ڈاکٹر عبدالسلام اور سری نواسن راما نجن

لیاقت علی

ڈاکٹر پرویز ہودبھائی پاکستان کے مایہ ناز سائنس دان اور استاد ہیں۔ انھوں نے روزنامہ ڈان میں برصغیر سے تعلق رکھنے والے دو عظیم سائنس دانوں۔سری نواسن راما نجن(1887۔1920)اور ڈاکٹر محمد عبدالسلام(1926۔1996) کے سائنس شعبہ میں کام کا جائزہ ان کےمذہبی عقائد کےپس منظر میں لیا ہے۔

ان دونوں سائنس دانوں کا تعلق غریب گھرانوں سے تھا۔دونوں نے مقامی سکولوں میں تعلیم پائی اور دونوں نے سائنس کے میدان میں قابل فخر کارہائے نمایا ں سرانجام دیئے۔سری نواسن رامانجن نے ریاضی کے میدان میں جب کہ ڈاکٹر عبدالسلام نے فزکس کے شعبے میں خود کو منوایا۔سائنس کے میدان میں ان دونوں نے جو مقام حاصل کیا برصغیر میں کوئی دوسرا سائنس دان وہ میدان حاصل نہیں کر پایا۔

یہ دونوں عظیم سائنس دان سائنس کے میدان میں اپنی کامیابیوں اور کام کو، اپنے اپنے مذہبی عقائد کا مرہون منت قرار دیتے ہیں۔بھارت میں بڑھتی ہوئی ہندتوا اور پاکستان میں احمدیوں کے خلاف جاری معاندانہ کاروائیوں کے سیاق سباق میں ان دونوں کے سائنس کے شعبے میں کام اوران کے مذہبی عقائد سے اس کام کے تعلق کا غیر جانبدارانہ اور محتاط جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

ریاضی کا کوئی ماہرشاذ ہی ایسا ہو جس کی لائف ہسٹری نراما نجن سے زیادہ رومانوی ہو۔راما نجن کی زندگی پر بہت سی کتابیں،فلمیں اور ڈرامے لکھے گئےہیں۔2015 میں بننے والی فلم دی مین ہو نیو انفنٹی” قابل ذکر ہے۔راما نجن کا دعوی تھا کہ ریاضی کے بہت سے کانصیپٹ اس کے مذہبی وجدان کا نتیجہ تھے۔

مدراس کے کلرک کے ہاں پیدا ہونے والا راما نجن کا بچپن مذہبی روایات میں گندھا ہوا تھا۔۔مندروں میں بھجن گانے والا، دیوی دیوتاوں کی پوجا کرنے والاا اور متشدد قسم کا سبزی خور،12 سال کی عمر تک پہنچتے راما نجن نہ صرف ریاضی کے مشکل ترین سوالات حل کر رہا تھا بلکہ گذشتہ صدی کے بڑے یورپین ریاضی دانوں کی تھیورم کو ڈپلیکیٹ کر رہا تھا۔ریاضی کے سوا دیگر مضامین اس کی عدم دلچسپی کی بنا پر اسےکالج سے خارج کردیا گیا تھا۔ اس کے اساتذہ کےلئے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ وہ جینئس ہے یا پھر فراڈ۔

سولہ16 سال کی عمر میں اپنے ٹیچر کی حوصلہ افزائی پر اس نے اپنے عہد کے بڑے ریاضی دان جی۔ڈبلیو ہارڈی کو خط لکھا جس کے ساتھ اس نے ریاضی میں اپنے کام کو بھی بھیجا۔ ہارڈی اس کے کام کو دیکھ کر دنگ رہ گیا اور اس کو انگلستان بلو لیا۔انگلستان سدھارنے سے قبل راما نجن نے نہ صرف اپنی خاندانی دیوی نامہ گری سے سمندر پار سفر کرنے کی باقاعدہ اجازت لی تھی بلکہ نجومیوں سے سفر شروع کرنے کی شبھ گھڑی کا بھی معلوم کیا تھا۔

بتیس 32 سال کی عمر میں راما نجن مر گیا تھا۔ انگلستان کے سرد موسم نے ان کی صحت کو بری طرح متاثر کیا تھا اور واپس مدراس آنے کے باوجود اس کی صحت نہ سنبھل سکی تھی۔بستر مرگ پر اس نے ریاضی کی انتہائی پیچیدہ سوالات کو حل کیا تھا۔ اس کا موقف تھا کہ جو کچھ اس نے ریاضی کے میدان میں کیا ہے وہ نامہ گری دیوی کا چمتکار ہے۔

وہ کہا کرتا کہ تھا ریاضی کے حوالے سے جو کچھ وہ کرتا ہے وہ نامہ گری دیوی اسے کان میں بتادیتی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ نامہ گری دیوی اس کی زبان پر ریاضی کے فارمولے لکھ دیتی ہے۔اس کے نزدیک ریاضی کی مساوات اگر خدا کی آواز نہیں تو اس کاکوئی مطلب نہیں ہے۔
یہ عظیم ریاضی دان اپنے کام کو اس طرح دیکھتا تھالیکن اس کا کیا جائےکہ دنیا کے عظیم ریاضی دان

Godel ,Hilbert ,Euler,Bernouli,Gauses,Cantor

تو برہمن نہیں تھے لیکن ریاضی میں ان کی عظمت کے سبھی قائل ہیں۔عہد جدید کی ریاضی راما نجن کی بجائے ان صاحبان کے کام کی مرہون منت ہے۔ان میں کچھ مسیحی تھے تو کچھ لامذہب۔ یہ کسی کو معلوم نہیں کہ ان کے ریاضی کے میدان میں کام کی توجیح کس طرح کی جائے۔

لاہور کے گورنمنٹ کالج کا 19 سالہ عبدالسلام ،راما نجن کے ان فارمولوں کو جو بیس سال قبل حل کیا تھا ان کوزیادہ سادہ انداز میں حل کررہا تھا۔ اس نے اعلان کیا تھا کہ راما نجن کے حل بہت زیادہ محنت طلب ہیں۔
ڈاکٹر عبدالسلام پنجاب کے انتہائی پسماندہ ضلع جھنگ میں پیدا ہوئے۔ وہیں کے مقامی سکول میں اس نے تعلیم حاصل کی تھی۔ اس دیہاتی بچے نے جلد ہی اپنے اساتذہ کو ریاضی کے میدان میں مات دے دی۔ اس کے اساتذہ نے اس سے حسد کی بجائے اس کی حوصلہ افزائی اور مدد کی تھی۔

عبدالسلام کا گورنمنٹ کالج سے اگلا پڑاؤ کیمبرج تھا اور وہاں اس نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔1960 کی دہائی کے اوائل میں ڈاکٹر عبدالسلام شمار دنیا کے بڑے ماہرین طبیعات میں ہونے لگا تھا اور اسے بیسیوں انعامات مل چکے تھے اور 1979 میں فزکس کے شعبے میں نوبیل انعام بھی مل گیا تھا۔

ڈاکٹرعبدالسلام نے لا تعداد لیکچرز، انٹرویوز دیئے۔ ان کا موقف تھا کہ فزکس کے شعبے میں ان کی کامیابی اور بہترین کارکردگی اس انسائپریشن کی بدولت تھی جو انھوں نے اپنے عقائد سے حاصل کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ خدا کی واحدانیت کا تصور ہی تھا جس نے کائنات کی بنیادی اکائیوں کی یونیفکیشن کی تلاش میں ان کی کوششوں کو مہمیز لگائی تھی۔

ڈاکٹر عبدالسلام میرے سنئیر تھے اور میں مذہب جیسے حساس موضوع پر ان سے بحث کرنے کا خود کا اہل نہیں پاتا تھا لیکن ایک دن 1981 میں جرات کرتے ہوئے ان سے پوچھ ہی لیا کہ آپ اور سٹیون وین برگ( جنھوں نے ڈاکٹر عبدالسلام کے ساتھ نوبیل انعام شئیر کیا تھا) نےفزکس کے ایک ہی شعبے میں علیحدہ علیحدہ کام کیا لیکن دونوں ایک ہی نتیجے پر پہنچے تھے آپ کی انسائپریشن آپ کے دینی عقائد تھے جب کہ سٹیون وین برگ تو دہریہ تھا۔۔یہ کیسے ہوا؟

میرے اس سوال کا جواب ڈاکٹر عبدالسلام نے میری کتاب کے دیباچہ میں یہ لکھ کر دیا کہ میں تصدیق کرتا ہوں کہ ہود بھائی کا موقف درست ہےٗ۔اور پھر انھوں نے بڑی وضاحت یہ بیان کیا کہ کس طرح غیر شعوری طور پر اللہ کی وحدانیت کے تصور نے ان کے فزکس کے میدان میں کائنات کی بنیادی مظاہر کی یونیفکیشن کے تصور تک پہنچنے میں میری مدد کی تھی۔

اس میں رتی برابر شبہ نہیں کہ سلام نے اپنی ریسرچ میں وہ ٹولز استعمال کئے تھے جو سٹیون وین برگ نے اپنی ریسرچ میں استعمال کئے تھے۔ فزکس کے بنیادی اصولوں کو بنیاد بنا کرسلام نے جو ریسرچ کی اور نتائج اخذ کئے ان کا ان کے مذہبی عقائد سے کوئی تعلق نہیں تھا۔سلام اور راما نجن خواہ جو مرضی کہتے رہیں ان کے فزکس اور ریاضی کے کام میں ان کے مذہبی عقائد کوئی تعلق نہیں ہے۔

سلام اور سٹیون وین برگ کا جو کام ہے وہ عظیم سائنس دانوں۔۔۔ آئن سٹائن، پالی، ڈیراک، وہیلر اور فنمن کے پہلے سے کئے گئے کام کی بدولت ممکن ہوا تھا۔ان سائنس دانوں کے ذاتی فلسفیانہ خیالات ایک دوسرے سے مختلف تھے لیکن سائنس کی حد تک ان میں اتفاق تھا۔

سلام کا کہنا کہ ان کی انسپائرشن ان کے دینی عقائد اور راما نجن کا یہ دعوی کے اس کی ریاضی کے میدان میں حیرت انگیز کارکردگی کا تعلق کسی دیوی دیوتا کی بدولت ہے کی معروضی تصدیق ممکن نہیں ہے لیکن سائنس کے میدان میں ان کے کارناموں کی تصدیق ہوسکتی ہے۔

سائنس اور مذہب کے مابین ترتیب ممکن نہیں ہے کسی سائنس دان کے لئے مذہب کا پیروکار ہونا یا نہ ہونا اضافی معاملہ ہے۔ سائنس دان کے لئے کسی مذہب کا پیروکار ہونا یا نہ ہونا سائنس کے میدان میں اس کی کارکردگی کو متاثر نہیں کرتا۔

سائنس ایسے ٹولز دریافت کرتی ہےجن کی بدولت اس کی ایجادات اور دریافتوں کو ماپا جاسکتا ہے جب کہ مذہبی عقائد کا تعین کسی فرد کا شخصی معاملہ تو ہوسکتا ہے لیکن اس کو عمومیت کی شکل دینا ممکن نہیں ہے۔

3 Comments

  1. نجم الثاقب کاشغری says:

    مذہبی عقائد کا تعین کسی فرد کا شخصی معاملہ تو ہوسکتا ہے لیکن اس کو عمومیت کی شکل دینا ممکن نہیں ہے۔لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مذہبی عقائد کو عمومی ہی نہیں بلکہ ہر کامیاب پاکستانی(خصوصاً عالمی شہرت یافتہ) کے شخصی عقائدکو “خصوصی” شکل بلکہ ایک قومی اور ملی فتنہ بنا دیا جاتا ہے۔

  2. نجم الثاقب کاشغری says:

    ۔”سائنس ایسے ٹولز دریافت کرتی ہےجن کی بدولت اس کی ایجادات اور دریافتوں کو ماپا جاسکتا ہے”۔
    بعض ساینسدانوں کوٹولز اور ایجادات وغیرہ خوابوں میں دکھائی گئیں،(مثلاً سیونگ مشین کی سوئی جو الٹی ہوتی ہے اور بینزین رِنگ جو آرگینگ کیمسٹری کی بنیاد ہے)۔ان کے “موجد” سائنسدانوں نے ان خوابوں کا ذکر کیا ہے۔خواب کوئی مذہبی عقیدہ تو نہیں لیکن “روحانیت” مین شمار ہوتے ہیں۔
    بہرحال جستجو کرنے والوں اور دن رات تحقیق و جستجو میں مصروف رہنے والوں کو ہی کامیابیاں نصیب ہوتی ہیں۔ایسے لوگ دنیا میں گنے چنے ہی ہوتے ہیں اور جو ایجادات وہ کرتے ہیں پہلے سے موجود نہیں ہوتی لیکن ان کا “ظہور” ان لوگوں کے ذریعہ سے ہوجاتا ہے ۔ جو چیز عالم غیب میں ہوتی ہے وہ منصہ شہود میں آجاتی ہے۔بہت سے نوبل انعام یافتہ سائنسدان اعتراف کرتے ہیں کہ گو وہ کسی مذہب کے ممبر یا ماننے والے تو نہیں لیکن ان کا “عالم روحانیت” سے ایک اپنا ذاتی قسم کا تعلق ضرور ہے جسے وہ بوجوہ ظاہر نہیں کرتے کیونکہ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہوتا ہے۔ لیکن جیسا کہ مصنف نے بھی فرمایا یہ عالم ہر ایک کا ذاتی اور شخصی معاملہ ہوتا ہے۔
    اب رہی یہ بات کہ ڈاکٹر سلام اپنی کامیابی کو مذہب کا رہین منت بتاتے رہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا،دونوں (سلام اور سٹیون وائن برگ) نے ایک جیسے ہی ٹولز استعمال کئے۔تو اس سلسلہ میں میری اپنی جو سمجھ اور رائے ہے وہ یہ ہے کہ مذہب کوئی ایسی چیز نہیں جو ہتھوڑے اور چھینی آسمان سے نازل کرتا ہے وہ بھی عقل وخرد کو ہی استعمال کرنے کا “حکم” دیتا ہے۔ڈاکٹر سلام اپنی کامیابی پر اپنے خدا کے شکرگزار نظر آتے ہیں تو ان کے عقیدہ کے مطابق اس کا انہیں “دوہرا اجر” مل جاتاہے۔یہ ان کا اپنا عالم روحانی تھا اور اس کا اظہار کرنے کا بھی انہیں پورا پورا حق حاصل تھا۔(یہ ایک ذوقی نکتہ ہے ،نفس مضمون سے اختلاف نہیں)۔
    آخر پہ”ٹولز” کے بارہ میں ایک ادنیٰ (بلکہ بھونڈی )سی مثال دونگا۔وہ یہ کہ ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی سر کرنے والے آکسیجن کے سلنڈر لگا کر چوٹی پہ پہنچتے ہیں جبکہ ان کا سامان اٹھا کر ان کے ساتھ ساتھ پہاڑ پہ چڑھنے والے مقامی”شرپا” بغیر آکسیجن سلنڈر لگائے اس ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹٰی پہ جا پہنچتے ہیں۔بنیادی طور پر جو “ٹول” استعمال ہو رہا ہوتا ہے وہ دونوں میں آکسیجن ہی ہوتا ہے لیکن شرپا کے جسم میں قدرتی طور پر سرخ خلیات کی کثرت ہوتی ہے جو ہوا کے کم پریشرمیں بھی زیادہ سے زیادہ آکسیجن سٹور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اس کے برعکس غیر مقامی کوہ پیما کے سرخ خلیات عام مقدار میں ہوتے ہیں اس لئے انہیں اضافی آکسیجن کے لئے سلنڈر ساتھ رکھنا پڑتا ہے۔عالم روحانیت کے منکر اور مذہب کو افیون ،کاربن مونو آکسائڈ یا سائنائڈ سمجھنے والے قارئین کو حق ہے کہ میری اس رائے کو تمسخر میں اڑا دیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر سلام کو “مذہبی آکسیجن” کا سلنڈر نہ ملتا تو شاید وہ جھنگ کے ایک دورافتادہ جانگلی گاؤں سے اٹھ کرنوبل پرائز حاصل کرنے کی چوٹی تک نہ پہنچ پاتے۔(خیال اپنا اپنا)۔

  3. BEAUTIFUL. WHAT A ANALYSIS. Waise ye kaha jia he ke jo koe bhe koshish kare ja usko result mile ja. Religion ka decision GOD khud kare ja. Ur wo is WORLD main nahe ho ja. har person ke choice he ke wo jaise chahe kam kare.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *