سنگت عزت ، چراگ اور نودان کے نام پیغام 

مہلب بلوچ 

آج جب میں خود سے سوال کرتی ہو کہ میری خاموشی کی وجہ کیا ہے ،کیوں میں کچھ کرنے سے قاصر ہو، کیوں میری زبان گنگ سی ہوگئی ہے، آنکھیں بھر آتی ہے جب چراغ ،نود ان ور عزت کا ہنستا مسکراتا چہرہ سامنا آتا ہے میں نہیں جانتی کہ کہاں سے شروع کروں اور کہاں ختم کرو ، ان لوگوں نے ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کی ہمیشہ میری ہمت بڑھائی ہمیشہ مجھے اس بات کی تلقین کی لکھنے کا عمل جاری رکھو۔ آج یہ ان دوستوں کا تلقین ہے کہ میں اپنے قلم کے ذریعے اپنے ان دوستوں کواپنا پیغام دینا چاہتی ہوں۔

سنگت عزت ایک محسن دوست ہے جو اس جدوجہد کے ہر مشکل مراحل میں میری حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ عزت ایک نرم مزاج، مدلل بحث و مباحث کرنے والا سیاسی کارکن اور باہمت نوجوان ہے۔سنگت عزت آپ جدوجہد کا وہ شعوری فیصلہ بی ایس او کے پلیٹ فارم سے کرچکے تھے وہ آج مجھ سے سیاسی کارکنان کیلئے حوصلے و ہمت کا باعث ہے۔آپ جیسے باشعور و باہمت سیاسی کارکنان کے جہد مسلسل کے باعث یہ کارواں اسی طرح رواں دواں رہے گا اس قافلے کو روکنے اور اس قافلے کے راستے میں روڑے اٹکانے والوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

آپ ہمیشہ تخلیقی انداز فکر سے لکھتے اور بحث کرتے تھے اس آپ کی تخلیقی ذہانت ہمیشہ بی ایس او کے دوستوں کی رہنمائی کرتی رہی گی اور اسی سوچ نے مجھ جیسوں کو لکھنے پر مجبور کردیا ہے ۔ سنگت عزت آج میں اپنی اس تحریر کو دیکھتی ہوں تو جذبات قابو سے باہر ہوتے ہیں میری آنکھوں سے آنسوجاری ہوتے ہیں کہ اب ان تحریوں میں اصلاح کون کرے گا ، لکھنے کیلئے میری رہنمائی کون کرے گا، کون میری ہمت اور حوصلہ افزائی کرے گا ۔

سنگت عزت مجھے یقین ہے آپ آج زندان میں بھی اداروں کی مضبوطی کیلئے سوچ رہے ہو اور زندان میں بھی آپ کو کاغذ قلم کی ضرورت ہوگی لیکن یہ خوفزدہ ریاست آپکو کاغذ قلم دینے سے انکاری ہے ۔سنگت عزت آپ کے اس عمل کو آج بی ایس او آزاد کا ہر کیڈر آگے لے جانے کا عزم کرچکا ہے۔ 

ایک ایسا دوست جو ہمیشہ اپنے دوستوں کی تربیت کے لئے تیار رہتاجب بھی ملتا مسکرا کر ملتا وہ دوست نودان ہے ۔ نود ہمیشہ اپنے جونیئرز کی تربیت کرتا انکے غلطیوں کی نشاندہی کرتا تاکہ انہیں بہتر بنانے میں مدد کرسکیں نودان میں جب آپ کے بارے میں سوچتی ہو تو میرے ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ ریاست آپ کے شعور سے اتنا خوفزدہ تھا جیسے کہ قرون وسطی دور میں چرچ ریفارمیشن تحریک کی بانی مارٹن لوتھر کنگ سے تھا اس لئے آپ کو لاپتہ کردیا تاکہ آپ کے ساتھ آپکے خیالات بھی قید ہوسکیں لیکن آپکا شعور آپکی زانت ہمیشہ ہماری رہنمائی کرے گا۔

سنگت نودان آپ کے دوست آپ کی طرح اپنے مطالعے میں مشغول ہیں لکھ رہے ہیں بحث و مباحثہ کررہے ہیں آپکی طرح اپنے دوستوں کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں لیکن ایک خاموشی سی چھائی ہوئی ہے کیونکہ آپ کی مسکراہٹ دیکھنے کو آنکھیں ترس گئی ہے آج ہر دوست آپ کی طرح بننا چایتا ہے کیونکہ آپ کی سادگی نے ریاست کو اتنا خوفزدہ کردیا تھا کہ اس نے آپ کو پابند سلاسل کردیا لیکن ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ آپ کا یہ کارواں منزل پر پہنچ کر ہی دم لیں گا ۔ 

ہر بات کا جواب مسکرا کر دینا ہر مسئلے کو حل کرنے سے پہلے ہزارہا بار سوچنا کہ کہیں مجھ سے کوئی غلطی تو نہیں ہورہی میں ایسا محسوس کررہی ہوں کہ اس قلم کو فخر محسوس ہورہا ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کے بارے میں لکھ رہا ہے جسے تاریخ فرزند وطن کا نام دینے سے نہیں گھبرائے گی ایک ایسا شخص جو دور رہ کر بھی اپنی باتوں سے ہمیشہ پاس ہے وہ دوست سنگت چراگ ہے۔

کل جب میں کچھ بھی لکھتی تو چراغ اسے ضرور پڑھتے اور اپنے رائے دیتے مگر آج میں چراغ کے بارے میں لکھ رہی ہو اور چراگ اذیت گاہوں ہمارے بہتر مستقبل کے لئے پابند سلاسل ہے ۔ سنگت چراگ آج بی ایس او آزاد کا ہر کیڈر آپ کی طرح خوش مزاج بننا چاہتا ہے آج آپکی معصومیت نے ریاست کو مار ڈالا آج آپ نے اپنی باتوں پر عمل کر دکھایا کہ آزادی قربانی مانگتی ہیں اور آپ نے قربانی دیکر ثابت کردیا کہ آپ صرف باتونی نہیں بلکہ ایک عملی انسان تھے ۔

سنگت چراگ مجھے بی ایس او کے فکری تربیت پر فکر ہے مجھے یقین ہے بی ایس او کے دوست آپ دوستوں کی قربانیوں کی لاج رکھیں گے، بی ایس او کے سنگت اس چراگ کو کبھی بجنے نہیں دیں گے جسے آپ لوگوں نے روشن کیا ہے ۔ عزت ،نودان اور چراگ آپکے دوست ہمیشہ آپکے منتظر رہیں گے آج ریاست نے ثابت کردیا کہ وہ کتنا کمزور ہے کہ ہمارے دوستوں کے کتاب اور قلم سے ڈر رہا ہے ۔کتاب و قلم سے محبت رکھنے والوں کو لاپتہ کردیا ہے

♦ 

One Comment

  1. Dear Mahlab Baloch (Pardon my spellings) … It is an irony that the state is afraid of those who are most thoughtful. A place where intellectuals are not tolerated, I call it a bad omen for the state. It is very hard to conceive of a normal functional society without human rights. Contrarily, overt violence and forced disappearance are a daily occurrence for Baloch intellectuals and activists.

    Thank you for writing on this important issue of the day and please keep the flame of human right alight. Regards.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *