محافظین ختم نبوت

اصغر علی بھٹی ۔نائیجر، مغربی افریقہ

الحمدللہ قصور میں شبان ختم نبوت کے وفد نے ننھی زینب کے بابا سے ملاقات کی اور یہ خوفناک اطلاع ان تک پہنچانے کا فریضہ انجام دیا جس پر انہوں نے میڈیا کے ذریعہ سے فوری طور پرحکومت وقت سے ڈیمانڈ کی کہ جےآئی ٹی کے سربراہ جن کا مسلک احمد ی بتایا گیا اُن کو الگ کر دیا جائے۔ بات فوری قبول ہوئی اور آخری اطلاعات آنے تک یہ بات کنفرم ہو چکی ہے کہ جےآئی ٹی کے سربراہ تبدیل کر دئیے گئے ہیں اور بتایا جا رہا ہے کہ اس اطلاع سے ہر چہرہ شاداں وفرحاں اور کھل اُٹھا ہے اور قصور کی فضاؤں میں اس وقت سے ہر طرف نعرہ تکبیر اللہ اکبر اسلا م زندہ باد کے نعرے سنائے دے رہے ہیں ۔ الحمدللہ ثم الحمدللہ۔

ہمارے ختم نبوت کے پروانوں نے یہ اہم فریضہ انجام دے کر سب کے دل جیت لئے ہیں جس کے لیے وہ واقعتاً مبارک باد کے مستحق ہیں۔ پھر سے ایک دفعہ نعرہ تکبیر اور اسلام زندہ باد۔کیا ہو ا کہ اسی ماہ، اسی شہر قصور میں ہم نے12مسلی ہوئی تتلیوں جیسی معصوم بیٹیوں کی لاشیں اٹھائی ہیں ۔لیکن جنازے تو مسلمانوں نے ہی پڑھے ہیں ناں الحمدللہ ۔ اور پھرکیا ہو ا جودودھ ،گوشت، آٹا چینی،دوائیں،دالیں ،مرچیں حتیٰ کہ رمضان کی کھجوریں بھی میرے دیس میں بے ایمانی کی داستان ہیں لیکن الحمدللہ ملک کا قانون تو اسلامی ہے ناں اوریہی بات کافی ہے۔

میں نے جب برصغیر کے اخبارات کا جائزہ لیا تو میری حیرانی کی انتہا نہ رہی ۔ میں نے دیکھا کہ ہمارے محافظین ختم نبوت آج سے نہیں گزشہ کئی دہائیوں سے اسی طرح اسلام کو زندہ باد کررہے ہیں اور ایسی ہی خدمت اسلام کرکے اُمت مسلمہ کے دامن میں مدھر خوشیاں ڈال کر انہیں حقیقی مسرتوں سے مالامال کر رہے ہیں ۔

بارہ مارچ 1936 کو بمبئی میں محافظین ختم نبوت خوشی سے نعرہ تکبیر لگا رہے تھے اور ہر طرف خوشی کی لہر دوڑی ہوئی تھے ۔ روزنامہ الہلال کی ان پر مسرت لمحوں کی رپورٹننگ پیش ہے عنوان تھا

’’قادیانی بچے کی لاش قبرستان میں دفن کرنے سے روک دینےپرخوشی کی لہر اوراسلام زندہ باد کے نعرے‘‘۔(روزنامہ الہلال کی رپورٹ)۔

بارہ مارچ1936ءکو بمبئی کے ایک احمدی دوست کا خوردسال بچہ فوت ہوگیاجب اُسے دفن کرنے کے لیے قبرستان لے گئے تو محافظین ختم نبوت پہلے سے موجود تھے بھر پور نعرہ تکبیر لگاتے ہوئےانہوں نے خبردار کیاکہ قبرستان سنی مسلمانوں کا ہے۔قادیانیوں کا نہیں کوئی قادیانی یہاں دفن نہیں ہوسکتا۔ پولیس کے ذمہ دار حکام نے جھگڑا بڑھتے دیکھا تو انہوں نے بمبئی میونسپلٹی کے توسط سے ایک الگ قطعہ زمین میں اُس بچے کو دفن کرادیا۔مگر میت کے دفن کرنے کے لیے جو جگہ دی گئی وہ شہر سے بہت دور اور اچھوت کا مرگھٹ تھی۔روزنامہ الہلال بمبئی اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ جب مسلمانوں نے یہ خبر سنی کہ احمدی میت اس قبرستان میں دفن نہیں کی جائے گی تو اس اطلاع کے ملتے ہی مسلمانوں نے اسلام زندہ باد کے نعرے لگائے۔ہر شخص مسّرت سے شاداں نظر آتا تھا۔(الہلال بمبئی14مارچ1936ء)۔

دسمبر1918ءمیں کٹک(صوبہ بہار)کے ایک احمدی دوست کی اہلیہ فوت ہوگئیں۔انہوں نے اسے قبرستان میں دفن کردیا۔جب محافظین ختم نبوت کو معلوم ہوا کہ ایک احمدی خاتون کی لاش ان کے قبرستان میں دفن کی گئی ہے تو انہوں نے قبر اکھیڑ کر اس لاش کو نکالا اور اس احمدی کے دروازے پر جاکر پھینک دیا۔اہل حدیث اخبار نے زیر عنوا ن ’’ قادیانیوں کی خاطر‘‘ محافظین ختم نبوت کی اس انمول خدمت اسلام کے اس اعلیٰ کارنامے کی فخریہ انداز میں درج ذیل پورٹ پیش کی۔

’’وہ جو کہاوت ہے کہ موئے پرسودُرّے سو وہ بھی یہاںواجب التعمیل ہورہی ہے مرزائیوں کی میت کا مت پوچھئے۔شہر میں اگر کسی میت کی خبر پہنچ جاتی ہے تو عام قبرستانوں میں پہرہ بیٹھ جاتا ہے کسی کے ہاتھ میں ڈنڈا ہے،کسی کے ہاتھ میں چھڑی ہے میت کی مٹی پلید ہورہی ہے کہ کھوجتے تابوت نہیں ملتی۔بیل داروں کی طلب ہوتی تو وہ ٹکا سا جواب دے دیتے ہیں۔بانس اور لکڑی غائب ہوجاتی ہے۔دفن کے واسطے جگہ تلاش کرتے کرتے پھول کا زمانہ بھی گزر جاتا ہے۔ہر صورت سے ناامید ہوکر جب یہ ٹھان لیتے ہیں کہ چلو چپکے سے مکان کے اندر قبر کھود کر گاڑدیں تو ہاتف غیبی افسران میونسپلٹی کو آگاہ کردیتے ہیںاور وہ غڑپ سے آموجود ہوکر خرمن امید پر کڑکتی بجلی گرادیتے ہیں۔اور یوں ہم مرزائیوں کی میت کی ہم خوب مٹی پلید کرتے ہیں( اہل حدیث یکم فروری 1918)۔

سنہ46ءمیں جماعت احمدیہ کے ایک فرد مکرم قاسم علی خاں اپنے وطن رام پور میں وفات پاگئے۔ان کی نعش سے شاندار مومنانہ سلوک کی حلفیہ رپورٹ روزنامہ زمیندار میں زیر عنوان ’’غازیان اسلام کی مذہب و دین کی حفاظت ‘‘ شائع ہوئی پیش ہے۔

’’محمد مظہر علی خاں صاحب رامپوری اپنا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’میرے مکان کے پیچھے جو کہ شاہ آباد گیٹ میں واقع ہے محلہ کا قبرستان تھا۔صبح مجھ کو اطلاع ملی کہ قبرستان میں لاتعداد مخلوق جمع ہے اور قاسم علی کی لاش جو اس کے اعزّہ رات کے وقت چپکے سے مسلمانوں کے اس قبرستان میں دفن کرگئے تھے لوگوں نے نکال باہر پھینکی ہے۔میں فوراًاس ہجوم میں جا داخل ہوا اور بخدا جوکچھ میں نے دیکھا وہ ناقابل بیان ہے۔لاش اوندھی پڑی تھی منہ کعبہ سے پھر کر مشرق کی طرف ہوگیا تھا۔کفن اتار پھینکنے کے باعث متوفی کے جسم کا ہر عضوعریاں تھا اور لوگ شور مچا رہے تھے کہ اس نجس لاش کو ہمارے قبرستان سے باہر پھینک دو۔ ہر طرف سے نعرہ تکبیر سے کان پھٹ رہے تھے۔جائے وقوعہ پر مرحوم کے پسماندگان میں سے کوئی بھی پرسان حال نہیں تھا۔لیفٹیننٹ کرنل محمد ضمیر کی خوشامدانہ التجا پر نواب صاحب نے فوج اور پولیس کو صورت حال پر قابو پانے کے لیے موقع پر بھیجا۔کوتوال شہر خان عبدالرحمن اور سپریٹنڈنٹ پولیس خان بہادر اکرام حسین نے لوگوں کو ڈرا دھمکا کر لاش دوبارہ دفن کرانے پر مجبور کیا۔لیکن اس جابرانہ حکم کی خبر شہر کے ہر کونہ میں بجلی کی طرح پہنچ گئی ۔اور غازیان اسلام مسلح ہوکر مذہب ودین کی حفاظت کے لئے جائے وقوعہ پرآگئے۔

حکومت چونکہ ایک مقتدر آدمی کی ذاتی عزت کی حفاظت کے لیے عوام کا قتل وغارت گوارا نہیں کرسکتی تھی اس لیے پولیس نے لاش کو کفن میں لپیٹ کر خفیہ طور پر شہر سے باہر بھنگیوں کے قبرستان میں دفنا دیا۔چونکہ مسلمان بہت مشتعل اور مضطرب تھے اس لیے انہوں نے بھنگیوں کو اس بات کی اطلاع کردی۔اور بھنگیوں نے اس متعفن لاش کا وہی حشر کیا جو پہلے (مسلمان بھائیوں کے ہاتھوں )ہوچکا تھا۔پولیس نے یہاں بھی دست درازی کرنی چاہی لیکن بھنگیوں نے شہر بھر میں ہڑتال کردینے کی دھمکی دی بالآخر سپریٹنڈنٹ پولیس اور کوتوال شہر کی بروقت مداخلت سے لاش کو دریائے کو سی کے ویران میدان میں دفن کرنے کی ہدایات کی گئیں۔

سپاہی جو لاش کے تعفن اور بوجھ سے پریشان ہوچکے تھے۔کچھ دور تک لاش کو اٹھا کر لے جاسکے اور شام ہوجانے کے باعث اسے دریائے کوسی کے کنارے صرف ریت کے نیچے چھپا کر واپس آگئے۔
دوسرے روز صبح کو شہر میں یہ خبر اڑگئی کہ قاسم علی کی لاش گیدڑوں نے باہر نکال کر گوشت کھالیا۔اور ڈھانچہ باہر پڑا ہوا ہے۔یہ سن کر شہر کے ہزاروں لوگ اس منظر کو دیکھنے کے لیے جوق درجوق جمع ہوگئے میں بھی موقعہ پر جا پہنچا۔لیکن میری آنکھیں اس آخری منظر کی تاب نہ لاسکیںاور میں ایک پھریری لیکر ایک شخص کی آڑ میں ہوگیا قاسم علی کی لاش کھلے میدان میں ریت پر پڑی تھی اسے گیدڑوں نے باہر نکال لیا تھا اور وہ جسم کا گوشت مکمل طور پر نہیں کھاسکتے تھے منہ اور گھٹنوں پر گوشت ہنوز موجود تھا۔باقی جسم سفید ہڈیوں کا ڈھانچہ تھا آنکھوں کی بجائے دھنسے ہوئے غاراور منہ پر داڑھی کے اکثر بال ایک دردناک منظر پیش کررہے تھے آخرکار پولیس نے لاش مزدوروں سے اٹھوا کر دریائے کوسی کے سپرد کردی اور اس طرح ایک امیر جماعت مرزائیہ کا انجام ہوا۔‘‘(روزنامہ زمیندار21جنوری1946)۔

بیس اگست1915ءکو کنانورا(مالابار)کے ایک احمدی کے ۔ایس۔احسن کا ایک چھوٹا بچہ فوت ہوگیا ۔محافظین ختم نبوت حالات کو بھانپتے ہوئے پہلے ہی ریاست کے راجہ صاحب کے پاس پہنچ گئے اور خبردار کردیا کہ غازیان اسلام یہ کبھی برداشت نہیں کریں گے۔ چنانچہ ریاست کے راجہ صاحب نے حکم دے دیاکہ چونکہ قاضی نے احمدیوں کے متعلق کفر کا فتویٰ دے دیا ہے اس لیے اس کی نعش مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں ہوسکتی۔چنانچہ وہ بچہ کی نعش لے کر سارا دن گھر پر بیٹھے ۔دوسرے دن شام کے قریب مسلمانوں کے قبرستان سے 2میل دور اس نعش کو دفن کرنے کی اجازت دی گئی۔(الفضل 19اکتوبر1915ءصفحہ6)۔

سولہ مارچ1928ءکو بھدرک(اڑیسہ)میں ایک احمدی شیخ شیر محمد کی بیٹی فوت ہوگئیں ۔جنازہ مسلمان قبرستان میں پہنچنے کی اطلاع ملتے ہی خادمان اسلام نعرہ تکبیر لگاتے گھروں سے نکل آئے اور تمام جنازہ والوں کی دبا کر پٹائی کی۔ آخر اس بات پر ان کو چھوڑا کہ اپنی نعش کو اپنے گھر جا کر دفن کرو چنانچہ وہ لاش گھر لے آئے اور صحن میں دفن کی۔(الفضل27مارچ1928ء)۔

ابھی کل ہی جب ہمارے شیعہ مسلمان بھائی ہزارہ کمیونٹی کی قتل وغارت کی وجہ سے اداس تھے ہم نے ان کے ساتھ مل کر گوجرانوالہ میں ننھی کائنات کے گھر کو آگ لگا کر اسے اپنی دادی کے ساتھ زندہ جلایااور خوب ناچ ڈانس کیا اور یوںاپنے ان مغموم اسلامی بھائیوں کو چند خوشی کی ساعتیں تحفہ میں پیش کیں۔ نعرہ تکبیر اور اسلام ایک دفعہ پھر سے زندہ باد۔

ختم نبوت کے عظیم مجاہدو خوشیاں بانٹو ضرور بانٹو مگر مظلوموں کے گھروں کو آگ لگا کر روشنیاں بانٹنے والو یاد رکھو اس آگ سے منہ بھی کالا ہو سکتا اور جسم کے ساتھ ساتھ روح بھی سڑ سکتی ہے ۔ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کا قول ہے کہ

’’حق کا پرستار کبھی ذلیل نہیں ہوتا چاہے سارا زمانہ اس کے خلاف ہوجائے اور باطل کا پیروکار کبھی عزت نہیں پاتا چاہے چاند اس کی پیشانی پر نکل آئے‘‘اور حضرت مولانا جلال الدین رومیؒ کا یہ قول کتنا سچا ہے کہ

’’جس کے افعال شیطان اور درندوں جیسے ہوتے ہیں کریم لوگوں کے متعلق اسی کو بدگمانی ہوتی ہے‘‘

2 Comments

  1. میں تو حیران ہوں اگر سنہ پندرہ سنہ اٹھارہ سے ہی احمدیوں کے ساتھ یہ ذلیلانہ سلوک شروع ہوگیا تھا تو اس کے باوجود احمدیوں کو عقل نہ آئی۔مرزا بشیر الدین محمود احمد،سرظفراللہ خان نے انہی محافظین ختم نبوت والوں کو اسلام کے نام پر پاکستان بنوا کر دیا۔ اپنے پیروں پہ خود کلہاڑی ماری۔یا تو پھرخود بھارت میں رہتے۔خود بھی مرکزخلافت پاکستان منتقل کرلیا جہاں یہ ذلیلانہ سلوک جاری و ساری ہے۔اب کالم لکھنے کا کیا فائدہ؟۔آج کے بھارت میں کم از کم احمدیوں کے ساتھ اس قسم کا کوئی ذلیلانہ سلوک نہیں ہو رہا۔
    مذہبی پیشوائیت کو سیاست سے الگ ہی رہنا چاہئے۔مرزاطاہراحمد صاحب نے بھی اعتراف کیا تھا کہ ملکی سیاست میں حصہ لینا مثلاً بھٹوکا ساتھ دینا ایک غلطی تھی۔
    زینب کے والد نے ایک طرح سے مبینہ طور پر ایک احمدی پولیس افسر(اور جماعت احمدیہ) کو بڑے نقصان سے بچایاہے۔تفتیش میں تاخیر یا ناکامی ہوگی تو اس کو بہانہ بنا کرملک گیر اینٹی احمدیہ تحریک تو اب شروع نہیں ہوگی۔میں سمجھتا ہوں اس فیصلہ پر زینب کے والد صاحب احدیوں کے شکریہ کے مستحق ہونے چاہیئں۔
    احمدی کو ایک طرف کرکے اب یہ خود جانیں اور یا ان کے پیو دی سری۔۔آپ یوم تشکرمنائیں۔

  2. Good analysis. It is very strange thay why Ahmadis demanded Pakistan . And why sir Zafarrullah was so supportive to objective resolution. Strange mystry.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *