پر بات ہوئی جو ایک مڈل سکول میں پڑھاتی ہے اس کی سکول کی ہیڈ اس کی تنخواہ پاس نہیں کر رہی تھی ۔اسے نے میری بہن سے رشوت کے طور پر ایک من باسمتی چاول اور پانچ ہزار کی ڈیمانڈ رکھی تھی ۔ایک دن پہلے ہی سکول کی ہیڈ نے بھی اپنے ہیڈ کو ایک من چاول دے کر ہی اپنی تنخواہ بڑھوائی ہے ۔یہاں تو ناں تعلیم دینے والا پاک ہے ناں ہی تعلیم لینے والا پاک ۔میرے خیال میں سبھی پاک کا مطلب جانتے ہیں ۔مگر میں بتاتی چلوں پاک کے بہت سے معنوں میں کچھ معنی ماحول کی آلودگی ،ملاوٹ ،رشوت ، جھوٹ،وغیرہ وغیرہ کا ناں ہونا بھی پاک ہونے میں آتے ہیں۔ان کا پاکستان میں ہونا بھی پاکستان کے پاک ہونے کی علامت نہیں ہے ۔

روزانہ انٹرنیٹ اخبار اور فیس بک پڑھ کر پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کے سارے حکمران ہی پاک خیالات نہیں رکھتے اور ناں ہی عوام میں کوئی خیال موجود ہے جو چند مٹھی بھر لوگ پاکی کی صفت اور عمل بتاتے ہیں ان کے گلے کاٹنے کو ناپاک لوگ مولوی اور فوج کے کان میں نا جانے کیا کہتے ہیں کہ وہ پاک خیال لوگوں کو جان سے مارنے لگ جاتے ہیں ۔اب مجھے نہیں معلوم کہ پاکستان کے لوگوں نے کیا سوچ رکھا ہے کہ پاکستان پاک ہے یا سبھی نے حج کے بعد پاک کرنا ہے ۔بیس کروڑ عوام کا ویزہ لگوانا پھر مدینے میں رہائش کروانا یہ بھی کوئی آسان کام نہیں۔ اس لیے میرا مشورہ ہے کہ پاکستان میں رہ کر ہی اس کو پاک بنائیں۔ آج ذرا سوچیں اور جواب ڈھونڈیں کس نے کس کو پاک کیا ہے!۔

2 Comments

  1. قدیم مصری اور حمورابی تہذیب میں بھی حیض اور نفاس کے خون کو ناپاک سمجھا جاتا تھا۔ان کا خیال تھا کہ اس خون پر جنات آتے ہیں اور بیماریاں پیدا کرتے ہیں۔یہ نقطہ نظر قدیم اساطیر میں مردوں نے دیا تھا اوریہی بعد میں دوسرے مذاہب میں بھی منتقل ہوتا رہا ہے۔مگر آج کی جدید اور سائنس سے واقف عورت اساطیرکو من و عن تسلیم کرنے سے انکاری ہے ۔اس سے متاثرہ خواتین کی رائے اور صوابدید سے کبھی بھی رجوع نہیں کیا گیا ہے۔ البتہ میڈیکل سائنس اور پتھالوجی نے بہت سے ابہام اور تواہم دور کر دیے ہیں۔پھر بھی کروڑوں پاکباز سائنس سے یکسر انکار کرتے ہیں۔معاشرے کو گندگی،ناانصافی ،رشوت،سفارش اور پینے کے لئے صاف پانی فراہم کرنا اور صاف ستھرا رکھنا ایک بھاری انسانی ذمہ داری ہے جو خدا پر نہیں چھوڑی جا سکتی۔پاکستان میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ ایمان کی حفاظت کے لئے تو یکجا ہے مگر اپنے کچرے اور کوڑے کو جدید سائنسی طریقوں سے ٹھکانے لگانے سے معذور ہے ۔اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ اس ملک میں چند ایک ایوانوں اور محلات کو چھوڑ کر، نصف سے زیادہ ایمان تو کب کا راہی ملک عدم ہو چکا۔ پاکستان میں جب بھی حکمرانوں کی عوام کو ڈلیور کرنے اور ذمہ داری کی بات ہوئی تو بقول ایک پنجابی شاعر محمد دین فانیؔ :
    سُکے وانگ مرغابیاں نکل گئے
    چھتّی پتناں دے پانی ترے ہوئے!

  2. جی بلکل درست کہا ہے شاید کچھ بہتری ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *