پشتون دھرنا اور میڈیا بلیک آؤٹ

ولی محمد علیزئی

دھرنے کا نام سنتے ہی ذہین میں عجیب سی شبیہیں بننے لگتی ہیں۔لوگ اکھٹے ہوئے ہیں اور قومی شاہراہوں کو بند کر رکھا ہے۔کنٹینر پر لیڈر اچھل کود کر رہا ہے،کنٹینر سے با آوازبلند مختلف گانے اور دھنیں بجائی جارہی ہیں اور پنڈال میں مردوزن ناچ رہے ہیں۔

کنٹینر سے پارلیمنٹ جیسے مقدس ادارے پر لعنتیں بھیجی جارہی ہیں جو دراصل پار لیمنٹ پر نہیں اکیس کروڑ عوام پر لعنتیں بھیجنے کے مترادف ہے۔قابل احترام راہنماؤں کی کردارکشی کی جارہی ہے اور ان کے بارے میں مغلظات بکی جارہی ہیں۔پشتون قوم کی چادر کا مذاق اڑایا جارہا ہے جس کی تاریخ دنیا کے اکثر ممالک سے زیادہ پرانی ہے۔ایک پشتون کیلئے یہ چادر پوری دنیا کی بادشاہت سے زیادہ حیثیت رکھتی ہے۔

دھرنے کے سٹیج پر بے صبری سے تھرڈ ایمپائر کی انگلی کا انتظار کیا جارہا ہے۔سپریم کورٹ کی عمارت کے جنگلوں پر دھوتیاں سکھائی جارہی ہیں۔دھرنے کے شرکاء سرکاری ٹی وی سینٹر پر حملہ اور ہورہے ہیں اور توڑپھوڑ کررہے ہیں۔

یا پھر کچھ مذہبی جنونی فیض آباد میں دھرنا دیے ہوئے ہیں۔سٹیج سے گالیاں بکی جارہی ہیں۔کفر کے فتوے لگائے جارہے ہیں۔پولیس والوں پر آنسو گیس کے شیل فائر کیے جارہے ہیں اور ان کو بری طرح پیٹا جارہا ہے لیکن پھر بھی ریاست ان کے آگے گھٹنے ٹیکے ہوئی ہے۔

یہ وہ خیالات ہیں جو دھرنے کا نام سنتے ہی ذہین میں گردش کرنے لگتے ہیں۔ہمارے مین سٹریم الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا بھی ان دھرنوں کو دس دس گھنٹے کوریج دیتا رہا اور ہر چینل پر ہر اینکر ان دھرنوں پر ٹاک شو کرتا رہا۔اخبارات انہیں دھرنوں کے خبروں اور ان پر تبصروں سے بھرا ہوتا تھا۔

لیکن دوسری طرف پشتون قومی جرگہ کا دھرنا تھا جس کے مطالبات جینوئن تھے۔نہ وہ کسی کے ایجنڈے پر عمل پیرا تھے نہ منتخب حکومت گرانا چاہتے تھے اور نہ ہی تھرڈ ایمپائر کی انگلی کا انتظار تھا۔نہ دھرنے میں کسی نے مغلظات بکی ہیں اور نہ ہی کسی کی کردار کشی کی گئی۔اس دھرنے سے تمام سیاسی و سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے اظہار خیال کیا۔یہ دھرنا دس روز جاری رہا لیکن نہ کوئی روڈ بند ہوا نہ سرکاری یا غیرسرکاری املاک کو نقصان پہنچا اور نہ ہی توڑپھوڑ کی گئی۔

لیکن الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا اس دھرنے پر تقریباﹰ خاموش رہا۔چند ایک اینکروں کے سوا کسی نے اپنے ٹاک شو میں اس دھرنے پر کوئی بات نہیں کی۔دوسری طرف بین الاقوامی میڈیا نیویارک ٹائم،الجزیرہ،بی بی سی اور گارجین نے اس سے بھرپور کوریج دی۔

میڈیا بلیک آؤٹ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے ۔کیا پشتون اس ریاست کے شہری نہیں ہیں جو میڈیا یہ امتیاز برت رہا ہے؟کیا اس دھرنے میں ناچ گانا نہیں تھا جو کوریج نہیں دی گئی؟کیا کوریج نہ دینے کی وجہ اس دھرنے میں مغلظات کا نہ بکنا ہے؟کیا دھرنے کی شرکاء کا سرکاری املاک کو نقصان نہ پہنچانا بلیک آؤٹ کا سبب بنا؟کیا پچھلے دھرنوں میں کوریج کی احکامات کہیں اور سے جاری ہوئے تھے اور اس دھرنے کو کوریج نہ دینے کے احکامات وہاں سے جاری ہوئے؟

یادرہے کہ یہ دھرنا بنیاد ی طور پر نقیب اللہ محسود کے ماروائے عدالت قتل کے خلاف احتجاجاً شروع ہوا تھا جو بعد میں پختون قوم پر مسلط جہاد کے خلاف احتجاج میں تبدیل ہو گیا تھا۔ پاکستانی ریاست نے اپنی مہم جویانہ پالیسیوں کے نتیجے میں پختون قوم پر جو نام نہاد جہاد مسلط کر رکھا ہے اس میں لاکھوں پختون مارے جا چکے ہیں لیکن ریاست ابھی بھی طالبان کی حمایت سے باز نہیں آرہی۔

One Comment

  1. نجم الثاقب کاشغری says:

    آپ تو بہت ہی سادہ ہیں میرےپشتون بھائی۔پر امن دھرنوں کا تو یورپ امریکہ میں بھی نوٹس نہیں لیا جاتا ۔یہ تو پاکستان ہے۔ نقیب کا قاتل پکڑوانا ہے تو نیٹو کی سپلائی لائن بند کروائیں،ریڈ زون کے اندر تھوڑپھوڑکریں،موٹر وے بلاک کرکے ٹائروں کو آگ لگایں،لاؤڈ سپیکر پر ماں بہن کی گالیاں دیں،کیس کو توہین مذہب اور توہین رسالت کا کیس بنا کر گھیراؤ جلاؤ کریں،بنی گالہ اور جاتی امرا نیز بلاول ہاؤس کی سڑکیں بلاک کریں، وزراء کو یرغمال بنائیں،تڑتڑ فائرنگ کریں،ساتھ ڈاکٹر قادری کو کرائے پہ کینیڈا سے اجرت پہ حاصل کریں،شیخ رشید کو ساتھ ملائیں،ہرٹی وی چینل کے کیمرہ مین کی خوب پٹائی کریں،ان کے کیمرے اٹھا اٹھا کر زمین پہ ماریں،ختم نبوت والوں کی خدمات حاصل کریں،کراچی کوبند کردینے کی دھمکی دیں،قاتل کے رشتہ داروں اور خواتین خانہ کو عبرتناک انجام کی دھمکیاں دیں،محسود علاقہ کو خود مختار ریاست بنانے کا اعلان کردیں، وغیرہ وغیرہ پھرکہیں جا کر یہ لوگ تسلیم کریں گے کہ ہاں پشتون بھی اسی ملک کے شہری ہیں،انہوں نے ان تمام منفی اور غیر پسندیدہ حرکات سےثابت کردیا ہے کہ یہ پاکستانی ہیں ان کی مدد کرنا چاہیئے۔(میں ان باتوں پہ اکسانہیں رہا اب تک پاکستان میں ہونے والے”کامیاب” دھرنوں اور واقعات کی روشنی میں بات کررہا ہوں)۔
    ورنہ بیٹھے رہیں بیشک اگلے پچاس سال تک آپ کی کوئی نہیں سنے گا۔دو وقت کی روٹی سے بھی جائیں گے۔
    اس ملک میں لیاقت علی خان قتل ہوگیا،بے نظیرقتل ہوگئی،ضیاالحق بحیثیت صدرپاکستان قتل ہوگیا،گورنر فضل حق قتل ہوگیا،حکیم محمد سعید قتل ہوگیا،حیات خان شیرپاؤ قتل ہوگیا، مرتضٰے بھٹو قتل ہوگیا،کچھ فرق پڑا؟؟؟۔باقی تو کسی قطار شمار میں ہی نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *