نئے نظام کا نقشہ کہاں ہے

بیرسٹر حمید باشانی

پاکستان میں ہر کوئی تبدیلی کی بات کرتا ہے۔ شاعر، ادیب اور دانشور سب نئے پاکستان کی بات کرتے ہیں۔ نظام بدلنے کی بات کرتے ہیں۔ تبدیلی کی بات کرنے کی دوڑ میں سب سے آگے سیاست دان ہیں۔ یہ ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی فکر میں ہیں۔ مگر اگر ان سے کسی تفصیلی نشست میں یہ پوچھا جائے کے نظام بدلنے سے ان کی کیا مراد ہے؟ یا نظام آخر کیسے بدلے گا۔ جو نیا نظام اس موجودہ نظام کی جگہ لے گا ، وہ کیسا ہو گا؟ نئے نظام کا خاکہ کیا ہے ؟ نقشہ کیا ہے، نظریہ کیاہے اورسمت کیا ہے۔ جواب میں وہ کوئی نقشہ نہیں دیتے۔ مگر یہ یقین دلاتے ہیں کہ نظام بدلے گا، اور ضرور بدلے گا۔ اور اگر اس نظام کے بدلنے میں میں کوئی دیر ہے، تو وہ ان کے اقتدار میں آنے کی دیر ہے۔

بسا اوقات وہ اس سے بھی ایک قدم آگے جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس نظام کا بدلنا ناگزیر ہے۔ یہ نظام بوسیدہ ہے۔ فرسودہ ہے۔ ناکام ہے۔ اگر یہ نظام نہ بدلا گیا تو اس ملک میں انقلاب آ سکتا ہے۔ گویا ہمارے سیاست کارانقلاب اور تبدیلی کو ایک چیز نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک یہ دو متضاد یا متبادل چیزیں ہیں۔ گویا ان کے نزدیک تبدیلی ایک اچھا اور خوشگوار تصور ہے۔ اور انقلاب ایک ڈروانا اور خوفناک عمل ہے۔ کبھی کبھی اس میں شدت پیدا کرنے کے لیے وہ انقلاب کے ساتھ خونی کا لفظ جوڑ دیتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ اگر اس ملک میں تبدیلی نہ آئی تو خونی انقلاب آ سکتا ہے۔

نظام بدلنے کے لیے دو باتیں جاننا ضروری ہیں۔ پہلی بات یہ کہ اس نظام میں کیا خرابی ہے۔ اور دوسری بات یہ کہ نیا نظام کس طرح اس خرابی سے پاک ہو گا۔ جس نظام میں ہم رہتے ہیں اس کی سب سے بڑی خرابی معاشی اور سماجی نا ہمواری ہے۔ عدم مساوات ہے۔ غربت اور امارت کے درمیان ایک عظیم فرق ہے۔ عدم مساوات اور امیر و غریب کے درمیان بڑھتا ہوا فرق صرف پاکستان کا ہی مسئلہ نہیں۔ اس وقت یہ مسئلہ تقریبا دنیا کے ہر ملک کو درپیش ہے۔

اس میں ترقی یافتہ ملک بھی ہیں اور تیسری دنیا کے ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک بھی ہیں۔ ترقی یافتہ دنیا میں یہ مسئلہ ہر جگہ زیر بحث ہے۔ اس پر ہر جگہ گفتگو ہو رہی ہے۔ ترقی یافتہ دنیا کی سیاسی جماعتوں کے انتخابی مہم سے لیکر پارلیمنٹ تک اور ورلڈ اکنامک فورم تک یہ مسئلہ اٹھتا ہے، اس پر گفتگو ہوتی ہے، اس کی وجوہات پر غور کیا جاتا ہے۔ حل پر بحث و مباحثہ ہوتا ہے۔

ہمارے ہاں مگر اس مسئلے پر اس سنجیدگی سے گفتگو نہیں ہوتی جس کا یہ متقاضی ہے۔ مرکزی دھارے کی کسی سیاسی پارٹی نے کبھی اس مسئلے پر کوئی باقاعدہ دستاویز سامنے نہیں لائی۔ اور نہ ہی ان کے منشور میں اس مسئلے کی اتنی شدت سے موجودگی اور اس کے حل کے لیے کوئی رہنما اصول وضع کیے گئے ہیں۔ مرکزی دھارے کے مقبول لیڈر اگر کبھی اس مسئلے پر بات کرتے بھی ہیں تو عوامی جلسوں میں کرتے ہیں۔ جہاں ان کا انداز واعظ اور ناصح کا ہوتا ہے۔ ان کا مقصد اس پر سنجیدہ بات کے بجائے جذبات کا اظہار اور اپنی جماعت کے لیے غریب اور کم خوش نصیب طبقے کی ہمدردیاں لینا ہو تا ہے۔

یہاں انقلابی شعرا کا کلام پیش کیا جاتا ہے۔ خونی انقلاب سے ڈرایا جاتا ہے، مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ اس ملک میں عدم مساوات کے اسباب کیا ہیں ؟ حل کیا ہے ؟ بائیں بازو کی کچھ چھوٹی سیاسی جماعتوں اور گروہوں میں ان پر بحث ہوتی ہے، اور بڑی تفصیل سے ہوتی ہے، مگر یہ ایک عالمانہ یا تعلیمی بحث ہی رہ جاتی ہے، اور مرکزی دھارے تک نہیں پہنچ پاتی۔ کچھ مذہبی گروہ بھی اس پر بات کرتے ہیں ، مگر یہ اپنے جوہر میں واعظ ونصیحت ہی ہوتی ہے۔ ظاہر ہے صرف عذاب قبر کا خوف مراعات یافتہ طبقات کو اپنی مراعات کم کرنے پر نہیں آمادہ کر سکتا، اور نہ ہی صرف کچھ لوگوں کی خیرات اور سخاوت سے غریب کے دن بدلے جا سکتے ہیں۔ 

سماجی اور معاشی ناہمواریوں پر مغرب میں اکیڈیمیا میں بہت مباحث ہوتے ہیں۔ یونیورسٹیوں میں اس پر بات ہوتی ہے۔ مقالے لکھے جاتے ہیں۔ تحقیقاتی روپوٹس تیار کی جاتی ہیں۔ تحقیقاتی ادارے اور تھنک ٹینک اس پر کام کرتے ہیں۔ اس موضوع پر کوئی قابل ذکر کام سامنے آتا ہے تو مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ اس کو اہمیت دیتے ہیں۔اسے نمایاں جگہ پر چھاپتے ہیں اور اس پرر تبصرے کرتے ہیں۔ 

معاشی وسماجی پسماندگی یا نا ہمواری ہمارے ہاں ایک ممنوع موضوع سمجھا جاتا ہے۔ جیسے اس پر کھل کر بات کرنا حرام ہو۔ یا اسکی ممانعت ہو۔ مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ اس پر بات کرنے سے گھبراتے ہیں۔ بات کی بھی جاتی ہے تو بہت زیادہ انسانی ہمدردی کے جذبات میں ڈھوبی ہوئی۔ یا پھر مذہبی اور خیراتی نقطہ نظرسے۔ اس طرح معاشی اور سماجی نا ہمواریوں کے اسباب پر سائنس اور فلسفے کی روشنی میں گفتگو نہیں ہوتی۔

اس معاملے میں ہمارے روئیے ایسے ہیں جیسے ہم کوئی راز چھپا رہے ہوں۔ کسی بہت بڑے جرم کی پردہ پوشی کر رہے ہوں۔ حالانکہ دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی سائنس اور فلسفے کی روشنی میں اس پر سب سے زیادہ گفتگوہوتی ہے۔ جان جیک روسو نے کوئی دو صدیاں پہلے اس پر تفصیلی تھیسیس لکھ دیا تھا۔ اس مقالے کے تعارف میں ہی روسو لکھتا ہے کہ انسانی نسل میں دو قسم کی عدم مساوات ہے۔ ایک جسے میں فطری کہتا ہوں، کیو نکہ یہ فطرت کی طرف سے ہوتی ہے۔ جیسے صحت، جسمانی طاقت، دماغی اور روحانی خصوصیات وغیرہ۔

دوسری وہ ہے جسے اخلاقی یا سیاسی عدم مساوات کہا جاتا ہے۔ یہ ناہمواری انسان کی بنائی ہوئی ہے یا اس کی مرضی سے ہے۔ اس نا ہمواری میں کچھ مراعات ہوتی ہیں جو کچھ لوگ دوسروں کی قیمت پر حاصل کرتے ہیں۔ ان مراعات میں دوسروں سے زیادہ امیر ہونا، زیادہ عزت دار ہونا اور زیادہ طاقت ور ہونا وغیرہ ۔ یعنی آج کی زبان میں روسو کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ ایک عدم مساوات فطری ہے جو خدا نے بنائی ہے، اور ایک غیر فطری ہے جو انسان نے بنائی ہے۔

روسو نے تو اپنی طرف سے یہ مقالہ مضمون نویسی کے مقابلے میں شرکت کے لیے لکھا تھا، لیکن انسانی نشونما اور عدم مساوات کے بڑھوتی پر یہ ایک تاریخی دستاویز بن گئی ۔ اس مقالے سے کروڑوں لوگوں نے استفادہ کیا۔ روسو نے یہ سب اتنی وضاحت سے 1754 کے لگ بھگ لکھ دیا تھا۔ہم لوگ آج بھی اس پر یا تو بحث کرنے سے گھبراتے ہیں، یا پھر اس کی دو ہوم میڈ یعنی خانہ ساز قسم کی تھیوریاں پیش کرتے ہیں۔

ایک یہ کہ سماج میں عدم مساوات یا ناہمواری فطری ہے۔ خدا کی مرضی ہے۔ یعنی غربت غریب کا مقدر ہے۔ دوسری یہ کہ اس عدم مساوات، نا ہمواری یا غربت کا زمہ دار خود غریب ہے۔ غریب کا یہ اپنا قصور ہے۔ اس لیے کہ غریب سست ہے، کام چور ہے، بے وقوف ہے، سمارٹ نہیں ہے، محنت سے جی چراتا ہے۔ چنانچہ ہم یہ کہنے اور ماننے سے ڈرتے ہیں کہ غریب کی غربت، معاشرے کی نا ہمواری اور عدم مساوات کی زمہ دار ریاستیں ہیں، حکومتیں ہیں ۔

عدم مساوات اور نا ہمواری کی وجہ کسی بھی معاشرے میں وسائل اور مواقع کی غیر مساوی تقسیم ہوتی ہے۔ اس غیر مساوی تقسیم سے کچھ لوگ ضرورت سے زیادہ وسائل کے مالک بن جاتے ہیں، اور کچھ لوگ بنیادی ضروریات سے محروم رہ جاتے ہیں۔ مساوی مواقعوں کی عدم موجودگی عدم مساوات کے تسلسل کو برقرار رکھتی ہے اور اس کو بڑھاوا دیتی رہتی ہے۔ تعلیم، روزگار، کاروبار سمیت زندگی کے ہر شعبے میں مساوی مواقع کی عدم موجودگی معاشرے میں عدم مساوات کا باعث بنتی ہے۔

جان جیک روسو نے اپنے معرکہ آرا سوشل کنٹریٹ میں لکھا تھا کہ جس وقت پہلے آدمی نے زمین کا ایک ٹکڑا لیا اور سادہ لوگوں کو باور کروایا کہ وہ سول سوسائٹی کا بانی ہے ، اس وقت اگرکوئی لوگوں کو بتا دیتا کہ اس مکارپرمت یقین کرو تودنیا کو کتنے جرائم، جنگوں، قتل غارت، مصاہب اور ہولناکیوں سے بچایا جا سکتا تھا ۔ زمین کے وسائل سب کی ملکیت ہیں ، زمین کسی کی ملکیت نہیں۔

یہ بات شائد روسو کے دور تک درست تھی۔ مگر اب ہماری یہ زمین کسی نہ کسی کی ملکیت ہے، اس اس کے وسائل پر بھی کوئی نہ کوئی قابض ہے۔ عدم مساوات میں کمی کے لیے اس زمین پر موجود وسائل کی منصفانہ تقسیم کی کوئی راہ نکالنی ہو گی۔ اس کے بغیر تبدیلی کی بات محض نعرہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *