ہماری سیاسی اخلاقیات

بیرسٹر حمید باشانی

ہمارے ہاں سیاست کا ایک اہم نقطہ بحث بد عنوانی ہے۔ ہر قابل ذکر فورم پر یہ نقطہ زیر بحث ہے۔ اخبارات کے ادارتی صفحات سے لیکر سوشل میڈیا تک اس موضوع پر ہر طرح کے خیالات کا اظہار ہو رہا ہے۔ بنیادی طور پر اس مسئلے کا تعلق ہماری سیاسی اخلاقیات سے ہے۔ اخلاقیات کا سیاست سے گہرا تعلق ہے۔ علم الاخلاق سیاست کا جزو لاینفک ہے۔ اخلاقیات کے تابع اور اصولوں پر مبنی سیاست کا تصور مشرق و مغرب میں یکساں مقبول ہے۔ تیسری دنیا کے کچھ پسماندہ ممالک میں مگر سیاست کاروں اور سیاسی جماعتوں کی کچھ سرگرمیوں سے اس تصور کو شدید دھچکا لگتا رہا ہے۔ ایسے ممالک میں پاکستان سر فہرست ہے۔

یہاں گزشتہ کچھ عرصے سے بعض رہنماؤں اور سیاسی گروہوں کے طرز عمل اور رویوں سے لگتا ہے کہ وہ سیاست کے اخلاقی تقاضوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ چنانچہ وہ کثرت سے ایسے عمل اور سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں جن میں اخلاقی تقاضوں کو نظر انداز کیا جاتاہے۔ ان سیاست دانوں کی ایسی سرگرمیوں پر اعتراض کو مسترد کر دیا جاتا ہے، اور اس پر سوال اٹھانے والوں کو کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا جاتا۔ یہ طرز عمل اس حقیقت کا عکاس ہے کہ یہاں سیاست کے کچھ لازمی اور بنیادی اصولوں کوغیر ضروری اور غیر متعلق سمجھا جاتا ہے۔ اس طرز عمل سے سیاست کے اندر پہلے سے بڑے پیمانے پر موجود بے اصولی اور بد عنوانی کے رویوں کو فروغ ملتا ہے۔ حکمرانوں اور رہنماؤں کے وعدوں او ر دعوں کے باوجوداس طرز عمل میں تبدیلی کے بغیر ایک شفاف اور منصفانہ سماج کا قیام ممکن نہیں ہے۔ 

ہماری سیاسی اخلاقیات کی تاریخ پر ایک نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ ستر برسوں میں ہماری سیاسی اخلاقیات بہت تیزی سے رو بہ زوال ہے۔ تحریک پاکستان کی رہنمائی کا فریضہ سر انجام دینے والوں لیڈروں کی سیاسی اخلاقیات، اصولوں اور کردار کا مقابلہ بعد میں آنے والے لیڈروں سے نہیں کیا جا سکتا۔ ذولفقار علی بھٹو اور خان عبدالولی خان، اور غوث بخش بزنجو جیسے رہنما ایک استشنا ہیں۔ یہ وہ معدودے چند لوگوں میں سے تھے جو اپنے سیاسی اصولوں اور سیاسی نظریات کے لیے کھڑے ہونے کی جرات رکھتے تھے۔

ان کا شمار پاکستان کے لیڈروں کی اس آخری نسل میں ہوتا ہے جنہوں نے اقتدار کو دولت جمع کرنے کا زریعہ نہیں بنایا۔ یہ لوگ بد عنوانی، لوٹ کھسوٹ سے دور رہے۔ اس کے بعد ہم زوال کی ان پستیوں تک پہنچے کہ بے نظیر بھٹو جیسی عظیم رہنما کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ سیاست کے لیے پیسہ نا گزیر ہے، اور سیاست میں پیسہ بنانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ چنانچہ ہمارے ہاں ایسے رہنما سامنے آئے جنہوں نے پیسے سے سیاست خریدی یا سیاست سے پیسہ بنایا۔ عوام کو یہ باور کروایا گیا کہ سیاست پیسے کا کھیل ہے اور جس کے پاس پیسہ ہے وہی قیادت و اقتدار کا حقدار ہے۔

ہمارے ہاں کرپشن صرف پیسے تک ہی محدود نہیں۔ سیاسی اخلاقیات کے زوال سے بد عنوانی کی کئی شکلیں ، کئی چہرے سامنے آئے۔ ان میں سے کئی شکلیں مالی بندعنوانی یا معاشی بد دیانتی سے بھی کئی زیادہ خوفناک اور زہریلی ہیں۔ ان میں سے ایک شکل بد عنوان سیاست دانوں کو اپنی صفوں میں شامل کرنا اور ان کو پارٹی کے کلیدی عہدے عطا کرنا ہے۔ یہ عمل منی لانڈرنگ یا پیسہ سفید کرنے جیسا ہے۔

جن سیاست کاروں نے سر عام بد عنوانیاں کیں ہوں۔ جنہوں نے زندگی بھر کوئی کاروبار نہ کیا ہو۔ کوئی منافع بخش کام کاج نہ کیا ہو۔ کبھی بر سر روزگار نہ رہے ہوں۔ وہ اگر ایک دن ملک کے چند سو گنے چنے امیر ترین لوگوں کی صفوں میں شامل ہو جائیں تو ان کو بد عنوان یا بد دیانت ثابت کرنے کے لیے کسی ثبوت یا عدالتی کارروائی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ عوام کی آنکھوں کے سامنے ایک دن کوڑی کوڑی کے محتاج ہوتے ہیں، اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ایک دن کروڑ پتی کے روپ میں سامنے آتے ہیں۔

ان کی کرپشن کے قصے زبان زد عام ہوتے ہیں۔ اور جس دن یہ قصے گلیوں محلوں میں پھیل جاتے ہیں اس دن ایسے سیاستدان کھوٹے سکے بن جاتے ہیں۔ سیاست میں ان کا کوئی بہاؤ نہیں رہتا۔ ان کی حیثیت کالے دہن جیسی ہو جاتی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی صاف دامن، با کردار سیاست دان ان لوگوں کو اٹھا کے اپنے پاس بٹھائے، اگلی صفوں میں جگہ دے تو یہ عمل کالے دھن کو سفید کرنے جیسا ہے۔ ان کو مکمل طور پر مٹنے اور مرنے سے بچانا ہے۔ یہ منی لانڈرنگ سے زیادہ براہے۔ یہ ان لوگوں کو کیچڑ سے اٹھا کر نہلا دھلا کر دوبارہ عوام کے سامنے رکھنے والی بات ہے۔ 

ہمارے ہاں ان کھوٹے سکوں کو دوبارہ چلانے میں صرف کوئی ایک پارٹی یا ایک شخصیت شامل نہیں۔ اس میں وہ ساری پارٹیاں اور شخصیات شامل ہوتی ہیں جن کی نظر اقتدار کے ایوانوں پر ہے۔ وہ ان کی دولت اور ماضی کے تجربے کو اپنے اقتدار کی سیڑھی بنا نا چاہتے ہیں۔ وہ ان کو قابل انتخاب آسامی سمجھتے ہیں۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ جو رہنما ان کھوٹے سکوں کو دوبارہ چلاتے ہیں ان کے پاس ان کے اس عمل کی وضاحت کے لیے دلائل بھی ہوتے ہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ وہ ان بد عنوان لوگوں کو کسی اہم عہدے پر فائز نہیں کریں گے۔ یا وہ خود اتنے صاحب کردار ہیں کہ ان کی موجودگی میں یہ کرپشن کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے ۔ اور ان ناگوار لوگوں کو ایک بڑے مقصد کے لیے بر داشت کیا جا رہا ہے۔ وہ بڑا مقصد اقتدار میں پہنچ کر عوام کی بھلائی کے لیے وسیع اقدامات کرنا ہے۔ 

ان کی ایک دوسری منفرد وضاحت بھی ہے۔ سیاسی اخلاقیات کی اس تباہی کی وہ یہ وضاحت کرتے ہیں کہ کسی عظیم مقصد کے حصول کے لیے کوئی ایسا چھوٹا موٹا سمجھوتا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ دلیل ہمیں فلسفے کی بحث میں لے جاتی ہے۔ یہ بحث ہزاروں بار ہو چکی۔ اہل فلسفہ اس بات پر متفق ہیں کہ عظیم مقاصد کے حصول کے لیے گھٹیا ہتھکنڈوں کا استعمال غیر اخلاقی بات ہے۔

یہ کوئی چھوٹی برائی اور بڑی بڑی برائی میں سے کسی ایک کے انتخاب کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہاں کوئی انتخاب ہے ہی نہیں۔ یہ سیدھا برائی کو گلے لگانے والی بات ہے۔ یہ عمل واضح طور پر سیاسی اخلاقیات سے متصادم ہے۔ یہ عمل کرنے والی پارٹی یا شخصیت قانونی اور اخلاقی اعتبار سے بد عنوان شخص کی کارگزاریوں کی ساجھے دار بن جاتی ہے۔ اور اس عمل سے وہ خود اپنے حق حکمرانی کو چلنج کرتی ہے اور بد عنوانی کے خاتمے کے ایجنڈے کو غیر معتبر بنا دیتی ہے۔

جس پارٹی میں جتنے زیادہ بد عنوان یا داغدار ماضی رکھنے والے لوگ ہوں گے اس پارٹی کا کرپشن دشمن ایجنڈا تنا ہی کمزور اور مشکوک ہو گا۔ ایسے لوگوں کو اپنے ساتھی بنانا بذات خود ایک غیر اخلاقی عمل ہے جو کر پشن کے بارے میں لیڈرکے کے نرم روئیے کوظاہر کرتا ہے۔ یہ بد عنوان لوگ کسی ایک شخصیت یا پارٹیٰ تک محدود نہیں۔ یہ لوگ تمام سیاسی اور مذہبی پارٹیوں کے بہت سے کلیدی عہدوں پر فائز ہیں۔

ملک میں بد عنوانی سے پاک سماج کے قیام کی دعوے دار پارٹیوں کو صفائی کے اس عمل کا آغاز اپنی صفوں سے کرنا چاہیے۔ اس عمل میں اپنی صفوں پر نظر زیادہ ضروری ہوتی ہے۔ ٰ نشٹے نے کیا خوب کہا تھا کہ جو عفریت سے لڑ رہا ہے اسے دیکھنا چاہیے کہ وہ اس عمل میں خود عفریت نہ بن جائے۔ اگر اپ زیادہ دیر تک غار میں گھورتے ہیں تو غار آپ کو واپس گھورے گی۔

سیاسی اخلاقیات کے کچھ اور بڑے ضابطوں اور اصولوں کی خلاف ورزی سیاسی زندگی میں ایک خاص قسم کے دھرنوں کا تعارف ہے۔ دھرنا احتجاجی عمل کی ایک شکل ہے۔ یہ ایک جمہوری حق ہے۔ یہ حق جمہوریت کی وجہ سے ملتا ہے، اور جمہوریت کے تابع ہوتا ہے۔ جمہوریت محض انتخابات کا نام نہیں، یہ ایک کلچر کا نام ہے جس کے کئی لازمی اور ناگزیر عناصر ہوتے ہیں۔ ان میں ایک بنیادی عنصر قانون کی حکمرانی ہے۔ قانون کی حکمرانی کا مطلب ہے کہ ریاست اور عوام دونوں پر قانون کا احترام لازم ہے۔

پھر قانون کے تحت ہر شہری کے کچھ انفرادی کچھ اجتماعی حقوق ہوتے ہیں۔ ان حقوق کا استعمال کرتے ہوئے ہر شہری کے لیے ضروری ہے کہ وہ دوسرے شہریوں کے حقوق کا پورا خیال کرے۔ جس طرح دھرنا اور احتجاج شہریوں کا حق ہے اسی طرح، سکون سے زندگی گزارنے کا حق، نقل حرکت کی آزادی کا حق، روزگار اور علاج کا حق بھی ہر شہری کو حاصل ہے۔ جمہوریت شہریوں کو احتجاج کا حق دیتی ہے۔ دوسرے شہریوں کا راستہ روکنے، ان کے روزگار یا علاج میں رکاوٹ بننے، ان کا سکون برباد کرنے، شاہراوں پر قابض ہونے، غنڈا گردی پر اتر آنے یا گالی گلوچ کی آزادی نہیں دیتی۔

احتجاج کے نام پر یہ حرکات قانون کی حکمرانی کے بنیادی تقاضوں سے متصادم ہیں۔ سیاسی اخلاقیات کے خلاف ہیں۔ یہ حرکات تشدد، افراتفری اور طاقت کے استعمال کا موجب بنتی ہیں جس سے جمہوریت کو ہی نقصان ہوتا ہے ۔ اس سے ریاست کو تشدد اور طاقت کے استعمال کا جواز مہیا ہوتا ہے۔ اس سے بنیادی انسانی حقوق اور شہری آزادیاں کمزور ہوتی ہیں۔ آمریت پسند اور رجعتی قوتیں مضبوط ہیں۔ اس کا ہر گز مطلب یہ نہیں کہ نا انصافیوں پہ خاموش رہا جائے۔ خاموشی بد ترین سمجھوتا ہے۔ اس سے ظلم اور نا انصافی بڑھتی ہے۔

بقول شخصے خاموشی سے زیادہ کوئی چیز حکمرانوں کو طاقت نہیں بخشتی۔ اس لیے مقصد ترک احتجاج نہیں، احتجاج کے وہ طریقے اختیار کرنا ہے جو عوام کے بجائے حکمرانوں کے لیے پریشانی اور ندامت کا باعث ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *