جاوید چوہدری عمران خاں ،ابن عربیؒ اور پاکستانی ختم نبوت

 اصغر علی بھٹی نائیجر مغربی افریقہ

ہمارے ملک کے معروف کالم نگار جناب جاوید چوہدری صاحب اپنے حالیہ کالم’’ لخ دی۔۔۔ہم سب پر ‘‘ میں قوم کو خوشخبری دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں بیس برس سے مولانا روم ؒاور ابن عربی ؒ کا پیچھا کر رہاہوںلیکن میں آج تک اس معرفت کے خزانے سے بد نصیب ہوں تاہم مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ عمران خان کی ممکنہ بیگم بشریٰ بی بی مولانا روم ؒ اور ابن عربی ؒ کی ماہر ہیں اور عمران خان نے ان سے نہ صرف معرفت سیکھ لی ہے بلکہ یہ ابن عربی ؒ اور مولانا روم ؒ کے اصل پیغام تک بھی پہنچ گئے ہیں ۔

جاوید چوہدری صاحب مزید خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں تو پوری کوشش کے باوجود ابن عربیؒ کے پیغام کو نہیں سمجھ سکا لیکن اس کے باوجود میرا سفر رائیگاں نہیں جائے گا ۔میں اب دنیا سے خالی ہاتھ نہیں جاؤں گا کیونکہ میں روزانہ کھلی آنکھوں سے ایک ایسے شخص کا دیدار کرتا ہوں جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی معرفت سے بھی نوازا اور جو اس زمانے میں ابن عربی ؒ اور مولانا روم ؒ دونوں کا ماہر بھی ہے اور انشاء اللہ معرفت ان کے گھر میں بھی آباد ہوگی اور وہ معرفت بنی گالہ سے اپنی کرنیں پورے ملک میں پھیلائے گی۔

آپ نے اپنی خوشی کو بشارت کا رنگ دیتے ہوئے مزید فرمایا کہ یہ پاکستان کی ستر سالہ تاریخ کے پہلے صوفی سیاستدان ہیں۔یہ ان شاء اللہ معرفت کے ساتھ اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے والے پہلے وزیر اعظم بھی بنیں گے۔پاکستان جلد معرفت کی خوشبو میں لپٹا ہوگا اور ہم اپنی گنہگار آ ّنکھوں سے ابن عربی ؒ اور مولانا روم ؒ کے عارف کو کرسی اقتدار پر جلوہ افروز دیکھیں گے۔

مکرم جاوید چوہدری صاحب آپ کے منہ میں گھی شکر ۔ اللہ کرے کہ میری ارض وطن کے فرماں روا عارف باللہ ہوں۔ وہ حقوق العباد اور حقوق اللہ کی چلتی پھرتی تصویر ہوں۔عصبیتوں ،بغضوں اور شرک کی لعنتوں سے پاک ہوں اور وہ انسانوں کو سجدے کرنے اور چھوٹے چھوٹے فرعونوں سے ڈر کر حق بات سے مکر جانے والے نہ ہوں ۔ اللہ کرے کہ ایسا ہو ۔

مکرم جاوید چوہدری صاحب ذرا رکئے مزید نیک خواہشات پالنے سے قبل کچھ توقف فرمائیے ۔ ،صبر کیجئے اور سوچئے تو سہی آپ کیا خواہشیں پال رہے ہیں ۔ اور آپ کے ممدوح عمران خان کن تارے توڑنے کی آسیں دل میں سینچ رہے ہیں۔ابن عربی ؒ کی معرفت میرے دیس میں ۔ اور وہ بھی ایوان اقتدار میں ۔ ناممکن ۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس دیس میں شیعہ، بریلوی، دیوبندی ،اہل حدیث اور اہل قرآن سمیت کئی فرقے بستے ہیں جن کی مساجد،تفاسیر، فقہ ، اور جن کے علماء اور فتاویٰ الگ الگ ہیں؟

اور کیا آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ اس وطن کے کتنے فرقے ابن عربی ؒکو کافر ،ملحدبلکہ زندیق یعنی بد ترین کافر اور دشمن اسلام قرار دیتے ہیں۔ اور کیا آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ کتنے ہی فرقے ان کو محی الدیں یعنی دین کو کو زندہ کرنے والا کی بجائے ماحی الدین یعنی دین کو مٹانے والے قرار دیتے ہیں؟ ۔کیا آپ کے علم میں ہے کہ ان کی کتب فصوص الحکم اور فتوحات مکیہ کاسعودی عرب میں داخلہ منع ہے اور دیکھتے ہی جلا دینے کے شاہی فرامین ہیں؟۔ اور کیا آپ کو معلوم ہے کہ حضرت ابن عربیؒ کے وفات مسیح علیہ السلام اور نزول مسیح علیہ السلام کے بارے میں کیا عقیدہ ہے ؟ اور کیا آپ کو معلوم ہے کہ ان کا ختم نبوت کے بارے میں کیا عقیدہ ہے ؟

اور کیا آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ ابن عربی ؒ کا عقیدہ ختم نبوت پاکستان کے مولوی نما سیاستدانوں کے بنائے ہوئے قانوں کے سو فیصد اُلٹ ہے ۔ اور کیا آپ کے علم میں یہ بھی ہے کہ حضرت ابن عربی کا عقیدہ ختم نبوت وہی ہے جس کے خلاف آپ گولڑہ اور دوسری ختم نبوت کانفرنسوں میں حصہ لیتے پھرتے ہیں۔ یقین نہیں آتا تو نیچے جاوید غامدی صاحب کے درس کا لنک موجود ہے۔ ابن عربی ؒجو بقول آپ کے معرفت کے سمندر ہیں فرماتے ہیں لا رسول بعدی سے مراد ہے ایسا نبی نہ ہو گا جو میری شریعت کے خلاف شریعت لائے بلکہ جب بھی ہوگا میری شریعت کے تابع ہو گا ( فتوحات مکیہ جلد 3 ص 73 )۔

پھر فرمایا نبوت جو آپ کے وجود کے ذریعہ ختم ہوگئی وہ شریعت والی نبوت ہے ( فتوحات مکیہ جلد2 ص 3 و فصوص الحکم ص 244 ) اور پھر یہ بھی آپ کا ہی قول ہے فان مطلق النبوۃ لم ترفع فتوحات مکیہ اور مزید یہ کہ فالنبوۃ سار یۃ الیٰ یوم القیامۃ فتوحات مکیہ ج2 ص90 )اور پھر فتوحات مکیہ کی پہلی جلد ص 318/319میں اپنا کشف لکھا ہے اور بتایا کہ اللہ نے مجھے ایسے ہی خاتم الاولیاء بنایا ہے جیسے آپ خاتم النبیین تھے۔ اسی طرح سے وحی الہام ،کشوف ،خدا تعالیٰ کی جاگتی آنکھوں کی روئت، انبیاء سے جاگتی آنکھوں سے ملاقاتیں اور فرشتوں کے نزول اور ان سے تفاسیر سیکھنے کے لئے گفتگو کی حکایتیں آپ کی کتب میں جابجا بکھری پڑی ہیں۔

یہ ہے وہ مختصر سی تصویر ہے ابن عربی ؒکی 

مکرم جاوید چوہدری صاحب آپ کی خواہش سر آنکھوں پر کہ یہ پاکستان کی ستر سالہ تاریخ کے پہلے صوفی سیاستدان ہوں گے۔یہ ان شاء اللہ معرفت کے ساتھ اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے والے پہلے وزیر اعظم بھی بنیں گے۔پاکستان جلد معرفت کی خوشبو میں لپٹا ہوگا اور ہم اپنی گنہگار آ ّنکھوں سے ابن عربی ؒ اور مولانا روم ؒ کے عارف کو کرسی اقتدار پر جلوہ افروز دیکھیں گے۔مگر کیسے ؟ کیا آپ پاکستان کے قانون سے واقف نہیں جس پر ہر مسلمان پاکستانی کو روزانہ کہیں نہ کہیں دستخط کرنا ضروری ہوتے ہیں جس میں درج ہے کہ وہ آپ کے بعد کسی کو نبی تو درکنار مذہبی مصلح بھی نہیں مانتا ۔اور ابن عربی ؒ تو ختم نبوت کی نہ اس تعریف کو مانتے ہیں اور ان اس حلف کو بلکہ وہ خود وحی الہام کے دعویدار ہیں اور صرف تشریعی نبوت کے اختتام کے قائل ہیں اور خادم قرآن انبیاء کے قائل ہیں بلکہ وہ خود کو خاتم الاولیاء بتاتے ہیں۔

تو جناب جب تک قانون میں ختم نبوت کا موجودہ حلف نامہ موجود ہے عمران خان صاحب اپنے ابن عربیؒ کے معرفتی علم کے ساتھ ایوان اقتدار نہیں جیل جائیں گے۔کیا آپ میں اتنی جرات ہے کہ کسی پورے فرقے تو درکنار ایک اکیلے مولوی صاحب سے بھی ٹکر لے سکیں اور جس کو انہوں نے کافر قرار دیا ہو آپ اس کے اسلام کے لئے آواز اُٹھا سکیں ؟ اور ملک میں انصاف سب کے لئے کا نعرہ مستانہ لگا سکیں۔ کسی اقلیت کے زندہ اینٹوں کے بھٹے میں جلائے جانے والے جوڑے کو انصاف دلا سکیں۔ گوجرانولہ کے شہر میں چھوٹی معصوم کائنات اور اس کو بچانے والی دادی دونوں کو زندہ جلا کر نعرہ تکبیر اور ڈانس کرنے والوں کے ہاتھوں کو زنجیریں پہنا سکیں۔ اور کسی ان پڑھ غریب عیسائی عورت جو تپتی دھوپ میں اینٹیں ڈال کر اپنے بچوں کا پیٹ پالنے والی مسکین عورت کو طاقتور مولوی سے بچا سکیں ؟ اور اس کے رل جانے والے بچوں کو انصاف دلا سکے۔

یقیناً آپ کا ماضی اس کی نفی کرتا ہے ۔ شائد اسی لئے مشہور مذہبی کالم نگا ر جناب خورشید ندیم صاحب نے لکھا ہے کہ عمران خان ابن عربی ؒ کو چھوڑیں ابن خلدون کو پڑھنے کی کوشش کریں آپ تو چند ووٹوں کے لئے مولوی حضرات کی خوشنودیاں سمیٹتے پھر رہے ہیں ۔ ہاں اگر اخلاقی جرات ہے تو سرکار مدینہ سے بھی نسبت کیجئے اور ابن عربی ؒسے بھی۔ نہیں تو صرف سیاست کی بات کیجئے معرفت اور ابن عربی ؒ کی نہیں ۔ کیونکہ اس کے لئے مومن کا جگرا چاہئے۔

2 Comments

  1. عمران خان بیچارہ،اپنے لئے ایک چوٹی کے اکانومسٹ کو سیلیکٹ کرتا ہے تو وہ قادیانی نکلتا ہے،اور چوٹی کے بزرگ کو سیلیکٹ کرتا ہے تو وہ ختم نبوت کا منکر!۔
    امام شہاب دین تلمسانی، امام عبدالطیف آل سعودی، امام قتلانی، امام تقی دین سبکی، امام ابن ابی ہیان، امام ابن ہشام، امام ابن تیمیاء، امام ابن کثیر، امام دہبی وغیرہ نے مبینہ طور پر حضرت ابن عربی کے خلاف کفر کے فتوے جاری کئے تھے۔
    اکیسویں صدی میں عصر حاضرکے مسائل کا حل ان باتوں میں نہیں۔
    ابن عربی کے نزدیک سب کچھ خدا ہے،ماسوا کچھ نہیں۔اس لئے عمران خان کے نئے پاکستان کو کھانے پینے،بجلی پانی گیس روٹی کپرا مکان کی ضرورت نہیں کیونکہ ابن عربی کے بقول سب مخلوق خدا ہیں اور خدا ان مادی بکھیڑوں سے آزاد ہے۔لہٰزہ موجیں کرو گے صوفی جمہوریہ عمرانیہ پاکستان میں۔

  2. khaliq sultan says:

    جو کچھ اقبال ابن عربی کے بارے میں فرما گئے ہیں وہ بھی عمران خان کو بتائیں خصوصآ وحدت الوجوت کے حوالے سے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *