بھارت:تری پورہ میں لینن کا مجسمہ بلڈوز کر دیا گیا

بھارت کے شمال مشرق میں بائیں بازو کا گڑھ سمجھے جانے والے صوبے تریپورا کے حالیہ اسمبلی انتخابات میں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی کے بعد تشدد پھوٹ پڑے ہیں۔ بی جے پی کی جیت کے بعد انقلاب روس کے ہیرو ولادیمیر لینن کے مجسمہ پر بلڈوزر چلا کر منہدم کردیا گیا ہے۔

تریپورا میں تین دن پہلے ہی اسمبلی انتخابات کے نتائج آئے ہیں۔ جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے پچھلے پچیس سال سے حکومت کرنے والی بائیں بازو کی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسی (سی پی ایم) کوبری طرح شکست دی ہے۔

انتخابی نتائج آنے کے بعد سے ہی صوبے کے تقریباً تیرہ اضلاع میں تشدد، لوٹ مار اور آتش زنی کے واقعات جاری ہیں۔سی پی ایم کے دفاتر اور کارکنوں کے گھروں کو بھی نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ جب کہ جنوبی تریپورا کے بیلونیا نامی قصبے میں ایک چوراہے پر نصب انقلاب روس کے ہیرو ولادیمیر لینن کے مجسمے کو بھی منہدم کردیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں لینن کے مجسمہ کو منہدم کرتے وقت لوگوں کو ’بھارت ماتا کی جے‘ کے نعرے لگاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ صورت حال کی سنگینی کے پیش نظر تمام متاثرہ علاقوں میں حکم امتناعی نافذ کردیا گیا ہے، جس کے تحت کسی مقام پر پانچ سے زیادہ افراد کے جمع ہونے پر پابندی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے صوبے کے گورنر تتھاگت رائے اور ڈائریکٹر جنرل پولیس کو صورت حال قابو میں لانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ادھر سی پی ایم کی قیادت میں بائیں بازو کے ایک وفد نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک میمورنڈم دیا جس میں صوبے میں امن بحال کرنے اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پارلیمان کے ایوان زیریں لوک سبھا میں سی پی ایم کے ڈپٹی لیڈر ڈاکٹر سلیم نے اس میمورنڈم کی نقول صحافیوں کو تقسیم کرتے ہوئے کہا، ’’تریپورا میں الیکشن کے نتائج آنے کے بعد بی جے پی اور اس کی مربی تنظیم آر ایس ایس کے لوگوں نے دہشت کا ماحول بنادیا ہے اور ترقی کے نام پر ابھی سے تباہی شروع کردی ہے۔ پارٹی کے کارکنوں، پارٹی دفاتر اور عوامی تنظیموں کے دفاتر پر حملے شرو ع کر دیے ہیں، جس سے صوبہ بدامنی کا شکارہوگیا ہے، حالانکہ تریپورا ہمیشہ سے پرامن صوبہ رہا ہے‘‘۔

سی پی ایم کے رہنما کا مزید کہنا تھا، ’’کل پانچ مارچ کی شام چار بجے تک ڈیڑھ ہزار سے زائد مکانات پر حملے ہوئے، 514 افراد کو نشانہ بنایا گیا، قریب دو سو مکانات اور پارٹی کے 134دفاتر کوآگ لگا دی گئی جب کہ بی جے پی کے کارکنوں نے سی پی ایم کے 208 دفاترپر قبضہ کرلیا ہے۔‘‘ ڈاکٹر سلیم کا یہ بھی کہنا تھا کہ تریپورا میں لینن کے مجسمے کومنہدم کرنے کا واقعہ انہیں افغانستان کے بامیان واقعہ کی یاد دلاتا ہے جہاں گوتم بدھ کے مجسمے کو منہدم کردیا گیا ۔

دوسری طرف بی جے پی نے ان پر تشدد واقعات کو کمیونسٹوں کے خلا ف عوام کی ناراضگی اور غصے کا اظہار قرار دیا۔ بی جے پی رہنما اور رکن پارلیمان سبرامنیم سوامی نے ٹوئیٹ کرکے کہا، ’’لینن تو ایک غیر ملکی ہے، ایک طرح سے دہشت گردہے، ایسے شخص کا مجسمہ ہمارے ملک میں کیوں؟ وہ مجسمہ اپنی پارٹی کے ہیڈکوارٹر کے اندر رکھیں اور اس کی پوجا کریں۔‘‘ بی جے پی کے ایک دیگر سینئر رہنما نلن کوہلی کا کہنا تھا، ’’ہم تشدد کی کبھی حمایت نہیں کرتے لیکن تریپورا میں بائیں بازو کی جماعتیں اس وقت کیوں خاموش تھیں جب بی جے پی کے گیارہ کارکنوں کو قتل کر دیا گیا تھا‘‘۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی شمال مشرق میں ایک بڑی طاقت بن کر ابھری ہے، اس سے نہ صرف شمال مشرق بلکہ قومی سیاست پر بھی گہرا اثر پڑے گا۔ بی جے پی نے نہ صرف تریپورا میں کمیونسٹ جماعت کا پچیس سالہ اقتدار ختم کردیا ہے بلکہ ناگالینڈ میں بھی زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ریاست میگھالیہ میں بھی کانگریس سب سے بڑی پارٹی کے طورپر ابھرنے کے باوجود اقتدار سے دور ہوگئی ہے اور صرف دو ارکان والی بی جے پی نے اکیس سیٹوں والی کانگریس کو اقتدار سے باہر کردیا ہے۔

تجزیہ کار سب سے زیادہ اس بات سے حیران ہیں کہ پچھلی مرتبہ تریپورا میں صرف ڈیڑھ فیصد ووٹ حاصل کرنے والی بی جے پی کو تینتالیس فیصد ووٹ کیسے مل گئے اور ایک غریب اور ایماندار وزیر اعلٰی کے امیج والے مانک سرکار کو شکست سے کیوں کر دوچار ہونا پڑا؟

سیاسی تجزیہ نگار بھوپندر سنگھ کا ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا ’’دراصل تریپورا کے عوام متبادل کی تلاش میں تھے لیکن انہیں متبادل کی تلاش کیوں تھی اور انہوں نے متبادل کے طورپر بی جے پی کو ہی کیوں منتخب کیا، اس پردیگر جماعتوں کو غور کرنا چاہیے۔ تریپورا میں بی جے پی کی فتح اور بائیں بازو کی پارٹیوں کی شکست ایک بڑا سیاسی واقعہ ہے اور اس کا اثر قومی سیاست پر پڑنا یقینی ہے‘‘۔

شمال مشرق صوبوں میں بی جے پی کے عروج کے حوالے سے سینئر صحافی اور اردو اخبار روزنامہ مشرق کے ایڈیٹر محمد وسیم الحق کا کہنا تھا، ’’شمال مشرق کی ریاستوں کی غالب آبادی مسیحی ہے، اس لیے اسمبلی انتخابات سے پہلے ہی بی جے پی نے اپنا قبلہ درست کرلیا تھا ۔ اپنی پوری انتخابی مہم میں بی جے پی نے بھولے سے بھی ہندوتوا، گاؤ رکشا، یا بیف کا نام نہیں لیا اور بیف خوری کو مقامی کلچر کہہ کر اس سے صرف نظر کیا۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’شمال اور شمال مشرق پر قبضے کے بعد اب بی جے پی کا ہدف جنوبی بھارت ہوگااور اسی لیے کرناٹک میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں اس نے اپنا پورا زور لگادیا ہے‘‘۔

DW

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *