Stop Nana, don’t touch my belly

آصف جاوید

میں کینیڈا کے شہر ٹورونٹو میں رہتا ہوں، مجھے یہاں رہتے ہوئے تقریبا” 20 سال ہوگئے ہیں۔ میرے بچّے یہیں پلے بڑھے، یہیں ان کی شادیاں ہوئیں،  میری نواسی اب  تقریباپانچ سال کی ہوگئی ہے، اسکول جاتی ہے۔   نانا نانی کی گود میں ہی پل کر بڑی ہوئی ہے، اس کی ماں  ٹورونٹو کے ایک بنک میں ڈیٹا سائنٹسٹ ہے، ہمارے پڑوس میں ہی ان کا گھر ہے، صبح جب دونوں میاں بیوی کام پر جاتے ہیں تو نواسی کے اسکول چھوڑتے ہوئے جاتے ہیں، تین بجے اسکول کی چھٹّی ہوتی ہے تو نانا یا نانی میں سے کوئی جاکر کر اسے اسکول سے لے آتا ہے، پھر نواسی ہمارے پاس ہی ہوتی ہے،  ساتھ میں اس کا ایک دو سال کا بھائی بھی ہوتا ہے۔ شام کو ماں باپ کام سے واپس آکر اسے لے جاتے ہیں۔ بچّوں  کا ویک اینڈ بھی ہمارے ساتھ ہی گزرتا ہے۔ نواسے اور نواسی سے میں اکثر کھیلتا رہتا ہوں ، نواسی سے ہنسی مذاق ، چھیڑ چھاڑ بھی چلتی رہتی ہے، بہت لطف آتا ہے۔

ابھی چند دن کی بات ہے، میں  نواسی کے ساتھ کھیل رہا تھا، ازراہِ مذاق  میں نے اس کے پیٹ میں  گدگدیاں کردیں، اس نے بہت ہی حیرت انگیز رویّے کا مظاہرہ کیا، کہنے لگی

Stop Nana, don’t touch my belly. It is a bad manner.

پھر چیخ کر اپنی نانی کو بتایا کہ نانا میری بیلی کو ٹچ کررہے تھے۔  میری بیوی مجھ پر ناراض ہونے لگی کہ اس کے ساتھ ایسا مذاق مت کیا کرو، اس کو اسکول میں بتایا جاتا ہے کہ   تمہارے جسم کے حسّاس مقامات کونسے ہیں، جب کوئی تمہارے پرائیویٹ باڈی پارٹس کو ٹچ کرے تو تم اس کو ایسا مت کرنے دو، فورااپنی ٹیچریا  ممی ڈیڈ ی کو بتاؤ، یہ بری بات ہوتی ہے۔   اس کی ماں بھی گھر میں اس  کو مینرز سکھلاتی ہے۔

دنیا کے ہر مہذّب ملک میں بچّوں کو  لائف اسکلز سکھائے جاتے ہیں، ان کو اچھّے اور برے برتاؤ کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ جنسی تشدّد سے

بچاؤ کے طریقے سکھائے جاتے ہیں، بچّوں کو بیماریوں سے بچاؤکے طریقے،   صحت مند رہنے کے اصول، عمر کے ساتھ ہونے والی  جسمانی  تبدیلیوںاور جنسی اعضاء کے افعال، کھیل کود، جسمانی ورزش، حفظانِ صحت کے اصول ،  فرسٹ ایڈ، کسی حادثے ، تشدّد یا جنسی حملے کی صورت میں حفاظتی  طریقوں کی تربیت دی جاتی ہے۔  صوبہ اونٹاریو کے پبلک اسکولوں میں گریڈ ون(پہلی جماعت) سے بچّوں کو ہیلتھ اینڈ  فزیکل ایجوکیشن نصاب پڑھایا جاتا ہے ۔

کینیڈا میں ہیلتھ اینڈ فزیکل ایجوکیشن کا نصاب دو حصّوں پر محیط ہے، گریڈ ایک سے گریڈ آٹھ اور گریڈ  نو سے گریڈ بارہ۔ ہر گریڈ کے لئے نصاب میں پڑھائے اور سکھلائے جانے والے علم کے بارے میں تفصیلی مواد اور ہدایات موجود ہیں۔

سنہ 2015 میں نافذ کئے جانے والے اِس ترمیم و اضافہ شدہ نصاب کی تیّاری میں پورے اونٹاریو کے 4000 اسکولز   کے  پرنسپلز ، والدین کی کونسلز کے منتخب سربراہان،  ماہرین تعلیم، بچّوں کی نفسیات کے ماہرین، جسمانی صحت کے ماہرین، ڈاکٹرز،  اساتذہ، کھیل کود اور غیر نصابی سرگرمیوں کے ماہرین کی آراء اور مشوروں کو شامل کیا گیا  تھا۔ نصاب میں تمام تبدیلیاں تحقیقی مواد ، اعداد و شمار، اور کمیونٹی فیڈ بیک، اور نئی معاشرتی تبدیلیوں، قانونی تبدیلیوں کو پیشِ نظر رکھ کر کی گئی تھیں۔  اس تعلیم کا مقصد بچّوں کو جنسی استحصال سے بچانا ہے، جس میں انٹرنیٹ کے ذریعے بچّوں کو ورغلا کر جنسی بے راہ روی سے بچانا بھی شامل ہے۔

اونٹاریو اسکولوں میں بچّوں کو جنسی تعلیم ہمیشہ سے دی جاتی ہے۔ نئے نصاب میں قانون اور ٹیکنالوجی کا امتزاج شامل کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر شادی شدہ جوڑوں کی اقسام میں تبدیلی کا ذکر کیا گیا ہے ۔ یعنی مرد کی مرد سے اور عورت کی عورت سے شادی ، سوشل میڈیا، اور ڈیجیٹل سیفٹی کو نصاب میں شامل کیا گیا ہے۔

  سنہ2015 کے نصاب میں زیادہ معلومات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ مواد کی تشریح کو اساتذہ کی صوابدید پر نہیں چھوڑا گیا ہے۔  بلکہ واضح تشریحات دی گئی ہیں، تشریحات کا یکساں معیار مقرّر کیا گیا ہے۔ اساتذہ اکرام کو واضح گائیڈ لائنز دی گئی ہیں کہ وہ کیوں اور کیسے تعلیمی مواد کی تشریح کریں۔ والدین بھی اس نصاب سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔  قابلِ اعتبار بالغان یعنی والدین، اساتذہ، ڈاکٹرز، ماہرین نفسیات، سے بھی جنسی معاملات کے اختیار میں رہنمائی لینے کی سفارش بھی نصاب میں کی گئی ہے۔

 بچّوں کو دی جانے والی تعلیم ماہر اساتذہ اکرام اور ماہرین تعلیم کے زریعے ہی ممکن ہے،  والدین کو  اکثر وہ مہارتیں  اور علم حاصل نہیں ہوتا جو کہ نصاب کا حصّہ ہے ۔ لہذا  تعلیمی مواد کی تشریح قابل ، تجربہ کار، اور ٹرینڈ اساتذہ اکرام کے ذریعے ہی ممکن ہے، او ر یہ خدمات صرف باقاعدہ اسکول ہی دے سکتے ہیں۔

اپنی  نواسی اور کینیڈا کے اسکولوں میں دی جانے والی جنسی تعلیم کی مثال دینے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ  بچّوں کو جنسی اعضاء کے افعال، اور جنسی تشدّد سے بچاؤکے بارے میں آگاہی دینا بہت اہم ہے، بچّوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ ان کے ساتھ کیا کچھ ہو سکتا ہے، اور وہ کیسے اپنا بچاؤ کریں۔  بچّوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ پیڈوفیلیایعنی بچّوں سے جنسی لذّت حاصل کرنا ایک بیماری ہے، اور قریبی رشتوں سے بھی جنسی تشدّد (انسیسٹ)  کا خطرہ رہتا ہے۔

  پاکستانی معاشرے کی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم یہ ماننے کو تیّار ہی نہیں ہیں کہ ہمارا معاشرہ پیڈوفائلز اور انسیسٹ کے خطرات سے دوچار ہے، اور ماں باپ کے علاوہ کوئی اور رشتہ قابلِ بھروسہ نہیں ہے۔  بچّوں کے ساتھ جنسی تشدّد، بدفعلی کے واقعات عام ہیں،  اقامتی دینی  مدارس میں تو یہ ایک کلچر کی حیثیت رکھتے ہیں۔  قریبی رشتوں سے جنسی تشدّد کے واقعات عام ہیں مگر رپورٹ نہیں ہوتے۔

 ہمارے تحت الشعور میں تو یہ سب مسائل  ہوتے ہیں ، مگر سوسائٹی اور نصابِ تعلیم ان موضوعات پر گفتگو  کرنے اور تعلیم دینے سے     معذور ہے۔   نو ، دس سال کی کم سن بچیوں سے بوڑھے مردوں کی شادی کے واقعات سوسائٹی میں قبول عام ہیں اور انہیں سنّت کی پیروی کا درجہ حاصل ہے۔  اگر کوئی اس پر بات کرے تو اس  پر توہینِ مذہب کی تلوار تان لی جاتی ہے۔  جنس کے فطری  معاملات اور مسائل کو احساسِ جرم اور احساسِ گناہ  سے منسلک کردیا گیا ہے، ایسی احادیث بھی موجود ہیں جِن میں میاں بیوی اگر اندھیرے کی بجائے روشنی میں مباشرت کریں تو ان کو اندھی اولاد  اور فرشتوں کی لعنت  کی وعید دی جاتی ہے۔   

ہمیں من حیث القوم اپنے بچّوں کے مستقبل کے بارے میں سوچنا ہوگا،  ان ٹیبوز یعنی سوشل ممنوعات پر کھل کر بات کرنی ہوگی جن کا ہمارے معاشرے کو سامنا ہے، ہمیں ایک باشعور قوم کی حیثیت سے ان مسائل کا فکری، عملی، تعلیمی، قانونی  حل نکالنا ہوگا۔ اپنے بچّوں کو خطرات  سے بچانے کے لئے انہیں سیلف ڈیفنس کی تربیت دینی ہوگی۔   بچّوں کو لازمی جنسی تعلیم دینی ہوگی۔  کبوتر کی طرح آنکھیں بند رکھیں تو روزانہ ٹی وی پر ایسے  دیکھ رہے ہوں گے کہ کہیں کوئی جنسی بلا آتی ہے، اور کسی معصوم کبوتر کو چیر پھاڑ کرچلی جاتی ہے اور ہم ماتم کرتے رہ جاتے ہیں۔ 

6 Comments

  1. ثقلین جعفری says:

    بہت عمدہ تحریر ہے جی بالکل ہم کو بھی اپنے بچوں کو جنسی تعلیم دینی چاہئے مگر افسوس کہ ہمارے سوات مغربی یلغار کو روکنے کے کسی دوسری بات پر توجہ نہیں دی جارہی۔

  2. نجم الثاقب کاشغری says:

    بالکل درست ہے۔ لیکن یہ جو بچوں کو اغوا کرکےلےجاتےہیں ،ایسی جگہ جہاں ان کی چیخ و پکار بھی کوئی نہیں سن پاتا اور “ڈونٹ ٹچ می” کہنے کی نوبت آنے سے پہلے ہی وہیں ان کا ٹینٹوا دبا دیاجاتا ہے اس کا کیا علاج؟۔

  3. شکور خان ایڈووکیٹ says:

    اندھے معاشرے کی آنکھیں کھولنے کے لئے بہترین تحریر

  4. ضیاءالدین says:

    کچھ کہنا بیکارھے ۔۔۔۔ بیکار لوگ بیکار سوسائٹی

  5. آصف صاحب !
    یہ تحریر تو کھلے ذہنوں کے لئے ہے. اس بے بے قابو ہجوم کو کیا سمجھائیں گے کہ جہاں پر ریپ شدہ عورت کو کاری یا کالی کہہ کر مار دیا جاتا ہو کہ بات اچھلنے پر خاندان کی عزت پر حرف آئے گا

  6. بہت اچھا ہے۔ ایسی سوچ پھیلانے کی اشد ضرورت ہے۔ نتائج جلد نہیں برآمد ھوتے مگر ایسی کوششیں اپنا اثر ضرور چھوڑتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *