غازی محمود دھرم پال

لیاقت علی

غازی محمود دھرم پال انیسویں صدی کے آخری سالوں میں پنجاب میں مختلف مذاہب کے مابین جاری مناظرانہ مناقشوں میں ابھرنے والا ایک دلچسپ کردار تھا۔ غازی محمود دھرم پال کا اصل نام عبدالغفور تھا اور وہ 1882 میں ہوشیار پور میں پیدا ہوا تھا۔ اپنے تشکیلی دور میں وہ اسلامی تعلیمات کی بابت شکوک وشبہات کا شکار ہوگیا ۔ اس نے ایک سچے اور حقیقی دینی عقیدے کی تلاش میں مختلف مذاہب کا تقابلی مطالعہ کرنا شروع کردیا۔

دھرم پال اس وقت تک ایک پکا مسلمان تھا اور اسلامی عبادات کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں کرتا تھا۔ وہ تشکیک کی راہ پر کیسے چلا پڑا اس کے بارے میں غازی محمود دھرم پال نے خود لکھا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ ایک دن نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے مسجد گیا۔خطیب نے خطبہ جمعہ دیتے ہوئے کہا کہ جو مسلمان ماہ رمضان کے پورے روزے رکھتا ہے اسے اواخر رمضان میں ایک انتہائی شاندارروشنی مل جاتی ہے۔

غازی انتہائی باقاعدگی سے نماز پنجگانہ ادا کرتا اور ماہ رمضان کے روزے رکھتا تھا۔ اس نے کئی راتیں عبادت کرتے گذاریں تاکہ اسے وہ روشنی مل سکے جس کا ذکر خطیب نے اپنے جمعہ کے خطبہ میں کیا تھالیکن اسے وہ روشنی نہ مل سکی۔ مایوس ہوکر غازی نے مختلف انبیا علیہ السلام ، اولیا اللہ درویشوں اور بزرگان دین کے سوانح پڑھنا شروع کیے۔

تشکیک کا یہ سفر اسے ہندو مت کی ایک اصلاحی تنظیم دیو سماج کے قریب لے گیا۔ دیوسماج نے اس کے تعلیمی اور تحقیقی سفر میں مالی امداد فراہم کرنا شروع کردی۔1899 میں اپنے بھائی کے نام لکھے گئے اس کے خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مسلمان نہ رہا تھا کیونکہ ان خطوط میں اس نے اپنے نام کے ساتھ دھرم پال کا اضافہ کر لیا تھا اور خط میں مکتوب الیہ کو نمستے کہہ کر مخاطب کیا گیا تھا۔

دھرم پال دیو سماجی بن گیا اور 1901 میں ہونےوالی مردم شماری میں اس نے خود کو دیو سماجی کے طور پر رجسٹر کرایا تھا لیکن پھر یکایک غازی محمود دھرم پال نے دیو سماج سے ان کے ّغلط عقائد اورہیر ا پھیری کی بنا پرٗ علیحدگی اخیتار کر لی تھی۔ لیکن دھرم پال کے مخالفین الزام لگاتے تھے کہ دراصل اپنے عقائد کی تبدیلی کی بنا پر دھرم پال مسلمانوں اور ہندووں دونوں میں ناپسندیدہ شخصیت قرار پاچکا تھا۔

مزید براں اسے مالی مشکلات درپیش تھیں دیو سماج نے چونکہ اس کو اس کی خواہش کے مطابق مالی مدد فراہم نہیں کی تھی اس لئے اس نے دیو سماج سے قطع تعلق کر لیا تھا۔

عبدالغفورعرف غازی محمود دھرم پال گوجرانوالہ میں بطور ٹیچر کام کررہا تھا جس وقت وہ آریا سماج کے نظریاتی طور پر قریب ہوا تھا۔یہ انہی دنوں کی بات ہے جب وہ اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ ّ مذہب کے آریائی تصورات ہی سچے اور قابل عمل ہیںٗ۔

سنہ1903میں دھرم پال 21 سال کا ہوگیا اور تبدیلی مذہب کی راہ میں حائل رکاوٹ دور ہوگئی اور اس نے اسلام چھوڑ کر ہندو مت اختیار کر لیا اور اپنا نام بھی عبدالغفور سےدھرم پال رکھ لیا ۔دھرم پال کا اسلام چھوڑنے کی دیر تھی کہ آریا سماج نے اپنے عقائد نہ صرف سچے ہونے بلکہ ان کے مقبول ہونے کا ڈھول بھی پیٹنا شروع کردیا۔

آریا سماج نے دھرم پال کی ہندومت کو قبول کرنے کے اعزاز میں باقاعدہ تقریب منعقد کی لیکن یہ تقریب دھرم پال کی شرائط کے تحت ہوئی۔ دھرم پال نے آریا سماج کا یہ موقف تسلیم کرنے سے انکار کردیا کہ وہ کوئی شدھی ہوری ہے اس کے ساتھ ہی اس نے مونڈن کرانے سے بھی انکار کر دیا تھا۔

آریا سماجی بننے کے بعد دھرم پال نے ترک اسلام کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی تھی جس میں کم و بیش اسلام کے خلاف وہی دلائل دوہرائے گئےتھے جو آریا سماج کے بانی سوامی دیانند نے اپنی کتاب میں قبل ازیں دے چکا تھا۔ دھرم پال کا اسلام کا مطالعہ انتا گہر ا اور ہمہ پہلو نہیں تھا۔ اس نے اپنے نظریات کے فروغ کے لئے ایک رسالہ بھی جاری کیا تھا۔

دھرم پال کے رد میں اہل حدیث عالم دین مولانا ثنااللہ امرتسری اور جماعت احمدیہ کے حکیم نورالدین نے کتابیں لکھی تھیں۔ ایک موقع ایسا بھی آیا کہ دھرم پال کے آریا سماج سے اختلافات پیدا ہوگئے تھے ۔ اختلاف کی وجہ دھرم پال کی ایک ہندو بیوہ گیان دیوی سے شادی تھی۔ آریا سماجی ایک غیر برہمن کی ایک برہمن بیوہ سے شادی کے خلاف تھے۔

آریا سماجیوں کے اس رویہ سے مایوس ہوکر دھرم پال نے مختلف مذاہب کے رہنماوں اور علما کو خطوظ لکھے اور استفسار کیا کہ کون اسے اور اس کے بچوں کو قانونی مقام و مرتبہ دینے کو تیار ہے اس پر مولانا سلیمان منصورپوری نے دھرم پال کو اپنی حمایت اور تعاون کا یقین دلایا جس پر دھرم پال ان کے ہاتھ پر دوبارہ مسلمان ہوگیا۔

دوبارہ مسلمان ہونے پر دھرم پال نے لکھنے پڑھنے کا کام جاری رکھا اس کے نظریات کو اہل قرآن نظریات کے قریب سمجھا جاسکتا ہے۔ دھرم پال قیام پاکستان کے وقت نقل مکانی کرکے پاکستان آ گیا تھا اور یہاں ہی اس نے 1960 میں وفات پائی تھی۔

2 Comments

  1. نجم الثاقب کاشغری says:

    مولانا ثنا اللہ امرتسری اور اس دور کے دیگر علماء “قتل مرتد” اور توہین مذہب کی ان سزاؤں کے قائل نہ تھے جو آج کل کے پاکستانی خودساختہ مولوی پیش کرتے پھرتے اور عوام کو اس کا مکمل طور پر قائل کر چکے ہیں کہ جو بھی غلطی خوردہ یا کم علم مذہب کے بارہ میں تشکیک کا اظہار کرتایا مزید تحقیق کا طالب ہوتا ہے اسے بلوہ ،گھیراؤ جلاؤ کرکے ماورائے عدالت ہی نہیں ماورائے انسانیت قتل کردو اور پھر گلی کوچوں میں دندناتے پھرو۔
    اس زمانے میں علمی مناظرے (پرامن) ہوتے،کتابیں لکھ کر تبادلہ خیالات کیا جاتا تھا نہ کہ دوسروں کا جینا حرام کرکے۔بہت ہی زیادہ اختلاف بڑھ جاتا تو مباہلہ کی دعا کرکے اپنے اپنے گھروں میں بیٹھ رہتے اور بس۔ نہ کہ ڈانگ سوٹے چلاتے اور دھرنے دہتے۔اشد ترین مخالف علماء ایک دوسرے کے اجتماعات اور جلسوں میں بھی شریک ہوتے اور خاموشی سے فریق مخالف کی تقاریر سن کر گھر واپس آجاتے۔
    غازی محمود ثم دھرم پال ثم غازی محمود “ضیاءالحقی پاکستان “میں ہوتا تو دھرم پال بنتے ہی مسخ شدہ لاش بنا کر یا زندہ ہی جلا دیا جاتا۔ اور دوبارہ غازی محمود بننے کی نوبت ہی نہ آتی۔
    خوش قسمت تھا بچ گیا۔

  2. نجم الثاقب کاشغری says:

    مولانا ثناء اللہ امرتسری صاحب نے اپنی کتاب ” تُرک اسلام” کی طبع ششم کے دیباچہ میں دیانتداری کے ساتھ غازی محمود کا مندرجہ ذیل اعتراف بھی من و عن شامل کیا ہے کہ:۔”جب مولوی نورالدین صاحب(قادیانی)نے رسالہ “نورالدین” کے ذریعہ اور مولوی ثناء اللہ نے “ترک اسلام”وغیرہ کے ذریعہ اسلام اور ملا ازم کے درمیان ایک خط ممیزکھینچ دیا تو میری تصانیف کی قیمت ایک دیا سلائی کے برابر رہ گئی۔میرے اعتراضات کا جواب دینے میں ” نورالدین “کے مصنف کا نشانہ علمی معلومات کی بدولت بے خطا ہوتا تھا”۔
    دوسری بات مولانا ثناءاللہ صاحب کی یہ قابل ذکر اور قابل تعریف ہے کہ جس زمانہ میں عبدالغفور ترک ِ اسلام کر کے دھرمپال کے نام سے اسلام ،قرآن اور حدیث و سنت پر تنقیدی اور ہتک آمیز کتب و رسائل لکھ رہاتھا تو اس زمانہ میں مولاناصاحب موصوف نے اس سے کوئی نفرت کا سلوک ،قتل کا فتویٰ یا غیض وغضب کا اظہارنہیں کیا بلکہ خود ان کے الفاظ میں “میں نے مسٹر دھرمپال کوعلیحدگی کے دنوں میں بھی اسی محبت سے دیکھا جس محبت سے کوئی اپنے دورافتادہ عزیز کو دیکھا کرتا ہے !”۔(دیباچہ تُرک اسلام)۔
    پتہ نہیں یہ آجکل کے نام نہاد ٹھیکیداران اسلام “سر تن سے جدا، سر تن سے جدا” کی دہشت گردانہ گردان کہاں سے سیکھ کر اسے عام کر رہے ہیں۔ساری پاکستانی نوجوان نسل کو مشتعل دہشت گرد بنا کر رکھ دیا ہے۔
    اس ماحول میں مولانا ثناء اللہ صاحب کی شخصیت اور اصول کے اس پہلو کو عام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
    محبت اور دلائل کے ساتھ اور قلم کے ذریعہ اگلے کو قائل کرو نہ کہ ڈنڈوں اور چھریوں کے ذریعہ اپنی جاہلیت اور جہالت کوچھپانے کی یہ بھونڈی کوششیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *