کیا عورت سے دوستی ممکن ہے؟

سبط حسن

عورت کے بارے میں رسمی باتیں خواہ جتنی بھی کر لیں ، مرد اسے جسم ہی مانتے ہیں ۔ یہ آج کی بات نہیں ۔ آج جس سماجی نظام میں ہم سانس لیتے ہیں اور جس کے مطابق ہم اپنے مزاج کو سنوارتے ہیں اس میں عورت کا جوہر ایک جسم سے زیادہ کچھ نہیں ۔ اس نظام کی ابتدا آج سے ہزاروں سال پہلے ہوئی جب وسائلِ پیداوار کو بڑھانے کے لیے زیادہ لوگوں کی ضرورت محسوس ہونے لگی ۔ کارکنوں کی تعداد بڑھانے کے لیے ایک قبیلے کے لوگ دیگر قبائل کی عورتوں کو شب خون مار کر چوری کر کے لے جاتے تھے۔

ان عورتوں کے حیثیت جنسی داسیوں سے زیادہ نہ ہوتی تھی۔ چونکہ عورت کی سماجی اور تاریخی شناخت ہی اس کے جسم اور اس میں موجود جنسی کشش پر مرتکز ہے ، اس لیے ’بچی‘ خواہ چھوٹی عمر کی ہو اسے کوتاہ عورت ہی سمجھا جاتا ہے اور اس مناسبت سے اس کے ساتھ جنسی روابط کی سعی کرنا عین مردانگی سمجھا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ کئی لوگ اسی تصور کی مناسبت سے بہت کم عمر بچیوں پر بھی دست درازی سے باز نہیں آتے۔ 

اسی نوعیت کا تصور بچوں کے بارے میں بھی تھا۔ تاریخ میں بچے کو کوتاہ بالغ ہی سمجھا جاتا تھااور اس سے اس کی ہمت سے کہیں زیادہ جووہ کرسکتا تھا ، اس سے کروایا جاتا تھا۔ بچے کی زندگی بڑوں سے مختلف ہوتی ہے، اس تصور کو سنورے چالیس پچاس سال سے زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔ اب یہ بات بھی سمجھانے کی ضرورت ہے کہ عورت محض جنسی بھوک مٹانے کا وسیلہ نہیں، اس میں ایک شاندار انسان بہتا ہے اور اس کے ساتھ دوستی ممکن ہے۔ 

عورت کے بارے میں، چونکہ برابری کا کوئی تصور موجود نہیں اس لیے اسے دوست بنانے کا بھی کسی کو خیال نہیں آتا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ آپ کسی لڑکی کے ساتھ کسی جنسی تعلق کا خیال رکھے بغیر تعلق قائم کر لیں۔ اسی خیال کو لے کرہالی وڈ کی ایک فلم ’’ فیس ٹو فیس‘‘ بنائی گئی ہے اور دیکھنے کے لائق ہے۔ 

اس فلم میں بچپن کے دوست ایک لڑکا اور ایک لڑکی سکائپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔ فلم کا زیادہ حصہ ان دونوں کے درمیان سکائپ پر گفتگو میں گزرتا ہے۔ لڑکا تنہائی کا شکار ہے اور خودکشی کے بارے میں سوچنا شروع کر دیتا ہے۔ اسی دوران اسے اپنی بچپن کی دوست( لڑکی) کا خیال آتا ہے۔ وہ اس سے رابطے کی کوشش کرتا ہے اور بڑی مشکل سے اس سے بات کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔

لڑکی اور لڑکے کے درمیان تعلق کی نہج وہی رہتی ہے جو عام طور پر مخالف صنف کے کرداروں میں ہوتی ہے۔ تاہم اس تعلق میں پیش قدمی لڑکی کی طرف سے رہتی ہے اور وہ اپنے آپ کو ایک جنسی چیز کے طور پر پیش کرتی ہے ۔ اس تعلق میں اہم تبدیلی اس وقت آتی ہے جب لڑکی بذریعہ سکائپ اس کے سامنے بہت کم کپڑوں میں ڈانس کرنے کا ارادہ ظاہر کرتی ہے مگر لڑکا اسے ایسا کرنے سے روک دیتا ہے۔

لڑکا ، لڑکی کے ساتھ کسی قسم کی پیش قدمی یا جنسی تعلق قائم کرنے سے اجتناب کرتا ہے اور بعد میں اسے اپنا بہت قریبی دوست سمجھتے ہوئے بتاتا ہے کہ وہ لڑکیوں کے بجائے لڑکوں میں دلچسپی رکھتا ہے۔ وہ لڑکی کو بہت سے اشاروں میں یہ بھی سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ ایک لڑکی کے طور پر محض جنسی چیز نہیں ۔ اس بات کا اظہار علامتی طور پر بڑی خوبصورتی سے ڈائریکٹر نے سکائپ کے ذریعے لڑکے کے لڑکی کو اپنے میک اپ کرنے میں ہدایات دینے میں بتایا ہے۔

لڑکی اپنا میک اپ عام طور پر اپنی جنسی خطوط کی کشش کو ابھارنے کے نقطہ نظر سے کرتی ہے۔ لڑکا اسے نہایت سادہ میک اپ کی ہدایات دیتا ہے اور اس میں اس کا نظریہ اس کی قدرتی خوبصورتی کو نمایاں کرنا ہوتا ہے نہ کہ اسے کوئی قابلِ پیش کش چیز بنانا۔ ایسا کرتے ہوئے اس کے چہرے پر پیار کا ایک نور نظر آتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عورت کے لیے خالص پیارمخفی جنسی ارادوں کے بغیر بھی ممکن ہے۔ 

One Comment

  1. It’s called platonic love. Platonic love (often lower-cased as platonic[1]) is a term used for a type of love that is non-sexual. It is named after Plato, though the philosopher never used the term himself.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *