نورجہاں کی تذلیل اور کنٹرولڈ لبرل ازم

الطاف حسین

ایک روشن خیال آن لائن میگزین “ہم سب” میں پاکستان کی نامور گلوکارہ نورجہاں پر ایک انتہائی توہین آمیز اور ان کی تذلیل پر ایک مضمون شائع ہونے پرروشن خیال سوچ رکھنے والوں کی طرف سے غم وغصے کا اظہار کیا جارہا ہے۔

نیا زمانہ آن لائن پر ایک مضمون نگار آصف جاوید نے لکھا کہاگر آپ قلم کار ہیں، اور اظہارِ رائے کی چھتری کے نیچے پناہ گزیں ہیں، تو آپ اظہارِ رائے کا حق استعمال کر سکتے ہیں۔ ہر طرح کے موضوعات کو قلمبند کرسکتے ہیں، آپ کسی بھی موضوع کا انتخاب کرسکتے ہیں، کسی بھی سماجی ، معاشی، سیاسی مسئلہ پر اپنی رائے کا اظہار کرسکتے ہیں، کسی کے فن پر بات کرسکتے ہیں، آپ کسی کی شخصیت پر تبصرہ کرسکتے ہیں، اور اگر تکلیف زیادہ ہو تو اس شخصیت پر تنقید بھی کرسکتے ہیں، شخصیت کے محاسن اور عیوب بھی بیان کرسکتے ہیں، مگر کسی شخصیت کی تذلیل نہیں کرسکتے، اور وہ بھی ایسی شخصیت کی تذلیل جو زندہ ہی نہ ہو، اپنے اوپر لگائے گئے الزامات، اور اپنے اوپر کئے گئے تبصروں کا جواب دینے سے قاصر ہو، کیونکہ یہ اظہارِ رائے کی آزادی کا بے جا اور غیر مناسب استعمال ہے۔ قلم کی حرمت اور سماجی اخلاقیات کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں ۔۔۔۔ کیا سنجیدہ علمی مباحث کے نام پر فنکار ہ کو اس کے شلوار کے ناڑے کی مضبوطی سے ناپنا ہی لبرل ازم ہے؟ ۔

اس عمل پر شرمندہ ہونے کی بجائے ایک صاحب جوشاید “ہم سب “ کی ادارتی ٹیم کا حصہ ہیں نے بڑی ڈھٹائی سے اس مضمون کے شائع ہونے کے جواز میں لکھا کہ یہ مضمون معاشرے کے ایک بڑے حصے کی سوچ پر مبنی ہے۔ جماعت الدعوۃ کے رسالے میں 16سال پہلے چھپا تھا۔ لکھنے والا بھی مر چکا ہے۔ مگر یہ سوچ آج بھی موجود ہے۔ اس سوچ کو صرف بازار میں کھڑا کیا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ معاشرے میں زعم تقوی کے دعوے داروں کے دلائل و براہین کیسے ہوتے ہیں۔ اس پر غصہ اس لیے نکالا جارہا ہے اس نے اس گوہ کے ڈھیر پہ ٹھیکری مار کر اس جانب متوجہ کیا ہے۔

یہ درست ہے کہ ہمارے معاشرے میں یہ سوچ موجودہے اور اس سوچ کو فروغ دینے والے سینکڑو ں جرائد موجود ہیں لیکن اس سوچ کو ایک روشن خیالی کا دعویٰ کرنے والا میگزین کیوں منظر عام پر لا رہا ہے؟ان سینکڑوں جرائد میں بریلویوں، شیعوں، احمدیوں، ہندووں پر تنقید کے نام پر تذلیل کی جاتی ہے۔احمدیوں کے بانی کے خلاف توہین آمیز اور تذلیل پر مبنی مواد ان جرائد میں چھپتا ہے کیا وہ بھی سامنے لانا چاہیے تاکہ ہمیں معلوم ہو سکے کہ زعم تقوی کے دعوے داروں کے دلائل و براہین کیسے ہوتے ہیں؟

نہیں جناب آپ کی دلیل انتہائی بودی ہے۔۔۔۔ زعم و تقویٰ کے دعوے داروں کے دلائل “آسمانی صحیفوں “ سے کشید کیے جاتے ہیں جنہیں اگر جھٹلایا جائے تو توہین مذہب کے مرتکب قرار پاتے ہیں ۔انتہا پسندوں کے نقطہ نظر کو سامنے لانے کے نام پر پاکستانی الیکٹرونک میڈیا نے پہلے ہی بہت گندگی پھیلائی ہے۔ جن میں ڈاکٹر ہود بھائی کے ساتھ مُلا کو اس کا نقطہ نظر سمجھانے کے نام پر بٹھاد یتے ہیں اور وہ قرآن و حدیث کے حوالے دے کر آپ کی بولتی بند کر دیتا ہے۔۔۔ اب کون مائی کا لال ہے جو قرآن و حدیث کے حوالوں کو جھٹلائے۔

کیا روشن خیالی کے دعویدار اب مُلا کی پچ (گراؤنڈ) پر کھیلیں گے؟ چاہیے تو یہ کہ روشن خیال مُلا کو اپنی پچ پر کھیلائیں۔۔۔ مُلا کی پچ پر کھیلنے کا مطلب ہے کہ آپ چودہ سو سال پہلے سے جاری مناظروں کو فروغ دے رہے ہیں۔ جب آپ سیکولر ازم یا سیاست اور مذہب کو علیحدہ کرنے کی بات کرتے ہیں تو پھر ان کے آسمانی صحیفوں پر مبنی دلائل کو فروغ دینے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔

پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا تو خیر پہلے روز سے ہی ریاست کے کنٹرول میں ہے جہاں روشن خیالی کی بات نہیں ہو سکتی۔ یہاں تو پرویز ہود بھائی کے ساتھ دو مُلاؤں کو بٹھا کر روشن خیالی کا دعویٰ کیا جاتا ہے ۔سوشل میڈیا کی آمد سے یہ امید ہو چلی تھی کہ اب متبادل نکتہ نظر بھی سننے کو ملے گا اور شاید ایسا ہوا بھی ،مگر ریاست نے جلد ہی اس پر قابو پالیا ہے اور جو لوگ مکالمے و دلیل کی بات کرتے ہیں ان پر کریک ڈاؤن شروع ہو گیا ۔

گنتی کے چند روشن خیال جرائد کے مقابلے میں سینکڑوں مذہبی جرائد ہیں جو سیکولر ازم کو لادینیت قرار دیتےہیں۔ اور روشن خیالی سے مراد شراب پینا، ناچ گانا اور خواتین (مردوں کا نہیں کا مغربی لباس زیب تن کرنے سے لیتے ہیں۔کیا روشن خیالی شراب پینے ،ناچ گانے یا مغربی لباس پہننے کانام ہے۔ اور نہ ہی سیکولر ازم لادینیت ہے بلکہ مذہب اور سیاست کو الگ کرنے کا نام ہے ۔ ایک تہبند باندھنے والا دیہاتی ، سوٹ بوٹ میں ملبوس شہری بابو ،جس کے ماتھے پر محراب بنی ہے، سے زیادہ روشن خیال ہو سکتا ہےیہی وہ غلط فہمی ہے جس کو دور کرنے کے لیے روشن خیال جریدے کوشش کرتے ہیں۔

روشن خیالی تو بنیاد ی طور پر معاشرے میں جاری مذہبی، سیاسی وسماجی استحصال کو بے نقاب کرنے کا نام ہے۔ بالاد ست طبقوں کو چیلنج کرنے کا نام ہے جو عوام کا استحصال کر رہے ہیں۔ پاکستان میں کنٹرولڈ جمہوریت تو ہے ہی اب کنٹرولڈ لبرل ازم بھی فروغ پا چکا ہے۔

یہ کنٹرولڈ لبرل ازم ہی ہے کہ پاکستانی لبرل انتہا پسندی کی مخالفت کر تے ہیں لیکن مولانا مسعود اظہر، حافظ سعید، مولانا فض الرحمن خلیل اور صلاح الدین اور ان جیسے دوسرے دہشت گردوں کی مذمت نہیں کر تے۔ کنٹرولڈ لبرل ازم میں دہشت گردی کی مخالفت کی جا سکتی ہے ، ریاست کی طرف سے دہشت گردی کو ختم کرنے کا چرچا بھی ضروری ہے مگر دہشت گرد وں کی موجودگی اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کے خلاف آواز نہیں اٹھا ئی جا سکتی؟ الٹا دہشت گردی کے خاتمے کی کوششوں کی وہی بین بجاتے ہیں جو ریاستی مقتدرہ بجانے کےلیے کہتی ہے۔

اسی صورتحال کو کسی نے سوشل میڈیا پر والٹیر کے قول سےتشریح کرنے کی کوشش کی ہے کہ ”اگر آپ جاننا چاہتےہیں کہ اصل حکمران کون ہے تو اس بات کو جاننے کی کوشش کریں کہ آپ کو کسی طبقے پر تنقید کرنے کی اجازت نہیں”۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی لبرل بلوچستان اور سندھ میں جبری طور پر اغواکیے گئے سیاسی کارکنوں کے اہل خانہ کا ساتھ دینے کو تیار نہیں۔ آرمی پبلک سکول میں ہلاک ہونے والے بچوں کے قاتل کو پناہ دینے والوں کے خلاف آواز نہیں اٹھا سکتا۔ مشال خان کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی بات نہیں کرتا۔


4 Comments

  1. Naseem-kausar says:

    بہت خوب. سنجیدہ اور دیانت دار نقطہ نظر

  2. یوسف صدیقی says:

    اس سےپہلے انھوں نے مولوی لدھیانوی کا مضمون بھی شائع کیا تھا۔۔۔ لیکن غلطی تسلیم کرنے کی بجائے بڑی ڈھٹائی سے اس کے حق میں دلائل دیے تھے۔ یہی کچھ اب نورجہاں کے متعلق کہہ رہے ہیں۔ ۔۔۔۔ تمغہ حسن کارگردی کا کچھ تو حق ادا کرنا ہے نا

  3. واہ بہترین، لوجیکلی ایک مضبوط تحریر، بہت سی ڈیفینیشن اتنے سہل اندازمیں بتائی گئی کہ ذہن میں سماتے دیر نہ لگی، جیتے رہیں

  4. ایک دفعہ ایک جادوسی ڈائجسٹ میں پڑھا تھا کہ ایک شخص نے اخبار نکالا اور ادے دیس بھر میں مفت تقسیم کیا جاتا۔روز بتوز اسکی اشاعت سب اخبارات دے تجاوز کرگئی۔ لوھ حیران تھے کہ بلاقیمت اخبار فروخت کرنے کا مقصد کیا ہےکچھ عرصہ بعد ایک رات آخری وقت پر مالک نے نیوز ایڈیٹر کو فون پر ہدایت فرمائی کہ آج کے خبار کی ہیڈ لائن یا مین سرخی یہ لگاو۔ ایڈیٹر نے حکم کی تکمیل کی۔اکبار معمول کے مطابق لاکھوں کی تعداد میں شائع ہوا۔
    دوپہر تک ملک میں طوفان برپا ہوچکا تھا۔لاکھوں ہزاروں لوگ سڑکوں نکل آئے تھے۔
    لوگوں اور اخبار کے عملے کی سمجھ میں آگیا کہ کہ
    مفت اخبار اسی مقصد کے لیے چھاپا جارہاتھا۔
    لبرل ازم کے نام پر جرائد شائع کرنے والے نور جہان جیسے مضامین سمیت بہت کچھ عوام کے ذہنوں داخل کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *