مولویوں اور ملانیوں کے کرنے کے101 کام

آمنہ اختر

پاکستان یعنی اسلام جمہوریہ پاکستان کی آبادی تقریباً بیس کروڑ ہے اور تقریبا پچانوے فیصد مسلمان ہیں جو مختلف فرقوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔مگر ان میں سے جو فقہ حدیث ،تفسیر، منظق ،ریاضی ،فلسفہ غیر اسلامی مضامین وغیرہ کی تعلیم لیتے ہیں ان کو مولوی اور مخالف جنس کو مولوانی کہتے ہیں ۔

پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق ضیاہ الحق کے دور سے لیکر اب تک رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ مدرسوں کی تعداد بڑھی ہے 12000سے 40،000 مدرسوں کی تعداد بتائی جاتی ہے ۔ان میں سے بڑی تعداد مدرسوں کی پاکستان کے دور دراز علاقوں میں پبلک سکولز کے ساتھ بھی منسلک ہے۔ مذہبی مدرسوں کی تعلیم مولوی اور ملانیوں کو ا خلاقیات کے وہ ہنر سکھا کر تیار کرتی ہے جو ان کے مطابق جدید تعلیم کی سائنس پورا نہیں کر سکتی ۔

مولوی ازم کے مطابق اسلام ایک عملی مذ ہب ہے اس سے دنیا کے ہر مسئلے کا حل ملتا ہے ۔ مگر یہ یاد رہے کہ پاکستان بننے سے لیکر اب تک انہوں نے کوئی عملی کام نہیں کیا ۔اور ناں ہی کبھی اسلامی جمہوریہ حکومت نے ان کی بڑی تعداد یا افرادی قوت سے فائدہ اٹھایا ہےاس کا جائزہ اپ خود بھی لے سکتے ہیں ۔

مولوی اور ملانیوں کے اپنے غیر ذمے دار رویے کی وجہ سےپاکستانی مسلم معاشرہ بہت کمزور پڑ رہا ہے۔ اسلامی مذہبی کتاب کے مطابق جب تک ایک امت کے پیشوا خود نہیں کریں گے دوسرے اس تربیت کو سیکھ بھی نہیں پائیں گے ۔ ان مولویوں اور ملانیوں کی اخلاقی تعلیم کے اعتبار سے کرنے کے 101 کام ان سے کروانا حکومت کا فرض بنتا ہے ۔ تاکہ یہ بھی ہر شہری کی طرح ملک کی ترقی میں حصہ ڈال سکیں ۔

جن مضامین میں ان کی مدرسوں میں تعلیم و تربیت کی جاتی ہے وہ پاکستانی معاشرے کی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی ۔وہ جدید زبانوں ،جدید علوم جیسے سائنس ٹیکنالوجی اور ریاضی وغیرہ کو غیر اسلامی قرار دیتے ہیں۔ لہذا ان کے لئے معاشرے کے ان بزرگوں بوڑھوں کی نگہداشت کرنا فرض اوران کے کام کے اوقات کار میں آتا ہے جن کی کوئی اولاد نہیں اور غربت کے باعث مناسب کھانا ،اور طبی سہولتیں میسر نہیں ہیں ۔یتیم اور مسکین بچوں کی مالی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔تاکہ وہ بھی عام بچوں کی طرح زندگی کی خوشی پا سکیں۔

پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق 60ملین افراد غربت کی معیاری تعریف کی لائن سے بھی نیچے رہ رہے ہیں ۔اس کا مطلب ان کے پاس ایک وقت کا کھانا بھی نصیب نہیں ان لوگوں کو کھانا پہنچانا ،چھت مہیا کرنا ان کے اوقات کار کی ذمے میں آتا ہے ۔اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اسلامی بہن اور بھائیوں کو آٹھ گھنٹے کی نوکری کے کنٹریکٹ پر دستخط کے ذریعے مسجدوں میں بھرتی کیا جائیے۔

صفائی نصف ایمان ہے مگر مسجد اور مدرسے اپنے اردگرد کے تعفن زدہ ماحول کو صاف کرنے کی بجائے سوائے وضو یا غسل کے کوئی واضح لائحہ عمل ابھی تک سامنے نہیں لا سکے جس سے یہ غلاظت پاک ہو ۔ مسئلہ یہاں ختم نہیں ہو جاتا بلکہ جس مرنے کے بعد کے عذاب کو یہ مولوی اور مولانیاں بہت لمبا اور تکلیف زدہ بتاتے ہیں اس کو آ سان کرنے کے لیےدنیا میں کوئی سہولت بھی فراہم نہیں کرتے ۔ جس سے ایک مسلمان وہ کام کر سکے جس سے اس کو جنت بھی نصیب ہو سکے۔

لہذا پاکستان کے گلی محلے گندے پانی کی ناقص منصوبہ بندی کا شکار ہیں اور جگہ جگہ گندے فضلے سے بھرا پانی میتوں کو قبرستان تک پاک حالت میں پہنچانے کے آگے بہت بڑی رکاوٹ ہے۔جو آپ اوپر والی تصویر میں دیکھ سکتے ہیں ۔لہذا ہر مسجد کے اردگرد کے ماحول کو صاف رکھنا ،درخت لگانا اور ان کی دیکھ بھال کرنا اس کے مولوی ڈیوٹی کے اوقات میں شامل ہونا چاہئے ۔

چونکہ ان کے پاس طبی تعلیم نہیں ہ ڈاکٹر کا کام تو کرنے سے رہے ۔ اس لئے ہسپتالوں میں مریضوں کی نگہداشت اور ان کے لواحقین کی مشکلات کو سننا اور مناسب حل ڈھونڈنا ان کے ڈیوٹی کے اوقات میں شامل ہونا چاہئے ۔یہ بدلتے وقت کے تقاضوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔

ا نسانی معاشرے کو بہتر بنانے اور چلانے کے لیے ان کی تعلیم نہ اس قابل اور مناسب ہے ۔جس سے استفادہ کیا جا سکے ۔ ا ن کی تعلیمی قابلیت کے مطابق ان کا سیاست میں شامل ہونا بھی پاکستانیوں کے نوجوانوں اور سب شہریوں کے مستقبل کے ساتھ کھیلنا ہے ۔فیصلہ اب آپ کے ہاتھ میں ہے ان کو بھی جدید تعلیم دینی ہے یا آج پھر آپ میں سے کسی نے اپنے بچے کو مدرسے ڈالنے کا عہد کیا ہے۔

4 Comments

  1. خدا کے وکیلوں کو مفاد عامہ کے کام میں لگانا نہایت عمدہ خیال ہے۔مگر یہ ان کے نصاب میں نہیں۔وہ تو بس لوگوں کے ایمان کی مرمت کا کام کرتے ہیں۔

    • ان کا کام اب ختم ہو جانا چاہیے کیونکہ اب لوگ قرآن کو خود پڑھنا جانتے ہیں

  2. to keep the society backward is a part of their philosophy. they will never ever raise the standard of poor folk.

    • UNDERSTAND BUT THEY ARE ALSO FROM POOR FAMILIES BOYS AND GIRLS THATS WHY ITS NEED TO CHANGE THEIR ISLAMIC CURRICULUM ACCORDING TO MODERN TIME AND NEEDS .

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *