عہد وسطیٰ کے اسلامی ہسپتال

زکریاورک ، ٹورنٹو 

اسلامی دنیا میں سب سے پہلا ہسپتال ولید ابن عبد الملک (م715) نے دمشق میں706 میں قائم کیا تھا۔ اس کے قیام کا مقصد بیماروں کا علاج اور ان لوگوں کا علاج تھا جو دائمی امراض میں مبتلا تھے۔ یہاں نابینالوگوں، غرباء اور جذامیوں کا بھی علاج کیا جاتا تھا۔ جذامیوں کے الگ وارڈ تھے ۔ تمام علاج مفت ہوتا تھا ۔ یہاں متعدد فزیشن برسر روزگار تھے۔ یہ ہسپتال بعد میں اسلامی دنیا میں قائم ہونے والے ہسپتالوں کیلئے ماڈل ثابت ہؤا تھا۔ 

دمشق کے نوری ہسپتال کی بنیاد ترکی النسل نور الدین محمود زنگی (1118-74)نے 1154میں رکھی تھی ۔ اگلے تین سو سال تک طب کا اہم مرکز رہا۔یہ ہسپتال صلیبی جنگوں کے دوران تعمیر ہؤا تھا اس لئے اس کا وسیع اور آلات سے لیس ہونا ضروری تھا تا کہ جنگی زخمیوں،جنگی قیدیوں، غیر ملکیوں کا خاطر خواہ علاج کیا جا سکے۔ وقت گزرنے کے ساتھ نہ صرف یہ اعلیٰ درجے کا فری ہسپتال بن گیا بلکہ فرسٹ کلاس میڈیکل سکول بھی۔ سلطان زنگی نے کتابوں کا ایک بڑا ذخیرہ ہسپتال کو عطیہ میں دیا تھا۔ اس دورمیں کتابیں بہت مہنگی اور نایاب ہوتی تھیں کیونکہ یہ ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں۔ پندرھویں صدی میں کتابیں پرنٹنگ پریس پر شائع ہونا شروع ہوئی تھیں۔ یہ پہلا ہسپتال تھا جہاں میڈیکل ریکارڈز رکھے جاتے تھے۔ ڈاکٹرز تمام مریضوں کی ایک فہرست رکھتے تھے جس میں ان ذاتی انفارمیشن کے علاوہ جو ادویاء ان کو دی گئیں ان کی فہرست ہوتی تھی۔ ڈاکٹرز صبح کے وقت ہسپتال میں مریضوں کا معائنہ کرتے ، دوپہرکے وقت اپنے میڈکل آفس میں مریضوں کا معائنہ کرتے اور شام کو لیکچرز دیتے تھے۔ نوری ہسپتال اس وقتمیوزیم آف میڈیسن اینڈ سائنس ان دی عرب ورلڈکہلاتا ہے۔ 

علاؤالدین ابن نفیس(1213-1288) اس ہسپتال کا گریجوایٹ تھا جس نے 1254 میں پلمونری سرکولیشن آف بلڈ کودریافت کیا تھا۔ جالینوس کے دعویٰ کوغلط قرار دیتے ہوئے آپ نے کہا کہ انسانی دل کے دائیں جوف سے خون بائیں جوف میں انسان کے پھیپھڑوں میں سے ہو کر پہنچتا اس چیز کا نام پلمونیری سرکولیشن ہے۔اسکے علاوہ ابن نفیس نے کا پلری سسٹم (خون کی باریک رگیں) اور کارونری سسٹم (شرائین)کا بھی ذکر کیا جو انسانی جسم میں خون کی گردش کی بنیاد ہیں۔ نوری ہسپتال سات سو سال تک قائم رہا اور اب بھی اس کچھ حصے محفوظ ہیں۔ اس کے بعد یہاں پانچ اور ہسپتال قائم ہو گئے۔ 

بغداد کے ہسپتال
عباسی دور حکومت میں خلیفہ المنصور اور خلیفہ ہارون الرشید دونوں نے بغداد میں ہسپتال تعمیر کروائے تھے۔ اگلے سو سال میں بغداد میں پانچ ہسپتال قائم ہوئے۔ عباسی خلفاء کے طبیب نصرانی ہوتے تھے جنکا تعلق بخت تیشو خاندان سے تھا۔ ان ہسپتالوں کو بیمارستان کہا جاتا تھا یعنی بیماروں کا گھر۔ بیمار فارسی کا لفظ ہے۔ مصر میں اب ہسپتالوں کو مستشفیٰ کہاجاتا ہے یعنی جہاں شفا اور صحت حاصل کی جائے۔ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے 766 میں جندی شاہ پور کے معتبرمیڈیکل سکول کے ڈین کو اپنا شاہی طبیب مقرر کیا ، اور حکم دیا کہ بغداد کی شہرت کے مطابق ہسپتال قائم کیا جائے۔اس کے بعد ہارون الرشید نے اپنے شاہی طبیب جبرئیل ابن بخت تیشو کو حکم دیا کہ بغداد میں ہسپتال قائم کیا جائے جس کی تعمیر790 میں ہوئی تھی۔ جلد ہی یہ نہایت اہم اور شہرہ آفاق میڈیکل سینٹر بن گیا جس کا ایک زمانے میں ڈائریکٹر زکریا الرازی (854-925)تھا۔

خلیفہ المقتدر نے 918 میں بغداد میں دو ہسپتال تعمیر کروائے۔ ایک ہسپتال شہر کے مشرق کی جانب تھا جس کا نام اس کی والدہ کے نا م پرالسیدہ تھا جبکہ دوسرا ہسپتال شہر کے مغرب کی جانب تھا جس کانام المقتدری تھا۔ تا ھم اس دور میں بغداد کا عظیم الشان ہسپتال بیمارستان العدودی تھاجس کوعدودالدولہ نے 981میں تعمیر کروایا تھا۔ یہاں 25 ڈاکٹرز ملازم تھے جن میں ماہرین امراض چشم، سرجن اور ہڈیوں کے ماہر شامل تھے۔طالب علموں کو لائبریری میں موجود طبی کتابوں سے تعلیم دی جاتی تھی اور بعض ایک ڈاکٹروں نے خود بھی طب پر کتابیں لکھیں۔ علی ابن عباس جس نے طب کی مشہور کتاب الملکی قلم بندکی تھی وہ یہاں سٹاف کا ممبر تھا۔سٹاف میں یہودی، عیسائی اور مسلمان ڈاکٹر تھے جو کچھ روز ہسپتال میں کچھ روز شہر میں پریکٹس کرتے تھے۔ 1068میں یہاں 28 ڈاکٹر بر سرروزگار تھے جو ہر سوموار اور جمعرات کو مریضوں کا معائنہ کرتے تھے۔ 1184میں بغداد میں آنیوالے ایک سیاح نے اس ہسپتال کو وسیع و عریض محل قرار دیا تھا۔ چنانچہ المنصوری ہسپتال اب بھی بغدادمیں قائم اور مخلوق خداکی خدمت پر معمور ہے۔ 

موبائل ہسپتال بغداد میں942 میں قائم ہؤا تھا۔ فیلڈ ہسپتال1122میں مستوفی عزیزالدین بغدادی نے قائم کیا۔ سلجوق سلطان محمود کا سامان اور ہسپتال کا ساز و سامان200 اونٹوں پر لادا گیا تھا جس میں ڈاکٹروں، نرسز کے علاوہ میڈیکل آلات، ڈرگز، اور ٹینٹ شامل تھے تا جنگ میں جانے والے فوجیوں کا علاج کیا جا سکے۔ 

قاہرہ کے ہسپتال 
قاہرہ کے تین مشہور و معروف ہسپتا ل تھے: ابن طولون کا ہسپتال، ناصری ہسپتال، منصوری ہسپتال۔ 

قاہرہ کا سب سے پرانا اور پہلا ہسپتال فسطاط کے مقام پر عباسی گورنرابن طولون (835-884)نے872میں قائم کیا تھا۔ یہاں دیگر مریضوں کے ساتھ پاگلوں کو بھی طبی سہولت و آسائش بہم پہنچائی جاتی تھی۔ گورنرابن طولون ہسپتالوں میں مریضوں کی عیادت کیلئے جاتا تھا ایکدفعہ وہ اس ہسپتال میں پاگلوں کے وارڈ میں گیا تو ایک دیوانے نے اس سے انار مانگا۔ مگر کھانے کی بجائے اس نے انار سلطان کو زور سے دے مارا جس سے اس کے کپڑے گندے ہوگئے۔ اس کے بعد وہ کبھی ہسپتال نہ گیا۔ بارہویں صدی میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے قاہرہ میں ناصری ہسپتال قائم کیا تھا۔

مصر کامملوک سلطان منصور الملک قلاؤن(م1290)شام میں ایک مہم کے دوران قولنج کے حملے سے شدیدبیمار پڑ گیا۔ اس کا علاج دمشق کے نوری ہسپتال میں کیا گیا اور وہ اس سے بہت خوش ہؤا۔اس نے عہد کیا کہ جب وہ تخت پر متکمن ہوگا تو اس جیسا ہسپتال قائم کر ے گا۔ یوں قاہرہ کا سب سے عظیم اور پر شوکت ہسپتال1284میں یہاں منصوری ہسپتال دس لاکھ درھم سالانہ کے وقف کی رقم سے قائم ہؤا تھاجو سائز اور اہمیت میں ناصری ہسپتال سے اچھا تھا۔ یہ ایک محل تھا جس میں ہسپتال قائم ہؤا تھا۔ اس کا نام المر ستان الکبیر المنصوری تھا۔ہسپتال کی صلیبی صورت کی چا ر عمارتیں تھیں جو دس ہزار سکوائر فٹ پر پھیلی ہوئی تھیں۔ 

یہاں غریبوں، امیروں، نادار بیمار ، عورتوں اور مردوں کا علاج ہوتا اور ان کے الگ الگ وارڈز تھے۔ عورتوں کیلئے الگ خواتین نرسز ہوتی تھیں۔ امراض العین کیلئے علیحدہ عمارت تھی، اسی طرح سرجری کیلئے بھی۔ دوائیوں کیلئے سٹور روم،پروفیسروں (معلمون) کے لیکچرز کیلئے الگ لیکچر روم، کچن، آلات کیلئے کمرے اور ہسپتال کی اپنی فارمیسی تھی۔ یہاں قیام کی کوئی مدت نہیں تھی۔ مسلمانوں کیلئے ہسپتال کے کمپلیکس میں مسجد اور نصرانیوں کیلئے چرچ تھا۔ یہ ہسپتال650سال تک قائم رہا۔ کمپلیکس کا کچھ حصہ ابھی بھی قاہرہ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ 

دیگر ہسپتال
بغداد، قاہرہ ،طہران اور دمشق کے علاوہ اسلامی دنیا میں اور بھی ہسپتال قائم کئے گئے۔ تیونس کے دار الحکومت قیروان میں پرنس زیادۃ اللہ نے 830 میں پہلا ہسپتال تعمیر کروایا جس کا نام الدمنہ تھا۔ ایران میں متعدد ہسپتال تھے مگر رے (طہران)کے شہر میں اہم ہسپتال تھا جس کا ڈائریکٹر زکریا الرازی تھا جو بعد میں بغداد ہسپتال میں ڈائر یکٹر بن گیا تھا۔ تیرھویں صدی میں سلطنت عثمانیہ (ترکی) میں ہسپتال قائم کئے گئے۔ ہندوستان میں ہسپتال قائم ہو چکے تھے۔ اسلامی سپین میں سب سے پہلا ہسپتال غرناطہ میں 1366 میں پرنس محمد ابن یوسف ابن نصرنے تعمیر کروایا تھا۔ 

جب سلطان صلاح الدین ایوبی (م1183)نے یروشلم کو 1187میں دوبارہ فتح کر لیا تو اس نے سینٹ جان کے کمپلیکس میں ایک ہسپتال تعمیر کروایا۔ ۱۱۸۳ میں اس ہسپتال میں مردوں، عورتوں اور پاگلوں کیلئے الگ الگ عمارتیں تھیں۔ مریضوں کا معائنہ صبح اور شام کے وقت کیا جاتا ، ان کو خاص خوراک دی جاتی تا وہ صحت یاب ہو سکیں۔ اسکندریہ کے ایک ہسپتال میں اجنبیوں اور غیر ملکیوں کا علاج کیا جاتا تھا۔ ایسے لوگ جو ہسپتال کسی وجہ سے نہیں آ سکتے تھے ان کی حالت معلوم کرنے کیلئے لوگ بھیجے جاتے جو واپس آکر ڈاکٹروں کو ان کی حالت بتاتے تھے جس کے مطابق ان کا علاج کیا جاتا تھا۔ 

مراکش میں بادشاہ منصور یعقوب ابن یوسف نے 1190 میں مراکش کے شہر میں ہسپتال تعمیر کروایا۔ یہ ایک وسیع و عریض ہسپتال تھا جس کے باغ میں پھل دار فروٹ اور دیدہ زیب پھول لگے ہوئے تھے۔ ہسپتال میں پانی کی سپلائی کا خاطر خواہ انتظام تھا جو پکی نالیوں سے آتا تھا۔ 

ہسپتالوں کی ہئیت 
ہسپتالوں کی عمارتیں کیسی تھیں؟ باہر سے یہ کیسے نظر آتے تھے ایسی معلومات مشہور مسلمان سیاحوں جیسے ابن بطوطہ اور المقریزی کے سفرناموں سے ملتی ہیں۔ بارھویں صدی میں شام اور مصر کے ہسپتالوں میں بہت سارے کمرے ہوتے تھے جن میں کچن، سٹوریج، فارمیسی، ملازموں کیلئے مکان، اوربعض میں لائبریری ہوتی تھی۔ ہسپتال کے سامنے فوارے لگے ہوتے تھے تاکہ تازہ پانی ہر وقت موجود ہو۔ عورتوں کا علیحدہ وارڈ تھا۔ مریضوں کے بھی الگ الگ کمرے تھے جیسے امراض چشم کے مریضوں کے لئے الگ حصہ تھا۔ بخار اورپیٹ کی بیماریوں کے مریضوں کا علیحدہ وارڈ تھا۔ سرجری کے لئے بھی علیحدہ وارڈ تھے اسی طرح ذہنی مریضوں کے الگ وارڈ تھے۔ آوٹ ڈور میں فارمیسی سے دوائیاں مفت دی جاتی تھیں۔ طبیبوں اور فارما سسٹوں کا ڈیوٹی چارٹ (راسٹر) ہوتاتھا جو اپنے اوقات پر ڈیوٹی کیلئے حاضر ہوتے اور وارڈز میں راؤنڈ لگاتے تھے۔ اطباء کی مد د کیلئے سٹیوارڈ اور آرڈرلیز ہوتے تھے جن کی مدد کیلئے مرد اور خواتین مقرر ہوتی تھیں۔ 

ہسپتال کی انتظامیہ
ہسپتال کو تین افراد چلاتے تھے۔1. تمام سٹاف کی نگرانی اورہسپتال چلانے کیلئے ایڈ منسٹریٹر ہوتا تھا جو طبیب نہیں ہوتا تھا۔ اس کی تقرری سیاسی ہوتی تھی۔2. ہسپتال کا ڈائریکٹر تاہم کوئی طبیب ہوتا جس کو متولی یا ڈینکہا جاتا تھااور 3.تیسرا شخص شیخ الصیدلانی یعنی چیف فارماسسٹ جو فارمیسی کا انچارج ہوتا تھا۔ بغداد میں ڈاکٹروں کوپر یکٹس کیلئے لائسنس لینا ضروری تھا جس کا حکم خلیفہ المقتدر نے 931میں جاری کیا تھا۔ان ڈاکٹروں کی رجسٹری ہوتی تھی جیسا کہ مغربی دنیا میں رجسٹری ہوتی ہے۔ 

کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو کی منسٹری آف ہیلتھ جہاں راقم نے 33سال ملازمت کی ، یہاں ہیڈ آفس میں اسی طرح کی رجسٹری ہے جہاں سے ہر نئے ڈاکٹر چھ نمبروں کا رجسٹریشن نمبر جاری ہوتا ہے۔ یہ چیز بغداد کی یاد دلاتی ہے۔ 

بغداد میں اس محکمہ کا انچارج سنان ابن ثابت(880-943) تھا جس نے 860 ڈاکٹروں کو امتحان کے بعد لا ئسنس جاری کئے تھے۔ سنان نے ہی دیہی علاقوں میں موبائیل ہسپتال شروع کئے تھے۔ تیرھویں صدی میں مصر کے منصور قلاؤو نے قلا ؤون ہسپتال کیلئے وقف قائم کیا جس میں مسجد یا چرچ، مریضوں کے الگ الگ وارڈز، اطباء کیلئے لا ئبریری اور فارمیسی شامل تھی۔ یہ ہسپتال سابق محل میں قائم کیا گیا تھا جس میں آٹھ ہزار افراد رہائش اختیار کرسکتے اور روزانہ چار ہزار مریضوں کا علاج کیا جاتا تھا۔ 

تمام ہسپتالوں کے اخراجات وقف (خیراتی اداروں ) سے ادا کئے جاتے تھے۔ امراء، وزیر اور مالدار لوگ وقف میں رقم تحفہ کے طور دیتے تھے۔ ہسپتال کی پراپرٹی میں کارواں سرائے، دکانیں، ملز ، اور بعض دفعہ تمام کے تمام گاؤں ہوتے تھے۔ دسویں صدی میں قانون بنائے گئے کہ ہسپتال 24 گھنٹے کھلے رہیں، اور جس مریض کے پاس رقم نہ ہو اس کا بھی علا ج مفت کیا جائے۔ 

بعض اوقات ہسپتال ٹیچنگ انسٹی ٹیوشن ہوتے تھے یعنی ڈاکٹروں، نرسوں کو وہاں میڈیکل ایجوکیشن،اور ٹریننگ دی جاتی تھی۔ اس کی ایک مثال بغداد کا عدودی ہسپتال تھاجہاں ڈاکٹروں کو تعلیم اور تربیت دی جاتی تھی۔ اس ہسپتال کی بنیا981میں رکھی گئی اور1258تک یہ کام کرتا رہاجب ہلاکوخاں نے بغداد کو تہس نہس کر دیا تھا۔ 

دوائی خانے یعنی فارمیسی

ڈاکٹر فارمیسی کونہ چلا سکتے اور نہ ہی اس میں کو ئی حصہ رکھ سکتے تھے۔ بڑے بڑے شہروں میں لوگوں کے پرائیویٹ ڈرگ سٹور تھے۔ خلیفہ المامون اورالمعتصم کے شاہی فرمان جاری کیا کہ فار ما سسٹوں کو لائسینس لینے چاہئیں۔ فار ماسسٹوں کو کلاس میں تعلیم دی جاتی اور ادویاء کوجاننے کیلئے ذاتی تجربہ حاصل کرنا ضروری تھا۔ حکومت کی طرف سے ان ڈارگ سٹورز کا معائنہ کیا جاتا ایسے آفیسر کانام محتسب تھا جو یہ دیکھتا کہ ادویاء کو مناسب طریق سے مکس کیا جاتا، ان کو ملاوٹ نہیں تھی، اور مرتبان صاف شفاف تھے۔ اگر ان امور میں کوئی خلاف ورزی کرتا تو اس کو جرمانہ کیا جاتا تھا۔ 

کتابیات 
1. Medicine in the Crusades, by Pierce Mitchell, Cambridge Uni. Press, 2004 
Science and Islam, by Ehsan Masood, London 2009
Islamic Medicine, by E.G Browne, New Delhi, 2003 
زکریاورک، ۱۱۱ مسلمان سا ئنسدان، العزہ یونیورسل، واراناسی، انڈیا۔ ۲۰۱۵۔ 

One Comment

  1. ایک ایسے شفاخانے کی ضرورت ہے جس میں ان مسلمانوں کا علاج ہو سکے جو قرون وسطیٰ کی “اسلامی”تشریحات اور فتاویٰ کو ہی اسلام قرار دینے اور اسے اکیسویں صدی میں نافذ کرنے پر مصر ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *