تاریخ کے دسترخوان پر مردہ خوری

آصف جاوید

کافی دنوں سے دیکھ رہا ہوں کہ سوشل میڈیا پر بیٹھ کر کچھ ڈرائنگ روم دانشور لائیو پروگراموں میں تاریخ کے دسترخوان پر مردار کھا رہے ہوتےہیں۔ مہاجر، سندھی اور غیر سندھی، سارے خود ساختہ دانشور مل کر آج 70 سال گزرنے کے بعد مہاجروں کی سندھ میں حیثیت کو طے کررہے ہوتے ہیں۔ اس بات پر غور کررہے ہوتے ہیں کہ مہاجر پاکستان ہجرت کرتے وقت ننگے بھوکے آئے تھے، یا کچھ مال ساتھ لے کر آئے تھے۔ مہاجر  سندھ میں سندھی بن کر رہیں گے یا نہیں؟ مہاجروں کا سندھ میں کوئی حق ہے کہ نہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔

بھائی آج سے ستّر سال پہلے برٹش انڈیا تقسیم ہوا تھا، تقسیم کے نتیجے میں ہندوستان اور پاکستان بن گیا تھا، دونوں طرف سے آبادی کا تبادلہ ہوا تھا، اُدھر کے لوگ اِدھر گئے تھے اِدھر کے اُدھر گئے تھے، تقسیم سے پہلے تو یہ ایک ہی ملک تھا، کسی دوسرے سیّارے کی مخلوق تو یہاں آکر آباد نہیں ہوئی تھی، پھر آج ستّر سال گزرنے کے بعد یہ گڑے مردے کیوں اکھاڑے جارہے ہیں؟

کیوں اس بات کو تسلیم نہیں کیا جاتا کہ سندھ میں رہنے والا ہر شہری برابر ہے، ہر شہری مساوی حقوق رکھتا ہے، سندھ دیہی اور شہری کی بنیاد پر سندھ میں لسّانی تقسیم ختم کرکے وسائل کی منصفانہ تقسیم اور سندھ کی یکساں ترقّی کی بات کیوں نہیں کی جاتی؟

کیوں سندھ کو ایک ملٹی کلچرل سوسائٹی تسلیم کرکے سندھ میں رہنے والے قدیم سندھیوں، ہجرت کرکے آئے ہوئے مہاجروں،  اور پاکستان کے دوسرے صوبے سے آئے ہوئے پنجابیوں، سرائیکیوں، پختونوں، بلوچوں اور دیگر زبانیں بولنے والوں کو ایک ملٹی کلچرل اکائی تصوّر کرکے سندھ کی یکساں ترقّی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کی بات نہیں کی جاتی؟۔

جس سندھو دریا کی تہذیب کی بات کی جاتی ہے وہ کسی دوسرے سیّارے کی تہذیب نہیں ہے، اس ہی عظیم تر برّصغیر کی تہذیب ہے۔ گنگا ، جمنا، اور دریائے سندھ سب ایک ہی تہذیب کا منبع ہیں، سارے دریا ہمالیہ کے پہاڑوں سے نکل کر بحیرِہ عرب اور بحیرہ ہند میں گرتے ہیں۔ ہر 300 سے 500 کلو میٹر پر زبان اور ثقافت بدل جاتی ہے۔ اور یہ سب تنوّع قدرتی ہے۔

ساری جنگ مفادات کے حصول اور وسائل و اقتدار پر قبضے کی ہے۔ غریب عوام زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم رہِ کر غربت ، جہالت، اور بیماریوں سے لڑ رہے ہیں۔ پینے کے صاف پانی، نکاسی آب، سینی ٹیشن، بجلی، گیس، پبلک ٹرانسپورٹ، تعلیم، صحت کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہوکر وڈیروں ، جاگیر داروں، اور شہروں میں رہنے والی طاقتور مافیا کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں۔

میری ان دانشوروں سے گزارش ہے کہ برائے مہربانی تاریخ میں پھنس کر وقت ضائع کرنے کی بجائے عظیم تر سندھ کے اجتماعی مفاد اور ترقّی کے بارے میں سوچا جائے، لسّانی نفرتوں کا خاتمہ صرف سماجی انصاف، مساوات، برابری اور وسائل کی منصفانہ تقسیم میں ہے۔ وما علینا الالبلاغ


One Comment

  1. Abdul Qayyum Khan says:

    Gentleman
    Population exchange program was limited to Punjab and Bengol only. UP or Bihar was not included.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *