ہسٹریا اور اسلامی جمہوریہ 

خالد محمود

اپنی بکھرتی ہوئی کتابوں کے لئے میرے دوست عابد محمود کو کتابوں کی الماری کی ضرورت تھی۔فیصلہ ہوا کہ کہیں سے پرانی الماری خرید لی جائے۔پرانے فرنیچر کی ایک دو دکانیں دیکھی تو معلوم ہوا کہ ان کی قیمتیں نئے فرنیچرسے بھی زیادہ ہیں۔کسی نے بتایا کہ علی پور بائی پاس سے پہلے راجکوٹ کے نزدیک پرانی الماریاں مل جاتی ہیں۔عابد کہنے لگا کہ ادھر چلتے ہیں۔ہم نے ستّر سی سی گھوڑے کو مضراب دی اور دھلّے اڈّے میں چاند گاڑیوں کے بکھیڑے سے سلامت گزر کر جا پہنچے راجکوٹ میں۔

اپنے بائیں جانب ایک ہرے بھرے کھیت میں چند درخت دیکھ کر مجھے جمشیدؔ ساہی مرحوم کی بات یاد آ گئی ۔ایک زمانہ تھا کہ بادشاہ جہانگیر ادھر شکار کھیلنے آیا کرتا تھا، اس جگہ بہت گھنا جنگل ہوا کرتا تھا۔ جمشید ساہی نے اپنے بچپن میں ،اس جنگل کے بچے کھچے جھنڈ دیکھ رکھے تھے۔ اکثر اس کی پنجابی نظموں کو پڑھتے ہوئے اس جگہ کے درخت اور ان کی کچی پکی پرچھائیاں جھلکنے لگتی ہیں۔اور آج ہمارے دور میں، کاٹھ کباڑ والے ادھر آن بسے ہیں۔

قصہ مختصر کہ ایک پرانی الماری پسند کر لی گئی۔قیمت چکا دی گئی۔اور اب مرحلہ تھا اسے گھر تک پہچانے کا۔قبرستان کے نزدیک ہمیں ایک بزرگ گدھا گاڑی والا مل گیا جس کے ساتھ الماری لاد کر باغبانپورے پہنچانے کا بھاڑا تین سو روپے اس شرط پر طے ہو گیا کہ ہم اس کے ساتھ ساتھ چلیں گے تاکہ وہ شہر کی گلیوں میں نہ بھٹکتا پھرے۔راستے میں تیز رفتار گاڑیاں راستہ لینے کے لئے مسلسل اپنا اپنا بھونپو بجا رہی تھیں اور ساتھ ساتھ گدھا گاڑی والے کو کھری کھری سنا رہے تھے۔ان کے بس میں نہیں تھا ورنہ وہ ریڑھی والے کے اوپر سے گذر جاتے۔

بزرگ زیرلب بڑبڑاتا اور اپنے گدھے کی لگام کھینچ کر جس قدر ممکن تھا گزرنے والوں کو راستہ دیتا جاتا تھا۔سڑک پر ٹریفک کی اس بے ڈھنگی چال پر ہم نے بابے کی رائے جاننا چاہی تو اس نے بتایا کہ سب کو بہت جلدی ہے ۔نہ تو یہ لوگ ٹریفک وارڈن کے اشارے پر رکنا چاہتے ہیں اور نہ ان کے لیڈر۔مجال ہے کوئی گاڑی پیدل راہ گیر کو راستہ دے ۔بیٹا اگر ہمارے جیسی سست رفتار ریڑھیاں نہ ہوں تو یہ شاید بریک لگانا ہی بھول جائیں۔

انگریز کے وقت میں کسی کی مجال نہیں تھی کہ سرخ بتی توڑ کر گذر جائے۔آج یہ حال ہے کہ پورے شہر میں ایک بھی ٹریفک کی بتّی نہیں ہے۔پچھلے دنوں مجھے ایک بڑا پھیرا مل گیاتھا۔دل میں بڑا خوش تھا کہ آج پندرہ سو کما لوں گا مگر جیسے ہی شیرانوالہ باغ کے قریب پہنچا تو ٹریفک والوں نے واپس موڑ دیا۔کہنے لگے پُل کے اوپر سے جاؤ۔وزن لاد کر پل پر جانور چڑھانا بڑا ظلم ہے۔

میں نےٹریفک والے سے پوچھا کہ آگے کیا ہو گیا ہے کوئی ہَڑھ آ گیا ہے۔تو اس نے مجھے جواب دیا کہ ہَڑھ شڑھ کوئی نہیں آیا ہے۔مولویوں کو بخار چڑھا ہے اس لئے راستہ بند ہے۔میں نے کہا کہ انہیں ہسپتال بھیجیں اور دوا لے کر دیں ۔سڑک بند کرنے کا مطلب ہے ہماری روزی روٹی بھی بند۔

ٹریفک والا بڑا مخولیا تھا کہنے لگا بابا ہسپتال والوں کے پاس ہر بیماری کی دوا ہے ۔وہ ملیریا، کالرا، ٹائیفائڈ،دمہ کھانسی ہر بیماری کا علاج کر لیتے ہیں۔اس بیماری کا نہیں۔’’ایناں نوں کہڑا بخار چڑھیا اے‘‘۔وہ غصے سے بولا ٹیں ٹیں نہ کر ریڑھی پیچھے موڑ تمہیں نہیں پتا کہ ہسٹریا اور اسلامی جمہوریہ کے بخارکی کوئی دوا ہی نہیں پورے ملک میں!۔

One Comment

  1. بھٹو نے ملا کا ڈنک نکال کر اسے کم وبیش کینچوے میں بدل دیا تھا۔ مگر پھر بھٹو نے ہی مولوی مودودی کے در پر سجدہء سہو کرکے انہیں سانپ بننے میں مدد دی۔ ضیاء الحق نے تو انہیں مکمل پھنئر بنا دیا۔ اب کسی بھی چوک پر ایک مولوی بھی پھنکارنے لگے تو سڑک بند ہوجاتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *