شکر کرو زینب جان سےمر گئی

عبدالرحمن وڑائچ

حامد : یار ابھی ابھی اک خبر سنی ہے !۔قصور میں ایک چھوٹی سی بچی زینب کو ریپ کےبعد قتل کر دیا گیا ہے ۔نعش کوڑے کے ڈھیر پر ملی ہے ۔

عمر : بڑے افسوس کی بات ہے یار۔چلو چار دن ہمارے میڈیا میں بعض لوگوں کو ہماری سوسائٹی کو لعن طعن کرنے اور مغرب کے قصیدے پڑھنے کا تو موقع مل جائے گا۔

حامد : نہیں یار یہ بات نہیں اک معصوم کلی تھی۔

عمر : چھوڑو یار ! یہ ریپ تو امریکا میں بھی ہوتے ہیں ۔ آپ نے اوریا مقبول جان کی وہ بات نہیں سنی جو وہ اکثر اپنے کالم میں لکھتے رہتے ہیں کے سب سے زیادہ ریپ امریکا میں ہوتے ہے۔

حامد : لیکن یار ! امریکا میں ریپ ایسے چھوٹی چھوٹی بچیوں کے ساتھ نہیں ہوتے ، ویسے بھی جرم کے ہونے سے کسی ریاست میں قانون کی حکمرانی نہیں جانچی جا سکتی ، وہاں دن میں جتنے ریپ ہوتے ہے، ان کی عدالتیں اسی دن اتنے ہی مجرموں کو سزائیں بھی دیتی ہیں ۔

عمر : ہمارے ملک بھی تو سزائیں ہوتی ہیں؟یار تم تو ویسے ہی مغرب کے ٹٹو ہو۔

حامد : ہمارے ملک میں قانون میں ایسے لوگوں کے لئے بہت نرم گوشے ہیں ۔ یہاں اگر ایک عورت کا ریپ ہو جائے تو اکثر مجرم محض اس لئے رہا ہو جاتے ہیں کہ عورت بیچاری چار گواہ نہیں پورے کر پاتی ، ابھی کل تک کی بات ہے ہمارے علما اس سلسلے میں ڈی این اے ٹیسٹ کی بھی محالفت کرتے رہے ہیں ۔

عمر مجھے پتا ہے اب تم وہ گندی بات کروں گے جو تم نے کچھ دن پہلے زینب ملک کی انگریزی اخبار ڈان میں پڑھی تھی، کے پاکستان میں دو انگلیوں والا ٹیسٹ آج بھی کیا جاتا ہے، یہ دیکھنے کےلئے کہ آیاریپ کی شکایت درج کرنے والی خاتون جنسی عمل کی عادی تو نہیں تھی۔ ہےنا ؟

عمر : اس ٹیسٹ میں کیا حرج ہے یار ؟

حامد : حرج! تم ہی بتاؤ کیا ایسی خواتین اب انصاف کی حق دار نہیں رہیں۔

عمر : بس کرو تم آگے سے نئی فلسفی منطق نکال لیتے ہو۔دیکھو نا ! آج کل تو لڑکیاں خود ریپ کی ذمہ دار ہیں ۔ جس طرح کی انھوں نے جینز پہنی ہوتی ہیں ، گلے کھلے چھوڑے ہوتے ہیں ایسے میں تو کوئی اسی سال کا بزرگ بھی ریپ کے لئے تیار ہو جائے ۔

حامد : اوے! مگر زینب جیسی چھوٹی سی بچی کے جسم میں ایسا کیا تھا جو آپ کے جانور بھپر گئے۔

ابھی شکر کرو زینب جان سےمر گئی

اگر زندہ بچ جاتی تو بھی غیرت کے طعنےاسے چین سے جینے نہ دیتے۔اور ٹانگوں کے درمیاں لگا زحم اس کے لیے وبال جان بن جاتا۔اس کی ایک وجہ ہماری جنسی گھٹن بھی ہے ، معاشرے میں جس قدر جنسی گھٹن ہے، یہ پشین گوئی کرتی ہے کہ اگلے آنے والے سالوں میں تو آپ کے جانور بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔اور ہمیں ان کو بھی جنسی درندگی سے بچانے کے لئے قانون سازی کرنا پڑے گی۔وہ واقعہ یاد ہے جس میں ایک وحشی درندہ قبر سے خواتین کی لاشیں نکال کر جنسی ظلم کرتا تھا ۔

عمر : بس کر یار !تم اپنے مغرب کی بات کرو ، دیکھا نہیں انہوں نے ہر طرف پورنوگرافی پھیلائی ہوئی ہے۔

حامد : کیوں تم ہی بتاؤ کیا پورنوگرافی میں تمہیں بچوں کا استعمال نظرآتا ہے؟ ہم تو ان سے بھی گرے ہوے ہیں جہاں معصوم بچے بھی محفوظ نہیں، قصور والا واقعہ یاد کرو۔ انڈیا میں پچھلے دنوں ملکہ کا عریاں شو کا بھی آپ نے سنا ہوا ہو گا۔ اس نے بھی اس سلسلے میں آگاہی پھیلانے لئے یہ سلسلہ شروع کیا ہوا ہے

عمر : ہوں او کے ۔ اب شہباز شریف نے ڈی پی او معطل کر دیا ہے تم اب جان چھوڑ دو اس معاملے کی۔

حامد : ڈی پی او کو اتارنے سے کام نہیں بنے گا ،جناب ہمیں اب پورے معاشرے کو اس سلسے میں ایسے اقدامات کرنے پڑیں گے جس سے اس کی حوصلہ شکنی ہو ۔سب سے پہلے ہمیں ملکی قانون سے وہ نرم گوشے دور کرنا ہوں گے ، پھر یہ رویہ کہ ریپ کی وجہ عورت کا لباس اور چال ڈھال ہے، اسے بدلنا ہو گا ، اور اس کا ذمہ دار مرد کی ہوس کو قرار دینا ہو گا۔ جنسی گھٹن کو کم کرنا پڑے گا۔تبھی جا کر اس سلسلے میں کمی کی توقع ہے ورنہ ہم کتنے ڈی پی او بدلیں گے۔

One Comment

  1. نجم الثاقب کاشغری says:

    اگر زینب زندہ رہ جاتی تومولوی کی عدالت چار عاقل بالغ گواہوں کی وقوعہ کے وقت عدم موجودگی کی بنیاد پر اسے زنا کی مرتکب قرار دے کر سنگسار کروا دیتی۔یا کم از کم ملزم کو بری کردیتی۔ کیونکہ چار گواہوں کی عدم دستیابی سے ریپ شدہ لڑکی یا عورت ہی کو بد چلن اور فاحشہ کوثابت کیا جاتا ہے۔
    پاکستان میں پہلے ایک نابینا لڑکی کے ریپ کے واقعہ میں ایسا ہو چکا ہے۔ الٹا اسے ہی زانیہ قراردے کر قید کی سزا دے دی گئی تھی۔ ہمارے بعض لیڈران از قسم راجہ ظفرالحق اس قسم کی شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں۔
    باقی جہاں تک جنسی گٹھن والی بات ہےتویاد رکھیں کہ پر تشدد جنسی جرائم نفسیاتی امراض میں شمار ہوتےہیں۔مغربی ممالک میں ان پر بہت تحقیق ہو چکی ہے۔ان لوگوں کی نفسیات کے علاوہ ان کا ہارمون سسٹم بھی خراب ہوتا ہے۔اس کا علاج یہ نہیں کہ معاشرے میں جنسی گٹھن کو کم کرنے کے سامان کئے جائیں۔”چکلے” کھول دئے جائیں۔سیکس ورکر انڈسٹری قائم کردی جائے اور سیکس ورکروں کو لائسنس جاری کئےجائیں تاکہ جنسی گٹھن کم کی جا سکے بلکہ اس کا علاج امریکہ کی طرز پر ایسے درندوں کو آپریشن کے ذریعہ یا ادویات دے کر خصی کرنا ہے۔
    ہم لوگ امریکہ کی طرز کی فری سوسائٹی کی بات توکرتے ہیں لیکن امریکہ میں رائج اس قسم کی سائنٹفک سزاؤں کواپنانے کی بات نہیں کرتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *