اینٹ کا جواب پتھرسے دو

بیرسٹر حمید باشانی

صدر ٹرمپ کے بیان پر پاکستان میں سخت رد عمل جاری ہے۔ ایک رد عمل وہ ہے جس میں غصہ ہے، اشتعال ہے۔ یہ رد عمل ان لوگوں کی طرف سے ہے جو کہتے ہیں کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دو، ڈٹ جاؤ، قومی غیرت و حمیت کا ثبوت دو۔ فاقے کرو، گھاس کھاؤ ۔ ان لوگوں کی اس خاص سوچ کا انحصار کئی عوامل پر ہے۔۔ ان عوامل میں تاریخ اسلام کی مشہورجنگیں، شاندار فتوحات، ایمان افروز واقعات، بہادری و شجاعت کی داستانیں، قومی احساس تفاخر، مذہبی جوش اور جذبہ جہاد وغیرہ شامل ہیں۔

یہ نیک دل لوگ ہیں۔ غیرت پر مر نے مارنے لیے تیار ہیں۔ ان کی نیتوں پر شبہ نہیں۔ مسئلہ مگریہ ہے کہ یہ لوگ اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں نہیں پڑتے۔ جمع تفریق کا تردد نہیں کرتے۔ جیو پولیٹیکل یا جیو سٹریٹجک تھیوریاں نہیں پڑھتے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ لوگ ملٹری سانئس کے اصول نہیں جانتے، یانہیں مانتے۔ یہ لوگ فوجی معرکوں میں فوجی طاقت، معاشی اور تیکنیکی برتری اور دیگر مادی ذرائع کے بجائے غیر مادی ذرائع کو فیصلہ کن عنصر تسلیم کرتے ہیں۔ 

دوسرے وہ لوگ ہیں جو سانئس وٹیکناجی پر یقین رکھتے ہیں۔ ملٹری سانئس بھی جانتے ہیں۔ جنگوں میں ہار جیت کے عوامل سے بھی واقف ہیں۔ یہ لوگ نئی عالمی صف بندیوں اور طاقت کے توازن پر بھی نظر رکھتے ہیں۔ جنگ کی معاشی ضروریات سے آگاہ ہیں۔ جنگی حرکیات بھی جانتے ہیں۔ مگر حیرت انگیز طوران لوگوں کا خیال بھی پہلی قسم کے لوگوں کی طرح یہ ہے کہ ہمیں ڈٹ جانا چاہیے۔

ان کی دلیل یہ ہے کہ امریکی بالادستی سے جان چھڑانے کا یہ سنہری موقع ہے۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ دنیا بدل چکی ہے۔ نئی عالمی صف بندیاں ہو چکی ہیں۔ اب امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور نہیں رہا ہے۔ امریکہ اب دکھاوے کی طاقت ہے۔ دنیا اب یونی پولر نہیں ہے۔ ملٹی پولر ہے۔

روس گزشتہ دو تین عشروں سے امریکی بالادستی کے خلاف خاموشی سے تیاری کر رہا ہے۔ اس تیاری کا مظاہرہ اس نے مشرق وسطی میں کیا ہے۔ اپنی فوجی اور سفارتی صلاحیت دکھائی ہے۔۔ یوکرائن میں اپنی طاقت اور عزائم کا مظاہرہ کیا۔ مغربی یورپ اور امریکہ کی طرف سے معاشی پابندیوں کا مقابلہ کیا ہے۔ روس اپنی فوجی اور تیکنیکی صلاحیتوں میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے۔ اس نے اپنی فوجی اخراجات میں کئی گنا اضافہ کیا ہے۔ اس نے آنے والے چند برسوں میں اپنی فوجی مشینری کو جدید بنانے کے لیے منصوبہ بندی شرو ع کر دی ہے۔ اس طرح روس امریکہ کے پیدا کردہ خلا کو پر کرنے اور امریکہ کی واحد طاقت ہونے کے رتبے کو چیلنج کرنے کے لیے تیار ہے۔ 

دوسری طرف چین ہے۔ وہ ایک متبادل سپر پاور بننے لیے بے تاب ہے۔ چین عالمی سطح پر اپنی معاشی برتری ثابت کر چکا۔ اب یہ سیاسی ، نظریاتی، اور انتظامی برتری چاہتاہے۔ چین کے ان عزائم کا اندازہ چینی کمیونسٹ پارٹی کی تازہ دستاویزات سے ہوتا ہے۔ چین ایک خاص برانڈ کے معاشی نظام کو مستحکم کر رہا ہے۔ یہ برانڈ مغرب کی جدید سرمایہ داری، پوسٹ ماڈرن ازم اور نیو لبرل ازم کے تصورات سے ہٹ کر ریاست اور نجی سرمائے کی ایک خاص شرکت داری پر مبنی ہے ، جسے وہ سوشلزم کہتاہے۔ چینی کمیونسٹ پارٹی کے گزشتہ سال کے اجلاس میں ان تصورات پر بحث ہوئی ہے۔

دوسری طرف نظریاتی محاذ پر چین مغربی جمہوریت کے تصورات کو رد کرتے ہوئے یک جماعتی سیاسی نظام کی برتری ثابت کر نے کی کوشش کر رہا ہے۔ ملک میں پائی جانے والی بد عنوانیوں کے خلاف سخت اقدامات کے ذریعے وہ انتظامی سطح پر اپنی مہارت میں اضافہ کر رہا ہے۔ چینی دانشوروں کا خیال ہے کہ اگر دنیا کا ایک بڑا حصہ چین کی تجارتی اور معاشی برتری تسلیم کر سکتا ہے تو سیاسی اور نظریاتی برتری منوانے میں میں کوئی بڑی رکاوٹ نہیں ہونی چا ہیے۔ خصوصا جب ڈونلڈ ٹرمپ کی تنگ نظرقوم پرستانہ پالیسی کی وجہ سے عالمی سیاست میں قیادت کاخلا پیدا ہو رہاہے۔

ان حالات میں پاکستان میں ایک حلقے میں یہ سمجھا جا رہا ہے کہ امریکہ کا سورج ڈوب رہا ہے۔ مشرق سے ایک نیا سورج طلوح ہو رہا ہے۔ روس اور چین اگر بالکل ہی کچھ نہ کریں تو کم ازکم واحد سپر پاور کا نظام ختم کر دیں گے، جس میں پہلے ہی بڑی دارڑیں پڑچکی ہیں۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان بہت پہلے اس صورت حال کو بھانپ چکا تھا۔ چنانچہ اس نے خاموشی سے روس کے ساتھ تعلقات استوار کرنے شروع کیے۔ کئی مشترکہ کانفرنسیں اور مکالمے ہوئے۔ روس سے بد اعتمادی کا رشتہ بدلا۔ سفارتی کوششوں سے اس حد تک اعتماد پیدا ہواکہ مشترکہ فوجی مشقیں تک بھی ممکن ہو گئیں۔ 
اس کے ساتھ ساتھ چین کے ساتھ پہلے سے موجود گہرے تعلقات کو ایک نئی جہت دی گئی۔ عالمی اور علاقائی سطح پر چین کے ساتھ اپنی پالیسیوں کو ہم آہنگ کیا گیا۔ اعتماد ، دوستی اور اشتراک عمل ایک خاص سطح تک پہنچے جس سے سی پیک جیسے مشترکہ منصوبے شروع ہوئے۔ یہ ساری کوششیں در اصل امریکہ پر غیر ضروری انحصار اور ایک آزادانہ خارجہ پالیسی کی تشکیل کے لیے تھیں۔

ان دونوں قسم کے دلائل میں کچھ نہ کچھ وزن ضرور ہے۔ دنیا میں طاقت کا توازن بھی بدل رہا ہے۔ نئی صف بندیاں بھی ہو رہی ہے۔ مگر امریکہ سے لڑنے کا مشورہ دینے والوں کو اس بات پر بھی غور کرنا کہ امریکہ عالمی سیاست میں جو نیا انداز اختیار کر رہا ہے وہ کیوں ہے۔ اس نئے انداز سیاست اور سفارت کے پیچھے امریکہ کی کوئی فوری معاشی یا سیاسی مجبوری نہیں ہے۔

نئی امریکی لیڈرشپ دنیا کو ایک خاص تناظر میں دیکھتی ہے۔ اس کی اپنی جمع تفریق ہے۔ اپنا بیانیہ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کے قریبی رفقا کا خیال ہے کہ امریکہ اب تک دنیا کے ساتھ اپنے لین دین میں وہ قیمت چکا تا رہاہے جو ضروری نہیں تھی۔ دو طرفہ تعلقات میں ہر ملک اس سے ناجائز فائدہ اٹھاتا رہا ہے۔ اس زمرے میں انہوں نے اپنے قریب ترین حلیفوں کو بھی شامل کیا۔ اور سب کو تحکمانہ انداز میں اپنا حصہ ادا کرنے کو کہا۔

جس کا دوسرا مطلب یہ تھا کہ امریکہ کے ساتھ دفاعی اشتراک ہو یا تجارتی ، کسی کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ سب کو اپنا بوجھ اٹھانا ہے ۔ اس عمل میں اس نے یوروپین یونین سے لیکر کینیڈا جیسے قریبی دوستوں کو بھی کسی قسم کی رعایت نہ دی۔ یہی کام نرم مزاجی اور میٹھی سفارتی زبان سے بھی ہو سکتا تھا۔ مگر صدر ٹرمپ نے یہ کام اپنے انداز یعنی ٹویٹر اور دھمکی آمیز بیانات سے لیا۔ ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں نے بھی یہ انداز پوری طرح اپنا لیا۔ اس کی پرواہ کیے بغیر کہ اس سے عالمی سطح پر امریکہ کی عزت و تو قیر پرکتنا فرق پڑتا ہے۔ 

حال ہی میں اقوام متحدہ کے اندر اس نئے انداز کی جھلک دکھائی دی ہے، جہاں امریکی مندوب کا رویہ ہتک آمیز تھا۔ انہوں نے یروشلم کے مسئلے پر اختلاف رکھنے والے ملکوں کو دھمکایا۔ عامیانہ انداز میں اپنے احسانات جتائے۔ امریکی امداد وصول کرنے کا طعنہ دیا۔ اس کا انداز ایک ناراض اور غصیلے سکول ماسٹر کی طرح تھا ، جو شاگردوں کو لاٹھی سے ہانکنے کا عادی ہو۔

پاکستان کے ساتھ دہشت گردوں کے مسئلے پر یہی نیا انداز بیان اور نیا طریقہ اپنا یا گیا۔ اس نئے انداز کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ امریکہ ابھی تک معاشی اور فوجی اعتبار سے ایک سپر طاقت ہے۔ وہ آج بھی ہماری اس دنیا میں کوئی بھی فوجی مہم جوئی شروع کرنے اور طویل مدت تک جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اپنی جگہ پر ڈٹ جانے اور امریکہ سے جنگ کرنے کا مشورہ دینے والوں کو یہ تلخ حقیقت بھی پیش نظررکھنی چاہیے۔ یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ آج کے دور میں جنگیں صرف جذبوں سے نہیں بہتر سانئس ، ٹیکنالوجی اور معاشی برتری سے ہی لڑی اور جاری رکھی جا سکتی ہے۔ رہا سوال جیت کا تو ، آج کے دور میں ، آخری حساب کتاب میں کوئی بھی جنگ جیتتا نہیں۔ جیتنے والا بھی ہارتا ہے اور ہارنے والا بھی ہارتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *