مزاحمت سے انقلاب تک

پائند خان خروٹی

مزاحمت سے انقلاب تک
The Wretched of the Earth
فرانز فینن کی شہرہ آفاق کتاب کاپشتو ترجمہ(دشنہ آسمان زامن) پر تبصرہ

مزاحمت اپنے معروض میں موجود فروعونیت ،قارونیت اور مذہبی پیشوائیت سے مزاحم یاٹکرانے کانام ہے ۔ ادب وسیاست کی دنیا میں اس کی دو معروف شکلیں تانظرآتی ہے ۔ ایک کالونیل نظام کے خلاف قومی آزاد ی کی تحریکوں کی صورت میں جبکہ دوسری سماجی واقتصادی نظام کے خلاف شعوری جدوجہد کی صورت میں ۔ پشتو زبان وتاریخ کے تناظر میں ملی استقلال کے حصول اور قومی وحدت کومستحکم رکھنے کیلئے استحصالی اور سامراجی قوتوں کے خلاف ڈٹ جانے کوپشتو ن نیشنلزم جبکہ ملی استقلال کے ساتھ ساتھ رُجعتی عناصر ، اسٹیٹس کو اور سامراج کے گماشتوں کے خاتمے کیلئے طبقاتی مبارزہ کو پشتون افغان سوشلزم کانام دیاجاسکتا ہے ۔

اس طرح پشتون نیشنلزم اور سوشلزم دونوں میں مزاحمت ہی قدر مشترک ہے ۔ا پنے تاریخی پس منظر میں نوآبادیاتی طاقتوں کے غلام ممالک اور محکوم اقوام پر قابض معاشی غنڈوں کے خلاف بغاوت مقبول رُجحان رہا ہے اور اس کے اثرات وقت وزمان کے شعر وادب اور علم وسیاست بھی نظر آتے ہیں ۔ اس طرح فرسودہ سماجی واقتصادی نظام رکھنے والے ممالک میں معاشی مساوات اور پرولتاریہ بالا دستی کے حصول کیلئے انقلابی تحریکوں نے بھی علمی وادبی دنیا کو متاثر کیا ۔ واضح رہے کہ مزاحمت چونکہ سسٹم اینڈ اسٹیٹس کوکو تبدیل کرنے کی خواہش کے تحت ہوتی ہے لہذا اپنے معروض اور معروضی حالات سے اس کی مسلسل وابستگی اس کالازمی جُز ہے ۔ 

پشتون افغان میں موجود جمہوری مزاج اور انقلابی جوہر کے پیش نظر ہی انقلابی قائد ولاد میر لینن نے غازی امان خان کو اپنے مکتوب میں اس توقع کا اظہار کیا ہے جس کاذکر ان کی اپنی کتاب’’ اقوام مشرق کی تحریک کی آزادی ‘‘میں یوں کیاہے ۔’’اس وقت پھلتا پھولتا افغانستان دنیا کی واحد خو دمختار مسلم ریاست ہے اور آج افغانی عوام کے سامنے یہ تاریخی فریضہ ہے کہ وہ تمام محکوم ومغلوب مسلم قوتوں کو متحد کریں اور انہیں آزادی اور خود مختاری کے راستے پر لے جائیں ‘‘۔

دنیا بھر میں سا مراجی اور استحصالی قوتوں کے خلاف محکوم اقوام کی جدوجہد آزادی پر مختلف براعظموں کے مختلف ممالک اور مختلف زبانوں میں متعدد تصانیف اور کتابیں موجود ہیں لیکن ان تمام تصانیف میں باغی مفکر فرانز فینن کی کتاب

The Wretched of the Earth”
کو جو مقبولیت اور مقام حاصل ہے شاید وہ کسی دوسرے مصنف یا کتاب کے حصہ میں نہیں آیا ۔ فرانز فینن(1925-1961) سامراجی قوتوں کے ناپاک عزائم ، غلام قوم کی نفسیات اور اہل علم دانش کی مصلحت پسندی کے علاوہ قومی آزادی کی تحریکوں میں موجود مختلف مراحل کی جس تفصیل کے ساتھ وضاحت کی ہے ۔ اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ہے ۔ میر حسن خان اتل کے اس شہرہ آفاق کتاب کاپشتو میں ترجمہ (دشنہ آسمان زامن) کرنے پر تبصرہ کرنے کے ساتھ ساتھ فرانز فینن اور الجزائر قومی آزادی کاتاریخی پس منظر اور معروضی حالات سے واقفیت بھی اشد ضروری ہے ۔

الجزائر کے چیرمین انقلابی کونسل ھواری بومدین (1923-1978)نے انقلاب سے چند دن بعد مصر کے الاخبار کو انٹرویودیتے ہوئے کہ’’ نئی قیادت ایک ایسے سوشلزم کے تعمیر کیلئے کام کرے گی جو الجزائر کے مخصوص حالات ہمارے تجربات ، ہمارے طرز زندگی ، ہماری جدوجہد اور ہمارے مذہب کے مطابق ہوگا‘‘۔

فرانز فینن کی تحریریں اور ان کاعمل اس بات کاثبوت ہے کہ وہ قومی آزادی اور طبقاتی جدوجہد کے مابین رشتے کوپوری طرح محسوس کرتے ہیں اور جدلیاتی نقطہ نظر کا ایک روشن عملی پیکر ہے ۔ بد قسمتی سے لاطینی امریکہ ، افریقہ ، جزیرہ عرب اور جنوبی ایشیاء میں جاری قومی تحریکوں نے اب تک فینن کے افکار وخیالات سے خاطر خواہ استفادہ نہیں کیا۔

حیران کُن مسرت کی بات یہ ہے کہ فرانز فینن کی یہ شہرہ آفاق کتاب پہلی بار سوویت یونین موجودہ روس کے پایہ تخت ماسکو میں ترجمہ ہوکر کوئٹہ کے ذریعہ پاکستان بھر میں متعارف ہوئی ۔ اس کتاب کو ملک بھر میں روشناس کرانے کاسہرا گوشہ ادب اورسیل اینڈ سروس بک ڈپو کے مالک اور کتاب وصاحب کتاب کے قدر وشناس منصور بخاری کے سر ہے ۔

ایک افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ 1961ء میں علم وسیاست کے اُفق پر نمودار ہونے والی اس اہم کتاب پر پشتون افغان کی سیاسی تنظیموں اور بالخصوص علمی وادبی اکیڈمیوں ومراکز نے کوئی توجہ نہیں دی جس کے نتیجے میں پشتونخوا وطن کے عوام اس منفرد تحریر سے شناسہ نہ ہوسکے ۔ سر دست آپ کے زیر نظر ترجمہ شدہ کتاب پشتون ینگ سکالر میر حسن خان اتل کا اہم اورمفید کار نامہ ہے ۔

پشتو ادب وسیاست کی دنیا میں یہ پہلی کاوش ہے ۔ یہ کتاب براہ راست تخلیق کار کی زبان کی بجائے اردو سے ترجمہ ہوا ہے ۔ ہمیں اُمید ہے کہ مستقبل میں ہمارے اہل علم وسیاست فرانز فینن کی اصل زبان میں لکھی گئی کتاب سے براہ راست پشتو میں ترجمہ کرینگے تاہم زیر نظرکتاب کے ذریعہ اگر پشتون اولس فرانز فینن کے انقلابی افکار اور مبارز ہ سے روشناس ہوجائے تو یہ بڑی خدمت ہوگی ۔
پشتونخوا وطن کے اکیڈمیوں ، علمی وسیاسی مراکز نے خود اپنے ابھرنے والے صنوبرؔ ، سور گلؔ ، آباسین،بنگش، طرزی، اسلم،باچاجی، سلیم،لایق،انگار،،مخفی،اولس مل ، اولس یار،قلندر ،جعفر اور فقیر ایپی وغیرہ جیسے اہم کردار اور ان کے کارناموں سے عوام کوآشنا نہ کرسکے ۔ پشتو ترقی پسند ادب و سیاست کے جدا مجد کاکا جی صنوبر حسین مومند کے نظر یہ ومبارزہ سے علم وفکر کے دشت کو سیراب کرنے کی پشتو ادبی وسیاسی مراکز کو کئی عشرے گزرجانے کے بعد بھی توفیق نہیں ہوئی اور مستقبل میں بھی پشتون ترقی پسندوں پر کچھ کرنے کے ارادے نظرنہیں آتے ۔

الجزائر قومی تحریک کے حوالے سے شاید ہمارے عوام کی اکثریت کیلئے حیران کن معلومات ہوکہ الجزائر کی تحریک قومی آزادی میں فرانس کے عظیم دانشور ژاں پال سارتر (1905-1980)کے ہمراہ پاکستانی دانشور ڈاکٹر اقبال احمد(1933-1999) بھی عملی طورپر شریک تھے ۔ اس ممتاز دانشور اور ان کی تخلیقات اورخدمات سے پاکستان کے عوام آج بھی بے خبر ہیں ۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ سوویت یونین کے انہدام اور بین الاقوامی سوشلسٹ تحریک کی بظاہر پسپائی کے بعد دنیا بھر کی قومی آزادی کی تحریکوں کے مابین رشتے اورباہمی تعلقات تقریباً ختم ہوکر رہ گئے اور قومی تحریکیں تنہائی کے شکار ہیں ۔ بعض خطوں میں تو قومی تحریکیں اپنے ساتھ آباد اقلیتوں کو بھی اعتماد میں لینے سے قاصر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان تحریکوں پر زوال پذیر ی غالب ہے ۔ طبقاتی جدوجہد سے لاتعلقی اس انحطاط کابڑا مظہر ہے ۔ 

فرانز فینن تو لمپن پرولتاریہ ( آوارہ گرد پرولتاریہ) سے بھی انقلابی کردار کی امید رکھتا ہے اور بعض حوالوں سے لمپن پرولتاریہ کو مڈل کلاس کے دانشوروں پرو فوقیت دیتا ہے جبکہ آج قومی تحریکوں میں منظم پرولتاریہ کے دانشوروں کے علم وتجربہ سے استفادہ نہیں کیاجارہا ہے ۔ علاوہ ازیں عام طور پر متوسط طبقے کے دانشور سیاستدان پڑھے لکھے اور زیرک افراد کو قریب بھٹکنے نہیں دیتے ۔ ایسی تحریکوں کے مرکزی دفاتر تک میں لائبریریوں کافقدان ، میڈیا اور ریسرچ کمیٹیوں کی عدم موجودگی اور تھینک ٹینکس کی ناپیدی وغیرہ نے جدید علم وشعور سے سیاسی کارکنوں اور عوام الناس کو باخبر ہونے سے روکے رکھا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ موجود تنظیمیں مکمل طور پر روایتی سیاست کی حامل ہیں ۔

مختلف عوامی تحریکوں سے جدوجہد کاجذبہ کُندکرنے کیلئے عدم تشدد بلکہ بالا دست طبقہ کے ساتھ مصالحت اورسمجھوتہ بازی کے رجحان کو فروغ دیاگیا جو قومی اور اولسی مزاحمت کو اس کے جوہر سے الگ کرنے کے مترادف ہے ۔ فینن ظلم واستحصال کے خلاف بزور قوت جدوجہد کو نہ صرف جائز بلکہ مظلوم ومحکوم عوام کی ضروری ہتھیار تصور کرتا ہے ۔ 

میر حسن خان اتل کی یہ چھوٹی کاوش استحصالی اور سامراجی قوتوں کے حربے و ہتھکنڈوں کوبے نقاب کرنے اور انقلابی نظریہ ومبارزہ کو فروغ دینے کی ابتدائی لیکن دانشمندانہ کاوش ہے ۔ ضلع ژوب کی مردم خیز سرزمین کے غیورباپ حاجی خان محمدبابڑ کے غیور فرزند میر حسن خان اتل ہم سب بالخصوص نئی نسل کوڈر سے آگے جیت کادرس دیتا ہے ۔ امید ہے کہ اس سے سماج میں علم وشعور کے نئے چراغ روشن ہونگے اور قومی تحریک کو فکری رہنمائی دینے میں مددگار ثابت ہوگا ۔

4 Comments

  1. Paind Khan Kharoti says:

    الجزائر قومی تحریک کے حوالے سے شاید ہمارے عوام کی اکثریت کیلئے حیران کن معلومات ہوکہ الجزائر کی تحریک قومی آزادی میں فرانس کے عظیم دانشور ژاں پال سارتر (1905-1980)کے ہمراہ پاکستانی دانشور ڈاکٹر اقبال احمد(1933-1999) بھی عملی طورپر شریک تھے ۔ اس ممتاز دانشور اور ان کی تخلیقات اورخدمات سے پاکستان کے عوام آج بھی بے خبر ہیں ۔

  2. Great and factful written piece. Well done attal and kharotai

  3. Paind Khan Kharoti says:

    So nice of you

  4. Paind Khan Kharoti says:

    پشتونخوا وطن کے اکیڈمیوں ، علمی وسیاسی مراکز نے خود اپنے ابھرنے والے صنوبرؔ ، سور گلؔ ، آباسین،بنگش، طرزی، اسلم،باچاجی، سلیم،لایق،انگار،،مخفی،اولس مل ، اولس یار،قلندر ،جعفر اور فقیر ایپی وغیرہ جیسے اہم کردار اور ان کے کارناموں سے عوام کوآشنا نہ کرسکے ۔ پشتو ترقی پسند ادب و سیاست کے جدا مجد کاکا جی صنوبر حسین مومند کے نظر یہ ومبارزہ سے علم وفکر کے دشت کو سیراب کرنے کی پشتو ادبی وسیاسی مراکز کو کئی عشرے گزرجانے کے بعد بھی توفیق نہیں ہوئی اور مستقبل میں بھی پشتون ترقی پسندوں پر کچھ کرنے کے ارادے نظرنہیں آتے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *