فلسفے کے استاد ریاستی اداروں کے ہاتھوں قتل

ڈاکٹرحسن ظفر عارف کراچی یونیورسٹی کے فلسفہ کے استاد کی مسخ شدہ لاش کراچی کے مضافات سے ملی ہے ۔ ان کا جرم ریاستی پالیسیوں سے اختلاف کرنا تھا۔ ایم کیوایم لندن کا ساتھ دینے پر انہیں کئی ماہ تک جیل اور عدالتوں میں گھیسٹا گیااور جب دیکھا کہ وہ خاموش ہونے والے نہیں تو مار دیا ۔

پاکستانی ریاست چاہتی ہے کہ جیسا وہ سوچتی ہے ویسا ہی ہمارے صحافی ، دانشور، لکھاری اور استاد کو سوچنا چاہیے جو ایسا نہیں سوچے گا اس کا انجام ڈاکٹر ظفر عارف جیسا ہی ہوگا۔

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اس ریاست نے بنگلہ دیش میں ہزاروں استادوں، لکھاریوں، مصوروں کا قتل عام کیا تھا کیونکہ انہوں نے پاکستانی ریاست کی پالیسیوں سے اختلاف کیا تھا۔اب یہی ریاست بلوچستان اور سندھ کے سیاسی کارکنوں اور استادوں کے جبری اغوا اورقتل عام میں ملوث ہے۔

ڈاکٹر حسن ظفر عارف کے سیاسی نظریات سے اختلاف کیا جاسکتا ہے مگر ان کا بہیمانہ قتل انتہائی قابل مذمت فعل ہے۔کراچی یونیورسٹی کے استاد کی حیثیت سے انہوں نے جنرل ضیا کے مارشل لا کی مذمت کی تھی۔جب کراچی کے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل جہانداد خان نے سندھ کے تعلیمی اداروں میں سرکلر بھیجا کہ کوئی بھی استاد مارشل لا کی مذمت نہیں کرے تو انہوں نے اس کا زور دار جواب لکھا کہ ایک جرنیل کو کوئی حق نہیں وہ کالج اور یونیورسٹی کے استادوں کو ڈکٹیٹ کرے کہ انہیں کیا پڑھانا چاہیے اور کیا نہیں؟

کسی جرنیل کو اس سے زیادہ سخت جواب نہیں دیا جا سکتا۔ مارشل لا کی مخالفت پر انہیں جیل جانا اور نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے۔ کافی عرصہ بے روزگاررہے درمیان میں کتابوں کے ترجمے کرکے روزی روٹی چلاتے رہے۔

ان کے شاگرد لکھتے ہیں کہ پروفیسر ظفر عارف کا قتل غم زدہ کرتا ہے، رلاتا اور غصہ دلاتا ہے ـ محترم استاد کی زندگی مگر حوصلہ اور امید بھی دلاتی ہے ـ انہوں نے ساری زندگی اعلی اصولوں کی پاسداری اور جبر کے خلاف شاندار جدوجہد کی ـ انہوں نے زمینی خداؤں کی حاکمیت کو للکارا، انہوں نے بے نظیر بھٹو کا اس وقت ساتھ دیا جب بڑے بڑے وڈیرے معافی نامہ لکھ رہے تھے۔بے نظیر کی فوجی حکومت سے مذاکرات کرنے پر علیحدگی اختیار کر لی۔

وہ قومی و طبقاتی سوال اس وقت بھی اٹھاتے رہے جب ماسکو اور بیجنگ کے کامریڈ معذرت خواہ بننے میں عافیت ڈھونڈھ رہے تھے ـ کراچی میں الطاف حسین بادشاہ تھے تو انہوں نے انہیں سلام بھی نہ کیا لیکن جب الطاف حسین اور ان کی جماعت پر کڑا وقت آیا اور بڑے بڑے پھنے خان طاقت کو سجدہ کرنے لگے ایسے میں استاد محترم نمودار ہوئے ـ انہوں نے راندہِ درگاہ الطاف حسین کا ہاتھ پکڑ کر جابر کو للکارا ـ

جناب ظفر عارف حوصلہ دیتے ہیں، امید دلاتے ہیں ـ وہ جاتے جاتے بھی لڑنے کا، ثابت قدم رہنے کا اور حق بات کہنے کا سبق دے گئے ـ انہوں نے بیماری، ضعیفی اور کمزوری کے تمام بہانوں کا پردہ چاک کرکے جتلا دیا زندگی میں نظریہ ہو تو جابر سے ہر قسم کی جنگ لڑی جاسکتی ہے ـ

استاد کا انتقام کسی لولی لنگڑی جمہوریت کا حصول نہیں ـ استاد کا انتقام جدوجہد اور کامیابی ہے ـ قومی اور طبقاتی سوال کی جنگ ـ ظفر عارف صاحب کو قتل کیا جاسکتا ہے ان کی شاندار اور جرات مند فکر کو نہیں ـ

ظفر عارف صاحب کو لال سلام 

Web Desk

2 Comments

  1. بلاشبہ کسی کا بے گناہ قتل ظلم عظیم ہے مگر جو آدمی ایم کیو ایم جیسی قاتل اور دہشت گرد تنظیم کا رکن تھا اس کے کون سے اصول اور کون سے ضوابط ۔۔۔۔۔ ظفر صاحب کو زندگی میں میں نے کبھی بوری بند لاشوں پر کوئی تبصرہ کرتے نہیں سنا نہ ہی ہی بلدیہ ٹاون میں بے گناہ لاشوں پر ایم کیوایم کے خلاف کچھ بولتے سنا۔۔۔۔۔ بھاڑ میں جائے ایسا فلاسفر اور ایسا فلسفہ جو آپ کو جھوٹ اور سچ میں فرق کرنا نہ سکھا سکے۔ وہ سچے ہوتے تو ایم کیوایم جیسی قاتل تنظیم کے رکن ہی نہ ہوتے۔۔۔پھر بھی اگر آپ کو لگتا ہے کہ ظفر صاحب بڑے آدمی اور بڑے فلسفی تھے تو پھر آپ کے بارے میں یہ رائے دی جا سکتی کہ آپ کا تعلق انہی سے ہے جن سے کلبھوشن یادیو تھا۔

  2. there is many way to kill a nation. and this is one of them. such people are called as a asset of a nation and a nation is being deprived of its assets. once the ruler of france was asked to jail sartre. the ruler said he is france and how can i jail france. we degrade abdul qadir and abdus salam and now dub the teachers and philosophers as traitor . we are heading towards suicide.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *