ٹرمپ کا تباہ کن طوفان خیز اعلان

آصف جیلانی 

امریکی صدر ٹرمپ نے عالم اسلام، عرب ممالک میں اپنے دوستوں اور یورپ کے رہنماوں کی مخالفت اور تنبیہ مسترد کرتے ہوئے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور وہاں امریکی سفارت خانہ منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جواز اس فیصلہ کا یہ پیش کیا ہے کہ اپنی انتخابی مہم کے دوران انہوں نے یہ وعدہ کیا تھا اور بڑے طمطراق سے یہ دعوی کیا کہ ان سے پہلے ان کے پیش رو صدور نے بھی یہ وعدہ کیا تھا لیکن وہ سب کے سب اس وعدہ کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں اور وہ پہلے صدر ہیں کہ جنہوں نے یہ وعدہ پورا کردیا ہے۔

ٹرمپ کی یہ دلیل ہے کہ امریکی کانگریس نے بائیس سال پہلے 1995میں مکمل اتفاق رائے سے فیصلہ کیا تھا کہ امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کیا جائے ، لیکن ہر چھ ماہ بعد امریکی صدر اس پر عمل موخر کرنے کے حکم نامہ پر دستخط کرتا رہا ہے ، اور خود ٹرمپ نے چھ ماہ پہلے اس موخر نامہ پر دستخط کیے تھے۔ جب سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان صلح کی کوششیں شروع ہوئی ہیں بین الاقوامی برادری اس پر متفق تھی کہ مذاکرات کے ذریعہ امن کے حتمی حل میں یروشلم کے مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جائے اور اس سے پہلے کوئی فیصلہ یا اسے اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرناتباہ کن عمل ہوگا اور امن کے مذاکرات کی کامیابی کے تمام امکانات ختم ہو جائیں گے ۔ویسے بھی اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیاں امن کی کوششیں 2014 میں امریکا کے سابق وزیر خارجہ جان کیری کے مشن کی ناکامی کے بعد ٹھپ پڑ گئی تھیں۔ 

سوال یہ ہے کہ اس وقت جب کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان صلح کے نہ تو مذاکرات شروع ہوئے ہیں اور نہ کوئی قابل عمل ٹھوس منصوبہ پیش کیا گیا ہے ، ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کا اعلان کیوں کیا ہے؟۔ عام خیال یہ ہے کہ ٹرمپ اس وقت صدارتی انتخاب کے دوران ، روس سے خفیہ ساز باز کرنے کے الزام کے پھندے میں بری طرح سے پھنس گئے ہیں اور ان کے گرد مواخذہ کے خطرہ کے بادل چھارہے ہیں اس لیے وہ یروشلم کے مسلہ پر ہنگامہ کھڑا کر کے اپنے سیاسی مصایب کو پس پشت ڈالنا چاہتے ہیں۔ 

امریکا میں یہودیوں کی با اثر تنظیم کا بھی ٹرمپ پر سخت دباو تھا کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا جلد از جلد اعلان کیا جائے۔ یہودیوں کی اس تنظیم نے ٹرمپ کو انتخابی مہم کے لئے 15ملین ڈالر کی رقم ادا کی تھی۔ ٹرمپ نے صدر منتخب ہونے کے فورا بعد اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان صلح کا ایسا نادر حل پیش کریں گے جو ان سے پہلے کوئی صدر پیش نہیں کر سکا ہے ۔ اس دعوی کو ایک سال گذرنے کے بعد بھی وہ ناکام رہے ہیں۔ 

صلح کا حل تلاش کرنے کے لئے ٹرمپ نے اپنے ناتجربہ کارقدامت پسند یہودی داماد جارڈ کوشنر کو اپنا مشیر مقرر کیا تھاجنہوں نے اس سلسلہ میں اسرائیل اور سعودی عرب کے کئی دورے کئے تھے اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے تفصیلی بات چیت کی تھی۔ بتایا جاتا ہے ان مذاکرات کے نتیجہ میں ’’ حتمی سودے‘‘ کے عنوان سے ایک منصوبہ کے نکات طے ہوئے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ امریکا یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرے گا اور اس کے عوض امریکا فلسطین کی مملکت کو تسلیم کر نے پر آمادہ ہو جائے گا۔ لیکن مشرقی یروشلم کو فلسطینیوں کا قومی دارالحکومت تسلیم نہیں کیا جائے گا جب کہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت یروشلم تینوں مذاہب کا شہر تسلیم کیا گیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق ارض فلسطین پر تعمیر شدہ یہودی بستیوں میں سے کسی بستی کو ختم نہیں کیا جائے گا اور ان بستیوں میں آباد کسی یہودی کو بے دخل نہیں کیا جائے گا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مجوزہ منصوبہ کے تحت امریکا اسرائیل کی سیکورٹی کی خاطر ان یہودی بستیوں کے وجود کو تسلیم کر ے گا اور اسرائیل کے دفاع کی خاطر دریائے اردن کے کنارے تک اسرائیل کی فوج تعینات کی جائے گی۔ یہی نہیں اسرائیلی وزیر اعظم نتھن یاہو کا اصرار ہے کہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کو سیکورٹی کنٹرول حاصل ہونا چاہئے۔ اگر نتھن یاہو کا مطالبہ تسلیم کر لیا گیا تو فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی فوج تعینات کی جائے گی۔اس صورت میں فلسطین کی مملکت کی خودمختاری اور حاکمیت بے معنی ہو کر رہ جائے گی۔ 

بتایا جاتا ہے کہ سعودی ولی عہد ، عرب حکمرانوں سے اس منصوبہ کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے یوں ٹرمپ کے داماد کی کوششیں بھی بے ثمر ثابت ہوئیں ۔ عام خیال ہے کہ ٹرمپ نے اپنے داماد کی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لئے یروشلم کے بارے میں یہ اعلان کیا ہے ۔مبصرین کی رائے ہے کہ اس اعلان کے بعد امریکا اب غیر جانبدار ملک کی حیثیت بھی کھو بیٹھا ہے۔ گو ٹرمپ نے یروشلم کے بارے میں اعلان میں کہا ہے کہ یروشلم کی حدود مذاکرات کے ذریعہ طے کی جائیں گی لیکن یہ بے معنی تجویز ہے کیونکہ مشرقی یروشلم میں جس پر اسرائیل نے 1967کی جنگ کے دوران قبضہ کر لیا تھا، اسرائیل نے غیر قانونی یہودی بستیاں تعمیر کر کے اور ان میں دو لاکھ سے زیادہ یہودیوں کو آباد کر کے یروشلم کا نقشہ بدل دیا ہے اور عملی طور پر اسے اسرائیل میں ضم کر لیا گیا ہے۔ 1967سے پہلے یروشلم اردن کے زیر انتظام تھا اور اس وقت یہاں فلسطینیوں کی آباد تین لاکھ تھی جو اب کم ہو کر یہودیوں کے برابر رہ گئی ہے۔ 

یروشلم کے بارے میں ٹرمپ کے اعلان کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ امریکا کے اناجیلی عیسائی یروشلم کو اسرائیل کا دار الحکومت تسلیم کرنے کے زبردست حامی ہیں کیونکہ ان کے عقیدہ کے مطابق اسرائیل کا قیام اللہ تعالی کا معجزہ ہے اور اسرائیل کی بقا میں ان کی بقامضمر ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ امریکا کے ۸۰ فی صداناجیلی عیسائیوں نے ٹرمپ کو ووٹ دیے تھے۔ ٹرمپ اور ان عیسائیوں کے درمیان نایب صدر پینس رابطہ ہیں۔ 

یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس وقت جب وائیٹ ہاوس میں ٹرمپ یروشلم کے بارے میں اعلان کر رہے تھے تو ان کے پیچھے نائب صدر کھڑے تھے جس کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ اس مسئلہ میں نائب صدر پینس ان کے حامی ہیں کیونکہ یہ خبریں عام تھیں کہ وزیر خارجہ ٹلرسن اور وزیر دفاع جنرل میٹیس سفارتی اور سیاسی مضمرات کے پیش نظر اس اعلان کے حق میں نہیں تھے۔ یہ بات اہم ہے کہ بروکنگز انسٹیٹیوشن کے سروے میں کہا گیا ہے کہ امریکا کے 63فی صد عوام اس اقدام کے خلاف ہیں۔

صدر ٹرمپ اپنے آپ کو تاریخی صدر قرار دینے کے جوش میں یہ بالکل فراموش کر گئے کہ ان کے اعلان پر فلسطینی عوام کے طیش کا طوفان کس زور سے اٹھے گا ۔ ٹرمپ غالبا یہ سوچتے ہیں کہ وہ امریکا کی فوجی ، سیاسی اور اقتصادی قوت کے بل پر عرب حکمرانون کو بالاخر اپنا ہم نوا بنا نے میں کامیاب رہیں گے ۔ایسا جان پڑتا ہے کہ ٹرمپ نے تاریخ کابخوبی مطالعہ نہیں کیا ہے کہ جب فلسطینی عوام چاروں سمت سے گھر جاتے ہیں تو وہ زخمی شیر کی طرح جھپٹتے ہیں۔ ان فلسطینیوں نے پہلے اور دوسرے انتفاضہ میں اپنی ایسی طاقت دکھائی ہے کہ اسرائیل کو گھٹنے ٹیک دینے پڑے ہیں ۔ 

تیس30 سال قبل پہلے انتفاضہ میں فلسطینیوں کی مزاحمت کے دوران ، 1962 فلسطینی شہید ہوئے اور 277اسرائیلی فوجی اور پولس افسر ہلاک ہوئے تھے ۔ پچھلے دنوں اسرائیلیوں نے مسجد اقصی جانے والے راستوں پر سیکورٹی کے رکاوٹیں کھڑی کر کے فلسطینیوں کو مسجد میں جانے سے روک دیا تھا ۔ اس کے خلاف فلسطینیوں کی کاروائی کے سامنے اسرائیلی حکام کو یہ رکاوٹیں ہٹانی پڑئیں۔ اگلے جمعہ ۸ دسمبر کو پہلے انتفاضہ کی 30ویں سالگرہ ہے ۔ ٹرمپ کے اعلان پر ان کا کیا ردعمل ہوتا ہے اس کے بارے میں محض قیاس ہی کیا جا سکتا ہے۔

بہرحال فلسطینیوں کے نزدیک یروشلم کے بارے میں ٹرمپ کا تباہ کن طوفان خیزاعلان ، مشرقی یروشلم کو فلسطین کی آزاد مملکت کے دارالحکومت کی صورت میں دیکھنے کی خواہش اور تمنا کو ملیا میٹ کرنے کے مترادف ہے اور اب اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان صلح کے سمجھوتے کے لئے مذاکرات کے رہے سہے امکانات بھی دم توڑ گئے ہیں۔ 

5 Comments

  1. N.S.Kashghary says:

    What is even more distressing is the fact that this would not have been possible without the compromises made by Palestinian leadership. Palestinian politics have been marred with factional rivalry, security collaboration with Israeli intelligence at the expense of Palestinians, and a series of concessions in the form of agreements and treaties that have never encapsulated the fundamentals of Palestinian demands; justice, liberation and dignity.

    Trump was correct in stating that “Jerusalem is the seat of the modern Israeli government. It is the home of the Israeli Parliament, the Knesset, as well as the Israeli Supreme Court. It is the location of the official residence of the prime minister and the president. It is the headquarters of many government ministries.”

    Jerusalem has indeed been treated as the capital of Israel for decades, albeit unofficially. It is because of this that the Trump recognition was made possible.

    The groundwork was already present.

    http://www.aljazeera.com/indepth/opinion/171207073456909.html

  2. اویس اقبال says:

    سنہ637ء میں یروشلم کی فتح سے پہلے یہ علاقہ یہودیوں کا تھا مگر مسلمانوں کے خیال میں 1380 سال پہلے کا قبضہ تین ہزار سال کی آبادکاری کاحق محو کر دیتا ہے(اویس اقبال)۔

  3. ہم مسلمانوں کے ہاں ایک اہم اور نایاب مسئلہ کہلاتا جسے ہم اُردو میں رجعت مکانی کہہ سکتے ہیں ۔رجعتِ مکانی یہ ہے کہ مسلمان تاریخ کے کسی بھی دور میں اگر کہیں قابض ہوئے اور بعد ازاں ان علاقوں پر کوئی اور قابض ہوگیا یا پھر مقامی لوگوں نے ان علاقوں کو دوبارہ فتح کرلیا تو مسلمان ان علاقوں پر ہمیشہ کے لئے اپنا حق سمجھنے لگے ۔ان علاقوں کو ارضِ موعودہ قرار دینے لگے اور اپنی نئی نسل کو اکسانے لگے کہ وہ ان علاقوں پر دوبارہ قبضہ کرلے۔
    یہ تصور عسکری تحاریک کی آتش کو ہوا دیتا ہے اوراسی لئے سیاسی اسلامی تحریکوں نے اسے جزوے ایمان بنادیا ہے ۔ اب یہ تصور اس قدر عام ہے کہ انتہا پسند اور عسکری ذہن رکھنے والوں کے ساتھ ساتھ بظاہر پُرامن دکھائی دینے والے علما میں بھی دکھائی دیتا ہے ۔ یہ تصور علامہ اقبال کی شاعری میں بھی جابجا ملتا ہے اور خاص طور پر مسجد قرطبہ جیسی نظم میں سپین کے حوالے سے انہی جذبات کی دبی ہوئی گونج سنائی دیتی ہے ۔ یہاں تک کہ بیت المقدس کا مسئلہ کھڑا ہونے پر مولانا طارق جمیل بھی یروشلم کو مسلمانوں کا درالحکومت قرار دے رہے ہیں ۔

  4. Very informative comments.

  5. یروشلم میں جس مسجد پر سارا جھگڑا ہے ،اس کا نام القدس کب رکھا گیا اور اسے قبلہ اول ہونے کا اعزاز کب بخشا گیا؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *