زوجی سیاست بمقابلہ جوگی سیاست 

آصف جیلانی

تحریک انصاف نے اس امر کی تصدیق کر دی ہے کہ تحریک کے قائد عمران خان کی اتوار 18فروری کو بشریٰ مانیکا کے ساتھ شادی انجام پا گئی ہے۔ 

عمران خان کی تیسری شادی سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ پاکستان میں سیاست دانوں کی ازدواجی زندگی کی بے حد اہمیت ہے اور وہ غیر شادی شدہ نہیں رہنا گوارا کرتے ہیں ۔ پاکستان میں بھی امریکا اور مغربی ممالک کی طرح سیاسی رہنمااپنی ازدواجی زندگی کو نمایاں طور پر پیش کرتے ہیں ، مغربی ممالک میں تو سیاست دان ہمیشہ اپنی بیگمات کو آگے رکھتے ہیں، خاص طور پر انتخابات میں سیاسی رہنما اپنی بیویوں کو کبھی پیچھے نہیں چھوڑتے اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ عوام کے سامنے ان کی ’’فیملی مین ‘‘ کی امیج پیش کی جائے تاکہ سیاست دانوں کی زندگی میں استقامت کو اجاگر کیا جاسکے اور عوام سے داد وصول کی جائے کہ سیاست رہنما کس قدر اپنی بیوی بچوں اور اپنے اہل خانہ کی دیکھ بھال کرنے والاانسان ہے۔

اس کے مقابلہ میں ہندوستان میں معاملہ بالکل اس کے بر عکس ہے ۔ وہاں زوجی سیاست کی جگہ جوگی سیاست اور برہم چاری سیاسی رہنماوں کو فوقیت دی جاتی ہے۔ ہندوستان کی سیاست میں وہ سیاسی رہنما زیادہ مقبول رہتے ہیں جو ازداوجی زندگی کی ذمہ داریوں اور الجھنوں سے آزاد ہوتے ہیں ۔ مثال کے طور پر گاندھی جی کو لیں ، گو ان کی 13سال کی عمر میں کستور با سے جو ان سے ایک سال بڑھی تھیں شادی ہوئی تھی اور ان کے پانچ بچے ہوئے تھے لیکن 1906میں جب گاندھی جی کی عمر 37سال تھی ، انہوں نے اپنی بیوی سے عمدا علاحدگی اختیار کر لی اور برھم چاری ہوگئے۔ اسی کے بعد انہیں سیاسی میدان میں شہرت ملی اور عوام میں مقبولیت حاصل کر کے باپو کہلائے۔

اسی طرح جواہر لعل نہرو کی اہلیہ کملا نہرو ، 1936میں انتقال کر گئیں جب جواہر لعل کی عمر 53سال تھی۔ یوں انہوں نے اپنی زندگی کے بقیہ 28سال اپنی اہلیہ کے بغیر لیکن شہرت اور مقبولیت کے ساتھ گذارے۔ 
نہرو کی صاحب زادی اندرا گاندھی ، فیروز گاندھی سے 1942میں رشتہ ازدوج میں بندھی تھیں لیکن صرف بارہ سال ان کے ساتھ رہیں۔ اپنے شوہر فیروز گاندھی کے انتقال تک وہ اپنے والد نہرو کے ساتھ تین مورتی بھون میں رہیں اور فیروز گاندھی نے ممبر پارلیمنٹ کے بنگلہ میں 1960تک اکیلی زندگی گذاری۔ فیروز گاندھی سے علاحدگی کا زمانہ تھا جب وہ کانگرس کی صدر منتخب ہوئیں اور تیزی سے اقتدار کی سیڑھیاں چڑھتی ہوئی 1966میں وزارت اعظمی کے عہدہ تک پہنچیں ۔ اپنے سکھ محافظ کے ہاتھوں قتل سے پہلے اندرا گاندھی نے 29سال غیر شادی شدہ زندگی گذاری۔ 

اسی طرح مرار جی ڈیسائی نے بمبئی کے وزیر اعلی، ہندوستان کے وزیر خزانہ اور آخر میں وزیر اعظم کے عہدہ پر فائز رہے ، اپنی نوے سالہ زندگی کا بیشتر حصہ اپنی اہلیہ جگرابین کے بغیر گذارا۔ 

ہندوستان کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی نے جن کی جشودا بین کے ساتھ سولہ سال کی عمر میں 1968 میں شادی ہوئی تھی ، تھوڑے دن بعد ہی اپنی بیوی کو چھوڑ کر ہمالیہ میں سنیاس لے لیا ۔اس کے بعد سے وہ برہم چاری کی زندگی گذار رہے ہیں۔ ان کی شادی کاراز 2014میں اس وقت کھلا جب عام انتخابات میں کاغذات نامزدگی داخل کرتے وقت ان سے سوال کیا گیا تھا کہ آیا ان کی شادی ہوئی ہے، اس وقت انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ ان کی 36سال پہلے شادی ہوئی تھی لیکن وہ اپنی اہلیہ سے علاحدہ رہے ہیں۔ 

پاکستان میں چونکہ مذہبی عقیدہ کے مطابق ازدواجی زندگی کی بڑی اہمیت ہے اس لئے شادی شدہ سیاسی رہنما زیادہ مقبول ہیں ۔ پاکستان کے شادی شدہ سیاست دانوں کے مقابلہ میں ہندوستان کے مشہور سیاسی رہنما ، بھر پور ازدواجی زندگی سے محروم رہے ہیں اور چونکہ ہندو مذہب میں سنیاسیوں، جوگیوں اور برہم چاریوں کی بے حد عزت اور احترام ہے اس لئے ان سیاست دانوں کو وقعت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے جن کی زندگی جوگیوں اور برہم چاریوں ایسی ہو۔

نریندر مودی کا دعوی ہے کہ وہ چونکہ ازداوجی زندگی کی ذمہ داریوں کے جال سے آزاد رہے ہیں اس لئے وہ باآسانی کرپشن سے پاک رہے ہیں ۔

2 Comments

  1. نجم الثاقب کاشغری says:

    بھارت کے جن نام نہادجوگی(یوگی) سیاستدانوں کا آپ نے ذکر فرمایا ان میں سے اکثر بہرحال کسی نہ کسی مرحلہ پہ شادی شدہ ضرور رہے ہیں جیسا کہ جناب نے خود ہی بتادیا ہے۔ یہ “جعلی ” بیچلرز ہیں جن کا ذکر کر کے آپ نے ہمارے پیارے اصلی جوگی اور کنفرمڈ بیچلر سیاستدان شیخ رشید صاحب کے نمبر کم کرنے کی جسارت فرمائی ہے جو تحریک انصاف کی زوجی سیاست کی جوگی شان ہیں۔بھارت کی آنکھ کے تنکوں کی بجائے پاکستانی سیاست کے اس مضبوط شہتیر کو تو دیکھنا تھا !۔
    عمران خان نیازی کی قوم ( نیازیوں) میں سے مولانا عبدالستار نیازی کا بھی ذکر ہونا چاہیئے تھا جو کنفرمڈ بیچلر اور مشہور پاکستانی سیاستدان تھے۔
    محترمہ فاطمہ جناح ‘مادرِ’ملت تو تھیں لیکن غیرشادی شدہ زندگی گزاری ،اتنی ہی مقبول اور قابل احترام ہر دلعزیز مسلمان سیاستدان تھیں۔

  2. عربوں کا وطیرہ یہی رہا ہے کہ خود رنڈوے نہیں مرنا بلکہ ایک سے زیادہ بیوہ یا مطلقہ چھوڑ کر اس دار فانی سے جانا ہے۔علم در افرازیات میں جدید تحقیق کے مطابق جنسی طور پر فعال ہونے سے بہتر اور اچھے فیصلوں کی توقع کی جا سکتی ہے۔لیکن اسلامی جمہوریہ میں اقتداری طالع مند رہنے کے لئے شادی ایک خالصتاً سیاسی مجبوری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *