حقیقتاً ’’مذہب سے آزادی‘‘ انسانی حق ہے۔

ایلزابتھ او کیسی

نویں بین الاقوامی اتحاد برائے انسان دوستی اور اخلاقیات نے اقوام متحدہ میں ویٹے کن کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ ’’مذہب سے آزادی(نجات) انسانی حق نہیں ہے۔اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کے سینتیسویں اجلاس کے پہلے بیان میں اس اتحاد نے پچھلے جمعہ کے روز ویٹے کن کے وفد کے ریمارکس کا جواب دے رہی تھی۔

اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب برائے آزادی مذہب اور عقیدہ (ٓئی ایچ ای یو یعنی انٹرنیشنل ہیومنسٹ اینڈ ایتھیکل ایسوسی ایشن ) کی تازہ ترین رپورٹ پر بحث کے دوران ویٹے کن کے نمائندے آئیوان جرکووچ نے مذہب سے آزادی کو بین الاقوامی قانون کے تحت حاصل تحفظ کو یہ کہتے ہوئے متنازعہ بنایا کہ انہیں ’’مذہب سے آزادی‘‘ کی اصطلاح پر شدید تشویش ہے جس پر بین الاقوامی ذرائع سے غور و خوض نہیں ہوا۔مذہب کی آزادانہ سرپرستی کا خیال ،خصوصی مندوب کے مینڈیٹ سے تجاوز ہے۔

آئی ایچ ای ےُو کی ڈائریکٹر برائے وکالت، ایلزابتھ او کیسی نے ویٹے کن کے نمائندے جنہیں بین الاقوامی اجتماعات میں ’’مقدس نظارت یا ہولی سی ‘‘ کہا جاتا ہے ان کو مستند انسانی حقوق کی فہرست کا حوالہ دے کر تصحیح کی جو مذہب سے آزادی کے حق کو قائم کرتے ہیں۔ایلزابتھ او کیسی نے اس ضرورت کو اجاگر کیا کہ مذہب سے آزادی پوری دنیا میں ان لوگوں کے تحفظ کے لئے انتہائی ضروری ہے جو کسی مروجہ مذہب کا اقرار نہیں کرتے ہیں۔

محترمہ او کیسی نے کونسل کو یا د دلایا کہ:۔
جبراً مذہب اختیار کروانے سے آزادی کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔کسی بھی مذہب کو نہ اپنانے کی آزادی کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔مذہب چھوڑنے کی آزادی کو بھی قانونی تحفظ حاصل ہے۔اور مذہب پر تنقید کی آزادی کو بھی قانونی تحفظ حاصل ہے۔

مزید برآں انہوں نے اشارہ دیا کہ اقوام متحدہ کے مذہب اور عقائد سے آزادی کے خصوصی مندوب ڈاکٹر احمد شہید بھی اپنے بیان میں مقدس نظارت کی تصحیح کر چکے ہیں۔او کیسی نے توجہ دلائی کہ مقدس نظارت کا بیان اور مشاہدات انتہائی خطرناک ہیں بالخصوص ایسے ممالک میں جہاں لا مذہب اور اقلیتی فرقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے خلاف تشدد اور حملوں کو ریاستی نفرت اور رائے عامہ کی پشت پناہی کی جاتی ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ اس وقت دنیا میں 85 ایسے ممالک ہیں جہاں لامذہب اور سیکولر افراد کے لئے انتہائی سخت امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ان میں سات ممالک ایسے ہیں جہاں مذہب کے نقادلامذہب افراد کو پچھلے سال سزائے موت دے دی گئی۔

انہوں نے کونسل کی توجہ ان لامذہب،سیکولر اور اقلیتی فرقوں پر مشتمل قیدیوں کی حالت زار کی طرف دلائی جو پاکستان،سعودی عرب اور ایران کی جیلوں میں گل سڑ رہے ہیں۔بھارت ،ملائشیا اور مالدیپ میں خرد پرستوں اور سیکولر لوگوں کے بہیمانہ قتال کا بھی ذکر کیا گیا۔او کیسی نےؤ سعودی عرب،مصر،ملائشیا اور قبرص کا بھی حوالہ دیا جہاں لامذہب اور انسان دوستی کے خلاف ریاستی سطح پرنفرت پھیلائی جا رہی ہے۔

انگریزی سے ترجمہ: خالد محمود

One Comment

  1. وقت کی ضرورت

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *