زرداری صاحب! اب پنجاب میں”غداری منجن” نہیں بکنے والا

ارشد بٹ

پاکستان کو دولخت کر دیا مگر ہم غدار بنانے کے کارخانے بند نہ کر پائے۔ بلوچ، پختون، سندھی اور بنگالی غداروں کی پیداوار فراوانی سے کی جاتی رہی۔ تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لینے والوں یا نہ لینے والوں پر غداری کے لیبل چپکانا حکمرانوں کا من پسند مشغلہ رہا۔ جس نے ملک میں جمہوری نظام کی بات کی، آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے آواز اٹھائی، چھوٹی قومیتوں یعنی صوبوں کو بآختیار بنانے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کا زکر کیا وہ غدار اور نظریہ پاکستان کا دشمن ٹھہرا۔ بانی پاکستان کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح نے جب جنرل ایوب خاں کی آمریت کو للکارا تو وہ بھی بھارتی ایجنٹ ٹھہریں۔

اب زرداری صاحب نے ایک نیا غدار جاتی عمرا یعنی پنجاب میں بھی ڈھونڈ نکالا۔ بقول آصف زرداری جاتی عمرا میں میاں نواز شریف کی صورت میں شیخ مجیب الرحمان کا نیا جنم ہو چکا ہے۔

آصف زرداری نے ان قوتوں کی زبان بولنا شروع کر دی ہے جنہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو سیکورٹی رسک قرار دیا۔ محترمہ کی دونوں حکومتوں کو قبل از وقت برطرف کرایا۔ اعتزاز احسن پر بھارت کو اہم خفیہ معلومات فراہم کرنے کے الزامات لگائے۔ مرتضےٰ بھٹو کا خون ناحق بھی انہی خفیہ ہاتھوں کی کارستانی ہے۔ یہ وہی خفیہ ہاتھ ہیں جنہوں نے آصف زرداری پر مسٹر ٹن پرسنٹ اور ملک کا کرپٹ ترین شخص ہونے کی مہر ثبت کی۔ جبکہ اس دوران جاتی عمرا کا شیخ مجیب ان قوتوں کا ہمنوا اور دست راست تھا۔

اب آصف زرداری اسی جگہ کھڑے نظر آ رہے ہیں جہاں نواز شریف نوے کی دہائی میں کھڑے تھے۔ زرداری صاحب کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ کٹھ پتلیاں اپنا ناچ نہیں ناچتیں بلکہ کسی اور کی دھن اور انگلیوں کے اشارے پر ناچنے کی پابند ہوتی ہیں۔

زرداری صاحب اگر ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے حکومتی ادوار میں پاکستان کی پالیسیوں پر طائرانہ نظر دوڑانے کی تکلیف گوارا کر لیں تو انکی سیاسی بصیرت میں ہوش ربا اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

بھٹو شہید نے شملہ معاہدہ کر کے بھارت کے ساتھ پر امن دوستانہ تعلقات کے نئے دور کا آغاز کیا۔ محترمہ شہید نے سیکورٹی رسک کے الزامات دلیری سے برداشت کر تے ہوئے ملک کے وسیع تر مفاد میں ھمسایہ ممالک سے امن اور دوستی کے تعلقات کو آگے بڑھانے کی پالیسی ترک نہ کی۔ ماضی میں غداری غداری کے گھناؤنے کھیل کو ترک کیا۔ سیاسی تلخیاں بھلا تےہوئے بلوچ اور پختون قوم پرستوں سے نئے سیاسی تعلقات کی بنیاد رکھی۔ محترمہ کی حکومتوں کو غیر مستحکم کرنے اور گرانے والے نواز شریف کے ساتھ جلاوطنی کے دوران میثاق جمہوریت کر کے کٹھ پتلیاں نچانے والوں کی نیندیں حرام کر دیں۔

آصف زرداری یہ غلط فہمی ذہن سے نکال دیں کہ پنجاب ابھی تک ساٹھ یا ستر کی دہائی سے نہیں نکلا۔ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا ہے۔ اب آپ محض کسی پر غداری کا لیبل چپکا کر یا بھارت سے دوستی کا حامی ٹھہرا کر عوام کے دل نہیں جیت سکتے۔ اگر اس میں ذرا سی بھی حقیقت ہوتی تو جماعت اسلامی عوام میں مقبول ترین سیاسی پارٹی ہوتی۔ نظریہ پاکستان کی آڑ میں ھندوستان دشمنی اور قوم پرستوں کو غدار کہنا جماعت اسلامی کی سیاست کا محور رہا ہے۔

غیر جمہوری قوتوں کی دھن پر کٹھ پتلی ناچ ناچنے میں جماعت اسلامی سے زیادہ کسی کو مہارت حاصل نہیں ہے۔ اب یہ حال ہے کہ جماعت اسلامی اپنی طاقت کے بل بوتے پر ملک بھر سے دو چار قومی اسمبلی کی نشستیں جیتنے کے قابل بھی نہیں رہی۔ طاقتور حلقوں کی پشت پناہی کے باوجود جماعت اسلامی کو سیاسی منظر پر زندہ رہنے کے لئے کسی نہ کسی سہارے کی تلاش رہتی ہے۔ کبھی نواز شریف، کبھی عمران خان اور کبھی فضل الرحمان۔ کٹھ پتلی کی اچھل کود کا انحصار تو کٹھ پتلی نچانے والے پر ہوتا ہے۔ نہ جانے کب اور کس وقت نئی کٹھ پتلی تراش لے۔ 2013 کے الیکشن سے قبل نواز شریف نے ہندوستان سے پر امن دوستی اور تجارتی تعلقات بحال کرنے کا کھل کر اظہار کیا اور پنجاب میں انتخابی کامیابی حاصل کی۔

زرداری صاحب اب پنجاب کے عوام”غدار ہے غدار ہے” کی کھوکھلی نعرہ بازی سننے کو تیار نہیں۔ یہ منجن اپنی ساکھ کھو چکا ہے اور اس کے خریدار آٹے میں نمک کے برابر رہ گئے ہیں۔ اس وقت ملکی ترقی کے لئے معاشی طور پر پسماندہ طبقوں کی خوشحالی، نوجوانوں کو روزگار، غریب بچوں کے لئے سستی اور معیاری تعلیم، اور غریب عوام کے لئے مفت طبی سہولتوں کی فراہمی کے لئے واضح اور ٹھوس اصلاحات لانے کی ضرورت ہے۔

One Comment

  1. Saqlain raza naqvi says:

    Bohat khoob

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *