کیا چال چلن کی کو توالی انسان دشمن ہو گئی ہے؟

فلم تبصرہ: سبط حسن

DUTCH FILM: THE HUNT

کلچر کو جمود یا تحفظ وہ لوگ دیتے ہیں جو زندگی کے مختلف شعبوں میں لوگوں کے چال چلن کی کوتوالی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر گھر میں بچیوں کے لیے مائیں، لڑکوں کے لیے باپ، سکول میں استاد ، دفتر میں ساتھی کارکن اور سماج میں محلے والے کوتوالی کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ کوتوالی کسی فرد کے چال چلن میں نظر آنے والے خفیف سے اشاروںیا تبدیلی کی صورت میں حرکت میں آجاتی ہے۔ مثال کے طور پر بچی کے سر سے ذرا برابر دوپٹہ سرک جائے، بچے نے سلام تو کیا مگر اس میں عاجزی نہ تھی وغیرہ۔

یہ بھی کہ کوتوالی کا منصب دراصل ان لوگوں کے پاس رہتا ہے جوکسی گوشے میں حاکمیت کا درجہ رکھتے ہوں۔ یہ اپنے اپنے گوشوں میں بیٹھے ایسے چال چلن کی نشاندہی کرتے ہیں جن کو کوتوالی کی حدود میں لایا جاتا ہے۔ ایسی نشاندہی کی وجہ بیان کرنا ضروری نہیں ہوتاکیونکہ ان کا مقصد ایک طرف تو اپنی حاکمیت کا لطف اٹھانا ہوتا ہے تو دوسری طرف زیر گرفت فرد کی تذلیل کرنا ہوتا ہے ۔ 

اسی موضوع پر ڈنمارک کی ایک فلم ’’دی ہنٹ‘‘ میں بہت گہرائی سے اسی معاملے پر بات کی گئی ہے۔ فلم کے پس منظر میں ایک گاؤں اور اس کا سکول ہے۔ گاؤ ں کے لوگ آپس میں خوشباش نظر آتے ہیں تاہم علامتی طور پر لوگ جانوروں کے شکار کے شوقین ہیں۔ یہ شوق ان میں موجود درندگی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ سکول میں ایک استاد بچوں کا بہت پسندیدہ ہے۔ بچے اس کے ساتھ’ کتے لاڈیاں‘ کرتے ہیں اور اس کی موجودگی میں بہت خوش رہتے ہیں۔

بچوں میں ایک لڑکی جس کی عمرسات آٹھ سال کے قریب ہوتی ہے، اس کے بچپن کے دوست کی بیٹی ہے۔ یہ لڑکی اپنے بڑے بھائی کے ہاتھ میں ایک تصویر دیکھتی ہے جس میں مردانہ عضو کی تصویر ہوتی ہے۔ ایک دن یہ بچّی اپنی ہیڈ ٹیچر سے کہتی ہے کہ اس نے اپنے استاد کا مردانہ عضو دیکھا ہے۔ ہیڈ ٹیچرایک ماہرِ نفسیات کو بچی سے بات کرنے کے لیے بلواتی ہے۔ اس سیشن کے دوران بچّی کے ساتھ یہ بات مان کر گفتگو کی جاتی ہے کہ استاد نے یہ حرکت تو ضرور کی ہے اور بچی کو کسی خوف سے یہ بات کہہ دینی چاہیے۔

اس سیشن میں بیٹھے ہیڈ ٹیچر اور ماہر نفسیات بچی کے اپنی بات پر پورا وثوق نہ ہونے کے اشارے کو نہ مانتے ہوئے اسے ٹیچر کے خلاف بات کرنے پر اکساتے ہیں۔ فلم کے ڈائریکٹر نے اس سیشن اور اس کے بعد لوگوں کے ردِ عمل کو اس طرح پیش کیا ہے کہ جیسے یہ سکینڈل ان سب کی پسندیدہ خوراک ہو اور وہ جیسے تیسے اس کوتوالی کے پاکھنڈ میں کسی کی بھینٹ دے کر ہی سکون پائیں گے۔ 

یہ کوتوالی کا مخصوص طریقہ بھی ہے۔ فلم میں اس واقعہ کے بعد، سب لوگ کوتوالی کے ہسٹیریا میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ کوئی اس بات کی طرف دھیان نہیں دیتا کہ بچے اپنے تخّیل میں جادوئی حدود کو چھوتے ہوئے کچھ بھی محسوس کر سکتے ہیں بلکہ اس احساس کو اسی طرح حقیقی مان سکتے ہیں جیسے کہ ان کے ہاتھ اور پاؤں۔ اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو واقعتابچے کیا ،بڑے بھی اپنے تخیل میں عجیب و غریب احساسات سے گزرتے ہیں۔

بچے اپنے احساسات کو ظاہر کرنے میں بے باک ہوتے ہیں خواہ وہ سماجی طور پر قبول نہ ہوں۔ فلم میں یہ بچی تصویر میں جو دیکھتی ہے ، اس کے بارے میں سوچتی ہے کہ وہ چیز اس کے ٹیچر کے پاس بھی ہو گی۔ اگر وہ اس کے پاس ہو گی تو چونکہ وہ ٹیچر اس کا دوست ہے ، اس لیے وہ اس چیز کو چھو سکتی ہے۔ اس کے بعد کا کام سب تخّیل میں رونما ہو تا ہے۔ اگر آزادانہ نقطہء نظر سے دیکھا جائے تو یہی لگتا ہے کہ بڑوں کی ثقا فتی تحفظ کی حصارایک بچی کے معمولی اور نارمل تخّیل سے لرز گیاجبکہ وہ بچّی یہ سب معمول کے طور پر کر گزری۔ اس بات کا اشارہ ڈائریکٹر نے دیا بھی ہے کہ جب وہ بچی اس سارے معاملے سے حیران ٹیچر کے گھر چلی آتی ہے جیسا کہ کچھ ہوا ہی نہیں۔ایسا وہ پہلے بھی کرتی تھی اور استاد اسے اس کے گھر چھوڑ آتا تھا۔ 

ایسی صورتحال میں الزام کا شکار بننے والے لوگ بڑی خاموشی سے اپنے آپ کو کسی شہادت کے نہ ہونے کے باوجود ملزم سمجھنا اور اپنے آپ کو سزا کا مستحق سمجھنا شروع کردیتے ہیں۔ یہ دراصل کلچر کے کسی فرد کے شعور میں بہت گہرائی میں جا گزیں ہونے کی نشانی ہے۔ ایک منزل پر کلچر ضمیر کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور خاموشی سے کسی کے اندر بیٹھ کر اس کے کردار کی کوتوالی کرتا رہتا ہے۔دوسری جانب ایسے کلچر میں طے شدہ تصورات اور حدود کو پھلانگنے والے افراد اجتماعی خلش کا باعث سمجھ لیے جاتے ہیں اور انھیں اجتماعی خلش کی تطہیر کے لیے قربان کیا جا سکتا ہے۔ ایسے اقدام قانونی گرفت سے بالا سمجھے جاتے ہیں ۔ اس فلم میں زیر الزام ٹیچر شروع میں حیران اور افسردہ ہوتا ہے مگر بعد ازاں وہ سماج سے لڑتا ہے۔ یہ لڑائی سماج کی فرسودگی اور اس کی معصومیت کی عکاس بن جاتی ہے۔ 

یہ درست ہے کہ اچھا چال چلن سماج کی صحت کے لیے ضروری ہے، مگر یہ بات بھی درست ہے کہ اچھے چال چلن کا تماشہ کسی سماج کی اصلیت مکر اور دکھاوا بنا دیتا ہے۔ ایسا ان معاشروں میں ہوتا ہے جہاں غیر حقیقت پسندانہ اخلاقی پیمانے ہدف بنا دیے جاتے ہیں۔ ایسے اہداف کا حصول انسانی طور پر ممکن نہیں ہوتا تو لوگ خود ان پر عمل کرنے کی بجائے دوسروں کی کوتوالی کو اپنا اخلاقی ہدف بنا لیتے ہیں۔ اس طرح اچھے چال چلن کا تماشا شروع ہو جاتا ہے۔ لوگ اس تماشے میں دوسروں پر دھیان زیادہ دیتے ہیں اور اپنے آپ کو اس تماشے سے باہر تصور کر لیتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *