زینب کا اصل قاتل یہ استحصالی اور جعلی نظام ہے

یوسف صدیقی

پنجاب کے شہر قصور میں مبینہ طور پر جنسی زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی معصوم بچی زینب کے ایشو نے پاکستانی سماج کے تمام طبقات کو متاثر کیا ہے۔لیکن زینب جیسی کئی بچیاں اور بچے روزانہ اس ملک کے مختلف حصوں میں ریاستی بے حسی کی وجہ سے ’’جنسی ہوس ‘‘ کا نشانہ بن رہے ہیں۔جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔اکثر والدین اسی وجہ سے مجرموں کے خلاف کاروائی نہیں کرواتے کہ اس ملک میں ’انصاف‘ کا حصول بہت مشکل ہے اور اس کا متحمل کوئی عام آدمی نہیں ہو سکتا ۔اس ملک میں ریاستی سطع پر مجرموں کی سرپرستی کی وجہ سے ایک عجیب رسم چل پڑی ہے کہ ’مظلوم‘ کے بجائے ’مجرم ‘ کا ساتھ دیا جائے ۔

پاکستانی ریاست کی متشدد پالیسیوں کی وجہ سے جرائم پیشہ افراد کا مزید حوصلہ بڑھا ہوا ہے ۔پاکستان کے لوگوں کے آپس میں لڑائی جھگڑے اور دھینگا مشتی میں پاکستانی رِیاست نے ہمیشہ طاقتور طبقے کا ساتھ دیا ہے ۔قتل کے مجرموں کے معاملے میں پاکستانی سیکورٹی اداروں کا ریکارڈ بالکل اچھا نہیں ہے ،یہ لوگ ’’سرمایہ داروں اور جاگیر داروں‘‘ کے ’چہیتوں ‘ کو پروٹوکول سے نوازتے ہیں ۔غریب کو ذلیل و خوار کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی عزت نفس مجروح کی جاتی ہے جس کی وجہ سے اس میں حصول انصاف کی خواہش ختم ہوجاتی ہے۔

پاکستانی ریاست کے اس رویے کی وجہ سے سماج کی اکثریت میں غم و غصہ اور نفرت کے جذبات پنپ رہے ہیں۔زینب کا قتل پاکستانی سماج میں بڑھتے ہوئے ’معاشرتی انحراف ‘ کا عکاس ہے ۔اِس وقت پاکستان میں آبادی کی کثرت کی وجہ سے قانون کی بالاتری کا خواب پورا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔طاقتور نے ’’ذاتی ریاست ‘‘ بنا ر کھی ہے جو جہاں چاہتا ہے عدالت لگا کر فیصلہ سنا کے سزا دے دیتا ہے۔ ریاستی عملداری چھوٹے صوبوں میں فوجی آپریشنوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے ۔پنجاب میں ’’گینگسڑز‘ملاؤں اور ’کالعدم جماعتوں کے کارکنوں ‘‘ کے ذریعے صوبے کے انتظامات چلائے جا رہے ہیں ۔

اس وقت پاکستانی ریاست کو ’زینب کے قاتل ‘ کی تلاش ہے ۔زینب کے قاتل کوڈھونڈنے کے لیے ریاستی اداروں ،انٹیلی جنس تنخواہ داروں اور قانوں کے رکھوالوں کو ’مصیبت ‘ پڑی ہوئی ہے۔یہ لوگ جلدی سے جلدی معاملے کو حل کرنا چاہتے ہیں ۔ان کا تحرک بجا ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ ’پاکستانی ریاست اور اس ریاست کو چلانے والا جبری نظام ہی تو زینب کاقاتل ہے ‘ اس لیے ریاست کو زینب کے قاتل کی تلاش میں خوار ہونے کی ضرورت کیوں محسوس ہو رہی ہے ؟۔قاتل کو پروٹوکول دینے والے اور مدعی کی تھانے میں بے عزتی کرنے والے ریاستی ا ہلکار کس طرح چالاکی سے زینب کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر آنسو بہا رہے ہیں۔

پاکستانی عدالتوں کی مسند پر بیٹھے ’بڑے صاحب‘ کی عینک کے نیچے پاکستانی قانون کے شرح خواں وکیل حضرات مجبوروں کی آن کے سودے کرتے ہیں۔ ان مقدس ہستیوں کا قانونی جرح کے دوران مدعی سے ایک ہی سوال ہوتا ہے کہ ’’کیا یہ سب آپ نے مرضی سے کیا ہے ؟‘‘۔ان انصاف کے مندروں کی سیڑھیوں پر چڑھنے کے لیے دولت خرچ کرنے کے ساتھ ساتھ ’صبرِ نوح‘ کی ضرورت ہے ۔ دوسری طرف عورت پر ظلم کرنے میں ہمارے ملاں بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔ پاکستانی ملاؤں نے ’قراردادِ مقاصد‘ کے ذریعے پاکستانی آئین کو ایک بنیاد فراہم کی تھی ۔اس رجعتی بنیاد نے جہاں دیگر شعبہ زندگی کی ساخت و پرداخت کو بدل کر رکھ دیا وہی ’عورت‘ کی سماجی حیثیت پر بھی کاری ضرب لگائی ہے ۔ پاکستانی ملاں حضرات چار گواہوں کا تقاضا کر کے صورتحال کو مزید وحشی بنانے کی کوشش کر تے رہتے ہیں ۔ 

یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ پاکستانی آئین کی رجعتی شقوں کی موجودگی میں پاکستانی عورت کو’’سنگسار ‘‘ تو کیا جا سکتا لیکن انصاف مہیا نہیں کیا جا سکتا۔ قدامت پرست معاشرے میں ’عورت‘ ہونا ’’جرم‘‘ بن جاتا ہے ۔کچھ عرصہ پہلے گوجرانولہ میں ایک عورت کو ’برہنہ ‘ کر کے سڑکوں میں گھمایا گیا اسی طرح پاکستان میں آئے دن عورت کے جسم سے ’جبری تسکین‘ حاصل کرنے کے واقعات سننے کو مل رہے ہیں ۔ افسوس کا مقام ہے کہ زینب کے قتل کے گرد اُٹھنے والی احتجاجی تحریک کو رجعت کی کے تھپیڑوں کی نذر کر کے عوامی سرکشی کو ’ریاستی اصلاح پسندوں کے نعروں سے لبریزکر دیا گیا ہے ۔

سراج الحق اور طاہر القادری جیسے سیاسی یتیم اور مذہبی سوداگر اس طرح کے موقعوں پر پہنچ کر عوام کو اشتعال دلا کر اپنے مخصوص مقاصدپورے کر لیتے ہیں ۔ اس بات کی بھی بہت ضرورت ہے کہ سماجی سطح پر ایک ایسا مربوط نظام ہو نا چاہیے کہ ایسے سیاسی گدھوں کو لاشوں پر سیاست نہ کر نے دی جائے ۔زنا بالجبر کے حوالے سے قانون سازی،آگاہی مہم اور واعظ و نصیحت اپنی جگہ بجا لیکن معاملات اس وقت تک نہیں ٹھیک ہوں ،جب تک پاکستانی سماج میں ’’ریاستی جانبداری‘‘ موجود ہے ۔جب تک قاتلوں،غنڈوں اور مقدس داتاؤں کے ساتھ ’لاڈلوں ‘ والا سلوک ہوتا رہے گا ،اس وقت تک زینب جیسی کئی کلیاں ان جنسی بھیڑیوں کے ہاتھوں مسلی جاتی رہیں گئیں۔

زینب کے قتل پر آنسو بہانے کے بجائے قاتل کو تلاش کرنے کی نہیں بلکہ پہچاننے کی ضرورت ہے ۔زینب کا اصل قاتل وہ نہیں ہے جس نے اس کو قتل کیا ،اور پاکستانی ریاست اسے تلاش بھی کر رہی ہے ،بلکہ زینب کا اصل قاتل یہ استحصالی اور جعلی نظام ہے جس میں امیر کے لیے اور میعار ہے اور غریب کے لیے اور میعار ہے ۔

3 Comments

  1. یہ نظام کون اور کیسے بدلے گا اور کب ؟؟؟؟؟؟؟؟۔
    سیاسی گدھوں کو،جن کا آپ نے ذکر کیا ، کون ڈنڈامارے گا؟؟؟؟

    ایک اور جداگانہ بات:۔

    پولیس والے ہر دوسرے تیسرے شہری کا ڈی این اے ٹیسٹ کررہے ہیں لیکن رضاکارانہ طورپر خود اپنا ڈی این ٹیسٹ نہیں کررہے۔زینب ایسےتمام سات آٹھ واقعات ایک ہی تھانے کی حدود میں دو کلومیٹر کے علاقعہ میں ہوئے ہیں۔

  2. saeed ibrahim says:

    زینب کا المیہ زمینی ہے۔ آسمانی ہوتا تو نہ احتجاج کی احتیاج ہوتی نہ پولیس اور عدالت کی ضرورت۔ سمجھنا یہ ہے کہ اس المئیے کے ذمہ داران کن حالات کی پیداوار ہیں۔ اور خود ان حالات کو پیدا کرنے میں انسان نما مہذب اور معزز جانوروں کا کتنا ہاتھ ہے، جو آسمانی آیات کا سہارا لیکر عوام کی دولت پر قبضہ کئے بیٹھے ہیں۔ جو سکول اور ہسپتال کے پیسے اپنی عیاشی اور تحفظ پر خرچ کردیتے ہیں۔ جنہیں عوام کی تعلیم اور خوشحالی سے کوئی لینا دینا نہیں۔ جو ایسی اخلاقیات کو رواج دینے کے مجرم ہیں جو گھر گھر جنسی بیمار پیدا کررہی ہے۔ جنہوں نے عوام کو مجبور کردیا ہے کہ وہ (بے سرپیری مذہبی) تعلیم کے نام پر اپنے بچے جاہل مولویوں کے سپرد کردیں۔ جب تک عوام اپنے وسائل کا قبضہ ایسے حکمرانوں سے واپس نہیں لیتے، زینب کا المیہ کہیں نہ کہیں دھرایا جاتا رہے گا۔

  3. Very true. The greater crimes are being committed by those who are so callous as to propagate the false notions of piety to arrest the minds of young people and stop them from seeking proper education in a realistic and scientific manner.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *