منظور پشتین کا بیانیہ اور ریاستی بدگمانی



محمدحسین ہنرمل

سچی بات یہ ہے کہ ہم پاکستانی ہمیشہ سے شکوک ، اشتباہات اور بدگمانیوں کی ایسی فضامیں سانسیں لے رہے ہیں کہ بعض اوقات بدیہی امور پر بھی اعتماد کھوبیٹھتے ہیں۔ ہماری تاریخ رہی ہے کہ کسی کی دین دوستی اور حُب الوطنی کے معاملے میں تو ہم پرلے درجے کے بدگمان ثابت ہوئے ہیں ۔بدگمانیوں کایہ سلسلہ تقسیم ہند کے وقت کے مسلمان کانگریسی راہنمامولانا ابوالکلام آزاد ، پشتون باچاخان، خان عبدالصمدخان ،سندھی جی ایم سید یاپھر بلوچ رہنماووں کوبیرونی آلہ کار اورغدارقراردینے پر رُک جاتاتوبھی سہی، لیکن حالت یہ ہے کہ ہنوز جاری وساری ہے ۔

اکیسویں صدی کے ماہ وسال نے تو گویا ہمیں اس نوعیت کی بدگمانیوں اور غداریوں کے اسناد کے اجراء کے معاملے میں ماضی سے کہیں زیادہ بہادر بنادیاہے۔شایدہم میں سے کچھ لوگ اس کی وجہ امریکہ یاپھر دنیا کی گلوبل ویلیج میں تبدیلی کو قرار دیں لیکن ہمارے ایسے بھونڈے دلائل سے بھلا کون اتفاق کرے گا؟سوات سے تعلق رکھنے والی لڑکی ملالہ یوسفزئی کی غداری کاتو کیا کہنا، بے چاری کوہمارے کرم فرماووں نے مغربی قوتوں کا ٹریپل ایجنٹ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔اُس پر سات سال پہلے سوات میں ہونے والے حملے کے بارے میں بھی ہم بڑے خوش گمان ثابت ہوئے ہیں۔ 

قارئین پی ٹی آئی کی خاتون رکن اسمبلی محترمہ مسرت عالم زیب کا ’’حُسن ظن‘‘مثال کے طور پر ملاحظہ کرسکتے ہیں ’’ ملالہ یوسفزئی کو سرپر گولی نہیں لگی تھی بلکہ گولی اس کے رخسار کی ہڈی کو چھوکر رفو چکر ہوئی تھی، تاہم ہرجگہ یہ شوشہ چھوڑا گیا کہ ملالہ کوسرپرگولی لگی تھی۔ مجھے علم ہے کہ یہ حملہ پہلے سے طے شدہ اور اسکرپٹڈ حملہ تھا ۔مسرت عالم صاحبہ مزید حسن ظن سے کام لیتے ہوئے فرماتی ہیں کہ حکومت نے اسی وقت ملالہ کی کہانی گھڑنے والے طبی عملے کو انعامات سے بھی نوازا بلکہ اس کا ’’سی ٹی اسکین ‘‘ کرنے والے طبی ماہرین کو تو باقاعدہ پلاٹ بھی ملے تھے ‘‘۔

معلوم نہیں کہ مسرت عالم صاحبہ کے علاوہ ہمارے بیچ اور کتنے فیاض لوگ موجود ہونگے جنہوں نے اس سواتی لڑکی کو قبیح القابات سے نوازنے کا ٹھیکہ لیاہوگا۔اُن کے عقیدے کے بارے میں بھی بے شمار لوگوں نے حسن ظن کے ایسے بے شمار کرتب دکھائے یہاں تک کہ انہیں تسلیمہ نسرین جیسی خواتین کی صف میں بھی کھڑا کردیاہے۔کراچی کے بدنام پولیس آ فیسر(جبکہ صف علی زرداری کا نیک نام بچہ) راو انوار کے جعلی مقابلے میں شہادت پانے والے نوجوان نقیب اللہ محسود سے پھر بھی قسمت نے یاوری کرکے حقیقت عیاں ہوگئی، ورنہ معصوم نقیب اللہ کو ٹی ٹی پی کے کس کس کمانڈر کا گن مین ، رشتے دار اور پرانا ساتھی ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ۔

اور پھراس شہید کی روح کو مقام علین میں بھی معاف نہیں کیاگیابلکہ کبھی مرحوم کاتعلق کسی طاقتور خاندان کی حسیناؤں سے جوڑاجاتا توکبھی اس نوعیت کی دوسری کہانی گھڑی جاتی۔ تب تک نقیب اللہ محسود کی قبر کی مٹی گیلی تھی کہ اہل وطن کومنظور احمد پشتون کی صورت میں بھارتی را اور کابلی این ڈی ایس کاایک اور آلہ کار نظر آنے لگا۔یاد رہے کہ منظور احمد پشتین اُسی نقیب محسودکے پاک لہو سے پیدا ہونے والی وہ چلتا پھرتا قطرہ ہے جو مسلسل یہ سوال کررہاہے ’’مجھے کس جرم کی پاداش میں قتل کیا گیا؟ 

یاد رہے کہ منظور پشتین کے پیچھے رواں دواں قافلے میں شامل پاکستانی پشتون نوجوان اس ریاست سے بغاوت کا سوچ بھی نہیں سکتے ہیں البتہ یہ آواز ضرور بلند کررہے ہیں کہ راو انوار اور اس کے ہم فکروہم خیال لوگوں کو اس ملک کے کس آئین میں موت کے پروانے جاری کرنے کا اختیار حاصل ہے ؟یہ پوچھ رہے ہیں کہ موت کے پروانے جاری کرنے کے بعد انہیں یہ گیدڑ سونگھی کس نے دی ہوئی ہے جس کی برکت سے قانون کی آنکھ انہیں دیکھ نہیں پارہی؟ 

منظور پشتین کے پیچھے اسلام آباد ، لاہور اور ڈی آئی خان کے بعد ژوب کے راستے بلوچستان میں داخل ہونے والے یہ نوجوان ریاست کے خلاف بغاوت کے دعوے محض افواہ سمجھیے،ہاں یہ لوگ یہ مطالبہ ضرور کررہے ہیں جو ابھی پانچ دن پہلے بزرگ سیاستدان فرحت اللہ بابرایوان بالا میں کرکے لوٹے ہیں۔مولانا شیرانی ،مولانا فضل الرحمن،محمودخان اچکزئی اور کئی دوسرے پاکستانی کرتے رہے ہیں۔ پچیس سالہ منظوراحمد پشتون کا تعلق اُس شورش زدہ وزیرستان سے ہے جس کی قابلِ رحم حالت پر ساری دنیااس وقت اجماع کرچکی ہے۔

منظور پشتین کا تعلق پاکستان کے اس عظیم لیبارٹری (فاٹا)سے ہے جہاں نائن الیون ڈرامے کے بعد سترہ سال سے انسانی کھوپڑیوں ، ناسور زخموں اور مختلف انواع واقسام کے کیمیکلز اور بارود کے تجربات اور مشاہدات ہورہے ہیں ۔ منظور پشتون کا تعلق پاکستان کے اس خطے سے ہے جودنیا کے دہشتگرد وں اورمریکی ڈرون حملوں کا ایپی سنٹر سمجھا جاتاہے اورجہاں پر امریکہ کی مفادات کی جنگ تاحال لڑی جارہی ہے۔

منظور پشتین اس دوزخ نما وزیرستان کا ایک پاکستانی پشتون باشندہ ہے جن کی رُوداد نے ملک کے وزیراعظم کو بھی رُلادیاتھا، لیکن انہوں نے پھربھی ڈاکٹر اللہ نذر اور براہمداغ بگٹی بننا گوارا نہیں کیاہے ۔منظور اور ان کے کارواں کے شرکاء پرامن طریقے سے ایک ایسے نظام کی مانگ کیلئے اٹھے ہیں جہاں نقیب محسودوں کی زندگیوں کے فیصلے تاریک سرنگوں میں ہونے کی بجائے ملک کے معزز عدالتوں میں ہوتے ہوں۔منظور پشتون کو غیر ملکی ادارواں کا ایجنٹ قرار دینا بہت آسان ہے لیکن مشکل ہے تو اُن مہ وسال کا ادراک مشکل ہے جوشمالی وزیرستان کے میران شاہ ، جنوبی وزیرستان کے وانا اور اس خطے کے دوسری ایجنسیوں کے باشندوں پر بیتے ہیں،

مزکہ ھغہ سوزی چی اور ورباندے ولگیژی،
’’
جلنے کے عذاب سے وہ زمیں گزرتی ہے جس کے سینے پر آگ کے شعلے بھڑک رہے ہو‘‘۔

اسلام آباد ، لاہور ، ڈی آئی خان اور اب بلوچستان کے شہروں میں منظور احمد پشتین کی قیادت میں ہونے والے ان پرامن جلسوں اورانسانی جم غفیر کے ان آئینی مطالبات کوتسلیم کرنے میں کیا حرج ہے، جسے اس ملک کے قانون اور آئین کوبھی انکارنہیں ۔ نقیب اللہ محسود کے قاتل اور ان کے سہولت کاروں کو قصاص کو انصاف کے کٹہرے میں لانا، لاپتہ پاکستانیوں کو عدالتوں کے حوالے کرنااورناخوشگوار واقعات سے نمٹنے کی آڑ میں فاٹا کے عوام پر کرفیو نافذ نہ کرناکونسا غیر آئینی مطالبہ ہے ؟

کیا قباحت ہے اس مطالبے میں کہ ستم رسیدہ وزیرستان میں بچھائے گئے اُن زمینی ماینز کا صفایا کردیا جائے تاکہ اس سرزمین کے باسی مزید اپاہج نہ ہوں۔پشتون علاقوں میں ہر کلومیٹر کی مسافت پر ایف سی کی چھاونیوں کو لیویز فورس کے حوالے کرنے سے کونسی قیامت بپا ہوتی ہے ؟ پاکستانی قانون کے تحت لاپتہ افراد کا ملک کے عدالتوں میں مقدمات چلانے کا حق مانگنا کونسی بغاوت ہے ؟ منظور پشتین کو اگر ریاست کاتیسرے درجے کے شہریوں کا سا سلوک نامنظور ہے تو ان کے اس حق سے انکار کس مذہب اور قانون کی رو سے کیاجارہاہے ؟

میں نہیں سمجھتا کہ اسلام کے نام پر بننے والی اس ریاست میں ان جائز مطالبات کوتسلیم کرناکیوں حرام سمجھا جاتاہے؟ 

One Comment

  1. ایک جامع اور پر مقصد تحریر ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *