ڈِیپ اسٹیٹ کی گہرائیاں اور پاکستان پر عفریت کے سائے

آصف جاوید

ریاست کے اندر ریاست یا ڈِیپ اسٹیٹ ایسی ریاست کو کہا جاتا ہے، جہاں عسکری اشرافیہ ، خفیہ ایجنسیاں، ٹاپ بیوروکریٹس اور تھنک ٹینک کےقابلِ اعتماددانشور مل کر ایک ایسا طاقتور خفیہ اتّحادی نیٹ ورک تشکیل دیتے ہیں، جو نہ صرف منتخب حکومت یا سیاسی لیڈرشپ کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتا ہے ، بلکہ پبلک پالیسیوں پر بھی اپنا کنٹرول رکھتا ہے۔ اس ہی لئے پولیٹکل سائنس میں ڈیپ اسٹیٹ کو ایک ناپسندیدہ اصطلاح سمجھا جاتاہے۔ اور جامعات ڈیپ اسٹیٹ تھیوری کو نفرت انگیز نظریے کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔

ڈِیپ اسٹیٹ ، کسی ریاست میں موجود افراد یا اداروں پر مشتمل ایسی غیر مرئی طاقت ہوتی ہے ، جو جب چاہےجمہوری طور پر منتخب کسی حکومت کے اقدامات کو غیر موثّر کرسکتی ہے، ، سیاسی لیڈرشپ کو بے اثر و بے توقیر کرسکتی ہے، حکومتی فیصلوں کو متنازعہ اور حکومتی پالیسیوں کو ناکارہ بنا سکتی ہے۔

سادہ لفظوں میں ڈِیپ اسٹیٹ ، ریاست کے اندر ایک ریاست ہوتی ہے، جو تمام جمہوری اصولوں اور عوامی خواہشوں کوبالائے طاق رکھ کر ریاست کی خفیہ پالیسیوں اور ترجیحات کو ترتیب دیتی ہے۔ ڈِیپ اسٹیٹ اپنی پالیسیوں کے نفاذ کے لئے کچھ بھی کرگزرنے پر آمادہ رہتی ہے۔ ڈِیپ اسٹیٹ کو عوامی امنگوں، سیاسی فیصلوں، جمہوری تقاضوں کا کوئی لحاظ یا پاس نہیں ہوتا، ڈِیپ اسٹیٹ بڑی بے رحم اسٹیٹ ہوتی ہے۔ امریکا میں ڈِیپ اسٹیٹ’’سی آئی اے اور پینٹاگون ‘‘ کو کہا جاتا ہے، حالیہ امریکی صدارتی انتخاب میں ڈِیپ اسٹیٹ کا بنیادی کردار رہا ہے۔

حالیہ برسوں میں مصر، پاکستان اور ترکی اور ایران میں منتخب حکومتوں کو درپیش چیلنجز کے لیے عموماً ڈِیپ اسٹیٹکی اصطلاح استعمال ہوتی رہی ہے۔ پاکستان میں ڈِیپ اسٹیٹ سے مراد ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور خفیہ ایجنسیوں کا گٹھ جوڑہے ،جس کے لئے ریاست کے اندر ریاستکی اصطلاح خاصی مقبول ہے۔

’’ڈِیپ اسٹیٹ تھیوری‘‘ کے تحت ریاست کی امیج بلڈنگ اور ریاستی پروپیگنڈہ کے پرچار کے لئے میڈیا کا ریاست کے ساتھ بندھن لازمی شرط ہے۔ ڈِیپ اسٹیٹ تھیوری کے تحت میڈیا ریاستی امور میں ریاست کا پارٹنر ہوتا ہے، پاکستان میں الیکٹرونک میڈیا ڈیپ اسٹیٹ پارٹنر ضرورہے، مگر یہ پارٹنر ڈیپ اسٹیٹ کے تقاضوں کو پورا کرنے میں ابھی نابالغ ہے، اس میں میچورٹی کا فقدان ہے۔ اس ہی لئے ریاستی ادارے اکثر میڈیا پرسنز کی تواضع کرتے رہتے ہیں۔

ڈِیپ اسٹیٹ تھیوری کے مطابق ریاست کےمفاد میں سول ملٹری قیادت، تھنک ٹینکس اورمیڈیا ہمیشہ ایک پیج پر نظر آنے چاہئیں، میڈیا میں حکومتوں پر تنقید ضرور ہونی چاہئے، مگر ریاست پر تنقید نہیں ہونی چاہئے، حکومتی پالیسیوں سے اختلاف ہونا چاہئے، مگر ریاستی پالیسیوں پر میڈیا ریاست کا ہم آواز ہونا چائے۔ اس ہی پالیسی کے تحت پاکستان میں ریاست پر تنقید کا ہر دروازہ فوری بند کردیا جاتا ہے۔

’’ڈیپ اسٹیٹ تھیوری‘‘ کے تحت ایک مضبوط ڈِیپ اسٹیٹ میں سول سوسائٹی ، دانشور ، تھنک ٹینک سب ریاست کی پالیسیوں کی ہم نوا ہو نے چاہئیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ریاست کےخلاف موم بتیاں لے کر آجانے والی سول سوسائٹی کو ریاست اچھّی نظر سے نہیں دیکھتی۔

ڈیپ اسٹیٹ عوامی طاقت پر نہیں بلکہ تزویراتی اثاثوں پر بھروسہ و اعتماد کرتی ہے۔ اس ہی لئے جماعت الدعوۃ ، جیشِ محمّد، جماعتِ اسلامی حافظ سعید، مولانا مسعود اظہر، اچھّے طالبان، کشمیری حریت پسند ،بین الاقوامی دباؤ کے باوجود ریاست کی آنکھوں کا تارہ ہیں۔

پاکستان میں ’’ڈِیپ اسٹیٹ تھیوری‘‘ پر سختی سے عمل کیا جارہا ہے۔ اس کے لئے بہت سنجیدگی سے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ریاست پر تنقید اور اظہارِ رائے کا ہر دروازہ بند کیا جارہا ہے۔ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلّقات، فارن پالیسی، مسئلہ کشمیر، انڈیا سے معاملات، افغان پالیسی ، جوہرہی اسلحہ و میزائل پروگرام جیسے امور اب منتخب جمہوری حکومت کا ڈومین نہیں رہے ہیں، بلکہ یہ اب پاکستانی ڈِیپ اسٹیٹ کی صوابدید اور پالیسیوں پر منحصر ہیں۔ نیشنل سیکیورٹی کی ترجیحات کیاہیں؟ سرخ لکیر کہاں کھینچنی ہے؟

یہ ریاست کی صوابدید ہے، پاکستان میں کوئی مائی کا لال آج تک پیدا نہیں ہوسکا جو نیشنل سیکیورٹی کے معاملات پر ڈِیپ اسٹیٹ کی کھینچی ہوئی سرخ لکیر کو پار کرسکے۔ مضبوط جمہوری حکومتیں ، ڈِیپ اسٹیٹ کے لئے بہت بڑا خطرہ سمجھی جاتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے پہلے جمہوری وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کے قتل کے بعد سے لے کر آج تک پاکستان میں کوئی مضبوط جمہوری حکومت وجود میں نہیں آسکی ہے ، اور نہ کبھی آسکے گی۔ ڈِیپ اسٹیٹ کی موجودگی میں عوامی امنگوں اور خواہشات سے مطابقت رکھتی ہوئی پائیدار عوامی جمہوریت کی امید رکھنا احمقانہ سوچ کے مترادف ہے۔ یہی پاکستان کی تقدیر ہے۔

One Comment

  1. Wonderful analysis. I agree with the author, deep state has been and will be future of IROP. Democracy is just a sham in an “Islamic”- “Republic”- two mutually exclusive words.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *