کابل میں طالبان کا ایک اور خونریز حملہ

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں بیسویں صدی کے شاہکار ’انٹر کانٹینینٹل‘ ہوٹل پر خونریز حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کرلی ہے۔ اس حملے میں کم از کم اٹھارہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے، جن میں سے چودہ غیر ملکی ہیں۔

ہفتے کی شب قریب دس بجے شروع ہونے والا یه دہشت گردانہ حملہ اتوار کی دوپہر تک جاری رہا، جس دوران کلاشنکوف اور دستی بموں سے مسلح حملہ آور اس ہوٹل میں قیام پذیر ملکی اور غیر ملکی مہمانوں کو نشانہ بنانے کی تاک میں رہے۔ رات بهر افغان پولیس کے کمانڈوز منزل بہ منزل حملہ آوروں سے نبرد آزما رہے ، اور بالآخر  اتوار کی دوپہر کو تمام چھ حملہ آوروں کی ہلاکت کا اعلان کیا گیا۔ طالبان کے ترجمان ذبیح الله مجاہد نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے  کہ ان کے ’مجاہدوں‘ نے اس کارروائی میں کئی غیر ملکیوں کو ہلاک کیا ہے۔

حکومتی ذرائع مجموعی طور پر اٹھارہ ہلاکتوں کی تصدیق کر رہے  ہیں، تاہم جس وقت طالبان اس ہوٹل پر حملہ آور ہوئے اس وقت افغانستان بهر کے 34 صوبوں سے وزارت مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے عہدیدار بهی اسی ہوٹل میں ایک سیمینار کے لیے موجود تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک صوبائی عہدیدار، پاکستان کے شہر کراچی میں متعين افغان قونصل جنرل اور چودہ غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والے زیادہ تر غیر ملکی یوکرائن کے شہری بتائے گئے ہیں۔

ملک کی سب سے بڑی نجی فضائی کمپنی ’کام ایئر‘ کا کہنا ہے  کہ ان کے دس کارکن اس حملے میں اپنی جانیں کهو بیٹھے ہیں۔ ایک اعلامیے میں کام ایئر نے اعلان کیا کہ عملے کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے باعث کئی پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ انٹر کانٹینینٹل ہوٹل میں مقیم غیر ملکیوں کی ایک بڑی تعداد اسی فضائی کمپنی کے کارکن تھے۔

اس حملے کے فوری بعد سے لے کر کئی گھنٹے بعد تک ہوٹل میں موجود مقامی اور غیر ملکی مہمان اتنے خوفزدہ تھے کہ ان میں سے کئی افراد نے بدحواسی میں اس ہوٹل کے چوتھی اور پانچویں منزل کی کھڑکیوں کے راستے اپنی جانیں بچانے کے لیے وہاں سے فرار ہونے کی کوشش بھی کی۔

وزارت داخلہ کے ترجمان نجیب دانش نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آور پہلی منزل پر واقع باورچی خانے کے راستے ہوٹل میں داخل ہوئے اور زیاده جانی نقصان بهی پہلی منزل پر ہی ہوا، جہاں دہشت گردوں نے بے دریغ فائرنگ کی اور بم پهنکے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا که معاملے کی چهان بین شروع کر دی گئی ہے کہ آخر سکیورٹی کے کڑے حصار کے باوجود دہشت گرد  کیسے اندر پہنچ کر خون خرابہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے یہ بهی بتایا کہ چند ہفتے قبل انٹر کانٹینینٹل کی سکیورٹی ایک نجی کمپنی کو سونپی گئی تهی اور تحقیقات میں اس نکتے پر بهی غور کیا جائے گا۔

ایک غیر حکومتی اور غیر فوجی مقام پر ہوئے اس خونریز حملے کی مختلف حلقوں کی جانب سے شدید الفاظ میں مذمت کی جا رہی ہے۔  افغان صدر محمد اشرف غنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تمام اقسام کی دہشت گردی کے خلاف بلا تفریق کارروائیاں تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اشاروں میں پاکستان کی جانب اشاره کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحده کی سلامتی کونسل کے نمائندوں سے ہوئی حالیہ ملاقاتوں میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ جب تک دہشت گردوں کے لیے پناه گاہیں موجود اور ان کی معاونت جاری رہے  گی، تب تک اس خطے کے لوگوں کے لیے امن، سکون اور استحکام ممکن نہیں ہو گا۔

واضح رہے کہ ان ملاقاتوں کے دوران دیگر افغان حکام نے واضح الفاظ میں طالبان اور بالخصوص حقانی نیٹ ورک کے لیے پاکستان کے مبینہ تعاون کا مدعا اٹهایا تها۔ اسلام آباد البتہ ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ آج پاکستانی دفتر خارجہ سے جاری ہوئے ایک بیان میں کابل کے انٹرکانٹینینٹل ہوٹل پر ہوئے اس حملے کی مذمت کی گئی ہے اور افغان عوام اور حکومت کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل ہی حکومت پاکستان نے علما کا فتویٰ جاری کیا تھا جس میں خود کش حملوں کو غیر اسلامی قرار دیا گیا ہے۔ لیکن اس فتوے میں ان علما کے دستخط یا انگوٹھے نہیں ہیں جو طالبان کے  ساتھی یا ہمدرد خیال کیے جاتے ہیں۔جبکہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے اس فتوے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ خودکش حملہ صرف پاکستان تک ہی کیوں حرام ہیں؟

DW/News Desk

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *