امریکی دھمکیاں اور پاکستانی ریاست کی مستقل مزاجی

امریکا نے پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ’ڈبل گیم‘ کھیل رہا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر اسے امریکی امداد چاہیے تو اسے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارا سینڈرز نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا، ’’وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مزید اقدامات کر سکتے ہیں۔ ہم ان سے یہی چاہتے ہیں۔‘‘۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اگلے چند روز میں وہ پاکستان کی بابت نئے اقدامات کا اعلان کر دیں گے، تاکہ پاکستان پر دباؤ میں اضافہ کیا جائے۔ اس سے قبل اقوام متحدہ میں تعینات امریکی سفیر نِکی ہیلی نے کہا تھا کہ واشنگٹن حکومت پاکستان کو دی جانے والی 255 ملین ڈالر کی امداد روک رہی ہے۔

نیویارک میں صحافیوں سے بات چیت میں ہیلی نے کہا، ’’اس کی ایک بڑی واضح وجہ ہے۔ پاکستان کئی سالوں سے ڈبل گیم کھیل رہا ہے۔ وہ ایک ہی وقت میں ہمارے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں اور ساتھ ہی وہ دہشت گردوں کو پناہ بھی دیتے ہیں، جو افغانستان میں ہمارے فوجیوں پر حملے کرتے ہیں‘‘۔

ان کا مزید کہنا تھا، ’’یہ کھیل امریکی انتظامیہ کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔ ہم پاکستان سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون میں بے حد اضافہ چاہتے ہیں‘‘۔

یہ بات اہم ہے کہ نئے سال کے آغاز پر اپنے پہلے ٹوئٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان کو پچھلے پندرہ برسوں میں بے وقوفانہ طور پر اربوں ڈالر کی امداد دی گئی، مگر اس کے بدلے پاکستان کی جانب سے امریکا کو فقط جھوٹ اور دھوکا ملا۔

اپنے ٹوئٹر پیغام میں ٹرمپ کا کہنا تھا، ’’جن دہشت گردوں کو ہم افغانستان میں ڈھونڈتے ہیں، وہ انہیں اپنے ہاں محفوظ جگہ دیتے ہیں اور ہماری بہت کم مدد کرتے ہیں، مگر اب بس‘‘۔

امریکی صدر اور انتظامیہ کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دوغلا کردار ادا کرنے کے بیان  پر پاکستانی ریاست کے ردعمل سے واضح ہوتا ہے پاکستان ابھی بھی انتہا پسندوں کے خلاف کاروائی کرنے کو تیار نہیں۔الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق پاکستان امریکہ کو انتہا پسندوں کو پالنے کا مورودِ الزام ٹھہرا رہا ہے۔

پاکستان کی سویلین اور عسکری قیادت نے منگل کے ان الزامات کو ’ناقابل فہم‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ پاکستان نے امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل کو اسی تناظر میں دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج بھی کیا۔

اقوام متحدہ میں تعینات پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوت سے کارروائیاں کرتا رہا ہے اور یہ کارروائیاں کسی امداد کے لیے نہیں بلکہ قومی مفادات اور اصولوں پر کی گئیں۔

ہم نے اپنا حصہ ملایا اور بین الاقوامی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دیں اور اسی تناظر میں دنیا کا سب سے بڑا انسدادِ دہشت گردی آپریشن ہم نے کیا۔ اگر ہمارے تعاون کو سراہا نہیں جاتا، تو ہم اس پر نظرثانی کریں گے‘‘۔

DW/News Desk

One Comment

  1. نجم الثاقب کاشغری says:

    ان معاملات پر تبصرہ کےلئے غالبؔ بھائی سے موزوں اور کوئی نہیں جنہوں نے غالباً اسی صورتحال کےلئے فرمایا تھا کہ

    وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے، ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں
    سبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سرگراں کیوں ہو
    کیا غم خوار نے رسوا، لگے آگ اس محبت کو
    نہ لائے تاب جو غم کی، وہ میرا رازداں کیوں ہو
    یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے
    ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
    یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیں
    عدو کے ہولئے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو
    نکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تو غالب
    ترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پہ مہرباں کیوں ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *