فرینکفرٹ سکول، مارکسسٹ نقاد یامنحرف

پائند خان خروٹی

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہر شخص اپنے ماتھے پر اپنے طبقہ کےُ مہرکے ساتھ دنیا میں آتا ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر اشترا کی مفکر اعظم کارل مارکس کی ملکیت میں زمین کاکوئی ٹکڑا ہوتا تو شاید وہ بھی سماجی شعور کا مظاہرہ نہ کرپاتا جو اس نے ’’ داس کیپٹل ‘‘ اور’’ مینی فیسٹواف کمیونسٹ پارٹی ‘‘میں کیا ہے تاہم تاریخ انسانی ایسی شخصیات سے خالی نہیں جنہوں نے سرمایہ دار طبقے سے اپنے تعلق کے باوجود سماجی شعور کی بنیاد پر زیار کش طبقہ کی حمایت کی ہو ، طبقاتی جدوجہد کو سراہا ہو ، زحمت کشوں کی بالا دستی کو تسلیم کیا ہو اور بالا دست طبقہ سے اپنے آپ کو ڈی کلاس کردیا ہو۔ ان میں کارل مارکس کے قریبی دوست اور اشترا کی مفکر فریڈرک اینگلز اور فرینکفرٹ سکول کی بنیاد رکھنے والے فیلکس ویل جن کے مالی تعاون کی وجہ سے فرینکفرٹ سکول کی ابتداء ممکن ہوسکی ۔

ڈاکٹر فیلکس ویل نسلی طورپر ارجنٹائن سے تعلق رکھتا ہے لیکن جرمنی میں سکونت اختیارکھی تھی ۔ فیلکس ویل کے عطیہ سے انسٹی ٹیوٹ فار سوشل ریسرچ گوئٹے یونیورسٹی میں باقاعدہ ایک ادارہ قائم کیاگیا جو بعد میں ’’ فرینکفرٹ اسکول اینڈ کرٹیکل تھیوری‘‘ کے نام سے مشہور ہوا ۔ 

ادارہ کا بنیاد ی مقصد جرمنی میں مارکسی نظریات کو آگے بڑھانا تھا ۔ فرینکفرٹ سکول نے خاص طو رپر فلسفہ ، میڈیا ، کلچر اور لٹریچر کے علاوہ دیگر متعلقہ شعبوں میں مارکسی تعلیمات کو نئے تناظر میں بیان کیا۔ فرینکفرٹ سکول سے تعلق رکھنے والے اہل فکر وقلم میں مارکسی سوچ رکھنے والوں کے علاوہ مارکسی فلسفہ وعلم سے قربت رکھنے والے بھی شامل تھے تاہم یہ تمام لوگ تین مختلف شخصیات کارل مارکس ، سیگمنڈ فرائیڈ اور اطالوی مارکسٹ انتنو گرامچی سے زیادہ متاثر تھے ۔ 

ویسے تو اسی ادارہ کی ابتداء سے لیکر اب تک کئی اہم مفکرین وفلاسفرز منسلک رہے ہیں لیکن ہر برٹ مارکوس ان سب میں بین الاقوامی سطح پرمؤثر ترین شخصیت کی حیثیت سے نمودار ہوا ۔ فرینکفرٹ سکول سے تعلق رکھنے والے نے اپنے نظریہ انتقاد کو مختلف شعبوں بالخصوص کلچر ، لٹریچر اور میڈیا میں نہایت سنجیدگی اور انہماک سے استعمال کیا جس کے نتیجے میں فرینکفرٹ سکول اور کرٹیکل تھیوری ایک دوسرے کیلئے لازم ملزوم ہوگئے ۔ غالب گمان ہے کہ انہوں نے نہایت ماہرانہ انداز میں مارکس ا ور اینگلز کے کنفلکٹ تھیوری کو مستعار لیکر کرٹیکل تھیوری کا نام دیا۔

اپنے افکار وخیالات میں سرمایہ دارانہ نظام اورجدیدیت پرگہری اور پُر اثر تنقید کی اور سماجی نجات کی راہ ہموار کرنے کی بھرپور کاوشیں کیں ۔ کرٹیکل تھیوری سیاسی اور معاشی شعبوں میں مارکسی تصورات کو کُھل کر آگے بڑھاتاہے ۔ خاص طور پر ہر شے کے جنس میں تبدیل ہوجانے کے رجحان کی سختی سے مذمت کرتا ہے ۔ واضح رہے ایک طرف اگر فرینکفرٹ سکول سرمایہ دارانہ نظام کو ظلم ، جبر اور استحصال پرمبنی غیر انسانی نظام قرار دیتے ہیں تو دوسری جانب وہ انقلابی نظریہ ومبارزہ کے پُر خار راستے پر چلنے سے انکاری ہے ۔ڈاکٹر نکی لاسیہ کولے نے ان کے اس مصلحت کو ایک نئے نام سے منسوب کرنے کی کوشش ان الفاظ میں بیان کیا ہے ۔
“However , the Frankfurt School is known for a particular brand of culturally focused neo-Marxist theory-a rethinking of classical Marxism to update it to their socio-historical period-which proved seminal for the fields of socialogy , cultural studies & meida studies.”(1)

قارئین کیلئے عرض ہے کہ تنقیدی علم ونظریہ سے واقفیت ایک تعمیری سرگرمی ہے ، تنقیدی رویہ ہرگز منفی رویہ نہیں ہوتا اور اس سے نئے ذہنوں کو تشکیل دینے اورتخلیقی عمل کو فروغ ملتا ہے ۔ تنقیدی شعور کے ادراک سے انسان میں نئے سوالات اُبھارنے ، پرانے خیالات کو ایک نئے زوایے سے دیکھنے ، توہمات سے علم وسائنس کی جانب گامزن کرنے ، اندھی تقلید کی بجائے علم و عقل کی بنیاد پر چیزوں کو پرکھنے اور کسی ایک مخصوص منزل پر روکنے کی بجائے مسلسل عمل اور حرکت میں رہتا ہے ۔ تنقید کی ان تمام اوصاف کے باوجود انقلابیوں میں ہی طے پایا تھا کہ ادراک سے اطلاق کی جانب سفر کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھانے ہونگے ۔ 

کارل مارکس نے دنیا بھر کے تمام فلاسفرز پر واضح کیا تھا کہ آپ تاویلات اور تشریحات کے جھنجٹ سے باہر نکل کر خود تبدیلی کی آواز اوربلاامتیازمعاشی غنڈوں کو خلقی رنگ میں بدلنے کا وسیلہ بنے۔فلاسفر کے بے عملی اورزندگی سے فرار کو تنقیدی کانشانہ بناتے ہوئے کہا کہ :
” The philsophers have only interpreted the world in various ways, the point however is to change it. “(2)

علم کو عمل سے مربوط کرنا ہی نئے حقائق تلاش کرنے کی راہ ہموار ہوجاتی ہے ۔ دونوں علم وعمل کے باہمی ربط کے نتیجے میں فکری پختگی کو سچی بنیادیں فراہم ہونا شروع ہوجاتی ہیں جبکہ فرینکفرٹ سکول کے فکر وقلم کے خاوندوں نے مسلح جدوجہد اور پرولتاریہ کی بالا دستی کو مسترد کرتے ہوئے اس امر پر اصرار کیا کہ وہ پرامن طریقے سے تعلیمات پر انحصار کرتے ہیں ۔ نسل درنسل ، بتدریج تمام اداروں اور شعبوں میں فکری جدوجہد کے ذریعے بالا دستی حاصل کرسکتے ہیں ۔ ان کے خیال میں سرمایہ دارانہ نظام اپنے بنیادی ہتھیار کے طو رپر میڈیا اورنصابی تعلیم کو استعمال کرتا ہے ۔ ان شعبوں میں اپنی کارکردگی کے ذریعے انہیں زیر کرسکتے ہیں ۔ مسلح جدوجہد اور پرولتاریہ کی بالا دستی سے انکار کو فرینکفرٹ سکول کے دوسرے ڈائریکٹر میکس ہو ر کمائر نے الفاظ کی رنگینی میں اپنی مصلحت کو چُھپانے کی کوشش یوں کی ہے کہ :

“The revolution wan’t happen with guns, rather it will happen incrementally , year by year , generation by generation. We will gradually infiltrate their educational institutions & their politiacl offices, transforming them slowly into marxist entities as we move towards the univeral egalitarainism .”(3) 

جرمنی سے1933 میں جنیوا اور جنیواسے1935 میں کولمبیا یونیورسٹی نیویارک منتقلی اور1951 میں واپس جرمنی آنے کی وجہ سے ان سے وابستہ توقعات بھی مزید کمزور ہوئی اور ان کے لکھنے والوں پر امریکی اشرافیہ کے اثرات بتدریج نمایاں ہوتے چلے گئے ۔ واضح رہے کہ بورژ وا کلچر بذات خود بالا دست طبقہ کیلئے بہت کا رآمد ہتھیار ہوتا ہے ۔ اس کے فروغ وترویج سے ان کے اقتدار اور اختیار مزید مستحکم ہوجاتا ہے ۔ ویسے کلچر سسٹم اینڈ اسٹیٹس کو تبدیل کرنے کے بجائے اس کاحصہ بننے پر مائل کرتا ہے ۔ رجعتی معززین اور قباہلی معتبرین کوبدلنے کی بجائے ان کی خوبیاں گنوانے کو اپنا فریضہ جانتا ہے ۔

محروم اور محکوم طبقات کے گلے میں ذہنی غلامی کے طوق کوبرقرار رکھنے ، سیاسی اقتدار سے محروم رکھنے اور معاشی محتاجی کاشکار کرنے کے علاوہ ڈاکٹر مبارک علی نے ایک تیسری چیز کی نشاندہی کچھ یوں کی ہے ۔ ’’ طبقاتی تقسیم اور فرق کو گہرا کرنے کی تیسری چیز سماجی اور ثقافتی قدریں اور روایات ہوتی ہین جو رو زمرہ کی زندگی میں نچلے طبقوں کو یہ یاد دلاتی رہتی ہیں کہ سماج نے ان کیلئے جو جگہ مقرر کردی ہے وہ وہیں پر قائم رہیں اور خود کو ذہنی طو رپر اس نچلی حیثیت کیلئے ہمیشہ تیار رکھیں ۔‘‘(4)

کارل مارکس نے سرمایہ داری کے سرجن بلکہ ایک منفرد ناقد کی حیثیت سے جب اس کی بنیادوں کوہلایا اور سرپلس ویلیو کے حوالے سے عالمی سرمایہ درانہ نظام کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تو انقلابی نظریہ کا براہ راست مقابلہ اور مارکسی اساس کی تبد یلی سرمایہ دارانہ نظام کے حامیوں کیلئے مشکل ہوگیا ۔ اس کے نتیجے میں دو مختلف قسم کے رجحانات منظر عام پر آئے۔ ایک جانب کچھ ایسے مفکر ین اور دانشور سامنے آئے جو سرمایہ دارانہ نظام کے اندر رہتے ہوئے مارکسی تعلیم کے کچھ حصوں کے حامی نظرآئے ۔

اس کے علاوہ ایک دوسرا رجحان علمی وسیاسی افق پر نمودار ہونے والے بعض مفکروں اور دانشوروں نے خود کو مارکسزم سے وابستہ ہونے کا دعویٰ کیا لیکن مارکسزم کی ایسے بنیادی اصولوں سے انحراف کیا جو دنیا کو تبدیل کرنے میں قوت محرکہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ ان دونوں رجحانات کے علاوہ خود پہلے سوشلسٹ انقلاب 1917میں بظاہر انقلابیوں کی صف میں شامل لیون ٹراٹسکی کاشمار کاؤنٹر ریو لوشن افراد میں ہوتا ہے جو لینن کی زبان میں سُر خ جھنڈا اُٹھا کر سُرخ جھنڈے کی مخالفت کرتاہے ۔ 

بوئے گل لے گئی بیرون چمن، راز چمن
کیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمن

مغرب میں اکیڈمک مارکسزم کے علمبردار فرینکفرٹ سکول نے بعد ازاں لطافت ،لذتیت ، لفاظی ،جملہ بازی ، جمالیات اور زندگی سے فرارکے مختلف طریقوں میں پناہ لی ۔ یہی وجہ ہے کہ آج فرینکفرٹ سکول بلکہ تجربے سے عاری اور اپنے معروض سے الگ تھلگ عناصر سیگمنڈ فرائیڈ کے تحلیل نفسی ، پاپولر کلچر، نرگسیت، سیلف پروجیکشن اور بورژوا فیمنزم کے اثرات نمایاں نظرآتے ہیں ۔
سیاسی اور معاشی شعبوں میں عملی اورمسلح جدوجہدسے منہ مڑتے ہوئے کلچر اور لٹریچر کے شعبے تک خود کو محدود کرنے کے باعث فرینکفرٹ سکول سے لیکر 

پوسٹ ماڈر نسٹوں تک عملاً وہ سامراجی اور استحصالی عناصر کے خلاف جدوجہد کو کُند کرنے کاذر یعہ بنے ۔ منظم پرولتاریہ کو منشتر کرنے کاباعث بنے اور اپنے تمام خوبصورت فلسفیانہ کام کے باوجود پرولتاریہ کی تنظیموں اور تحریکوں کو تقویت پہنچانے کی بجائے معاشی غنڈوں ، رجعتی عناصر اور بورژوا زی کو مزید مضبوط اور مستحکم کرنے کاوسیلہ بن گئے ۔ 

ا نسانی معاشرے میں ادیبوں فلاسفروں کامنصب دنیا کی تشریح نہیں بلکہ دنیا کو تبدیل کرنا ہے ۔ استحصالی اور سامراجی قوتوں کے خلاف مزاحمت اور بغاوت سے اب تک ہونے والے انسانی تجربہ اور مشاہدہ سے یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ دنیا کو تبدیل کرنے کیلئے مارکسی انقلابی نظریہ ومبارزہ کے راستے پر ہی چلنا ہوگا جو یقیناً پھولوں کا بستر نہیں بلکہ کانٹوں کاتاج سرپر رکھنے کے مترادف ہے ۔ اپنے اس تحقیقی مقالے کااختتام خوشحال خان خٹک کہ اس شعر پر کروں گا کہ عشق میں جان ومال قربان کرنا پڑتا ہے جو اس قربانی کیلئے تیار نہیں وہ عشق کی راہ پر چلنے کااہل نہیں ۔

حوالہ جات
1. An Introduction to the Frankfurt School by Nicki Lisa Ph.D https://www.thoughtco.com/frankfurt-school,Sep,15,2017
2. Theses on Feuerbach by Karl Marx 1845—Marxist Internet Archives.
3. Smash Cultural Marxism.com May 27, 2017
۔4۔، ڈاکٹر مبارک علی/ رضی عابدی، اچھوت لوگوں کاادب، ناشر تاریخ پبلی کیشنز لاہور، 2012،ص9

5 Comments

  1. Paind Khan Kharoti says:

    مغرب میں اکیڈمک مارکسزم کے علمبردار فرینکفرٹ سکول نے بعد ازاں لطافت ،لذتیت ، لفاظی ،جملہ بازی ، جمالیات اور زندگی سے فرارکے مختلف طریقوں میں پناہ لی ۔ یہی وجہ ہے کہ آج فرینکفرٹ سکول بلکہ تجربے سے عاری اور اپنے معروض سے الگ تھلگ عناصر سیگمنڈ فرائیڈ کے تحلیل نفسی ، پاپولر کلچر، نرگسیت، سیلف پروجیکشن اور بورژوا فیمنزم کے اثرات نمایاں نظرآتے ہیں ۔

  2. Very nice. Please keep it up.

  3. کمال ہے فرینکفرٹ سکول پر اس تنقیدی مقالے( تحقیق تو کوئی نظر نہیں
    آتی) میں فرینکفرٹ سکول کے کسی بھی نمائندہ مفکر کی کسی کتاب کا حوالہ موجود نہیں. فرینکفرٹ سکول پر لکھی گئی ایک کتاب کا حوالہ دے کر اسے تحقیقی مقالے کا نام دے دیا گیا ہے. انقلاب کی بات نہ کرنے سے فرینکفرٹ سکول عمل کا مخالف کیسے ثابت ہو سکتا ہے. ی

  4. Paind Khan Kharoti says:

    فرینکفرٹ سکول کے فکر وقلم کے خاوندوں نے مسلح جدوجہد اور پرولتاریہ کی بالا دستی کو مسترد کرتے ہوئے اس امر پر اصرار کیا کہ وہ پرامن طریقے سے تعلیمات پر انحصار کرتے ہیں ۔ نسل درنسل ، بتدریج تمام اداروں اور شعبوں میں فکری جدوجہد کے ذریعے بالا دستی حاصل کرسکتے ہیں ۔ ان کے خیال میں سرمایہ دارانہ نظام اپنے بنیادی ہتھیار کے طو رپر میڈیا اورنصابی تعلیم کو استعمال کرتا ہے ۔ ان شعبوں میں اپنی کارکردگی کے ذریعے انہیں زیر کرسکتے ہیں ۔ مسلح جدوجہد اور پرولتاریہ کی بالا دستی سے انکار کو فرینکفرٹ سکول کے دوسرے ڈائریکٹر میکس ہو ر کمائر نے الفاظ کی رنگینی میں اپنی مصلحت کو چُھپانے کی کوشش یوں کی ہے کہ :

    “The revolution wan’t happen with guns, rather it will happen incrementally , year by year , generation by generation. We will gradually infiltrate their educational institutions & their politiacl offices, transforming them slowly into marxist entities as we move towards the univeral egalitarainism .”(3)

  5. In continuation of Paid Khan Sabeb’s note above … I just wanted to say that it would be instructive for the intellectuals to go through Eric Hobsbawm’s preface to Communist Manifesto published by Verso in 1998.
    I believe Paid Khan Saheb’s writing deserves a serious reading and evaluation.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *